نواز شریف کی میدان سیاست میں واپسی (2)
سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 9 اپریل 1981ء کو پنجاب کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا وہ گزشتہ 40 سال سے ملکی سیاست میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں میاں نواز شریف کی 40 سالہ سیاسی زندگی میں جہاں تخت کی رعنائیاں شامل ہیں وہاں قید و بند کی صعوبتوں اور جلاوطنی بھی ان کی سیاسی زندگی کا حصہ ہے نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن تینوں بار ان کو اقتدار سے نکالا گیا اگرچہ ان کی جماعت پانچویں بار بر سر اقتدار آئی ہے لیکن چوتھی اور پانچویں بار وہ ملک کے وزیر اعظم نہ بن سکے ان کی جگہ شہباز شریف کو مسند اقتدار پر فائز کیا گیا لہذا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جیل ہو یا اقتدار پچھلے چار عشروں سے نواز شریف کا ملکی سیاست میں طوطی بول رہا ہے اگر عمران خان کے بغیر ملکی سیاست نامکمل ہے تو نواز شریف کے بغیر بھی سیاست ادھوری ہے مائنس ون کے فارمولہ کے باوجود نواز شریف اور عمران خان کا ووٹ بینک موجود ہے نواز شریف کو غیر آئینی ہتھکنڈوں کے ذریعے ملکی سیاست سے آؤٹ کرنے کی بارہا کوششیں کی گئیں لیکن وہ چار عشروں سے قومی سیاسی افق پر پوری قوت سے موجود ہیں۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری پاکستان کی سیاست میں ایک دوسرے کے مد مقابل رہے ہیں لیکن وقت کے جبر نے دونوں کو عمران خان کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان متعدد ایشوز پر اختلافات ہونے کے باوجود عمران خان کے خلاف متحد ہیں۔
اگرچہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیاسی محاذ سنبھال رکھا ہے لیکن سیاسی میدان میں نواز شریف کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے نواز شریف نے پارٹی کی صدارت تو سنبھال لی ہے لیکن پارٹی کی تنظیم نو کی گئی ہے اور نہ ہی نواز شریف نے پارٹی کے جلسوں سے خطاب کیا ہے عام تاثر یہ بھی ہے کہ ان کی صحت کے مسائل بھی ہیں لیکن رانا ثنا اللہ خان نے بتایا ہے کہ نواز شریف کے جلسوں کا شیڈول تیار کر لیا گیا ہے ان کے جلسوں کا اعلان کر دیا جائے گا میاں نواز شریف اپنا دورہ برطانیہ مختصر کر کے وطن واپس آ گئے ہیں۔ پارٹی کے کئی لیڈروں نے دبی دبی زبان میں میاں صاحب سے ملاقات کے لئے وقت نہ ملنے کا شکوہ کیا ہے۔ ایسا وقت بھی تھا کہ میاں نواز شریف کے گرد قد آور لیڈروں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا ان میں سے بڑی تعداد بوجوہ انہیں چھوڑ گئی ہے یہ لوگ مسلم لیگ (ن) کا اثاثہ تھے ان کو بھی مسلم لیگ میں واپس لانے کی ضرورت ہے اگر میاں صاحب ان لیڈروں کے پاس جائیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ نواز شریف کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجیں گے۔ نواز شریف پاکستان کے واحد سیاست دان ہیں جن کا اقتدار میں 9 سپہ سالاروں اور 20 سربراہان عدالت عظمیٰ سے واسطہ پڑا ہے دو سپہ سالاروں کو انہوں نے ہی گھر بھجوایا لیکن ان کے ایک فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا اور انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ محلاتی سازشوں اور ایجی ٹیشن کے ذریعے انہیں اقدار سے ہٹانے کی کوششیں کی جاتی رہیں لیکن وہ اس کے باوجود ”مرد آہن“ کی طرح میدان سیاست میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ لاہور کی گوالمنڈی سے اپنی سیاست شروع کرنے والا ”بابو“ آج ملکی سیاست میں بلند مقام رکھتا ہے جب بھی ملک میں شاہراہوں کی تعمیر و ترقی کا ذکر آتا ہے تو بلا مبالغہ اسے شیر شاہ سوری ثانی خطاب دیا جاتا ہے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے کا وقت آیا تو یہ نواز شریف ہی تھے جنہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن کے 5 ٹیلی فون نظر انداز کر کے بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 6 ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی کلب کا رکن بنایا۔ گھنٹوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ختم کر کے پاکستان کو بجلی کی پیداوار میں خود کفیل بنایا۔ اگرچہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان مک کے مقبول ترین لیڈر ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نواز شریف آج بھی لوگوں کے دلوں بستے ہیں نواز شریف کی مقبولیت ان کے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے ہے جب کہ عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعرے لگا کر مقبول ہوئے ہیں نواز شریف کی جماعت ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچاتے بچاتے اپنا ”پولیٹیکل کیپیٹل“ گنوا بیٹھی جس کے باعث 8 فروری 2024 ء کے انتخابات میں دھچکا لگا۔ پنجاب وفاق میں بر سر اقتدار آنے کے لئے پاور بیس تصور کیا جاتا ہے لہذا میاں صاحب نے اپنی سیاسی جانشین کے لئے پنجاب کی حکمرانی پر اکتفا کر لیا پنجاب میں مریم نواز سیاہ و سفید کی مالک ہیں جب کہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت پیپلز پارٹی کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے پنجاب میں مریم نواز عوام کو ڈیلیور کر کے ہی مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت بحال کر سکتی ہیں وفاق میں شہباز شریف کی حکومت کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے پیپلز پارٹی کی حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی کے بعد 6 نئی نہروں کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
پچھلے 40 برس کے دوران عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں بڑے بڑے لیڈر جن کا پوری دنیا میں طوطی بولتا تھا سیاسی منظر سے غائب ہو گئے ہیں لیکن 40 سالہ سیاسی زندگی میں عروج و زوال دیکھنے کے باوجود نواز شریف سیاسی افق پر قائم و دائم ہیں۔ نواز شریف، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، مولانا فضل الرحمٰن، عمران خان اور آصف علی زرداری کے مقابلے میں زیادہ عرصہ سے میدان سیاست میں موجود ہیں خطے میں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم رہے ہیں جب کہ ان کی جماعت پانچویں بار برسر اقتدار آئی بھارت میں نریندر مودی کو مسلسل تیسری بار وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہے اس لحاظ سے نواز شریف کا شمار خطے کے سینئرترین رہنماؤں میں ہوتا ہے حال ہی میں بلوچستان کے قوم پرست لیڈر عبدالمالک نے نواز شریف سے ملاقات کے دوران ان سے بلوچستان میں بد امنی سے پیدا ہونے والی صورت حال کو ختم کرنے میں اپنا کر دار ادا کرنے کی استدعا کی ہے ملک میں آئینی و سیاسی بحران کے خاتمہ میں نواز شریف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں نواز شریف نے سیاست میں گرم سرد موسم دیکھا ہے ان کی 40 سالہ سیاسی زندگی کے تجربات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے نواز شریف کی سیاست میں متانت و سنجیدگی کا عنصر نمایاں ہے اس وقت پاکستان کی سیاست میں گالم گلوچ اور بد تہذیبی کا زیادہ عمل دخل آ گیا ہے جس کا قلع قمع شرافت اور سنجیدہ سیاست سے کیا جاسکتا نواز شریف میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے ان کی میدان سیاست میں واپسی سے الزام تراشی کی سیاست کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

