خلع کی صورت میں عورت کا حق مہر
دین اسلام دین فطرت ہے اور فطرت میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف تبدیلیاں ضرور رونما ہوتی ہیں۔ اسلام نے جہاں انسان کے حقوق و فرائض کا تعین کیا وہاں میاں بیوی سمیت مختلف رشتوں کے درمیان وراثت کی تقسیم سمیت ہر نوعیت کے معاملات کو بھی وضاحت سے بیان کر دیا ہے، غرض کہ اسلام نے کسی دور کے انسان کے لئے ہر طرح کے موضوعات کے بارے میں کوئی ابہام نہیں چھوڑا۔ اسلام انتہا پسندی اور جہالت کی ضد اور نرمی و آسانی کا علمبردار ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فی زمانہ حالات و واقعات کے مطابق مختلف احکامات کے بارے میں اجتہاد کا آپشن موجود ہے۔
مسلمان مرد اور عورت کے درمیان نکاح ایک طرف نازک لیکن دوسری طرف انتہائی مضبوط اور مقدس بندھن ہے۔ جو دو مرد و زن اس زمین پر ایک دوسرے کے شریک حیات ہوں گے وہ روز محشر کے بعد بہشت میں بھی میاں بیوی کی حیثیت سے ہمیشہ ہمیشہ ایک ساتھ رہیں گے۔ ہر مذہب کی طرح اسلام نے بھی شوہر کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حق دیا ہے۔ ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرنے والے اللّٰہ پاک کے نزدیک طلاق ایک ناپسندیدہ ترین فعل ہے لیکن اس کے باوجود معبود برحق نے جہاں مسلمان شوہر کو اس کی اجازت مرحمت فرمائی وہاں اس شرعی حق کے بیجا اور ناجائز استعمال سے روکا بھی ہے۔ جس طرح مرد اپنی نافرمان یا بدکردار بیوی کو طلاق دینے کا حق رکھتا ہے اس طرح اسلام نے عورت کو خلع کی صورت میں اپنے بدکردار، بدزبان، بدقماش اور حقوق غصب کرنے والے شوہر سے نجات کا شرعی راستہ بھی دیا ہے، یعنی وہ بیوی جس کو اپنے شوہر کی طرف سے تشدد، ہراسانی، بدزبانی اور استحصال کا سامنا ہو وہ اس سے نجات کے لئے خلع کا شرعی حق استعمال کر سکتی ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ شوہر اپنی بیوی کو زندہ درگور کردے، اس کی زندگی جہنم سے بدتر بنا دے، اس کی ضروریات پوری نہ کرے اور بیچاری بیوی اپنے شوہر کے ظلم و ستم پر مسلسل خاموش رہے اس لیے اسلام نے ان بیویوں کو اپنی بقاء کے لئے ایک باعزت راستہ منتخب کرنے کا حق دیا ہے۔
اس صورت میں عورت کا حق مہر ہرگز متاثر نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ کی حالیہ ججمنٹ سے ان بیویوں کے لئے خلع کا حق استعمال کرنا آسان ہو گیا جو اپنا حق مہر نہ ملنے کے ڈر سے شوہر گردی برداشت کرتی چلی جاتی ہیں کیونکہ بیویاں با امر مجبوری خلع کا شرعی حق استعمال کرتی ہیں اور ان کی اس مجبوری اور بیچارگی کے پیچھے بھی ان کے شوہروں کا انتہا پسندانہ رویہ کار فرما ہوتا ہے۔ جسٹس راحیل کامران شیخ کی ججمنٹ آنے والے ادوار میں ہماری آزاد عدلیہ کے نصاب کا سنہری باب تسلیم کی جائے گی۔ میں اپنی بات کی وضاحت کے لئے آپ کی خدمت میں ایک مثال عرض کرتی ہوں، ہم سب کو علم ہے کوئی انسان اپنی یا کسی دوسرے کی جان نہیں لے سکتا حتیٰ کہ خودسوزی یا خودکشی بھی قانوناً جرم اور اسلام کی رو سے حرام ہے سو اگر کوئی انسان اپنی مرضی و منشاء سے کسی دوسرے کو اپنا قتل کرنے کے لئے آمادہ کرے تو اس صورت میں بھی قتل کرنے والے کو قاتل کہا جائے گا اور اس کی سزا میں کسی قسم کی کوئی رعایت، نرمی یا کمی نہیں ہوگی لہٰذا کوئی شوہر اپنی مرضی سے بیوی کو طلاق دے یا اس کی بیوی اس کے رویوں سے مجبور ہو کر خلع لے ان دونوں صورتوں میں شوہر اپنی بیوی کو حق مہر دینے کا پابند ہے، کسی بیوی کو اس کے حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔


