مٹتی تہذیب کا نوحہ گر۔ فیض احمد فیض


dr saima iqbal

فیض کے زمانے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی، سماجی اور تہذیبی طور پر بہت سی تبدیلیاں واقع ہو رہی تھیں۔ دو عالم گیر جنگوں کی وجہ سے ہندوستان کی اقتصادی، سیاسی اور سماجی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ لوگ بھوک اور ناداری کے شکار ہو رہے تھے۔ ملک کے استحصالی عناصر نے غریب اور پس ماندہ طبقوں پر ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھا۔ سامراجی قوتوں نے اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا۔ لوگوں کو ختم کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزمائے گئے۔ فیض احمد فیض نے ایک مٹتی ہوئی تہذیب کو جن قدروں کی پامالی کا سامنا تھا اس کو اپنی شاعری کی اساس قرار دیا۔ ان کے نزدیک طبقاتی نظام اور قدیم جاگیردارانہ نظام ہی اس تہذیب کی تباہی کی وجہ ہیں۔ وہ اس تہذیب کو مٹنے سے بچانے کے لیے اس نظام کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی جد و جہد کے خواب دیکھتے ہیں۔

فیض کو ان حالات کا شدید احساس تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ دل و دماغ کے سبھی راستے بند ہو گئے ہیں۔ اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ ان کی مشہور نظم ”تنہائی“ محرومی اور مایوسی کے ایسے ہی جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔

؎ اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

فیض احمد فیض کو مٹتی ہوئی تہذیب کا نوحہ گر کہا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کی شاعری میں ان قدروں، روایات، اور سماجی انصاف کی خواہش کا ذکر ملتا ہے جو استحصال، جبر اور استعماری و سامراجی قوتوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھیں۔ فیض کی شاعری میں ترقی پسندی، انقلابی خیالات اور ظلم کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ ایک گہرا نوحہ بھی ملتا ہے۔ وہ صرف سیاسی مسائل پر ہی نہیں لکھتے بلکہ ان کی شاعری میں ایک اجتماعی اداسی اور تہذیبی زوال کا درد بھی محسوس ہوتا ہے۔

مثالیں

1 ”یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر“
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

اس مشہور نظم میں فیض نے آزادی کے بعد کے حالات پر مایوسی کا اظہار کیا، جہاں ایک روشن مستقبل کا خواب ادھورا رہ گیا۔ یہ واضح طور پر جاگیرداری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی خواہش ہے، جو غریب طبقے کو کچل رہا تھا۔ یہ آزادی اس آزادی سے مختلف تھی جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔ فیض نے انفرادی اور اجتماعی حقوق کے حق میں آواز بلند کی۔ وہ جبر، قید، اور نا انصافی کو قبول کرنے کے بجائے مزاحمت کا درس دیتے ہیں۔

ہم دیکھیں گے ”
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
۔
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اس نظم میں نہ صرف آمریت کے خلاف بغاوت ہے بلکہ اس تہذیب کی واپسی کی امید بھی ہے جو نا انصافی سے پاک ہو۔

فیض کی شاعری میں استعماری اور سامراجی قوتوں کے خلاف مزاحمت کا رنگ نمایاں ہے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد بھی وہ اس نوآبادیاتی سوچ اور داخلی آمریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں جو حقیقی آزادی کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ آج کے دور میں جب نفرت، تعصب اور فرقہ واریت میں اضافہ ہو رہا ہے، فیض کی شاعری محبت، اخوت، اور انسانیت کا پیغام دیتی ہے۔

”بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے“
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے
۔
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

یہ نظم انسانی آزادی، اظہارِ رائے، اور بنیادی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

فیض کا کمال یہ ہے کہ وہ صرف نوحہ نہیں کرتے بلکہ ان کی شاعری میں امید بھی ہے۔ وہ زوال پذیر تہذیب کا مرثیہ ضرور کہتے ہیں، مگر ساتھ ہی ایک نئے، بہتر سماج کا خواب بھی دیکھتے ہیں۔

فیض احمد فیض کی شاعری میں کئی ایسی تہذیبی قدریں، روایات اور سماجی انصاف کی خواہش نظر آتی ہے جو وقت کے ساتھ استحصال، جبر، اور سامراجی قوتوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھیں۔ ان کی شاعری ایک طرف نوحہ ہے تو دوسری طرف امید کی کرن بھی۔ فیض کی شاعری طبقاتی تفریق اور استحصالی نظام کے خلاف ایک مضبوط احتجاج ہے۔ وہ ایک ایسے سماج کا خواب دیکھتے ہیں جہاں امیر و غریب میں فرق نہ ہو، اور ہر شخص کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔

جنگوں، مذہبی و لسانی تعصبات اور قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے خلاف ”گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نوبہار چلے“ ایک ایسا خواب ہے جو ہر دور میں تازہ رہتا ہے۔ یہ ایک نئے دور، نئی امید اور خوبصورتی کی بحالی کی علامت ہے۔

فیض احمد فیض کی شاعری صرف ایک نوحہ نہیں، بلکہ بغاوت، امید اور ایک بہتر سماج کی خواہش بھی ہے۔ وہ سماجی انصاف، برابری، محبت، آزادی اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ آج کے دور میں فیض احمد فیض کے تصورات پہلے سے بھی زیادہ متعلقہ اور اہم محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے موضوعات جیسے سماجی انصاف، آزادی، انسانی حقوق، طبقاتی جدوجہد، اور استحصالی نظام کے خلاف بغاوت آج بھی دنیا کے بہت سے معاشروں میں گونج رہے ہیں۔

فیض کی شاعری صرف ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی بھی ایک حقیقت ہے۔ ان کی شاعری آج بھی سیاسی تحریکوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، اور معاشرتی انصاف کے لیے لڑنے والوں کو امید اور حوصلہ دیتی ہے۔

آج کے دور میں بھی فیض احمد فیض کی شاعری ایک انقلابی قوت رکھتی ہے۔ ان کی شاعری صرف ادب کا حصہ نہیں بلکہ ایک مزاحمتی بیانیہ ہے جو آج بھی استحصال، جبر اور نا انصافی کے خلاف ایک مضبوط آواز ہے۔

فیض کی نظمیں آج بھی دنیا بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں پڑھی اور گائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر ”ہم دیکھیں گے“ دنیا کے کئی خطوں میں مزاحمتی تحریکوں کا نعرہ بن چکی ہے، چاہے وہ آمریت کے خلاف ہو، نا انصافی کے خلاف ہو یا انسانی حقوق کے حق میں ہو۔

·پاکستان، بھارت، ایران، فلسطین اور دیگر خطوں میں سیاسی مظاہروں میں ”ہم دیکھیں گے“ نظم ”ایک مزاحمتی ترانہ بن چکی ہے۔ طلبہ تحریکوں، مزدور یونینز اور حقوقِ نسواں کی تنظیمیں بھی ان کی شاعری کو اپنا بیانیہ بناتی ہیں۔

فیض نے اپنے دور میں آمریت اور ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کی تھی، اور آج بھی دنیا کے کئی ممالک میں آمرانہ حکومتیں اور جابرانہ نظام موجود ہیں۔ ان کی شاعری آج بھی ان ظلم کے خلاف بولنے والوں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ اظہارِ رائے پر پابندی، میڈیا سنسرشپ، سیاسی گرفتاریوں جیسے مسائل آج بھی موجود ہیں۔

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے ”آج بھی صحافیوں، لکھاریوں اور آزادیٔ اظہار کے حامیوں کے لیے ایک انقلابی پیغام ہے۔

فیض کی شاعری میں جو طبقاتی جدوجہد کا رنگ ہے، وہ آج بھی سرمایہ دارانہ نظام اور جاگیرداری کے خلاف ایک توانا آواز ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور اشرافیہ کی اجارہ داری نے فیض کی ”سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے“ کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔ عالمی سیاست میں طاقتور ممالک کا اثر و رسوخ اب بھی جاری ہے، جس کے خلاف دنیا کے کمزور ممالک برسرِ پیکار ہیں۔

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی ”آج بھی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کی علامت ہے۔

فیض کی شاعری آج بھی ایک انقلابی قوت ہے، کیونکہ ظلم و جبر، نا انصافی، طبقاتی فرق، اور سامراجیت جیسے مسائل اب بھی باقی ہیں۔ جب تک دنیا میں استحصال اور جبر باقی رہے گا، فیض کی شاعری کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی۔

 

Facebook Comments HS