واقعی خدا کوئی نہیں ہے؟
کتاب کا سرِ ورق اپنے ساتھ ایک بڑا سوال لے کر حاضرِ خدمت ہوا ہے۔ نبیل حیدر کی صنف نظم پہ مبنی کتاب ’خدا کوئی نہیں ہے‘ ہمیں بہت سارے اٹھتے مسائل پہ خاموشی سے غور و فکر کرنے پہ مجبور کرتی ہے۔ مجھے اس کتاب کو دیکھتے ہی ہالی ووڈ کی ایک شاندار فلم Blood Diamond یاد آنے لگی ہے۔ یہ فلم افریقہ کے اک غیر معروف ملک سیرالیون میں پیش آنے والے حقیقی واقعات پہ مبنی ہے۔ فلم کا ہیرو لیونارڈ ایک جگہ پہ مکالمہ کرتے ہوئے کہتا ہے :
” کبھی کبھار میں سوچتا ہوں کہ جو کچھ ہم انسانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کیا ہے۔ کیا خدا ہمیں کبھی معاف کرے گا؟ پھر میں ارد گرد دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ خدا نے یہ جگہ بہت پہلے چھوڑی تھی۔“
خدا کے وجود پہ اس وقت نیچرلی انسان سوال اٹھاتا ہے جب ظلم کا بازار گرم ہوتا ہے۔ کیا اب رسی کھینچی جائے گی؟ اسی سوال کی کھوج میں کتاب کا مطالعہ کیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر 47 پہ نبیل حید ر صاحب رقم طراز ہیں :
دوستو ہم کو تو اس دنیا کے سارے معبود
اتنے بے بس نظر آئے کہ خدا یاد آیا
منصف اس دور کے جتنے بھی ہوئے ہیں
فیصلے ایسے سنائے کہ خدا یاد آیا
موجودہ دور میں ہونے والے عدالتی فیصلوں پہ طائرانہ نگاہ بھی ڈالی جائے تو یہ کلام کافی موزوں معلوم ہوتا ہے۔ اسے آپ امریکہ کے اسقاطِ حمل سے لے کر نیتن یاہو کے فیصلے ( جس میں عدالتی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی ) سے لے کر پاکستانی عدالتی نظام میں ہونے والے فیصلوں تک پھیلا سکتے ہیں۔ کئی بار عوامی تاثر حقیقت کے قریب ہوتا ہے تو کبھی سراسر ہوا بنی ہوتی ہے۔ یوں عام سوچ سے ہٹ کر غیر مقبول فیصلوں کی صورت میں شاعر نے بخوبی عوامی سوچ و فکر کی نشاندہی کی ہے۔ انسان ان فیصلوں کو پڑھتا ہے تو بے اختیار آسمان کی طرف دیکھ کر فکر کرنے لگ جاتا ہے۔
کتاب میں جو غزل میرے دل کے کافی قریب رہی ہے اور انسپائرنگ سی محسوس ہوئی۔ اس کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں :
درگزر سچ خلوص ہمدردی
ہائے یہ جرم کیوں کیے میں نے
اس نے محفل میں جب قدم رکھا
توڑ ڈالے سبھی دیے میں نے
اک غزل تیرے نام کرنے کو
برسوں سوچے ہیں قافیے میں نے
مان رشتوں کا یوں رکھا حیدر
جان کر دھوکے کھا لیے میں نے
(صفحہ نمبر: 98 )
اسی خوبصورت غزل سے آئندہ صفحہ پہ انہوں نے عدالتی نظام پہ ایک بار پھر سے ضرب کچھ یوں لگائی ہے :
میں عدالت میں رہا سچ کے صحیفے پڑھتا
اور وہ جیت گیا جھوٹ کی گردان کے ساتھ
دل کہ ہے خوگرِ رنگینی مغرب حیدر
اور پھر خاتمہ بھی چاہیے ایمان کے ساتھ
(صفحہ نمبر 100 )
بدلتی ہوئی جدید دنیا انسانی رویوں پہ زیادہ دھیان دینے لگی ہے۔ اب لفظوں کے اوپر چڑھے خوش و بدنما لباس ہی اسے فائنل معنویت نہیں دیتے ہیں بلکہ چہرے کے تاثرات، الفاظ کا چناؤ، ٹھہراؤ، اور پھر ہمارے ایکشن سے جملے اپنے سیاق و سباق پہ تو پورا اترتے ہیں مگر ڈکشنری کے سادہ معنوں سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ اسی رویے کو جدید دنیا میں ایموشنل ذہانت سے گردانا جاتا ہے۔ یعنی آئی کیو کے بعد اب EQ (Emotional Intelligence) ہمارے آس پاس خوب جگہ بنا رہی ہے۔ اسی نکتہ پہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پاس چک نمبر 316 میں پیدا ہونے والے شاعر نے کچھ یوں اظہار کیا:
اب مانا کہ لوگ ہوتے ہیں دعا جیسے
جب دل کو لگے تیرے الفاظ شفا جیسے
اخلاص دلائل سے ثابت نہیں ہو سکتا
قسمیں نہیں کر سکتیں اک شک کو رفع جیسے
(ص: 147 )
رشتوں کی ایک اور پرت کو کھولتے ہوئے انہوں نے عقل و دانائی کی دین کو خوب انٹرلنک کیا۔ بالخصوص ایسے نکات غزل کے اندر کم دیکھنے کو ملتے ہیں مگر دل کو لگتے اور شاعری رومانس بھی برقرار معلوم ہوتا ہے۔
کیوں نہ رحمت کہیں بیٹی کو کہ اس کی آمد
میرے جیسوں کو خرد مند بنا جاتی ہے
تیرے الفاظ بھلے کچھ بھی ہوں پر حیدر کو
تیری مسکان تیرا درد بتا جاتی ہے
(بحوالہ: 209 )
اس میں دیکھیے کہ ایک شاعر کیسے بیان کرتا ہے کہ شاید دنیا کے معاملات میں کبھی اتنی دلچسپی یا عقل کا سامنا اس طور میسر نہیں تھا۔ مگر جیسے ہی ایک انسان بیٹی کا باپ بنتا ہے تو وہ دنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور اس پہ فکر کرنے کا انداز بدل کر رہ جاتا ہے۔
نبیل حیدر جہاں دنیا کے اہم اور آفاقی خیالات پہ بات کرتے ہوئے ملتے ہیں وہیں مذہبی شدت پسندی پہ بھی کھل کر اپنی روشنی صفت سوچوں کا اظہار کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ چاہے وہ سیالکوٹ کا معاملہ ہو یا بنک منیجر کو جان سے مارنے کا سانحہ ہو۔ ایسے واقعات ان کی حساس شخصیت کو جھنجھوڑتے ہیں اور بالآخر کو اپنے فن سے اظہار کرتے ہیں۔
دوغلے پن پہ یہ کھڑا ہے شہر
پر تعفن گلا سڑا ہے شہر
دو نمازی تھے آج مسجد میں
مفتیوں سے بھرا پڑا ہے شہر
(بحوالہ: سیکورٹی گارڈ کے ہاتھوں بنک مینجر۔ ص: 273 )
پھر سے ایسا کوئی قانون بنایا جائے
نفس بالنفس کا میزان سجایا جائے
تب تلک عشق کا یہ بھوت نہیں اترے گا
جب تک ان کو بھی زندہ جلایا جائے
(بحوالہ: سری لنکن مینجر۔ سیالکوٹ۔ صفحہ نمبر: 273 )
المختصر، ایڈیلیڈ شہر میں مقیم نبیل حیدر کی شاعری میں خوشگوار احساسات کے ساتھ ساتھ عالمی نوعیت کے سوالات بھی موجود ہیں۔ عموماً وہ جواب دینے کی بجائے اپنے قارئین کو سوالات کی عادت ڈال دیتے ہیں۔ اور قاری کو سوچنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ شاید یہی ایک حساس مگر سمجھدار تخلیق کار کا کام ہے۔ وہ اپنی مرضی کی بجائے، موجودہ سچویشن کا بھرپور اعادہ کر کے بہ زبان ادب اظہار کر دے۔
کتاب ’خدا کوئی نہیں ہے! ‘ کو مہر گرافکس اینڈ پبلشرز نے فیصل آباد سے شائع کیا ہے۔
اور اسے بآسانی خرید کر آپ اپنے علمی ذوق کو بڑھا سکتے ہیں۔


