قربانی کی عورت – دوسرا حصہ
اپنے کام سے فارغ ہو کر یاسر ایک بار پھر کنزا سے بارعب آواز میں مخاطب ہوا ”کبھی مت بھولنا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میری آنکھوں کے ذرا سے سوال پر بھی تمہارے جسم کی باہیں مجھے ہر وقت کھلی ملنی چاہئیں“ ۔
وہ بستر سے اُتر کر واش روم گیا اور وہاں سے سیدھا باہر چلا گیا۔
کوئی شخص اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک بھی کر سکتا ہے؟ یہ سوال کنزا کے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ اُس کا دل احساسِ تضحیک سے درد کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا جا رہا تھا۔ اپنے بدن کی اس توہین سے جیسے وہ ایک سکتے کی حالت میں آ چکی تھی۔ ذرا ہوش آیا تو اُس نے اپنے برہنہ جسم کو چادر میں لپیٹا اور واش روم میں جا کر کتنی دیر تک آنسوؤں کو پانی میں بہاتی رہی۔ پھر واپس بستر پر آئی اور سوچوں کا عذاب سہتی ہوئی دیر تک جاگنے کے بعد آخرکار سو گئی۔
اُس نے خواب میں دیکھا، کوئی اِس طرح اُس کے جسم سے کپڑے کھینچ رہا ہے، جیسے ذبح شدہ بکرے کی کھال اتاری جاتی ہے۔ اس نے تشویش میں ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں تو دیکھا، یہ کوئی خواب نہیں تھا۔ اُسے بے لباس کرتا ہوا شخص یاسر تھا۔ آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں اور اِس وقت اُس کا انداز انتہائی وحشت انگیز تھا۔ وہ کنزا کے نسوانی جسم سے لطف کشید کرنے کی بجائے اُسے اذیت دے کر مسمار کرنے کی فکر میں تھا۔
صبح وہ بستر پر پھر اکیلی تھی جب اُسے ایک ملازمہ نے آ کر جگایا۔ کچھ دیر بعد یاسر بھی آ گیا۔ دن یونہی ہنگاموں میں گزرا۔ شام کو ولیمے کے اختتام پر اُس کا خیال تھا کہ عام رسم کے مطابق وہ یاسر کے ساتھ اپنے ماں باپ کے گھر جائے گی تو یاسر نے تقی صاحب کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ آج اس رسم پر عمل نہیں ہو گا۔ کنزا میکے کب جا سکے گی، یہ بعد میں طے کیا جائے گا۔
یاسر کے اس جواب سے ہی کنزا نے آنے والی رات کی عقوبت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ مایوسی اور بے بسی اُس کے دماغ پر کوڑے برسا رہے تھے۔ غصے سے اعصاب شل ہو رہے تھے۔ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ اس حالت میں اُسے کیا کرنا چاہیے۔ اس لئے جونہی وہ دونوں بیڈ روم میں آئے تو کنزا نے خود ہی کمرے کو اندر سے لاک کیا اور یاسر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کپڑے اتار کر بستر میں گھس گئی۔
یاسر تو اِس وقت اپنے سامنے موجود ایک نوخیز دوشیزہ، ایک زندہ انسان کو دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔ اُس کے دماغ میں تو بس وہ لعن طعن گونج رہی تھی جو ہر بار اُس کی طرف سے شادی کی دعوت کے جواب میں کنزا کی طرف سے کی گئی تھی۔ وہ صرف اُس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس نے اُسے بار بار ٹھکرایا تھا۔ انتقامی جذبے کے اندھیروں نے، جنسی لطف کی طلب کو ، اپنی سیاہی میں غرق کر دیا تھا۔ لہٰذا دوسری رات بھی گزشتہ شب کی طرح بے رنگ بلکہ کرخت اور دہشت زدہ گزری۔ تب کنزا کو یقین ہو گیا کہ اُس نے کسی انسان کی بجائے ایک جانور سے شادی کر لی ہے۔ اُس نے اپنے نیک ارادوں سے جو مستقبل کا تصور کیا تھا، سب یاسر کی حقارت کی نذر ہو گیا تھا۔
تیسری رات بھی جب یاسر کے غیرانسانی رویّے میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئی تو کنزا کی برداشت جواب دے گئی
”کتنے برسوں سے آپ کی خواہش تھی کہ میں آپ سے شادی کر لوں۔ لیکن اب شادی ہو گئی ہے تو ۔“ ۔
یاسر نے اُس کی بات کاٹ دی
”یہیں رک جاؤ لڑکی! آگے بات کرنے کی ابھی ضرورت نہیں۔ تمہاری بات صرف یہاں تک درست ہے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ مگر تم نے ہر بار نہ صرف میری پیش کش کو ٹھکرایا بلکہ میرے بارے میں برا بھلا بھی کہا۔ مجھ پر لعن طعن بھی کی۔ مجھے گھٹیا اور اوقات سے بڑھ کر خواہشات رکھنے والے کا نام دیا۔ تبھی مجھے دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑا“ ۔
کنزا حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ یاسر نے اپنی بات جاری رکھی
”تم نے کالج اور یونیورسٹی کی کتابیں پڑھی ہیں تو میری سانسوں میں بے رحم زندگی کا ایک ایک لفظ اپنی پوری سنگدلی کے ساتھ اُترا ہے۔ تمہیں اپنی ڈگریوں پر غرور تھا تو مجھے زمانے کے جبر اور کاروبار کی اُونچ نیچ سے سیکھے ہوئے سبق پر اعتماد۔ میں نے ایک جال بچھایا اور تمہارے آس پاس کے سب لوگوں کو اس میں پھنسا لیا۔ اور انہوں نے مجبور ہو کر تمہیں میرے ہاتھ بیچ دیا۔ اب تم میری زرخرید ہو۔ یہ نکاح اور شادی کی رسومات تو میں نے صرف اپنی شان و شوکت کے لئے برداشت کی ہیں۔ ورنہ ان کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی“ ۔
”اگر مجھے ذرا سا بھی احساس ہوتا کہ آپ نے یہ شادی صرف مجھ سے انتقام لینے کے لئے کی ہے تو میں خاندان کی تباہی برداشت کر لیتی مگر آپ کو اپنا شوہر بننے کا موقع ہرگز نہ دیتی“ ۔
”تم ایسا نہیں کر سکتی تھیں اور نہ تم ابھی ایسا کچھ کر سکتی ہو۔ تمہارے باپ اور بھائی کا سارا کاروبار ابھی بھی میری رحم دلی کا محتاج ہے۔ اگر تم نے کوئی بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھو وہ صرف دو ہفتوں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں گے اور پھر انہیں بچانے کا کوئی راستہ تمہارے پاس بھی نہیں ہو گا۔ ویسے اس وقت تم جو حساب چکانے پر مجبور ہو، تو یہ کِیا دھرا تمہاری بدزبانی، تمہارے غرور اور غلط اندازوں کا ہے۔ ایک طرف تمہاری ڈگریاں ہیں اور دوسری طرف میرا کاروبار ہے“ ۔
”آپ کیا خدا سے لکھوا کر لائے ہیں کہ آپ کے کاروبار کو کبھی کچھ نہیں ہو گا؟“ ۔
”بالکل نہیں! کاروبار کسی کا بھی ہو، اُونچ نیچ چلتی رہتی ہے۔ البتہ جو لوگ میری طرح پوری جانفشانی سے کام کرتے ہیں، انہیں یکایک کوئی جھٹکا نہیں لگتا۔ میں آج بھی مزدوروں کی طرح کام کرتا ہوں، تمہارے باپ کی مانند نواب بن کر نہیں۔ تمہارے لئے اب یہی بہتر ہے کہ اس عالی شان گھر میں رہتے ہوئے اس کی مالکہ ہونے کی اداکاری کرو۔ اچھے سے اچھے کپڑے پہنو۔ بہتر سے بہتر کھانا کھاؤ۔ نوکروں پر حکم چلاؤ۔ بے شک روز شاپنگ کرو مگر یہ بھول جاؤ کہ میں کبھی تمہیں بیوی کی حیثیت بھی دوں گا۔ میرے لئے تم ایک خریدی ہوئی چیز ہی رہو گی۔ یہ تو تمہاری خوش قسمتی ہے کہ میں دنیا کے سامنے تمہیں یہ عزت دینے پر مجبور ہوں، ورنہ تو میں تمہیں زنجیروں سے باندھ کر اس کمرے میں قید کر کے رکھتا۔ روز صبح اُٹھ کر تمہارے نئے نکلے ہوئے پر ، گن گن کر کاٹ دیتا اور پھر۔ لیکن اب بستر میں آ جاؤ۔ مجھے بعد میں کچھ اور کام بھی کرنے ہیں۔ باقی باتیں تو اب صبح شام اور روز روز ہوتی ہی رہیں گی“ ۔
———–
کنزا کی والدہ کو ایک ہفتہ بعد اُس سے ملاقات کی اجازت ملی۔ ماں کے ساتھ تنہائی کا موقع ملتے ہی اُس نے گزشتہ راتوں کے تمام واقعات اور یاسر کے خیالات سے ماں کو آگاہ کر دیا۔
ماں کو یہ سب سن کر بہت دکھ پہنچا مگر پھر بھی انہوں نے کنزا کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی
”تم سب سے پہلے تو حق مہر میں ملنے والی اس رقم کو کسی بینک میں جمع کر اؤ۔ خدا نخواستہ اگر کبھی کوئی بڑی مصیبت آ گئی تو یہ پیسے ہی تمہارے کام آئیں گے۔ اگر تمہارے والد یا تمہارا بھائی کسی بھی مجبوری کا بہانہ بنا کر تم سے پیسے مانگنے آئیں تو صاف انکار کر دینا۔ اپنے حق مہر کے ان پیسوں میں سے کسی کو کچھ نہ دینا۔
اور ہاں یاسر کے معاملے میں انتہائی صبر سے کام لینے کی کوشش کرو۔ ہو سکتا ہے وقت کے ساتھ اُس کے اندر پلتا ہوا یہ انتقامی جذبہ ٹھنڈا پڑ جائے۔ ممکن ہے تمہارے ماں بن جانے کے بعد اُس کے جذبات میں تبدیلی آ جائے۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ تب تک اس اذیت ناک زندگی کو برداشت کرنے کی کوشش کرو۔ ہاں اگر اُس کے بعد بھی تمہارے ساتھ اُس کے برتاؤ میں مثبت تبدیلی نہ آئی تو پھر کچھ اور سوچنے کی کوشش کریں گے۔ ابھی تو اتنی سخاوت دکھانے کے باوجود، تمہارے والد اور بھائی کے کاروبار کو اُس نے پوری طرح گھیرا ہوا ہے۔ تمہارے والد کا کہنا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اس کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے ”۔
کنزا نے ماں کے مشورے پر عمل کیا اور اگلے ہفتے کے دوران ہی اپنا بینک اکاؤنٹ کھولا اور حق مہر کی تمام رقم دو سال کے لئے فکسڈ ڈپازٹ میں جمع کرا دی۔
———–
وقت گزرتا رہا اور یاسر کے رویّے میں کوئی تبدیلی نہ آئی اور نہ ہی دُور دُور تک اس کے کوئی امکانات نظر آ رہے تھے۔ وہ جب چاہتا لگاتار کئی کئی راتیں اور وہ بھی اپنی من مرضی کے طریقے سے کنزا کے ساتھ گزارتا اور جب چاہے، بغیر کسی وجہ کا ذکر کیے کئی کئی ہفتے بیڈ روم کا رُخ ہی نہ کرتا۔ کنزا کو خاوند کا پیار اور اُس کی طرف سے عزت کے سوا وہاں ہر آرام حاصل تھا۔ روپے پیسے کی تو بہتات تھی۔ لیکن اُسے پیسہ ضائع کرنا کبھی بھی پسند نہیں تھا اس لئے وہ پیسہ خرچ کر کے حاصل کر سکنے والی مصنوعی خوشیوں کی تلاش بھی نہیں کرتی تھی۔ البتہ حاملہ ہو جانے کے بعد اُسے اُمید کی ایک چھوٹی سی کرن ضرور نظر آئی۔ آنے والے بچے کے بارے میں اُس کے خیالات اُسے خوشی دینے لگے۔ اُس کی ساس (کنیز یوسف) تو پہلے بھی اُس کے ساتھ بہت اچھی تھیں اور اب پھر سے دادی بننے کی خوشی میں اُس کا زیادہ خیال رکھنے کی کوشش بھی کر رہی تھیں۔
تقی صاحب اور رابعہ بی بی، اب اکثر اُسے ملنے کے لئے آنے لگے۔ نعمان بھی کبھی کبھی چکر لگا لیتا تھا۔ وہ بھی اب ایک بیٹی کا باپ بن چکا تھا۔ تقی صاحب نے کاروبار پر اپنی گرفت کافی مضبوط کر لی تھی۔ نعمان بھی خوب محنت کر رہا تھا۔ یاسر کو یہ سب اچھا تو نہیں لگ رہا تھا مگر اب وہ اُن کے خلاف کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گیا تھا۔
کنزا کا ساتواں مہینہ ختم ہونے کو تھا۔ ڈاکٹروں نے اُسے سخت احتیاط برتنے کی ہدایت دے رکھی تھی۔ کنیز یوسف بہ ذاتِ خود اُسے ہر ہفتہ ڈاکٹر کے پاس معائنہ کے لئے لے کر جاتیں۔ دو نرسیں گھر میں ہر وقت اُس کی مدد کے لئے موجود رہتیں۔ الغرض اُسے وہاں زندگی کی ہر سہولت بھی میسّر تھی اور یاسر کا نفرت آمیز سلوک بھی پوری طاقت سے موجود تھا۔
ایسے میں اُس کے والدین اُسے ملنے کے لئے آ رہے تھے کہ اُن کی گاڑی ایک بھاری ٹرک سے ٹکرائی اور وہ دونوں موقع پر ہی فوت ہو گئے۔ پولیس کو شک تھا کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی ہے مگر اُسے اپنے شک کی مدد کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت نہ مل سکے۔ ماں باپ کے جانے سے کنزا کا جذباتی سہارا بھی جاتا رہا۔ نعمان سے اُسے پہلے بھی، کچھ اور تو کیا اخلاقی مدد بھی حاصل نہ تھی، اب وہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ وہ کبھی کبھار اُسے ملنے تو آتا مگر بالکل ایسے جیسے دنیا کو دکھانے کے لئے اُسے مجبوراً آنا پڑا ہو۔
آخر کنزا کو ایک بیٹے کی ماں بننے کا شرف حاصل ہو گیا۔ وہ ہسپتال میں تھی اور شام کے بعد جب اُس کے کمرے میں اور کوئی نہیں تھا تو یاسر وہاں آیا ”تم میرے بچے کی ماں بن گئی ہو تو کسی خوش فہمی کا شکار مت ہو جانا۔ میں اپنا بچہ پیدا کرنے کے لئے کوئی کرائے کی ماں بھی استعمال کر سکتا تھا، لیکن پھر میں نے سوچا، تمہیں خریدنے پر اتنے پیسے خرچ کیے ہیں تو کیوں نا یہ کام بھی تمہی سے لے لیا جائے؟“ ۔
(اُس کے دل و دماغ میں، کنزا کے خلاف پلتی ہوئی نفرت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی)
کنزا نے اُس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ یاسر بھی خاموشی سے باہر نکل گیا۔
دوسرے دن کنیز یوسف کی خواہش پر ، پوتے کا نام ”سعد“ رکھا گیا، سعد ہاشمی۔ ماں بننے کے بعد کنزا میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ یاسر کی نفرت کے باوجود اُسے جیسے جینے کا مقصد مل گیا، تنہائی کے احساس میں بھی کچھ کمی آ گئی۔ اب اُس نے پھر سے مستقبل کے خواب دیکھنے شروع کر دیے۔ حالانکہ یاسر کے رویّے کی وجہ سے اُسے کوئی راستہ تو نظر نہیں آ رہا تھا مگر پھر بھی ایک بے نام سی خوش گمانی اُسے مسرت بخش رہی تھی۔ موجودہ زندگی کی اندھیری سرنگ کے آخر میں کہیں اُسے کوئی روشنی کی کرن نظر آنے لگی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


