اس کا نام (سندھی افسانہ)

تحریر: طارق عزیز شیخ
مترجم: یاسر قاضی
آج بک شیلف میں سے کسی کتاب کو ڈھونڈتے ہوئے وہی ڈائری ہاتھ لگ گئی، جو کسی زمانے میں میرے دل کا حال میرے قلم سے اپنے سینے میں سمو لیتی تھی۔ ان صفحات کو دیکھ کر پڑھنے لگا تو جیسے اپنے دورِ رفتہ کو اپنے اندر میں جاتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ ایک ہی لمحے میں کئی برس پیچھے چلا گیا۔ میرے حافظے میں ماضی کی مٹی کو جھاڑ پھونک کر دھندلے آئینے کے آگے عکس کی طرح دُور کے وہی دن واضح طور پر دکھائی دینے لگے، جب محبّت کی کِیل میرے دل میں آ کر لگی تھی پیوست ہو گئی تھی۔ سرِ راہ اس نے پہلی مرتبہ نگاہیں چار کی تھیں، تو میرے اچانک سے دہل جانے پر وہ ہنس پڑی تھی اور پھر اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے، شرم کے مارے اپنے دوپٹے کو اپنے دانتوں میں دباتے ہوئے اپنے گھر کی طرف تیز تیز قدم اٹھاتے چل دی تھی۔ یہی اگلے روز بھی ہوا۔ اور پھر ہر روز ہوا۔ جو ہمارے لیے معمول سا بنتا گیا۔
کچھ ہی دنوں میں ایسا لگا کہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ہماری باتیں شروع ہو گئی تھیں۔ وہ ہمیشہ گھر کے دروازے پر پاؤں دھرنے سے پہلے ایک آخری نگاہ مجھ پر ڈالتے ہوئے پھر جاتی تھی۔ جب سے اس کے ساتھ دل کا ناتہ جُڑا تھا، ایسا لگا کہ جیسے اس نے مجھ پر جادو سا کر دیا تھا۔ قدرت نے بھی اسے فرصت سے بنایا تھا۔ اُس کو دیکھتے ہی لگتا تھا کہ جیسے شیخ ایاز نے یہ گیت اسی کے لیے لکھا ہو:
”ارے چاند! ارے چاند!
صنم تم نے نہیں دیکھا
جس کا رُوپ، جس کا رنگ
ہُوبہو، جیسے کہ تم۔ ”
محبوب کی محبت میں گرمی، سردی اور تمام موسم پریم رُتیں ہی لگا کرتی تھیں۔ میرے لب پر ہر پل اس کے نام کا ورد جاری رہتا تھا۔ دل و دماغ اور حواسوں پر وہی حاوی رہتی تھی۔ جب اُس نے پہلے پہل اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا، تب دیوانگی نے زندگی کو بہار بنا دیا تھا۔ آدھی رات کو فون پر اس کی سرگوشی میں کی گئی باتیں، محلے کی گلیوں میں چھپ چھپ کر ہماری ملاقاتیں اور شام کو چائے کے کپ کے ساتھ اس کا چھت پر آنا۔ میری تمام عمر کی سنہری گھڑیاں بن گئیں۔
میں اس زمانے میں ہر جگہ اس کا نام اپنے نام کے ساتھ لکھا کرتا تھا۔ کبھی دیوار پر، کبھی پیڑ پر، کبھی اپنی کتابوں میں، کبھی ڈائری پر تو کبھی ساحلِ سمندر کی گیلی ریت پر اور جب کبھی وہ ناراض ہو جایا کرتی تھی تو اس کا نام بلیڈ کے ساتھ اپنے بازُو پر کریدتے ہوئے لکھا کرتا تھا اور اس کے بعد جب وہ مان جاتی تھی تو ہمیشہ اپنی قسم دیتے ہوئے وعدہ لیتی تھی کہ آئندہ میں ایسا نہیں کروں گا اور خود کو تکلیف نہیں دوں گا۔
اچانک سے قسمت نے گردن پھیری۔ زمانہ ظالم بنا۔ عصرِ فراق شروع ہُوا، تو ہماری راہیں ہی الگ ہو گئیں۔ زندگی مصروف سے مصروف تر ہوتی گئی۔ وقت ریل گاڑی کی طرح بھاگتا چلا گیا۔ تیز۔ اور بھی تیز۔ بہت زیادہ تیز۔
برسہا برس تِیر کی طرح انتہائی تیز رفتاری سے نکل گئے۔ حالات نے اس کو ایک طرف اور مجھے دوسری طرف دھکیل دیا۔ اسی طرح زندگی کی راہ پر چلتے چلتے برسوں بعد میرا اس سے دوبارہ رابطہ ہوا، تو میرا دل بھی مچھلی کی طرح تڑپنے اور مچلنے لگا۔
ایک دن میں نے ہمت کر کے اس سے رابطہ کیا۔ اس نے جواب دیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ روح کو راحت مل گئی۔ ایک دوسرے کے ساتھ حال احوال کیا اور باتوں باتوں میں اس نے کہہ دیا: ”تم تو میرا نام اپنے نام کے ساتھ لکھا کرتے تھے، مگر وہ ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ جُڑ گیا، جو خود بھی اس دنیا میں نہیں رہا۔“

