’نئی محبتیں‘ سے ’جھرجھری‘ تک: ڈاکٹر خالد سہیل کی ایک جراتمندانہ تخلیقی پرواز
ڈاکٹر خالد سہیل نے جب میرے افسانچے ’نئی محبتیں‘ پر محترمہ بانو صائمہ کے ایماندارانہ تاثر پر اپنا تفصیلی تجزیہ دیا تو مجھے لگا کہ ادبی تہذیبی روایت کے مطابق اپنی تخلیق پر کیے جانے والے تجزیوں اور تنقید کو پورے صبر و تحمل سے پڑھوں اور حتی المکان اس سے کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کروں۔ اب جبکہ وہ موضوع کم و بیش اپنے منطقی انجام پر پہنچ چکا ہے تو میں یہاں اس کے حوالے سے اس بات کا اعتراف ضرور کرنا چاہوں گا کہ ’نئی محبتیں‘ میں نے کسی گہری فکر کی بجائے محض ایک خیال کے زیر اثر تحریر کی تھی جس میں انسانوں کی حیوانی جنسی جبلت اور طویل عرصے کے تعلق میں وقت کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والی اکتاہٹ (جو کہ ایک فطری انسانی نفسیات ہے ) کو جوڑ کر ایک موضوع بنانے کی کوشش کی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس چھوٹی سی کہانی کے پس منظر میں کئی ایک حساس نفسیاتی اور سماجی مسائل چھپے ہوئے تھے جنہیں تجزیوں اور تنقیدی کمنٹس میں مستقل ڈسکس کیا گیا تھا مگر وہ مسائل کہانی کا حصہ نہیں تھے اور نہ ہی میرا موضوع تھے مگر مجھے خوشی ہوئی جب میں نے ڈاکٹر خالد سہیل کے افسانچے ’جھرجھری‘ کو اس نوٹ کے ساتھ پڑھا کہ انہوں نے یہ افسانہ ’نئی محبتیں‘ سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔ درحقیقت انہوں نے اس کہانی کے سماجی اور نفسیاتی ڈائنمکس کو ایک نئے افسانچے کی شکل میں تخلیق کر کے ایک منفرد طرز کی مثال بھی بنا دی جو اردو افسانوی دنیا میں کم از کم میری نظر سے اس سے قبل کبھی نہیں گزری۔
آئیں ہم پہلے ڈاکٹر خالد سہیل کے افسانچے ’جھرجھری‘ سے لطف اندوز ہوتے ہیں :
جھرجھری
ڈاکٹر خالد سہیل
(نوٹ: یہ افسانہ ’جھرجری‘ ڈاکٹر بلند اقبال کے افسانچے ’نئی محبتیں‘ سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے )
عبدالجبار نے جب اپنی بیس سالہ ازدواجی زندگی میں پہلی بار اپنی بیوی سیما سے جھوٹ بولا تو اسے خود اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا کیونکہ اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسا بھی کر سکتا ہے۔ اس شام اس نے آفس سے نکلتے ہوئے سیما کو فون پر کہا کہ وہ آج دیر سے گھر آئے گا کیونکہ اسے کسی سیمینار میں شرکت کرنی ہے۔
عبدالجبار کو اس سہ پہر اپنے پسندیدہ لکھاری اوسکر وائلڈ کا یہ قول بار بار یاد آ رہا تھا
THE BEST WAY TO DEAL WITH YOUR TEMPATATION IS TO GIVE INTO IT
اس شام عبدالجبار اپنے کام سے فارغ ہو کر اپنی سیکرٹری سنتھیا کی دعوت پر اس کے گھر ڈنر پر چلا گیا تھا۔
ڈنر کے دوران جب عبدالجبار نے سنتھیا کو اس کے ہاتھوں کی طرف تکتے ہوئے دیکھا تو پوچھ بیٹھا،
’خیریت تو ہے؟ آپ میرے ہاتھوں کی طرف اتنا غور سے کیوں دیکھ رہی ہیں؟‘
یہ سن کر سنتھیا مسکرائی اور کہنے لگی:
’آپ کی انگلیاں اتنی مخروطی ہیں کہ وہ کسی فنکار کی انگلیاں دکھائی دیتی ہیں، کیا، کیا میں انہیں چھو سکتی ہوں؟‘
’ ضرور کیوں نہیں‘ یہ کہہ کر عبدالجبار نے اپنے ہاتھ اس کی طرف فوراً بڑھا دیے۔
سنتھیا نے عبدالجبار کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں پیار سے لے کر ہلکے سے دبایا تو عبدالجبار کو لگا جیسے اس کی انگلیوں میں ایک ہلکی سی جھرجھری پیدا ہوئی ہے۔
اس شام عبدالجبار کی نظر اپنے ہاتھوں کے لیے بدل گئی، اس نے سوچا، سیما نے تو بیس برسوں میں کبھی بھی اس کی انگلیوں کی تعریف اس طرح سے نہیں کی۔
ڈنر کے بعد سنتھیا نے عبدالجبار کے گھنگریالے بالوں میں اپنی نازک انگلیاں پھنساتے ہوئے کہا:
’نجانے کب سے یہ حسین منظر میرے خوابوں میں بسا ہوا ہے لیکن کس قدر چاہ کر بھی میں اپنے دل کی بات اپنی زبان پر کبھی بھی نہ لا سکی، یہ کہہ کر وہ یکایک ہنس پڑی اور پھر اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہنے لگی:
’اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک بات اور کہوں؟‘
’ضرور‘ عبدالجبار نے خود کو اس کی نظروں سے مسحور پا کر کہا۔
’میں آپ کی بیوی سے بہت حسد کرتی ہوں اور دن رات اس حسد کی آگ میں جلتی رہتی ہوں‘
یہ سن کر عبدالجبار چپ رہا مگر اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
ڈنر کے بعد سنتھیا نے پہلی بار عبدالجبار کے ہونٹوں کو انگلیوں سے چھوا اور پھر اس کے ہونٹوں پر اپنے نرم ہونٹ رکھ دیے۔
عبدالجبار کو لگا جیسے اس کی انگلیوں میں پیدا ہونے والی جھرجھری اس کے اور سنتھیا کے جسموں کی کپکپاہٹ سے بدلتی چلی گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں ایک دوسرے میں کھوتے چلے گئے۔
گھر واپسی پر گاڑی چلاتے ہوئے عبدالجبار نے جونہی سی ڈی پلیر آن کیا تو استاد امانت علی خان، ابن انشا کی غزل کے اس شعر کو گنگنا رہے تھے
سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
یہ سنتے ہی عبدالجبار کا دل دھک سے بیٹھتا چلا گیا اور پھر بیس سال کے گزرے لمحات اس کی گاڑی کی فرنٹ ونڈ شیلڈ پر کسی فلمی منظر کی طرح چلنے لگے اور وہ بے خیالی سے گاڑی کے وائپرز کو آن اور آف کر کے شیشہ صاف کرنے لگا حالانکہ ونڈ اسکرین صاف ہی تھا۔
گھر پہنچ کر عبدالجبار نے سیما کی طرف دیکھنے کے بجائے زمین کو دیکھتے ہوئے بات کی۔ اس دوران اسے مسلسل ایسے لگتا رہا جیسے کوئی شے کانپتی ہوئی اس کی انگلیوں سے ہونٹوں تک اور پھر پورے سراپے میں پھیلتی جا رہی ہے اور جب بیڈروم میں سیما نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھا اور سونے کے خاطر بستر پر اس سے لپٹنے لگی تو یکایک عبدالجبار کے بدن میں ایک اور بھرپور سی جھرجری پیدا ہوئی جس نے اس کے سارے بدن کو ہمیشہ کے لیے سرد کر دیا۔
اور یوں ڈاکٹر خالد سہیل نے کہانی کے پروٹوگونسٹ ’عبدالجبار‘ کی جنسی جبلت کو خیالی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا میں دھکیل دیا اور ایک نئے تجربے اور ردعمل سے اسے ہمکنار کر دیا۔
’نئی محبتیں‘ اور ’جھرجھری‘ کے عبدالجبار میں کہیں یکسانیت تو کہیں اختلاف ہے اور یہ تضاد ہی ڈاکٹر خالد سہیل کے افسانچے کی خوبصورتی ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ انسانی رویے اخلاقیات اور معاشرت کے پابند نہیں ہوا کرتے اور نہ ہی انہیں ایک مخصوص فضا سے آگے پابند کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہ ان رویوں کے نفسیاتی ردعمل بھی لگے بندھے اصولوں پر نہیں چلتے ہیں۔
’جھرجھری‘ کا عبدالجبار اپنی حیوانی جبلت سے بے بس ہو کر محبت جیسے گہرے جذبے کو انسانی جبلت سمجھنے سے قاصر رہ جاتا ہے اور اس بات سے بھی کہ محبت کے امتحان میں خود احتسابی جیسی جھلسا دینے والی آگ بھی دہکتی ہے جو جنسی جبلت جیسے سطحی احساس کو راکھ بنا کر اڑا سکتی ہے۔ ’نئی محبتیں‘ حیوانی جبلت کی کہانی تھی جو مرد اور عورت کی فطری خواہشات میں تخصیص سے قاصر تھی جبکہ ڈاکٹر خالد سہیل کی ’جھرجھری‘ محبتوں میں وفا اور بے وفائی کے امتحان کی کہانی ہے جو خود احتسابی اور احساس جرم سے پیدا ہونے والے نفسیاتی ردعمل کی داستان بن جاتی ہے۔ جھرجھری ’درحقیقت حیوانی جبلت سے انسانی جبلت کے ارتقا کا ایک منفرد سا سفر ہے۔
’میں اس نازک مگر بھرپور اور جراتمندانہ تخلیق پر ڈاکٹر خالد سہیل کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔



