پاکستان کی سیاست اور جیلیں!


ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ دراصل ہمارے ملک کی سیاست کو ایک چیز منفرد بناتا ہے اور وہ ہے سیاسی رہنماؤں، کارکنوں حتیٰ کہ عورتوں کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا جاتا ہے۔

وطنِ عزیز کی جیلیں سیاست دانوں اور کارکنوں کے لیے ایک گردشی دروازہ بن چکی ہیں۔ بد قسمتی سے جیلوں کو سیاسی دباؤ، مزاحمت کے ہتھیار اور طاقت کی بالا دستی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یوں سیاسی انتقام کے منہ زور گھوڑوں کو حوض سے ٹھنڈا پانی پلا کر شانت کیا جاتا ہے۔ اس سارے طریقہ کار سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس سب میں سب سے زیادہ نقصان تو وطنِ عزیز کی ترقی کا ہوتا ہے۔ اب اگر تاریخ کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی سے پاکستان میں سیاست کے قیدیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو ملک کی وسیع تر اقتدار کی جنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کے پہلے بڑے سیاسی قیدی حسین شہید سُہروردی تھے جو سابق وزیرِ اعظم پاکستان تھے۔ انہیں 1962 میں جنرل ایوب خان کے دور میں ”ریاست کے خلاف سرگرمیوں“ کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ازاں بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت ( 1971۔ 1977 ) میں سیاسی جبر میں اضافہ ہوا اور اپوزیشن رہنماؤں کو بار بار گرفتار کیا گیا۔ تاہم 1977 میں جنرل ضیاء الحق کی بغاوت کے بعد بھٹو خود جیل چلے گئے۔ ان پر بھی سیاسی مخالفین کے قتل کا الزام تھا اور پھر بالآخر انہیں ایک متنازع مقدمے کے اندر سزائے موت دے دی گئی۔

ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران اَن گنت شاید ہزاروں اپوزیشن رہنماؤں کو بشمول بے نظیر بھٹو صاحبہ کو قید میں ڈالا گیا یا جِلا وطن کر دیا گیا۔ پھر 1990 کی دہائی میں جمہوریت کا سورج طلوع ہوا۔ مگر اس کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ایک دوسرے کے رہنماؤں کو گرفتار کرتے رہے اور اپنی سیاسی پیاس بُجھاتے رہے۔ نو سال گزر جانے کے بعد پھر 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں میاں نواز شریف کو پہلے قید اور پھر جِلا وطن کر دیا گیا۔

پاکستان کی سیاست یوں لگتا ہے جیسے صرف اپوزیشن کو دبانے کے گھن چکروں کی بھول بھلیوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ اکثر و بیشتر سیاسی مخالفین کو کرپشن، غداری اور دہشت گردی جیسے مبہم الزامات میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ مل کر ملکی اقتصادی و تعلیمی ترقیاتی کاموں پر توجہ دینی چاہیے۔ ہاں! اپوزیشن کو جائز عوامی حقوق کے حق میں آواز ضرور اُٹھاتے رہنا چاہیے۔ جو بھی حکومت برسرِاقتدار ہوتی ہے وہ عوامی بیانیہ بنانے کے لیے اپوزیشن کے رہنماؤں کو گرفتار کرتی ہے جیسا کہ 2018 سے 2022 کے درمیان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کئی رہنما پی۔

ٹی۔ آئی حکومت کے دور میں گرفتار ہوئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ قید کاٹ کرو اپس آنے سے بعض اوقات ہمارے سیاست دان اور زیادہ مقبول و مشہور ہو جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو حالیہ چند برسوں میں پاکستان کی سیاست پھر سے جیلوں کے گرد گھومنے لگی ہے۔ پی۔ ٹی۔ آئی کی حکومت ( 2018۔ 2022 ) تک اپوزیشن کے خلاف کرپشن کیسز میں تیزی لائی جس کے نتیجے میں نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، آصف زرداری اور مریم نواز کی گرفتاری ہوئی۔ مگر پھر سے 2022 میں پی۔ڈی۔ ایم حکومت کے آتے ہی عمران خان خود عدالت اور گرفتاری کا سامنا کرنے لگے۔ اپوزیشن اور حکومت اگر ایک دوسرے کے خلاف مقدمات کو تیزی سے چلانے کی بجائے عدالتی اور غیر جانب دار طریقوں سے کام کریں تو حالات بہتر ہو بھی سکتے ہیں۔ البتہ عدالتی نظام میں تیزی ہونی چاہیے۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں سیاسی کھینچا تانی شروع ہو گئی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالنے سے عوام کا اعتماد بھی اداروں پر متزلزل ہونے لگتا ہے اور یوں آپس میں تقسیم بھی بڑھتی ہے۔

اگر یہ سیاسی جیلوں کا سلسلہ جاری رہا تو جمہوری عمل مزید کمزور ہو جائے گا۔ لہذا تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ جیلوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک چارٹر آف ڈیمو کریسی بنائیں اور اس پر سب متفق ہوں۔ احتساب سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ عدالتیں آزاد ہونی چاہئیں۔ اگر سیاسی مخالفین ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے یہ سلسلہ جاری رکھیں گے تو جمہوری عمل اور ادارے کمزور ہوں گے۔ اگر ہم پاکستان کو ایک حقیقی جمہوری اور مستحکم ملک بنانا چاہتے ہیں تو سیاسی نظام اور انتقام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

اپنے ملک کی سیاست کو بہتر بنانے کے لیے اربابِ اختیار کو چاہیے کہ سیاست دانوں کی گرفتاریوں کی بجائے نظام کی اصلاحات، مذاکرات اور مسئلے کی شفافیت پر زور دیں۔ ہر سیاسی جماعت کو برابر کا موقع ملے تاکہ وہ اپنی حکمتِ عملیوں کے ذریعے عوام کی فلاح کے کام کر سکیں۔ عوام کو بھی اپنے حقوق کی آگاہی ہونی چاہیے۔ تمام اداروں کو آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔ سیاست دانوں کو باقاعدہ سیاسی تربیت ملنی چاہیے تاکہ برداشت اور تحمل پیدا ہو جو جمہوریت کا حُسن ہے۔

احتساب کا نظام غیر جانب دار ہونا چاہیے جس میں خود احتسابی اولین ہو۔ کرپشن کا خاتمہ ضرور کیا جائے مگر سیاسی دباؤ کے لیے اسے استعمال نہ کیا جائے تاکہ ملک میں اصلی خوش حالی ہو۔ سول سوسائٹیز اور میڈیا کو بھی آزادی ہو تاکہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کریں اور عوامی رائے آپ تک پہنچائیں۔ مت بھولیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور کو بھی فروغ دینا ہو گا تاکہ قوم باشعور ہو سکے۔ شاید پھر ہم کسی سیاسی قیدی کے بغیر ایک مضبوط۔ پُر امن اور جمہوری پاکستان کی طرف بڑھ سکیں۔

Facebook Comments HS