یونیورسٹی کا خفیہ نصاب: کینٹین میں بیٹھ کر ڈگری کیسے حاصل کی جائے؟ (2)


اگر آپ کا تعلق کسی راجہ مہاراجہ کے خاندان سے ہونے کی وجہ سے احسان لینا طبیعت میں ہی نہیں ہے تو اس بیماری کا بھی یونیورسٹی میں مکمل طور پر خیال رکھا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اوپر والا طریقہ کار، یعنی پہلے تو خالص ”خدمت“ سے کام چلائے اور اگر یہ نہ چلے جو کہ عین ممکن ہے کیوں کہ یہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اسلام کے اس اعلیٰ اصول کی قدر ہی نہیں کرتے، اپنی اسلامی عدم واقفیت کی وجہ سے۔ جو کسی اور دنیا کے اصول ارضِ پاک پر لاگو کرنے کی گستاخی میں جٹے ہوئے ہوتے ہیں، تو گھبرانے کی ضرورت ہرگز نہیں۔

ایسے مواقع کے لیے ہمارے پاس ”سرٹیفیکیٹ اسکیم“ موجود ہے، جو بالکل ویسے ہی کام کرتی ہے جیسے سیاست میں ”میرٹ اسکیم“ یعنی نانا، چچا، تایا، اور ابا کا نام ہی اہلیت کے لئے کافی ہوتا ہے۔ بس آپ ایک عدد بیماری کی سند بنوا لیں، جو کسی بھی تجربہ کار ”ڈاکٹر نما دکاندار“ کے پاس دستیاب ہوتی ہے، اور کلاس میں حاضری کی فرضیت کو ایسے معاف کروا دے گی جیسے حکومتی نمائندگان بنتے ہی سیاستدانوں کا نیب سے مقدمات (cases) ہوتے ہیں۔ بس مناسب معاوضہ ادا کریں، اور اپنا مرض خود منتخب کریں۔ یہاں پر جو خوبصورت بات ہے وہ یہ کہ آپ کو خود سے بیماری کے انتخاب کی سہولت میسر ہوتی ہے جو کہ بہت کم خوش نصیبوں کو یہ پاکستان جیسے ملک میں نعمت میسر ہے۔ اب جہاں ووٹوں کے بعد پسند کی حکومتیں تک نہیں ملتی، وہاں من پسند بیماری کا ملنا ہمارے خیال میں جنت الفردوس کی کسی بڑی سی بڑی نعمت سے ہرگز کم نہیں۔ لہٰذا، اگر آپ کو لگتا ہے کہ پروفیسر اسکول کے ٹیچروں کی طرح غیر حاضری پر کپڑے اتار کر ماتم کرنے لگ جائیں گے، تو تسلی رکھیں ایک عدد ”مستند بیماری“ کا کاغذ دکھائیں اور وہ بھی سر ہلا کر، دعائے خیر کے ساتھ ”اللہ اچھی صحت دے“ کہہ کر، گھر تک چھوڑنے کی پیشکش بھی کر ڈالتے ہیں اور یہ جو محبت سچے دل سے دیتے ہیں کبھی ان کی بیگمات کو بھی نصیب نہیں ہوتی ہے۔ اب، مجبوری تو ایسی چیز ہے جو چائے میں چینی کی طرح ہر مسئلے میں گھول کر پیش کی جا سکتی ہے۔

دوسرا اَسائنمنٹ کے لیے کسی ایسی کلاس کی لڑکی کو ڈھونڈیں جو عقل مند ہونے سے زیادہ عقل مند دکھتی ہو۔ ایسی لڑکیاں ہر کلاس میں قدرت کی دوسری تمام نعمتوں کی طرح زیادہ نہیں تو کم از کم ایک دو ضرور موجود ہوتی ہیں۔ وہی جو پروفیسر حضرات کے ہر فقرے پر ایسے سر ہلاتی ہیں جیسے علم کی ندی انہیں کے دماغ سے بہہ رہی ہو۔ ان کی اعلیٰ خوبیوں کی وجہ سے انہیں ڈھونڈنا ہی نہیں پڑتا بلکہ ان پاپا کی ”پریوں“ کی عظمت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ یہ خود بخود چلتی پھرتی دور سے اس طرح نظر آجاتی ہیں جیسے ہر حکومت کے جانے کے بعد ان کی کرپشن۔

آنکھوں پر چشمہ، ہاتھ میں کلر کوڈڈ نوٹس، اور بات بات پر ہر کسی کو ”سر“ کہہ کر مخاطب کرنا ان کی اعلیٰ اخلاقیات میں شامل ہوتا ہے۔ اگر آپ ”مخالف جنس“ کے نمائندے ہیں، تو مبارک ہو جناب! آپ کے تو وارے نیارے ہیں۔ آپ کو نہ کسی گروپ میں شامل ہونے کی درخواست دینی پڑتی ہے، نہ ہی چار بندوں سے سفارش کروانی ہوتی ہے۔ بلکہ آپ کے ساتھ تو یہ ہوتا ہے کہ ایک دن آپ ایسے ہی پریشان بیٹھے ہوتے ہیں، اور اچانک کوئی ہنس مکھ لعل مسکراتے ہوئے آپ سے کہے گا: ”آپ ہمارے گروپ میں آ جائیں، ہمیں بس ایک سمجھدار بندہ چاہیے جو نام لکھ دے۔“ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ کو لگتا ہے کہ شاید ایدھی فاؤنڈیشن والوں نے کوئی ذہنی ریلیف پروگرام شروع کیا ہے، جہاں رضاکار خود بخود حاضر ہو کر نہ صرف کام کر دیتے ہیں بلکہ آگے کے لئے بھی کہتے ہیں کہ یہ آپ کے لئے خدمات ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گی۔ بس جناب، اس کے بعد آپ کا کردار صرف اتنا رہ جاتا ہے جتنا ہالی وڈ فلم میں کسی گورے ولن کے پیچھے کھڑے چائنیز باڈی گارڈ کا، جو کچھ نہیں بولتا بس موجود ہوتا ہے۔

اور اگر آپ نے پورا سمیسٹر غلطی سے پڑھائی ہی نہیں کی اور نہ ہی ڈیپارٹمنٹ میں مجبوریوں کی وجہ سے جانا ہوا کیونکہ انسان ہے ہی خطاؤں اور مجبوریوں کا پتلا اور ساتھ ہی ساتھ پروفیسر حضرات کی خدمت بھی نہیں کی، تو پھر سمیسٹر کے آخری اوور میں کلرک حضرات کی خدمت کر کے ان کی دعائیں وصول کر لینی چاہئیں۔ ان کی دُعاؤں میں وہ برکت ہوتی ہے جو پاکستان کے کسی بھی اعلیٰ سے اعلیٰ پیر تعویذ والی سرکار کے پھونکے میں بھی نہیں ہوتی ہے۔ پھر آپ اپنے دل کی مراد پوری سمجھیں۔ کلرک حضرات کے پاس منکر نکیر کی طرح ڈیپارٹمنٹ کے تمام حساب کتاب کی چابیاں موجود ہوتی ہیں اور یہ نظر کرم کر دیں تو آپ اپنا بیڑا پار سمجھیں اور اگر یہ منہ پھیر لے تو پھر آپ صراطِ مستقیم کا پل کبھی پار نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ ایسے طاقتور ترین بابا ڈیپارٹمنٹ ہوتے ہیں۔ کلرک حضرات وہ ہستیاں ہیں جن کے دل کے دروازے کھلتے ہی لگتا ہے جیسے تقدیر کا دروازہ کھل گیا ہو، اور جس کرسی پر یہ بیٹھتے ہیں، وہ کرسی نہیں، گویا تختِ طاؤس ہوتی ہے۔

کلرک حضرات کی تو چائے پانی کی عادت ہوتی ہے لیکن ہم اپنے گاؤں کی مہمان نوازی کے آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے دودھ اور شہد سے خدمت کیا کرتے تھے اور اگر شکل پسند آ جاتی تو مکھن بھی خوب لگاتے تھے۔ کلرک صاحبان کی ڈپارٹمنٹ میں اہمیت ایسے ہوتی ہے جیسے اکثر فلموں کے آخری سین میں اچانک نمودار ہونے والا ڈاکٹر، جو آ کر بس یہی بولتا ہے : ”اگر آپ تھوڑی دیر اور کر دیتے، تو آپ کا مریض، پاس ہو جاتا“ ۔

جس کٹھن وقت میں پروفیسر حضرات جیسے روحانی والدین بیس مارکس دے کر اپنے ہاتھ جھاڑ لیتے ہیں۔ وہاں پر یہی کلرک حضرات غیبی فرشتے ثابت ہوتے ہیں جو فیل ہونے والے طلبہ کو پل صراط کے اُس پار اُتارتے ہیں۔ ان پاک ہستیوں کے اس عمل کے لئے آسمان سے من و سلویٰ بھی لایا جائے تو کم ہے۔ سب سے بڑی بات ان کی عاجزی، کبھی سوشل میڈیا پر فخریہ پوسٹ نہیں کرتے کہ ”آج ایک طالبعلم کو فائنل پروجیکٹ میں پاس کرا دیا۔“ نیکی کر، دریا میں ڈال ”۔ یہی اصول ان کلرک صاحبان کے دل پر کندہ ہوتا ہے۔

ہمارے سیاستدانوں کو چاہیے کہ ان کلرک حضرات سے خفیہ نیکی کا فن سیکھیں۔ یہ وہ حضرات ہیں جو طلبہ کو پاس بھی کر دیتے ہیں، لیکن مجال ہے کہ فیس بک پر ”آج میں نے ایک طالب علم کو +A دیا، فخر ہے!“ جیسا کوئی اسٹیٹس ڈال دیں۔ ادھر ہمارے سیاستدان ہیں، اگر سڑک پر ایک اینٹ بھی سیدھی رکھ دیں تو نہ صرف دو دن کا جلسہ، تین دن کا اشتہار، اور پانچ دن کی پریس کانفرنس کرتے ہیں، بلکہ غریب اینٹ کا زندوں کو بتانے کے ساتھ ساتھ باقی اس کے مرحوم آبا و اجداد کو بھی قبر سے اٹھا اٹھا کر سوئے ہوئے کو تنگ الگ سے کرتے ہیں۔

اصل ڈگری پرچوں میں نہیں، بلکہ پروفیسرز اور کلرک حضرات کی نظروں میں ہونی چاہیے۔

Facebook Comments HS