پاکستان کا والٹیئر۔ ارشد محمود
پاکستان میں روشن خیالی اور عقلیت پسندی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ارشد محمود ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ان سے میری پہلی ملاقات کوئی پندرہ برس قبل ہمارے مشترکہ دوست وسیم الطاف کے گھر پر ہوئی جو سول سروس میں میرے بیچ میٹ تھے۔ ان دنوں میں ایف بی آر سے رخصت لے کر برطانیہ کی وارک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جب ارشد صاحب کا برطانیہ آنے کا پلان بنا تو میری خصوصی فرمائش پر انہوں نے میرے ہاں مختصر قیام کیا۔ اس کے بعد وہ جب بھی برطانیہ آتے تو ملاقات کا اہتمام ضرور ہوا کرتا تھا۔ اور ایسے میں کچھ ہم خیال دوستوں کی محفل بھی جم جایا کرتی تھی۔
ہم اپنے لکھاریوں اور دانشوروں کو بہت کم سراہتے ہیں۔ اگر کرتے بھی ہیں تو تب جب انہیں اس دنیائے فانی سے کوچ کیے اک طویل عرصہ ہو چکا ہوتا ہے۔ اس روایت کے بر خلاف آج ان سطروں کے ذریعے میں ارشد محمود کی درویشانہ اور دانشورانہ زندگی کو سراہنا چاہتا ہوں۔ فرانسیسی مفکر ڈیکارٹ کا مشہور قول ہے کہ ”میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں۔“ ارشد گنتی کے ان چند پاکستانیوں میں سے ہیں جو اس مشہور قول کی پیروی کرتے ہوئے کسی مستعار سوچ کے ذریعے جینے سے انکاری رہے ہوں۔ معاشرے کی عطا کردہ سوچ کے پنگھوڑے میں جھولنا بہت سہل اور سکون بخش فعل ہے جبکہ اپنی سوچ کے سہارے جینے کے لئے بلا کا جگر چاہیے ہوتا ہے۔ اس نکتے کی بہترین وضاحت برطانوی مصنف جے ایس ملز نے اپنی کتاب ”لبرٹی“ میں یہ کہہ کر کی ہے کہ ہم آزادی کے مجاہد صرف ان لوگوں کو سمجھتے ہیں جو جابر حکمرانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن درحقیقت وہ لوگ زیادہ دلیر ہوا کرتے ہیں جو معاشرتی جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اس کی وجہ ملز یہ بتاتا ہے کہ حکمرانوں کے خلاف لڑنے والوں کو تو معاشرہ غازی اور شہید قرار دیتا ہے لیکن ثقافتی بندشوں کے خلاف کلمۂ حق کہنے والوں کو لادین اور بدقماش قرار دے کر انہیں اپنے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ ہم پاکستان کے حوالے سے اگر اس کلیے کو دیکھیں تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ تقریریں کرنے والوں کو راتوں رات زیرو سے ہیرو بنتے دیکھا گیا ہے جبکہ معاشرتی عقائد اور رویوں پر سوال اٹھانے والوں کو مشعال خان کی صورت بپھرے گروہ کے ہاتھوں ہلاکت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارشد محمود نے اپنی زندگی اپنے انداز سے اپنے اصولوں کے تحت گزاری ہے۔ اور اس میں انہوں نے کسی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ چاہے مذہبی تنگ نظری ہو یا نیشنلزم و مارکزم سمیت کوئی بھی ازم ہو، انہوں نے ہر طرز کی بنیاد پرستی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آج کل وہ زندگی کے ایک ایسے مشکل دور میں داخل ہو گئے ہیں جہاں ہم قدرت کے آگے بے دست و پا ہو جاتے ہیں۔ میں ذاتی زندگی کی تکالیف کو پبلک میں بیان کرنے سے ہچکچاتا ہوں لیکن چونکہ ارشد صاحب نے اپنی زندگی کو ایک کھلی کتاب کی صورت پیش کر رکھا ہے اور وہ کینسر کے علاج سے وابستہ ہر واردات دل اپنے قارئین اور خیر خواہوں تک پہنچاتے رہے ہیں اس لیے زندگی کے اس تکلیف دہ مرحلے میں اپنے اس دوست کے لیے بہت سی نیک تمناؤں اور دعاؤں کا گلدستہ حاضر کرنا چاہتا ہوں۔
ارشد محمود کو پاکستان کا و الٹیئر خطاب دینے کی وجہ ان کا اس مشہور فرانسیسی دانشور کی طرح اپنا قلم راست گوئی اور انسانی اقدار کے دفاع کے لئے وقف کرنا ہے۔ و الٹیئر کو اپنی تحریروں کے باعث اگر ایک طرف عوامی حلقوں اور اہل دانش میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی تو دوسری جانب مقتدر زعما اور کلیسا کے لیڈران کو اس سے سخت نفرت رہی۔ جب ایک رئیس کی ہتک عزت کے جرم میں انہیں جیل جانا پڑا تو انہوں نے عافیت اس میں سمجھی کہ فرانس سے کوچ کیا جائے۔ یوں زندگی کے اٹھائیس سال وہ جلا وطن رہے اور تراسی برس کی عمر میں واپس پیرس آ سکے جب بدلے حالات میں مخاصمت قدرے کم ہو گئی تھی۔ انقلاب فرانس سے کچھ سال پہلے جب و الٹیئر کا انتقال ہوا تو چرچ مذہبی تدفین پر راضی نہیں تھا۔ چنانچہ کوئے یار پیرس میں دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ مل سکی اور دور ایک دیہاتی مقام پر خاموشی سے دفن کیا گیا۔ جب فرانس میں انقلاب رونما ہوا تو 1791 میں انقلاب کے جشن کے طور پر و الٹیئر کو فرانس میں روشن خیالی کے امام کے طور پر سراہنے کا فیصلہ ہوا اور اس کے جسد خاکی کو لاکھوں لوگوں کے جلوس کی شکل میں پیرس منتقل کر کے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ ہمارے ارشد محمود اور والٹیئر میں دیگر مماثلتوں کے علاوہ ایک دلچسپ قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں کا تعلق گو متوسط طبقے سے تھا لیکن اپنی ذہانت اور مناسب حکمت عملی سے دونوں نے متمول حیثیت سے زندگی گزاری اور بہت سے انقلابیوں کی طرح مفلسی کا سامنا کرنے کی بجائے ان کی زندگیوں میں مال و دولت کی فراوانی رہی۔ تاہم جس مماثلت کو میں زیادہ اہمیت دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ و الٹیئر نے جہاں اپنی زندگی میں بے شمار مضامین، خطوط، شاعری، ڈرامے اور فلسفیانہ کتب لکھیں وہیں ایک ایکٹوسٹ کے طور پر اس نے رجعت پسندی کے خلاف ہر ممکنہ انداز میں اپنی آواز بلند کی۔ اس زمانے میں نہ انٹرنیٹ تھا اور نہ سوشل میڈیا۔ تاہم رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لئے سوشل میڈیا کی کمی پمفلٹ بازی سے پوری ہو جایا کرتی تھی۔ چنانچہ والٹیئر کی شہرت کا سبب وہ بے شمار پمفلٹ تھے جن کا بنیادی مقصد عقلیت، سائنسی سوچ، مذہبی رواداری اور آزادیِ اظہار کا فروغ تھا۔ چونکہ ان تحریروں کو عیسائی زعما شدید مدافعت سے دیکھا کرتے تھے اس لیے والٹیئر ان پمفلٹوں کو اکثر فرضی نام سے تحریر کیا کرتا تھا لیکن انداز تحریر کی گہری کاٹ اور بیان کی شگفتگی سے سب کو خبر ہو جاتی تھی کہ اصل مصنف کون ہے۔
ارشد صاحب نے پاکستان جیسے روایت پسند معاشرے میں ”تصور خدا“ کتاب تحریر کی۔ ایک صدی سے زیادہ پہلے سرسید احمد خان نے اپنی تفسیر قرآن میں تصور خدا کو مذہبی معاشرے کی اساس قرار دیا تھا اور اس نکتے پر زور دیا تھا کہ کیا ہم خالق کو مشفق باپ کے طور پر دیکھتے ہیں یا جابر حکمران کے طور پر، اس سے ہمارے تمام رویوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ارشد صاحب تاہم تصور خدا کو مذہبی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے اسے تاریخی، معاشرتی اور فلسفے کی آنکھ سے دیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس کتاب کو پاکستانی کتب میں ایک انقلابی کاوش قرار دیا جاسکتا ہے جس نے ہزارہا قارئین کو اپنے مذہبی عقائد کا ازسرنو جائزہ لینے کی جانب راغب کیا۔ معاشرتی رویوں پر ان کی کتاب ”تعلیم اور ہماری قومی الجھنیں“ کو نوجوان قارئین میں بہت پذیرائی ملی کیونکہ اس میں انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ہمارے معاشرے کی غیر ضروری بندشوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ اور نوجوان قاری کو اپنی زندگی کا ایک ناقدانہ جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔
ارشد صاحب نے بھی و الٹیئر کی مانند فقط کتب کی تصنیف پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا کو پمفلٹ بازی کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ چاہے مذہبی انتہا پسندی ہو یا سماجی بندش۔ ارشد محمود فیسبک پر اپنی جامع اور مختصر پوسٹوں کے ذریعے نوجوان فالوورز کی ذہنی تعمیر و تربیت کرتے رہے ہیں۔ کبھی وہ ریاستی استبداد پر اپنی رائے کا بیباکی سے اظہار کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی کسی قومیت پرست سے ثقافت کے نام پر ہونے والی تنگ نظری پر مباحثہ کر رہے ہوتے ہیں۔ محرم کا مہینہ ہو تو وہ شیعہ مسلک سے وابستہ رسوم پر اپنی رائے دے رہے ہوتے ہیں اور رمضان کا مہینہ شروع ہو تو غیر فطری بندشوں کے باعث معاشرتی جبر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یوں قلم یعنی کی بورڈ کی تلوار اٹھائے وہ ہر سو بہت سے محاذوں پر مصروف جہاد رہتے ہیں۔
والٹیئر سے جہاں بہت سی مماثلتیں ہیں وہیں ایک فرق نمایاں نظر آتا ہے۔ والٹیئر بھی مذہبی شدت پسندی کے سخت ناقد تھے، لیکن وہ خود کو دیگر فرانسیسی فلاسفروں کی طرح دہریہ نہیں قرار دیتے تھے بلکہ وہ ایک خالق کے وجود کو تسلیم کرتے تھے۔ ارشد محمود صاحب کا نقطہ نظر انقلاب فرانس کے ان راہنماؤں کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے جن کے زیر اثر عیسائی مذہب پر مکمل پابندی لگا کر اس کی جگہ عقل پسندی پر مبنی نئے تہواروں اور کلینڈر پر مشتمل ایک پوری نئی ثقافت کا تجربہ کیا گیا تھا۔ ارشد صاحب پاکستان میں ایک ایسے ہی انقلاب کے داعی ہیں۔ یقیناً ان کی اس سوچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن یہ نکتہ ایک علیحدہ بحث کا متقاضی ہے اس لیے اس موضوع پر کبھی مستقبل میں تفصیلاً اظہار خیال کروں گا۔ یہاں ارشد محمود کی مخلصانہ کاوشوں کو نذرانۂ عقیدت پیش کرنا مقصود تھا۔ بقول میر درد
مجنوں، فرہاد، درد و وامق
ایسے یہ دو ہی چار ہیں ہم
آزادیٔ بیان اور روشن خیالی کے لئے پاکستانی مصنفین کی تعداد کچھ زیادہ نہیں۔ ان میں ارشد محمود ایک ایسے روشن ستارے کی مانند ہیں جس کی روشنی سے تاریکی میں بھٹکے بہت سے مسافروں کو اپنی سمت ڈھونڈنے میں مدد ملتی رہی ہے۔ ہم ان کی صحت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ شریک دعا ہیں کہ۔
جن کا دیں پیروی کذب و ریا ہے ان کو
ہمت کفر ملے، جرات تحقیق ملے


