کینیڈا: کیا مزا اس ووٹ ڈالنے کا


لو، بھلا کوئی یہ بھی ووٹنگ ہوئی۔ وہ بھی قومی اسمبلی کے جنرل الیکشن کی۔ الیکشن کی تاریخ اٹھائیس اپریل ہے۔ برامپٹن کینیڈا کے شاپرز ورلڈ شاپنگ مال میں آٹھ اپریل سے الیکشن آفس کی شاخ کھل چکی ہے۔ آئی جاؤ، ووٹ پائی جاؤ۔ ایڈوانس ووٹنگ آپ کی سہولت کے لئے۔ دوسرے ملکوں پدھارے کینیڈین شہری ڈاک سے ووٹ بھجوا دیں۔ چلو آن لائن ڈال دو۔ اچھا چلو یہ بھی لو، آپ کے قومی اسمبلی حلقہ کے لیے ہم اٹھارہ، انیس، بیس اپریل کے لئے ڈیوڈ سوزوکی سکول میں ووٹ ڈالنے کا انتظام کر دیتے ہیں۔ گُڈ فرائی ڈے اور ایسٹر کی چھٹیاں ہیں۔ آپ کے کام کا حرج نہ ہو۔ آئی جاؤ ووٹ پائی جاؤ۔ نہیں تو پھر ووٹنگ کی اصل تاریخ تو اٹھائیس اپریل ہے۔ بس اس دن نہ بھولنا۔ کہ ووٹ ڈالنا قومی فریضہ ہے اور آپ کا اخلاقی فرض کہ قومی دھارا درست رکھنے کو وہ نمائندے چنیں جو قوم کے مستقبل کو بہتر کرنے اور آپ کے قومی سطح کے مسائل حل کرتے قانون سازی کر سکیں۔

تو ہم باپ بیٹا جمعہ اٹھارہ اپریل کی صبح ووٹ ڈالنے نکلے۔ خیال آیا کہ گُڈ فرائی ڈے کی چھٹی ہے اور شاپنگ مال تو بند ہو گا۔ بیٹے نے بتایا ادھر آئے ہی اس لئے ہیں کہ مال بند ہونے کا خیال کرتے ادھر رش بہت کم ہو گا اور ڈیوڈ سوزوکی سکول میں قطاریں لمبی ہوں گی۔ پیلے رنگ کی تختی پہ تیر کا نشان اور ووٹ کے الفاظ ایک گیٹ کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ چار چاق و چوبند رضاکار ہمارے ووٹر کارڈ چیک کرتے بائیں طرف مڑتے کچھ آگے خالی پڑے سٹور میں بنے ہمارے حلقہ کے پولنگ سٹیشن کی طرف رہنمائی کرتے اشارہ کر رہے تھے۔ بس دو چار ووٹر پہلے تھے۔ ابتدائی شناخت کے بعد متعلقہ کاؤنٹر پہ بیٹھی خاتون نے ہمارا شناختی اور ووٹ کارڈ لیا۔ کمیوٹر پہ اندراج کیا۔ مسکراتے حال چال پوچھتے ایک پرچہ جس پہ امیدواروں کے نام لکھے تھے اور ایک خالی بیلٹ پیپر معہ لفافہ تھما دیا۔ ہم نے دور پڑے ٹیبل پہ جا پسند کے امیدوار کا نام خالی پیپر پہ لکھا لفافے میں بند کر واپس آئے اور اسی میز پہ دوبارہ آ بیلٹ بکس میں ڈال ہیلو ہائے کرتے چار منٹ کے اندر ہی واپس لوٹ رہے تھے۔ اور دوچار فیمیلیز پولنگ سیشن میں داخل ہو رہی تھیں۔ نصف گھنٹے میں ہم واپس گھر پہنچ چکے تھے۔

سٹاف سے پوچھنے پہ پتہ چلا کہ چونکہ یہ پولنگ سٹیشن بذات خود الیکشن کمیشن کا خصوصی برانچ آفس تھا۔ اس لئے یہاں ووٹ کا طریق کار تقریباً بذریعہ ڈاک ووٹ سے ملتا جلتا تھا۔ ورنہ عام پولنگ سٹیشن کا طریق کار کچھ مختلف، یعنی ایک میز پہ کاغذات چیک ہوں، حروف ابجد کے حساب سے مقررہ کاؤنٹر پہ بھیجنا، وہاں سے شائع شدہ ووٹر لسٹ سے بھی اور کمیوٹر پر بھی اس ووٹ پر بھگتے جانے کا نشان لگا کے بیلٹ پیپر پر دور میزوں پہ بیٹھ اسی پہ لکھے امیدواروں کی فہرست میں اپنے پسند کے امید وار کے نام کے آگے مقررہ نشان لگا، اسے تہہ کر کے دور پڑے یا اسی میز پہ پڑے بیلٹ باکس میں ڈالنا ہوتا ہے۔ الیکشن سے چند دن قبل آپ کو ووٹر کارڈ بذریعہ ڈاک مل جاتا ہے جس پہ آپ کے حلقہ کے لئے ایڈوانس پولنگ اور مقررہ دن کے لئے پولنگ سٹیشنز اور ایڈریس لکھا ہوتا ہے۔ اگر ووٹر کارڈ کسی وجہ سے نہ ملے یا آپ کسی اور شہر یا جگہ یا صوبہ منتقل ہو چکے ہوں تو بھی آپ ووٹنگ والے دن ہی اپنی رہائش والے حلقہ کے پولنگ سٹیشن پہ جا علیحدہ بنے سیکشن میں اپنی شہریت کا ثبوت شناختی کارڈ اور ایڈریس کا ثبوت پیش کر کے اسی وقت ووٹ بنوا، ڈال سکتے ہیں۔ اسی سیکشن میں چھوٹے موٹے مسائل کا حل پوری کوشش سے کیا جاتا ہے اور ممکن حد تک بغیر کسی واضح قانونی سقم کے ووٹ ڈالنے سے محروم نہیں رکھا جاتا۔

قابل ذکر ہے کہ میونسپل یا کارپوریشن کے الیکشن الیکٹرانک اور مشینی ہوتے ہیں۔ بیلٹ پیپر ذرا موٹے کاغذ پہ ہوتا ہے۔ اس پہ مقررہ نشان لگا بغیر فولڈ کیے امید واروں کے نام والی سائیڈ نچلی طرف رکھ ایک فولڈر میں رکھا جاتا ہے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے پاس کھڑا کارکن خود ہاتھ لگائے بغیر آپ کو مشین کے اندر کھسکانے کی ہدایت کرتا ہے۔ جو کارڈ غلط پُر کیا گیا ہو وہ واپس نکل آتا ہے اور دوبارہ ووٹ ڈالنے کی ہدایت ہوتی ہے۔ ووٹنگ ختم ہوتے ہی ایک بٹن دباؤ اور پولنگ سٹیشن کا رزلٹ کارڈ باہر۔ کوئی رولا نہیں۔ اب یہ نصیبوں کی بات ہے کہ اسی الیکشن پہ رولا نہ پڑنے دینے کی کوشش اور ”رولا ہو گا تو ہم ہوں گے“ کے رولے نے چوبیس کروڑ کی آبادی والے پورے ملک پاکستان کو رول کے رکھ دیا ہے۔ امید وار کے پولنگ ایجنٹ کوئی امیدوار بھیجتا بھی ہے، نہیں بھی۔ ہوتے بھی ہیں تو آپس میں گپ شپ کرتے وقفہ پہ چائے کافی اکٹھے پیتے نظر آتے ہیں۔ ہم نے بھی ایک میونسپل الیکشن میں پولنگ ایجنٹ کی ڈیوٹی دی ہوئی ہے۔ کوئی ”بُوتھا سُجا ہوا“ نظر نہیں آیا۔

کینیڈا کے اس مڈ ٹرم الیکشن کی کہانی زیادہ تر بغیر سوچے سمجھے اوورسیز طلباء کی لاکھوں کی تعداد میں درآمد اور اُن میں سے اکثر کے ذرائع آمد نہ ہونے کی وجہ سے اور سرپرست بھی سر پہ نہ ہونے کی وجہ سے چوری چکاری، ڈاکے۔ جھگڑے۔ کار چوری اور جسم فروشی وغیرہ قسم کے جرائم کے بے محابہ بڑھتے رجحان سے معاشرہ تیزی سے زوال پذیر ہو رہا تھا۔ اور اس الیکشن کے سب سے اہم موضوع یہ، معاشی مسائل اور ساتھ ٹرمپ کے ٹیرف کے متوقع نتائج سے ابھرے ممکنہ بحران ہیں۔ اور عوام نے جس شد و مد سے پالیسیوں کے حسن و قبح کے پوسٹ مارٹم کرتے حصہ لیا ہے، الیکشن ٹرن آؤٹ بھی کا فی زیادہ اونچا ہونے کے اندازے لگائے جا رہے ہیں۔

ایسی پالیسیوں پہ عوامی مخالفت بڑھتی دیکھ اپنی ہی پارٹی کے زور دینے پر وزیر اعظم ٹروڈو نے پارٹی صدارت سے استعفیٰ دیا۔ پارٹی نے واقعی مکمل اندرونی شفاف انتخاب ( پاکستانی انٹرا پارٹی انتخاب تو گھر بیٹھے ہوتے ہیں ) سے نیا پارٹی لیڈر چنا اور نئے لیڈر نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے اور آتے ہی اپنی پارٹی کو عوامی محاسبہ کے لئے مڈ ٹرم الیکشن کا اعلان مارچ میں ہی کر دیا۔ سب پارٹیوں نے حلقۂ انتخاب کے ووٹروں کی نمائندہ رائے سے پارٹی ٹکٹ دیے۔ لو جی انتخابی مہم شروع۔ مگر کہاں۔ ہمیں تو سڑکوں بازاروں میں کچھ نظر نہیں آیا۔ ہاں پرائیویٹ پراپرٹی پہ میونسپل حدود چھوڑتے اپنے گھروں کے باہر اپنی پسند کے امیدوار کا بورڈ گاڑ دیا۔

کینیڈا جیسے ملکوں میں انتخابی مہم ٹی وی کے ٹاک شوز، اخباروں میں، سوشل میڈیا پہ، یا اپنے حامی ووٹرز کے پرائیویٹ حدود میں بلائے لائیو پروگراموں پر چلتی ہے۔ اکیلے میں یا مخالف امیدواروں کے ساتھ ساتھ کرسیوں پہ بیٹھے یا پوڈیم پہ کھڑے، ملک کو درپیش مسائل ان کے حل اور قانون سازی پر ہر امیدوار کی رائے اور پروگرام بیان کرنے اور مخالف کے پروگرام کے نقائص بیان کرتے ووٹر کو حامی بنانے پہ زور زیادہ ہوتا ہے۔ مخالف وہیں اپنا منشور اس کے خصائص اور مخاطب کے نقائص بیان کرتا ووٹر کے شعور کو سوچنے پہ مائل کرتا ہے۔ کئی امیدوار آمنے سامنے، ساتھ بیٹھے بھی شاذ ہی بد مزگی ہوتی ہے سوائے کچھ نوک جھونک کے۔ محلہ کے پارک وغیرہ میں بھی انتظامیہ کی منظوری سے کارنر میٹنگز ہوتی ہیں۔ ان میں بھی نالی، سڑک بنوانے یا ٹوٹی پلی مرمت کروانے کا مطالبہ نہیں۔ بجلی کھمبے ڈلوا الیکشن کے اگلے دن اٹھوانے کا حربہ نہیں نظر آتا۔ بتا دیا جاتا ہے کہ یہ کام فلاں محکمے کا ہے۔ ہم اپنا مفوضہ فرض ہی ادا کریں گے ملکی امور اور ممبر پارلیمنٹ کی ذمہ داریوں اور فرائض کی حدود کے اندر معاملات اور مسائل کے متعلق ووٹر سوال پوچھتا رائے دیتا ہے مخالف پارٹی کا ووٹر بغیر ”چُکؔے جانے یا پھینٹی لگنے“ کے خوف کے چبھتے سوال پوچھتا ہے۔ امید وار خود معہ پانچ سات سپورٹرز کے گھر گھر خود بھی جاتا ہے اور سپورٹرز اپنے طور پر بھی گھومتے امیدوار کے حق میں اس کا منشور لکھے یا سادہ فلائر بانٹتے اور سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے کے نعرے اور ڈھول تماشا کرتے جلوس کو تو ترس گئے ہم۔

ووٹ ڈال واپس گھر داخل ہوئے تو بیگم یوٹیوب پہ عمر کوٹ سندھ کے کسی اسمبلی الیکشن کے متعلق سن رہی تھیں۔ دھاندلی کے نعرے۔ دھاندلی کے الزامات کو شکست کے رنج قرار دینے۔ ایک سو انتیس ووٹ بھگتے پریذائیڈنگ یا کسی اور افسر کا ووٹوں سے بھرے بیلٹ باکس لا رکھنے قسم کے واقعہ، کل اتنے ووٹ کاسٹ ہوئے اور دسیوں ہزار زائد بیلٹ بکسوں نے اُگلے۔ قسم کے الزام پر گلا پھاڑتے بحث کرتے، الزام، جوابی الزام اور پھر سب سے بڑے پاکستانی ہتھیار، ذاتی کردار کشی کی گردانیں سناتیں پارٹی لیڈروں اور عمال حکومت کی بد عنوانی کا سچا جھوٹا رونا روتیں دو تین چند چند منٹوں کی ویڈیوز کانوں کو رونق بخشتی رہیں۔ تب ہمیں اچانک اداسی اور اپنی بے بسی کا احساس ہونا شروع ہوا اور تھوڑی دیر بعد یہی سوچ رہے تھے کہ بھلا یہ بھی کوئی الیکشن ہے جس میں ووٹ ڈال کے آئے ہیں۔ نہ امید واروں کے الیکشن جلوس، بینر، نہ سڑکیں بند، نہ ٹریفک بلاک۔ نہ بریانی کی دیگیں، نہ قیمے والے پراٹھے، نہ اپنے اپنے شامیانے نیچے کھڑے ہو مخالف امیدوار کے خلاف نعرے۔ نہ آوے ای آوے، جاوے ای جاوے۔ نہ آتے ووٹر کو اپنے کیمپ لے جانے کی کھینچا تانی۔ نہ تصادم اور نہ ہار دیکھتے کیمپ پہلے ہی ویران ہونے یا اکھاڑ لے جانے کے نظارے۔ بھلا یہ بھی کوئی الیکشن ہے جس میں ہم ووٹ ڈال کے آئے ہیں۔ کیا مزا اس ووٹ ڈالنے کا۔
الیکشن کا مزا تو آپ، ہمارے پاکستانی بھائی لیتے ہیں۔

Facebook Comments HS