کافی ہاؤس لاہور کی چند شخصیات کا تذکرہ


کے کے عزیز کی کتاب لاہور کا کافی ہاؤس (The Coffee House of Lahore: A Memoir) ادبی اور علمی شخصیات کا ایک دلچسپ تذکرہ ہے۔ اس وقت کا کافی ہاؤس خاص کر بائیں بازو والوں کا گڑھ تھا۔ سوشلسٹ اور لبرل رجحان رکھنے والوں نے کافی کو چائے کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا۔ شاید کافی سیاسی اور سماجی مزاحمت کی علامت سمجھی گئی تھی۔ یہاں بیٹھنے والوں کی اکثریت یا تو کمیونسٹ پارٹی کی رکن تھی یا پھر اس سے ہمدردی رکھتی تھی۔

ایک اہم نام ظہیر کاشمیری کا تھا جو ممتاز ترقی پسند شاعر اور نقاد تھے۔ ان کی عام لوگوں سے محبت کا ایک واقعہ کے کے عزیز نے لکھا ہے۔ 1946 ء میں ایک دفعہ ظہیر کاشمیری نے ان سے پوچھا کہ کیا کبھی انہوں نے سینما میں سب سے نچلے درجے (جس کا ٹکٹ اس وقت چار آنہ تھا) میں بیٹھ کر فلم دیکھی ہے۔ کے کے عزیز خود ایک دولت مند خاندان کے فرد تھے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھ رہے تھے جو مراعات یافتہ طبقے کا کالج تھا۔ اس لیے انہوں نے ہمیشہ گیلری یا فرسٹ کلاس میں بیٹھ کر فلم دیکھی تھی۔ چنانچہ ان کا جواب نفی میں تھا۔ ظہیر کاشمیری انہیں بھاٹی گیٹ کے ایک سینما میں فلم دکھانے لے گئے۔ یہ سب سے نچلے درجے میں بیٹھنے کا ان کا پہلا تجربہ تھا۔ یہاں کرسیوں کی بجائے تختہ نما بینچ لگے تھے جن کی پشت نہیں تھی۔ اسکرین ان کے اتنے قریب تھی کہ دیکھنے والے کی آنکھیں سکرین کے پورے منظر کو مکمل دیکھ نہیں پاتی تھی اور کردار بہت بڑا یا دھندلا نظر آتا تھا۔ اردگرد مزدور، خوانچہ فروش، تانگے والے اور اسی طرح کے لوگ تھے جن کی عام گفتگو بھی پنجابی کی ننگی گالیوں سے پر تھی۔ یہ پورا مجمع مردوں پر مشتمل تھا اور انگریزی فلم میں جونہی کوئی عورت سکرین پر نمودار ہوتی تو سارا ہجوم اپنی سیٹوں سے اٹھ کر سیٹیاں بجانے اور فحش اشارے کرنے لگتا اور اگر کوئی بوس و کنار کا سین آ جاتا تو ”اوئے“ ، ”ہائے“ اور ”موج کر گیا“ جیسے فقروں سے ہال گونجنے لگتا۔ لوگوں میں سے پسینے کی ناقابل برداشت بدبو آ رہی تھی۔ کے کے عزیز ظہیر کاشمیری کی وجہ سے فلم چھوڑ کر باہر نہ جا سکے لیکن وہ پورے عرصے پیچ و تاب کھاتے رہے۔ فلم ختم ہونے کے بعد ظہیر کاشمیری ان کو ساتھ لے کے چائے کے سٹال پر آ گئے جو سینما ہال کی طرح گندا اور بری حالت میں تھا۔ وہاں چائے پیتے ہوئے ظہیر کاشمیری نے ان سے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ تمہیں یہاں آنا بالکل اچھا نہیں لگا اور تم پورے عرصے بہت تکلیف اور مشکل میں رہے کیونکہ تم ان جیسے عجیب لوگوں سے پہلے کبھی نہیں ملے۔ لیکن میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ وہی عوام کی اکثریت ہے جس کی آزادی کے لیے کانگریس، مسلم لیگ اور کمیونسٹ پارٹی جدوجہد کا دعویٰ کرتی ہے۔ ٹھیک ہے تم ان میں شامل نہیں ہو سکتے لیکن تمہیں ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور رحم کا جذبہ رکھنا چاہیے۔ کے کے عزیز لکھتے ہیں کہ کافی ہاؤس میں مارکسی فلسفے اور عوام کے ساتھ ہمدردی کی ساری گفتگو کے مقابلے میں ظہیر کاشمیری کا پڑھایا ہوا یہ عملی سبق وہ کبھی نہیں بھولے۔

zaheer kashmiri

کتاب میں سیاسی واقعات کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ایک واقعہ جو کے کے عزیز کے ایچ خورشید کے حوالے سے بیان کرتے ہیں ہماری سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کے ایچ خورشید قائداعظم محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکریٹری رہے اور اس حیثیت میں انہوں نے بڑے بڑے جغادری سیاستدانوں اور قائدین کو گھنٹوں جناح صاحب کی کوٹھی کے برآمدے میں انتظار کرتے اور ان کی خوشامد کرتے دیکھا تھا کہ جناح صاحب سے چند منٹ کی ملاقات کا انتظام کر دیں۔ لیکن 1949 ء کے لاہور میں یہی سیاستدان اب طاقت کے نشہ میں دھت تھے اور ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ تقسیم کے نتیجہ میں جو غیر معمولی اثر و رسوخ، دولت اور طاقت ان کو حاصل ہو گئی ہے اس کی نمائش کیسے کریں۔ وہ نودولتیوں کے بگڑے بچوں کی طرح تھے جو چھوٹے موٹے آمر کا طرزِ عمل اپنائے ہوئے تھے۔ کے کے عزیز کے خیال میں ان چھوٹے خداؤں میں سب سے بڑے خود وزیر اعظم لیاقت علی خان تھے۔ جناح اور ان کے درمیان جو خلیج 1945 ء کے لیاقت۔ ڈیسائی معاہدے کے بعد پیدا ہوئی تھی وہ بھری نہیں تھی اور لیاقت کو وزیر اعظم نہ میرٹ پر بنایا گیا تھا اور نہ سب سے سینئر ہونے کی بنا پر بلکہ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ جناح نے کئی دوسروں کو وزیر اعظم بننے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ کچھ مہینوں تک مسلم لیگ کے صدر اور جنرل سیکریٹری کے تعلقات اس حد تک کشیدہ رہے کہ جناح نے اپنے گھریلو ملازمین کو حکم دیا ہوا تھا کہ لیاقت کو گھر میں داخل نہ ہونے دیں اور خورشید کو کہا گیا تھا کہ لیاقت کو ملاقات کا کوئی وقت نہ دیا جائے۔ 1949 ء کی سردیوں کی ایک شام لیاقت علی خان لاہور آئے اور گورنر ہاؤس میں لاہور کے چند صحافیوں اور مدیران کے ساتھ ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا۔ ملاقات کے بعد رات کے کھانے پر جب ابھی کچھ مہمان موجود تھے بات تحریک پاکستان کے آغاز اور کامیابی پر ہونے لگی۔ اس وقت وزیر اعظم نے غیر دانشمندانہ تبصرے کیے جو بقول کے کے عزیز اس وقت سب اردو بولنے والے مسلم لیگیوں کی تسلیم شدہ رائے تھی۔ لیاقت علی خان کا تبصرہ تھا کہ تحریک پاکستان کی ابتدا تو یوپی میں ہوئی اور اس کی کامیابی بھی اسی علاقے کے قائدین کی مرہونِ منت ہے۔ مبینہ طور پر ان کے الفاظ تھے ”ہم نے پاکستان اس وقت بنایا جب پنجابی انگریزوں کے جوتے چاٹ رہے تھے۔“ ان الفاظ پر میز کے اردگرد بالکل خاموشی چھا گئی۔ حمید نظامی نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن ان کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ وزیر اعظم نے انہیں ڈانٹ پلائی کہ ”تم کیا بڑبڑا رہے ہو؟ کیا تم میں جرآت نہیں ہے کہ کچھ بول سکو؟“ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا، کے ایچ خورشید اٹھے اور دس منٹ تک وزیر اعظم کو یوپی کی اگریکلچرل پارٹی میں ان کے کیریئر کو یاد دلاتے رہے جو مسلم لیگ کی دشمنی پر مبنی تھا۔ مسلم لیگ سیکریٹریٹ میں ان کی نا اہلی اور خاص کر انہوں نے تفصیل سے جناح اور مسلم لیگ کے خلاف ان کی اس سازش کا ذکر کیا جو جناح کے پس پشت تیار کی گئی تھی اور جس کا محور یہ تھا کہ جناح ایک مرتے ہوئے شخص ہیں اور اگر کانگرس کمیونل مسئلہ کا حل چاہتی ہے تو وہ بجائے جناح کے ان سے (یعنی لیاقت علی خان) سے بات کرے۔ انہوں نے جناح کے غصہ اور لیاقت کے ساتھ اختلافات کا ذکر کیا جس کے وہ عینی شاہد تھے۔ انہوں نے اپنی بات اس اعلان پر ختم کی کہ ان کی وفاداری قائد اور ان کے پاکستان کے ساتھ ہے اور انہیں ان لوگوں کی ذرہ برابر پرواہ نہیں جو اتفاقاً موقع سے فائدہ اٹھا کر اہم عہدوں پر بیٹھ گئے ہیں۔ جب وہ بات کر کے اپنی نشست پر بیٹھے تو کمرے میں مکمل خاموشی چھا چکی تھی۔ وزیر اعظم کا چہرہ غصے سے سرخ تھا لیکن ان کو کچھ کہنے کی جرآت نہ ہوئی۔

انور جلال شمزا کو آج مصوروں کے حلقے سے باہر کم ہی لوگ جانتے ہیں لیکن 1950 ء کی دہائی میں وہ تجریدی اور جدید مصوری کے سرخیل سمجھے جاتے تھے۔ وہ کافی ہاؤس کے باقاعدگی سے آنے والے تھے اور انہیں اردو ادب سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ اس زمانے میں وہ مصوری سے زیادہ ادب میں دلچسپی رکھتے تھے اور مصوری میں بھی ان کا زیادہ شوق حروف سازی تھا۔ کے کے عزیز بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ دونوں کافی ہاؤس جانے کے لیے نکلے تو بیڈن روڈ کے پاس شمزا نے ان کو روکا۔ وہ ان کا بازو پکڑ کر لکشمی مینشن کے سامنے لے گئے اور ان کو شیزان ریستوران کا سائن بورڈ دکھا کر ان سے کہا ”تم جانتے ہو میں اپنی تصویروں پر کیسے دستخط کرتا ہوں اور سب لوگوں کو ’شمزا‘ کے یہ دستخط کتنے پسند ہیں۔ ریستوران کے مالک کو میرا دستخط کیا ہوا ’شمزا‘ اتنے پسند آیا کہ وہ ایسا ہی ’شیزان‘ لکھوانا چاہتا تھا۔ وہ اس کا اچھا معاوضہ دینے کے لیے تیار تھا تو میں لالچ میں آ گیا۔ میں نے اپنے دستخط بیچ دیے اور اب اس کا نتیجہ دیکھو۔“ کے کے عزیز لکھتے ہیں کہ میں نے ریستوران کے نام شیزان کو غور سے دیکھا تو وہ دور سے یا شام کے دھندلکے میں بالکل شمزا کا ہم شکل ہی لگ رہا تھا۔ شمزا کے چہرے پر ملے جلے تاثرات تھے۔ کے کے عزیز کہتے ہیں کہ اس کے بعد اگلے چھ سات سال جب تک شمزا لاہور میں رہا اور انہوں نے شیزان جانا ہوتا تھا تو وہ یہی کہتے تھے کہ چلو شمزا چلتے ہیں۔ شیزان ریستوران تو لاہور کی بہت سی دیگر یادگاروں کی طرح ختم ہو گیا لیکن اس کی جگہ شیزان کی بیکریاں کھل گئیں جو آج بھی شمزا کا بنایا ہوا اپنے دستخط سے ملتا جلتا شیزان کا سائن بورڈ استعمال کر رہی ہیں اور کے کے عزیز کہتے ہیں کہ جب بھی یہ بیکری مجھے نظر آتی ہے تو مجھے شمزا کا خیال ضرور آتا ہے۔

abid ali abid

کے کے عزیز کچھ شخصیات کے بارے میں اندر کی باتیں بیان کرتے ہیں جو انہیں اپنے خاندان اور دوستوں کے توسط سے ان تک پہنچیں۔ اردو کے معروف نقاد، شاعر اور استاد عابد علی عابد کے خاندان کا تذکرہ کرتے ہیں۔ دیال سنگھ کالج کا پرنسپل بننے سے پہلے وہ پونچھ روڈ پر اسلامیہ پارک کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے۔ ان کی سات بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ عابد صاحب نے بیٹیوں کو موسیقی اور رقص سکھانے کا خاص طور پر اہتمام کیا تھا۔ وہ خود ہارمونیم بجاتے اور ان کی بیٹیاں گاتی تھیں۔ ان کی آوازیں محلے میں گونجتیں تو کچھ لوگوں کو اعتراض ہوتا۔ لیکن ابھی معاشرہ اس حد تک اسلام زدہ نہیں ہوا تھا۔ لوگوں میں برداشت اور بردباری تھی۔ عابد علی عابد کی فیملی سید تھی اور کوئی غیر مرد ان کے گھر نہیں آتا تھا۔ ہر ایک جانتا تھا کہ عابد صاحب شاعر اور استاد ہیں۔ لڑکیاں بھی بہت خوش اخلاق اور اچھی تھیں۔ چنانچہ کوئی سکینڈل نہ بنا لیکن لوگ بات ضرور کرتے تھے اور حیران ہوتے تھے۔

پاکستان کے معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر فضل الرحمٰن سے کے کے عزیز کا تعلق 1942 ء سے شروع ہوا اور ان کی وفات 1988 ء تک جاری رہا۔ ان کی علم کی لگن اور علمی جدوجہد کی تفصیل خاصی دلچسپ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں پہلی پوزیشن لی اور وہ مولوی محمد شفیع اور ڈاکٹر عنایت اللہ کے چہیتے طالب علم تھے۔ ایم اے کر لینے کے بعد انہوں نے آکسفورڈ سے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ آکسفورڈ پہنچ گئے لیکن ان کے پاس نہ مالی وسائل تھے اور ایم اے کے فوراً بعد پی ایچ ڈی میں براہِ راست داخلہ ملنا بھی بہت مشکل تھا۔ انہیں کہا گیا کہ اگر وہ ممتاز مستشرق ہیملٹن گب سے سفارشی خط لے آئیں تو انہیں داخلہ مل سکتا ہے۔ وہ گب کے خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اپنی عربی دانی اور اسلام کے بارے میں معلومات سے اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے اس اجنبی کو سفارشی خط دے دیا اور اس طرح ان کو ڈی فل میں داخلہ مل گیا۔ فضل الرحمٰن ایک انتہائی محنتی طالب علم تھے۔ چونکہ وہ کورسز کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تھے تو خود اپنی کاوش سے انہوں نے یونانی اور لاطینی زبانیں سیکھیں اور یوں وسیع مغربی ماخذ کا استعمال کر کے یونانی علوم کی پہلے مسلم دنیا میں منتقلی اور پھر مسلم دنیا سے مغرب تک اس کی رسائی پر تحقیق کی۔ انہوں نے ابن سینا کی نفسیات پر مقالہ لکھ کر ڈگری مکمل کی۔

fazal ur Rehman

1946 ء کا اپنے حوالے سے ایک واقعہ کے کے عزیز بیان کرتے ہیں کہ کافی ہاؤس کی محفلوں کی وجہ سے انہیں اردو شاعری میں دلچسپی پیدا ہوئی جبکہ والد کے اثر سے انہوں نے کلاسیکی فارسی شاعری پڑھنا شروع کی۔ جب کہ ایم اے انگریزی میں وہ افلاطون کی شاعرانہ تھیوری اور شاعری کے بارے میں نظریات بالخصوص حقیقت کے تصور کے بارے میں پڑھ رہے تھے لیکن انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ایک دفعہ فضل الرحمٰن سے بات کرتے ہوئے عربی شاعری کے حوالے سے افلاطون کا ذکر آیا تو انہوں نے اپنی الجھنوں کا ذکر کیا کہ شاعر کس طرح حقیقت سے ہٹ کر حقیقت کے تصور کو تخلیق کرتا ہے۔ فضل الرحمٰن نے وضاحت کی کہ وحی اور شاعری تو جڑواں بہنیں ہیں اور شاعری وحی کی ہی ایک شکل ہے جو حقیقت کے تصور کو سامنے لاتی ہے۔ کے کے عزیز کا کہنا ہے کہ فضل الرحمٰن کی مستقبل کی تحقیق کے بیج ان دنوں ہی ان کے ذہن میں اگنا شروع ہو گئے تھے۔ دس سال بعد جب اسلام میں وحی کے تصور پر ان کی اہم کتاب شائع ہوئی تو وہ انہی تصورات کو آگے بڑھاتی تھی۔ کے کے عزیز کہتے ہیں کہ جس چیز نے اس وقت ان کو سب سے بڑھ کر متاثر کیا وہ فضل الرحمٰن کا پیچیدہ تصورات کو سمجھانے کا انداز تھا۔ وہ یقیناً بہت اچھے استاد رہے ہوں گے۔

یوں کے کے عزیز کی کتاب کافی ہاؤس لاہور کی ادبی اور سماجی تاریخ کی ایک اہم دستاویز ہے جس میں اہم علمی شخصیات اور ادب اور آرٹ سے متعلق لوگوں کا دلچسپ تذکرہ ملتا ہے۔ بقول ظہیر کاشمیری

سونے پڑے ہیں دل کے در و بام اے ظہیرؔ
لاہور جب سے چھوڑ کے جان غزل گیا

Facebook Comments HS