لیک ڈسٹرکٹ کی بیٹریکس پوٹر


کرونا سے پہلے تک میں ہر سال برطانیہ جایا کرتی تھی۔ ماں باپ کے جانے کے بعد میرے بھائی جان کا گھر ہی میرا میکہ ہے۔ بچپن ہی سے انگریزی کتابیں پڑھتے ہوئے انگلینڈ کی سر زمین جیسے آشنا سی لگنے لگی خصوصاً کلاسک ناولز میں بیان کیے گئے دیہی علاقے۔ آج اپنے سٹڈی روم میں کتابیں صاف کرتے ہوئے بچوں کی Peter Rabbit اور Floppsy کی شاندار کتابیں ہاتھ لگیں تو دل نے چاہا Beatrix Potter پر لکھا جائے جو بچوں کی محبوب ترین مصنفہ اور آرٹسٹ کے طور پر دنیا بھر میں اس وقت مشہور ہوئی جب شہرت پانا واقعی جان جوکھوں کا کام تھا۔ بیٹریکس پوٹر 1866 میں لندن کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کا بچپن علمی اور فنی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ فطری مناظر کے درمیان گزارا۔ وہ بچپن ہی سے قدرتی چیزوں جیسے پودے، جانور، درخت، کیڑے مکوڑے اور تتلیوں کا مشاہدہ بڑے غور سے کرتی۔ بیٹریکس کے والدین نے اسے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی دلوائی۔ اس کا خاندان دیہی زندگی اور فطرت سے محبت رکھنے کی وجہ سے شہری ہنگاموں سے دور قدرت اور سکون کے قرب میں شوق سے رہتے تھے۔ ابتدا میں بیٹریکس کا خاندان لیک ڈسٹرکٹ کی خواب جیسی زمین جہاں سر سبز وادیاں، خاموش جھیلیں درختوں سے چھنتی ہوئی روشنی میں موسمِ گرما کی چھٹیاں گزارنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ ہم بھی ہر سال لیک ڈسٹرکٹ جاتے تھے۔ یقین مانیے! وہ ایسا خطہ ہے جو صرف احساس ہے، محبت ہے، ایسی جگہ ہے جہاں کا پتا پتا بُوٹا بُوٹا، ہر جھرنا اور پھول انسانوں سے سرگوشی کرتا ہے۔ جہاں وقت تھم جاتا ہے۔ مجھے آج بھی لگتا ہے میرا ایک حصہ کہیں وہیں رہ گیا ہے شاید بیٹریکس پوٹر کے پاس۔

بیٹریکس پوٹر جانداروں کی تصویریں اور ڈرائنگ بنانے میں غیر معمولی مہارت رکھتی تھی۔ اس کے بنائے ہوئے خاکے اس قدر تفصیل سے بنے ہوتے کہ کئی ماہرین بیالوجی نے انہیں بوٹنی کی تحقیق میں استعمال کیا۔ بیٹریکس پوٹر کی مصوری میں قدرتی مناظر کی عکاسی اور جانوروں کی تصویریں حقیقت سے قریب تر ہوا کرتی تھیں۔ اس کے بنائے گئے خرگوش، بطخیں، چوہے، کچھوے محض افسانوی نہیں تھے بلکہ اس نے ان کو باقاعدہ کرداروں میں ڈھالا تھا۔ اس پر کہانیاں لکھیں۔ بیٹریکس پوٹر کی بچوں کے لیے لکھی اور مصور کی گئی کہانیاں محض بچوں کی دلچسپی کا سامان نہیں بلکہ فطرت کی گہرائیوں میں چُھپے ہوئے پیغامات کی عکاسی بھی ہیں۔ اس کے ہر کردار میں قدرت کے کسی نہ کسی پہلو کی جھلک ہے۔ مثلاً ایک چھوٹی سی کہانی The tale of Peter Rabbit میں پیٹر نامی خرگوش کی مہم جوئی میں احساسِ ذمہ داری اور فطری ماحول کے خطرات سے مطابقت بھی نظر آتی ہے۔ بیٹریکس پوٹر نے بچوں کو فطرت سے محبت اور جانوروں سے رحم دلی کا سلوک سکھایا۔ اس کے فن، ادب اور فطرت سے محبت کا جذبہ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ بیٹریکس پوٹر نے جس خوب صورتی سے لڑکے خرگوش کو نیلے کوٹ میں ملبوس دکھایا اور اس کی بہن لڑکی خرگوش Floppsy کو گلابی کوٹ پہنایا وہ عجب کمال کا تصور تھا۔ بیٹریکس کی کتابوں میں ہمیں جنگل میں جگہ جگہ کُھمبیاں یعنی Mushrooms بھی نظر آتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایک وقت میں اس نے فنگس کی افزائش اور اقسام پر تحقیق کر کے اس پر مقالہ بھی لکھا اگرچہ اس وقت میں عورتوں کی سائنسی تحقیقات وغیرہ کو گھاس نہیں ڈالی جاتی تھی لہذا اس کا مقالہ بھی رائل سوسائٹی نے رد کر دیا۔ مگر آج اس کے نوٹس اور تصویریں سائنس کی دنیا میں قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔

Beatrix Potter, circa 1913

بیٹریکس پوٹر کی کہانیوں کی زبان سادہ، کردار دلچسپ اور تمام مناظر فطرت کے حسن سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے بغیر کسی وعظ کے بچوں کو فطرت سے محبت کرنا سکھائی۔ اس دور میں بیٹریکس پوٹر کی اپنی کتابیں شائع کروانے میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بچوں کے ادب میں بھی مردوں کا غلبہ تھا۔ بہت سے پبلشرز نے اس کی کتابوں پر کہہ کر مسترد کر دیا کہ ایسی سادہ اور مصور کہانیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ آخر کار مایوسی کے بادل چھا جانے کے باوجود بیٹریکس نے چمکتی ہوئی امید کی کرن کو تھامے رکھا اور ہمت باندھ کر 1901 میں خود اپنی پہلی کہانی شائع کروائی جس نے غیر متوقع کامیابی حاصل کی۔ بعد میں فریڈرک وارن اینڈ کمپنی نے اس کہانی کو باضابطہ شائع کیا۔ چونکہ اپنی کتابوں کی تصویریں وہ خود بناتی تھی اور رنگین پرنٹنگ اس وقت بہت مہنگی تھی۔ لیکن بیٹریکس کی محنت، محبت، تخلیق اور ضد نے اسے بہترین کامیابی دلوائی۔ بیٹریکس پوٹر واٹر کلر باریک برش اور معیاری کاغذ استعمال کرتی تھی تا کہ قدرتی مناظر کی خوبصورتی اور نزاکت کو حقیقت کے قریب ترین انداز میں بنایا جائے۔ جب بیٹریکس پوٹر کو بچوں کے لیے بنائی گئیں اپنی کتابوں سے مالی آسودگی حاصل ہوئی تو اس نے لیک ڈسٹرکٹ میں ایک فارم ہاؤس ”ہل ٹاپ“ کے نام سے خریدا جو اس کی مستقل رہائش گاہ بنا، بیٹریکس کی محبت کی زندگی میں غم کے سائے رہے۔ اس کی پہلی منگنی 1905 میں پبلشر فریڈرک وارن اینڈ کمپنی کے ایڈیٹر سے ہوئی۔ بدقسمتی سے بیٹریکس کے والدین کو یہ رشتہ نا پسند تھا کیونکہ وہ اعلیٰ سماجی طبقے سے تعلق رکھتے تھے جبکہ وارن کاروباری طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ افسوس ناک طور پر منگنی کے چند مہینوں کے بعد نیورمن کی اچانک موت ہو گئی اور بیٹریکس شدید صدمے میں چلی گئی۔ کئی سالوں کے بعد اس کی ملاقات ایک وکیل ولیم ہیلیس سے ہوئی جو لیک ڈسٹرکٹ میں مقامی زمینداروں اور کسانوں کے معاملات کو سنبھالتا تھا۔ مشترکہ دلچسپیاں ہونے کی وجہ سے دونوں کی شادی ہوئی اور وہ ہل ٹاپ فارم پر مل کر زمین اور ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرتے رہے۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی سوائے کتابوں کے۔ ان کی شادی سادہ مگر خوشگوار تھی۔ اس کی کہانیاں اپنی سادگی اور دلکشی کی وجہ سے آج بھی بچوں میں بہت مقبول ہیں۔ اس کا انداز محبت بھرا، نرم، معصوم اور جاندار ہے جو بچوں کے تخیل کو جگاتا ہے۔

Facebook Comments HS