عورت اور مرد کا فرق: فطرت یا سماجی تشکیل؟


جدید دنیا میں جہاں عورت کسی بھی حوالے سے مرد سے کم نہیں ہے اور وہ زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے وہیں پدر شاہی معاشروں میں ابھی بھی عورت کے بارے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی فطری ساخت کے باعث مرد سے کم تر ہے تو اس لیے اس کو وہی کام سر انجام دینے چاہئیں جن کی اجازت اس کی جسمانی ساخت اسے دیتی ہے۔ جیسا کہ گھر داری اور بچوں کو سنبھالنا۔

پدر شاہی اور روایتی سوچ کے مالک لوگ عورت اور مرد کو ان کے صنفی کرداروں کے حوالے سے خانوں میں بانٹ دیتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ چونکہ مرد اور عورت کی فطرت اور جسمانی ساخت مختلف ہے تو اس لیے ان کے صنفی کردار بھی مختلف ہی ہیں۔ اس لیے ان کے مطابق عورت گھر کا انتظام بہتر طریقے سے چلا سکتی ہے جبکہ مرد باہر کے معاملات کو بخوبی سر انجام دے سکتے ہیں۔

ایسے میں ایک اہم سوال ہمارے سامنا آتا ہے کہ :

عورت اور مرد کے درمیان فرق فطری ہے یا یہ سماجی تشکیل کا نتیجہ ہے؟ اس سوال کا جواب صرف حیاتیاتی سائنس میں نہیں، بلکہ فلسفہ، عمرانیات، نفسیات اور تاریخ کے صفحات میں بھی پوشیدہ ہے۔ یہی سوال سیمون دی بوووا جیسے مفکرین کی تحریروں کا محور رہا ہے، جنہوں نے روایتی خیالات کو چیلنج کرتے ہوئے نئی فکری راہیں متعین کیں۔

یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان کچھ حیاتیاتی (biological) فرق موجود ہیں۔ ان میں جسمانی ساخت، تولیدی نظام، ہارمونی تبدیلیاں، اور کچھ نفسیاتی رجحانات شامل ہو سکتے ہیں۔ مردوں میں عموماً زیادہ عضلاتی طاقت دیکھی جاتی ہے، جبکہ عورتیں مخصوص تولیدی اور ہارمونیاتی ساخت رکھتی ہیں۔

مگر سوال یہ ہے :
کیا ان جسمانی فرقوں کی بنیاد پر سماجی کردار، اختیار، تعلیم، یا آزادی طے کی جا سکتی ہے؟
یہیں سے وہ لکیر کھنچتی ہے جہاں فطرت ختم ہوتی ہے اور سماجی تشکیل شروع ہوتی ہے۔

سماجی تشکیل کا مطلب ہے کہ معاشرہ، ثقافت، رسم و رواج اور ادارے انسانوں کو خاص کرداروں میں ڈھالتے ہیں۔

عورت کے بارے میں روایتی تصورات کہ وہ نازک، نرم گفتار، تابعدار اور محدود دائرے کی مخلوق ہے۔ یہ سب سماجی طور پر سکھائے گئے تصورات ہیں، فطری نہیں۔

جیسا کہ لڑکی پیدا ہوتے ہی گلابی رنگ کی چیزیں، گڑیاں، نرم الفاظ اور لڑکا پیدا ہوتے ہی نیلا رنگ، کھلونے بندوقیں اور ”بہادر“ بننے کی تلقین۔

یہ سب معاشرتی پروگرامنگ ہے، جس کا مقصد ہر جنس کو ایک مخصوص دائرے میں رکھنا ہے۔ اور اسی کنڈیشننگ کی بدولت ہی مرد اور عورت خود کو ہر لحاظ سے مختلف سمجھتے ہیں اور اپنی پوری زندگی اسی سوچ پر ہی عمل پیرا ہوتے رہتے ہیں۔

اس حوالے سے مشہور فیمینسٹ، سیمون دی بوووا اپنی کتاب ”دی سیکنڈ سیکس“ (The second Sex) میں کہتی ہیں :
”عورت پیدا نہیں ہوتی، بلکہ بنا دی جاتی ہے۔“

یعنی عورت کی شخصیت اس کی حیاتیاتی ساخت سے نہیں، بلکہ معاشرے کے رویے، تعلیم، اور توقعات سے تشکیل پاتی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ عورت کو ثانوی حیثیت دی گئی کیونکہ اسے مرد کے ”دوسرے“ کے طور پر دیکھا گیا۔

اسی طرح، معاصر فیمینسٹ جیوڈی بٹلر کے مطابق: ”Gender is performative“

یعنی عورت یا مرد ہونے کا عمل سیکھا اور دوہرایا جاتا ہے، یہ کوئی فطری جبلت نہیں۔ انہوں نے صنف (Gender) اور جنس (Sex) کے فرق کو واضح کیا اور کہا کہ دونوں کی بنیاد بھی سماجی ہی ہوتی ہے۔

ایسے ہی، میری ولسٹن کرافٹ (Mary Wollstonecraft) اپنی کتاب: A Vindication of the Rights of Woman ( 1792 ) میں یہ نکتہ اٹھاتی ہیں کہ ”عورت کی کمزوری تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے، فطرت کا نہیں۔“ وہ پہلی فلسفیوں میں شامل تھیں جنہوں نے عورت کے لیے مساوی تعلیم کی وکالت کی۔ ان کا ماننا تھا کہ صنفی کردار تعلیم اور تربیت کی پیداوار ہیں، نہ کہ پیدائشی صفات۔

اسی طرح، بیٹی فریڈن (Betty Friedan) اپنی کتاب: The Feminine Mystique ( 1963 ) میں نکتہ اٹھاتی ہیں کہ، ”گھر کی چار دیواری عورت کی واحد پہچان نہیں۔“ بیٹی فریڈن نے ”خواتین کی گھریلو قید“ کو چیلنج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عورت کو صرف بیوی اور ماں بننے تک محدود کرنا اس کی مکمل انسانی صلاحیتوں کی نفی ہے۔ انہوں نے تعلیم، ملازمت اور خودمختاری کو عورت کا حق قرار دیا۔

اس لیے جب فطری فرق کو بہانہ بنا کر عورتوں کو تعلیم، ملازمت، قیادت اور آزادی سے محروم کیا جاتا ہے، تو یہ ظلم فطرت کا نہیں، معاشرتی تفریق کا نتیجہ ہوتا ہے۔

عورت کی صلاحیت کو گھریلو کردار تک محدود کرنا؛ مرد کو جذبات کا اظہار نہ کرنے والا ”مضبوط“ ظاہر کرنا؛ یہ سب تعصبات سماج کی پیداوار ہیں، فطرت کی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان چند فطری فرق موجود ہیں، لیکن ان فرقوں کی بنیاد پر جو سماجی تقسیم اور تعین کیے جاتے ہیں، وہ انسانی معاشرتی تشکیل کا نتیجہ ہیں۔ لہٰذا، اگر ہم ایک منصفانہ اور مساوی معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں ان سماجی زنجیروں کو توڑنا ہو گا، جو فطری فرق کو جواز بنا کر عورت کی ترقی کو روکتی ہیں۔

اور جنس کی بنیاد پر فرق کو تسلیم کرنا اور اس فرق کو تعصب کا ذریعہ بنانا۔ دو مختلف باتیں ہیں۔ ہمیں فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے، سماج کو ایسا بنانا ہے جہاں ہر انسان۔ چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہو۔ کیونکہ صنفی کردار انسانوں پر تھوپے گئے سانچے ہیں، جنہیں توڑنا اور خود اپنی شناخت کی تشکیل کرنا ضروری ہے۔ ”

Facebook Comments HS