اردو بولنے والوں کی گمشدہ آواز: شناخت کا بحران
وہ جو کل تک شہر کراچی کی شناخت تھے آج اسی شہر میں اجنبی بن چکے ہیں۔ اردو بولنے والے آج ایک ایسی خاموش اکثریت ہیں جن کی آواز کہیں پر بھی سنائی نہیں دیتی۔ یہ تحریر مہاجر سے معدوم ہونے کے اس عمل کی داستان ہے جس میں شناخت کا محاصرہ بھی ہے اقتدار سے بے دخلی بھی اور سیاسی خلا میں معلق ایک نسل کی بے وطنی بھی۔ بے وطنی اب صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں رہی بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ آج کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص اور سکھر جیسے شہری مراکز سے اردو بولنے والوں کی ایک پوری نسل تیزی سے یورپ، امریکہ، کینیڈا اور خلیجی ممالک کی طرف ہجرت کر رہی ہے۔ یہ فرار صرف معاشی نہیں بلکہ شناخت کے انکار، عدم تحفظ اور سیاسی نا امیدی کا ردعمل بھی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف اپنی زبان و ثقافت کے وارث ہیں بلکہ کراچی کے خاموش باسی بھی جن کی موجودگی اس شہر کی رگوں میں خون کی مانند ہے مگر جنہیں آج کی سیاست نے ایک ”زبان بولنے والے مسئلے“ میں بدل دیا ہے۔
مہاجر سیاست کا ملبہ صرف ایک جماعت کے زوال کا نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب ایک پوری پہچان کے اجتماعی بحران کا استعارہ ہے۔ اور اگر اس زوال کو نہ سمجھا گیا تو نقشِ کہن مٹتے گئے کی طرح اردو بولنے والوں کا مقام بھی محض تاریخ کے حاشیے میں رہ جائے گا۔ نہ نمائندگی، نہ قیادت، نہ راستہ نہ کوئی منزل۔ انڈیا کی تقسیم اور قیام پاکستان کے نتیجے میں شمالی انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے اردو بولنے والے مہاجرین شروعاتی دور میں پاکستان کی ریاست سازی، بیوروکریسی، عدلیہ، تعلیم اور شہری ثقافت (اربن کلچر) کا ایک اہم ترین حصہ تھے۔ سندھ کے شہری مراکز خاص طور پر کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور سکھر ان کی علمی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ریاستی پالیسیوں میں آنے والی تبدیلیوں نے انہیں اس سرزمین پر اجنبی بنا دیا۔ آج ایک ایسی کمیونٹی جو پاکستان بننے کے اوائل میں قومی تعمیر کی علامت تھی وقت کے ساتھ ساتھ اب شناخت، نمائندگی اور مستقبل کے بحران کا شکار ہے۔
پاکستانی ریاست نے اردو بولنے والوں کو ابتدا میں اہم اداروں میں جگہ دی مگر بعد ازاں کوٹہ سسٹم، لسانی سیاست اور مخصوص پالیسیوں کے ذریعے ان کی مرکزیت اور حیثیت کو بتدریج ختم کیا گیا۔ اردو بولنے والوں کے نقطہ نگاہ کے مطابق سندھ میں کوٹہ سسٹم کو مستقل شکل دے کر شہری نوجوانوں کو ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور بیوروکریسی سے دور رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک انتظامی پالیسی نہ تھی بلکہ ایک مخصوص اکثریتی بیانیے کی بنیاد پر اردو بولنے والوں کو ”اجنبی“ بنانے کا آلہ بن گئی۔
میرے نزدیک پاکستان میں لسانی تنازع کی بنیاد خود ریاست نے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے رکھی۔ جب اردو جو اُس وقت صرف دو فیصد آبادی کی زبان تھی کو ایک واحد قومی زبان کے طور پر نافذ کرنے کی پالیسی اپنائی گئی تو یہ ایک غیر متوازن قدم ثابت ہوا۔ 1947 کے بعد پاکستان جن اکثریتی قومی اکائیوں پر مشتمل ہوا مثلاً سندھ، پنجاب، سرحد، برٹش بلوچستان (یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اُس وقت ریاستِ قلات اور اس کی اتحادی ریاستیں مکران، خاران، اور لسبیلہ ابھی پاکستان کا حصہ نہیں بنی تھیں ) اور مشرقی بنگال (اس کے علاوہ متنازعہ گلگت بلتستان اور کشمیر ) وہاں اردو یا تو بالکل اجنبی تھی یا تعلیم یافتہ خواص کے بہت محدود دائرے میں سمجھی جاتی تھی۔ ریاستی سطح پر اردو کے نفاذ نے ان قومیتوں میں شدید احساسِ محرومی پیدا کیا۔ انھیں یہ تاثر ملا کہ ان کی زبانیں، ثقافتیں، اور قومی شناختیں دانستہ طور پر آنے والے مہاجرین کی خاطر نظرانداز کی جا رہی ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ریاستی سطح پر لسانی عدم مساوات کا بیج بویا گیا جو بعد ازاں شدید لسانی کشمکش، سیاسی بے چینی، اور باہمی بداعتمادی میں بدل گیا۔
لسانی تنازع کی جڑیں سمجھنے کے لیے یہ پہلو بھی اہم ہے کہ تحریکِ پاکستان شمالی انڈیا میں کن نعروں اور تصورات کے تحت منظم کی گئی تھی۔ چونکہ تحریک پاکستان میں شمالی انڈیا کے مسلم عوام کی سیاسی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے اسلام کے ساتھ ساتھ اردو کا بیانیہ بھی شدت سے پیش کیا گیا۔ یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ تحریک پاکستان کے دوران سندھ، پنجاب، برٹش بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں مسلم لیگ کی سیاسی حکمت عملی بالکل مختلف تھی ان علاقوں میں اردو کو بطور سیاسی بیانیہ استعمال نہیں کیا گیا۔ لہٰذا مہاجرین خصوصاً شمالی انڈیا سے آنے والے پاکستان کو اسلام اور اردو کا امتزاج اور مشترکہ مظہر تصور کرنے لگے۔ جب یہ مہاجرین پاکستان کے اُن علاقوں میں پہنچے جو تہذیبی، لسانی اور ثقافتی طور پر بالکل مختلف تھے تو وہ غالباً اس حقیقت سے ناآشنا تھے کہ یہاں اردو نہ صرف ایک اجنبی بلکہ اقلیتی زبان سمجھی جائے گی۔ تحریک پاکستان کے دوران اسلام اور اردو کے سیاسی بیانیہ کے سبب انہیں اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ نئی سرزمین نئے وطن میں لسانی اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔ یہی فکری خلا، تہذیبی اجنبیت اور ثقافتی نامانوسیت اور ریاست پاکستان کی زبان سے جُڑے امتیازی رویے اور مہاجرین کی اردو سے وابستہ توقعات اور فطری وابستگی آگے چل کر لسانی تناؤ، ثقافتی بے گانگی اور شناختی کشمکش کی بنیاد بن گیا۔ سندھ کے مخصوص تناظر میں سندھی قوم پرست سیاست نے اردو بولنے والوں کو ایک غیر مقامی، اجنبی اور بعض اوقات نو آبادیاتی طاقت کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا۔ ان کی زبان اور ثقافت کو تسلیم کرنے کے بجائے اردو کو لسانی برتری کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔ نتیجتاً اردو بولنے والے سندھی شناخت میں ضم ہونے کے بجائے ایک مستقل لسانی و ثقافتی اقلیت کی شکل اختیار کرنے لگے۔
ان پالیسیوں کے نتیجے میں اردو بولنے والوں کی اجتماعی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے باوجود نوجوان بیروزگار ہیں اردو بولنے والوں کی جانب سے اکثر یہ شکایات آتی رہتی ہیں کہ ان کے ساتھ ملازمتوں میں امتیازی سلوک معمول بن چکا ہے اور سیاسی نمائندگی نہ ہونے کے باعث ان کی آواز دب چکی ہے۔ ان کے کیریئر، مستقبل اور شناخت ریاستی و صوبائی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ شہری مسائل پانی، ٹرانسپورٹ، کچرا، بلدیاتی نظام پر بھی ان کا کوئی اختیار نہیں۔ ایک ایسی کمیونٹی جو کبھی پاکستان کی شہری ترقی اور علمی قیادت میں پیش پیش تھی موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں بے بسی، بیچارگی اور لاچارگی کی تصویر بن چکا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سندھ میں سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان مفاہمتی سیاست کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ ان دونوں کمیونٹیز کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مفادات کے تحت لسانی تقسیم کو کم کرنے کے بجائے اسے ہوا دیتی رہیں۔ اردو بولنے والوں کے جائز مطالبات کو اکثر سازش یا علیحدگی پسندی کے تناظر میں دیکھا گیا جس نے اس خلیج کو مزید وسیع کیا۔ اس تمام صورتحال میں ریاست کی جانب سے بھی کوئی ایسی ٹھوس پالیسی یا ایسا مکالماتی عمل شروع نہیں کیا گیا جو اس لسانی کشمکش کو حل کرسکے۔
ان تمام عوامل نے اردو بولنے والوں کو سندھ کے شہری علاقوں میں ایک ایسی ”سیاسی اقلیت“ میں بدل دیا ہے جو عددی لحاظ سے اکثریت اور شہری کردار میں متحرک ہونے کے باوجود سیاسی، معاشی اور ثقافتی طاقت سے محروم ہے۔ یہ اب صرف ایک لسانی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اردو بولنے والوں کا ایک وجودی اور تاریخی بحران بن چکا ہے جس کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب ریاست، صوبائی قیادت اور شہری سماج اردو بولنے والوں کو ان کی حیثیت اور کردار کے مطابق تسلیم کریں۔ اگر ہم جماعت اسلامی اور اردو بولنے والوں کے تعلق کا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ جماعت اسلامی سے وابستہ اردو بولنے والے اکثر مذہبی اور تعلیمی پس منظر کے حامل تھے جن کے لیے دین، تربیت اور اخلاقی کردار سازی بنیادی اقدار تھیں۔ تاہم جماعت اسلامی کی سیاست شہری ضروریات جیسے لسانی شناخت، ثقافتی اظہار، معاشی محرومیاں اور شہری حقوق کو براہِ راست مخاطب کرنے میں ناکام رہی۔ اس کی توجہ زیادہ تر اصلاحِ نفس، امتِ مسلمہ کی وحدت، فکری بیداری اور دعوتی سرگرمیوں پر مرکوز رہی جو جماعت اسلامی کے لیے تو اپنی جگہ اہم مگر کراچی جیسے کثیر الثقافتی، کثیر اللسانی اور شدید سیاسی دباؤ کے حامل شہر میں کافی نہ تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جماعت اسلامی ایک متحرک سیاسی قوت کے بجائے محض ایک سماجی و مذہبی حلقہ بن کر رہ گئی۔ ایک ایسا حلقہ جہاں خاندانی روایت، ذاتی مراسم، اور مذہبی نشستیں سیاسی بیداری اور اجتماعی مفادات کی جگہ لینے لگیں۔ اس رویے نے اردو بولنے والے متوسط طبقے کی نئی نسل کو سیاسی طور پر بے سمت کر دیا اور وہ اپنے سیاسی تشخص کی تلاش میں دیگر متبادل بیانیوں کی طرف مائل ہوئی۔ تاہم حالیہ برسوں میں جماعت اسلامی نے کراچی میں ایک بار پھر خود کو اردو بولنے والے شہریوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر منوانے کی شعوری کوشش کی ہے۔ بلدیاتی سیاست، شہری مسائل، اور سڑکوں پر احتجاجی سیاست کے ذریعے جماعت نے کوشش کی ہے کہ وہ صرف مذہبی یا تربیتی جماعت کے طور پر نہ دیکھی جائے بلکہ ایک متحرک اور مقامی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ یہ حکمت عملی خاص طور پر کراچی کے بنیادی شہری مسائل جیسے پانی، کچرا، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی خودمختاری پر مرکوز رہی ہے جس نے جماعت کو محدود مذہبی دائرے سے نکال کر ایک ”سٹی۔ سینٹرک“ سیاسی جماعت بنانے کی راہ دکھائی۔ تاہم، اس نئی حکمت عملی کی پائیداری اور اردو بولنے والوں میں اس کی گہرائی اب بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
ایم کیو ایم کی مقبولیت اسی خلا کا نتیجہ تھی جو جماعت اسلامی پر اعتماد نہ کر پانے والے اردو بولنے والوں کو ایک علیحدہ شناخت، طاقت، اور نمائندگی کا وعدہ دیتی تھی۔ ایم کیو ایم نے 1980 کی دہائی میں اُس وقت سیاسی میدان میں قدم رکھا جب کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں مقیم اردو بولنے والے مہاجرین شدید شناختی بحران، سیاسی بے دخلی اور سماجی محرومی کا شکار تھے۔ انہی حالات نے ایک نئی سیاسی قوت کے لیے زمین ہموار کی اور مہاجر قومیت کے بیانیے کے ساتھ ایم کیو ایم نے جنم لیا۔ اس بیانیے نے اردو بولنے والے محروم اور ناراض نوجوانوں کو متحرک کیا اور انہیں ایک شناخت، ایک آواز اور ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم اردو بولنے والوں کی موثر نمائندہ جماعت بن کر ابھری جس نے ریاستی سطح پر ان کے مسائل کو اجاگر کیا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ جماعت جمہوری مزاج سے ہٹ کر داخلی آمریت، ذاتی وفاداریوں، مسلح سیاست اور خوف کے کلچر کا شکار ہو گئی اور ایک نمائندہ سیاسی تنظیم کے بجائے ایک محدود، بند اور عسکری نوعیت کی تنظیم میں تبدیل ہو گئی۔ ایم کیو ایم نے اردو بولنے والوں کی عوامی طاقت کو تنظیمی مفادات کی خاطر سیاسی یرغمالی کے طور پر استعمال کیا۔ ایم کیو ایم نے کراچی اور دیگر علاقوں میں موجود اردو بولنے والے مہاجروں کی عددی قوت اور ان کے مسائل کو ایک سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان کی محرومیوں اور احساسِ بیگانگی کو صحیح معنوں میں حل کرنے کے بجائے ان کو ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا۔ ایم کیو ایم پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے اپنی پارٹی کی صفوں میں عسکریت پسندی کو فروغ دیا۔ نوجوانوں کو پارٹی کے سیاسی اہداف حاصل کرنے کے لیے تشدد، بدمعاشی اور اسلحہ کلچر کی جانب دھکیلا گیا۔ اس سے نہ صرف شہر کا امن خراب ہوا بلکہ خود اردو بولنے والے عوام کی شبیہ اور ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔
ایم کیو ایم کے پاس بہرحال یہ موقع تھا کہ وہ صرف اردو بولنے والے مہاجروں کی جماعت نہ رہے بلکہ کراچی میں بسنے والی دیگر قومیتوں سندھی، بلوچ، گجراتی، کچھی، مارواڑی، پنجابی، پختون، سرائیکی، ہزارہ وال، گلگتی بلتی اور کشمیری وغیرہ کو بھی اپنے ساتھ ملا کر ایک جامع شہری سیاسی قوت بناتی مگر وہ اپنے مخصوص تشخص پر مبنی سیاسی بیانیے کے سبب ایسا نہ کر سکی۔ ایم کیو ایم کی سیاست کا بنیادی ستون ”مہاجر شناخت“ اور ”مہاجر مظلومیت“ کا بیانیہ رہا۔ اس بیانیے نے اردو بولنے والے طبقے میں فوری مقبولیت تو حاصل کی لیکن اسی بیانیے نے دیگر قومیتوں کو اجنبی اور غیر محفوظ بھی محسوس کروایا۔ ”مہاجر قوم“ کا نعرہ ایک طرف شناختی سیاست کو جواز دیتا رہا دوسری طرف اس نے سندھ کی مقامی قومیتوں خصوصاً سندھیوں کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ بنایا۔ ایم کیو ایم کا عسکری و دھمکی آمیز طرزِ سیاست، اسلحہ و بھتہ کلچر، ”نو گو ایریاز“ کا تاثر بھی عام شہریوں کو اس سے دور کرتا رہا۔ دیگر قومیتوں کے لوگ اس ماحول میں شمولیت کو اپنے لیے خطرناک سمجھتے تھے۔
الطاف حسین کی مرکزیت اور ان کے فیصلوں کی بلا تنقید تقلید نے پارٹی کو صحیح معنوں میں جمہوری پارٹی بننے نہیں دیا جس کی وجہ سے دیگر قومیتوں کے لوگ جن کے پاس اپنی قیادت، ثقافت اور ترجیحات تھی خود کو اس جماعت کا حصہ بنانے میں تذبذب کا شکار رہے۔ ایم کیو ایم نے پارٹی کو ایک ادارہ یا جمہوری تنظیم بنانے کے بجائے الطاف حسین کے گرد گھمائے رکھا۔ پارٹی کی پالیسی، فیصلے، بیانیہ سب کچھ ایک فرد کے رحم و کرم پر رہا۔ اس شخصیت پرستی نے نہ صرف سیاسی ادارہ جاتی نشوونما روکے رکھی بلکہ پارٹی کو ایک فرد کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت سے مشروط کر دیا۔ ایم کیو ایم نے اپنے سیاسی بیانیے میں ”مہاجر بمقابلہ سندھی“ ، ”مہاجر بمقابلہ پنجابی/پختون“ جیسی تفریق کو تقویت دی۔ اس سے پارٹی ”شہریوں کی نمائندہ“ بننے کے بجائے ایک مخصوص لسانی گروہ کی محافظ بن کر رہ گئی جس نے اسے ”علاقائی“ اور ”لسانی“ دائرے میں قید رکھا۔ ایم کیو ایم ایک جامع شہری قوت بن سکتی تھی اگر وہ مہاجر شناخت کے ساتھ ساتھ ایک وسیع تر شہری، طبقاتی اور جمہوری بیانیہ اپنا لیتی جو دیگر قومیتوں کو مساوی احترام اور نمائندگی دیتی اور عسکری سیاست سے دور رہتی لیکن بدقسمتی سے اس نے اپنی شناختی تنگ نظری، شخصیت پرستی اور عسکریت پسند رجحانات کی وجہ سے یہ موقع گنوا دیا۔
ایم کیو ایم جب اقتدار میں آئی خاص طور پر بلدیاتی سطح پر تو اس سے شہری مسائل کا حل شہری ترقی اور نظم و نسق میں بہتری کی امیدیں وابستہ کی گئیں۔ لیکن بدعنوانی، اقربا پروری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے اردو بولنے والوں کی ان امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ اس کے علاوہ بحیثیت سیاسی پارٹی ایم کیو ایم نے جس بات کو نظر انداز کیا وہ یہ تھا کہ ایم کیو ایم اپنے سیاسی بیانیے کو وقت کے ساتھ نہ بدل سکی۔ اردو بولنے والوں کے مسائل بدلتے رہے لیکن ایم کیو ایم اس بات کا ادراک نہ کر سکی۔ پورے پاکستان سے کراچی کی جانب شہریوں کی داخلی ہجرت، روزگار کے کم ہوتے ہوئے محدود ذرائع و دیگر مسائل کے باوجود ایم کیو ایم کا بیانیہ مہاجر قومیت کے ایک ہی جامد نعرے کے گرد گھومتا رہا۔ تعلیم، روزگار، ماحول، اور سماجی انصاف جیسے مسائل کبھی سنجیدہ انداز میں ایجنڈے کا حصہ نہ بن سکے۔ ایم کیو ایم کبھی سندھی قوم پرستوں یا دیگر لسانی گروہوں کے ساتھ مفاہمتی سیاست نہ کر سکی۔ اس نے خود کو ہمیشہ ایک متحارب گروہ کے طور پر پیش کیا۔ ایم کیو ایم جو ایک وقت میں اردو بولنے والوں کی سب سے توانا سیاسی آواز تھی آج خود اپنے پیدا کردہ تضادات، داخلی ٹوٹ پھوٹ، قیادت کے بحران اور ماضی کے تشدد پر مبنی سیاسی روش کے باعث نہ صرف خاموش ہو چکی ہے بلکہ اپنا سیاسی وزن، ساکھ، حیثیت اور عوامی اعتماد بھی کھو چکی ہے۔ اس جماعت کا زوال صرف ایک تنظیم کی ناکامی نہیں بلکہ اردو بولنے والی مہاجر آبادی کی اجتماعی سیاسی نمائندگی کے بحران کی علامت بن چکا ہے۔
ایم کیو ایم نے جو خلا پیدا کیا ہے اسے نہ تو کسی اور سیاسی جماعت نے پُر کیا ہے اور نہ ہی کوئی نیا متبادل بیانیہ ابھر سکا ہے۔ اس صورتحال نے اردو بولنے والوں کو سیاسی طور پر مزید کمزور، لا تعلق اور غیرمحفوظ بنا دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے زوال نے اردو بولنے والوں کو محض سیاسی طور پر کمزور ہی نہیں کیا بلکہ انہیں اجتماعی طور پر بے سمت، لاچار اور غیر متعلقہ بنا دیا ہے۔ اردو بولنے والے آج ایک سیاسی خلا میں معلق ہیں نہ ان کے پاس نمائندہ قیادت ہے نہ کوئی ٹھوس بیانیہ نہ ہی ایسا سیاسی پلیٹ فارم جو ان کے مسائل کو سنجیدگی سے اٹھا سکے۔ آج اردو بولنے والا نوجوان نہ تو کسی سیاسی جماعت پر اعتماد کرتا ہے، نہ ہی اس ریاستی نظام میں اپنا مستقبل دیکھتا ہے۔ وہ خود کو ریاستی بیانیے سے الگ تھلگ محسوس کرتا ہے اور نئی نسل اس تشویشناک سیاسی لا تعلقی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے جہاں شرکت، مکالمہ اور مزاحمت کا جذبہ بتدریج ماند پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں اردو بولنے والوں کی سیاسی حیثیت ماضی میں قید ہو چکی ہے جبکہ موجودہ سیاسی افق پر ان کی موجودگی تقریباً معدوم ہے۔ یہ زوال محض ایک جماعت کی ناکامی نہیں بلکہ ایک پوری زبان بولنے والے طبقے کی اجتماعی سیاسی بے دخلی ہے جو اب نہ صرف قومی سیاست میں غیر متعلقہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ اپنے ہی شہر کراچی میں شناختی بحران کا شکار ہے۔ یہ ایک ایسی خطرناک صورتحال ہے جہاں اگر جلدی کوئی نیا، باشعور اور بامقصد سیاسی بیانیہ تشکیل نہ پایا تو اردو بولنے والوں کا زوال محض وقتی نہ رہے گا بلکہ مستقل سیاسی معدومیت کی شکل اختیار کر جائے گا۔
ان حالات میں ضروری ہے کہ ایک نیا، پرامن، غیر مسلح، جمہوری اور مفاہمتی طرزِ سیاست ابھرے جو صرف مہاجر شناخت تک محدود نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شہری مسائل، روزگار، تعلیم، بلدیاتی خودمختاری اور سماجی انصاف جیسے عملی مسائل پر توجہ دے۔ یہ نئی قیادت وہ ہونی چاہیے جو اردو بولنے والوں کے اندرونی تنوع کو تسلیم کرے ان کے ساتھ ساتھ دیگر قومیتوں سے مکالمہ کرے اور ”مہاجر سیاست“ ، ”اردو بولنے والوں کی سیاست“ یا ”اردو بولنے والے سندھیوں کی سیاست“ کو دوبارہ قومی دھارے میں ایک مثبت، تعمیری اور جمہوری قوت کے طور پر متعارف کرائے۔ اس کے بغیر اردو بولنے والے ایک سیاسی خلا میں معلق رہیں گے جہاں ان کی آواز نہ تو ایوانوں میں نہ اداروں میں سنائی دے گی اور نہ سڑکوں پر۔ ہم چاہے اردو بولنے والوں سے نفرت کریں یا محبت انہیں تسلیم کریں یا مسترد یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمیں اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ ہماری سیاسی تقدیر آپس میں جڑی ہوئی ہے اور اس حقیقت کو نظرانداز کرنا نہ صرف سیاسی اور سماجی لحاظ سے غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ یہ ہمارے اجتماعی وجود کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی ثقافتی، لسانی اور شناختی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور قبول کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم نہ صرف بہتر طور پر اکٹھے رہ سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے اختلافات سے سیکھ کر ایک مضبوط اور ہم آہنگ سماج کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔
ایسا سماجی ماحول اس وقت ممکن ہو گا جب تمام زبانوں کو یکساں عزت، شناخت اور ثقافت کی مساوی حیثیت دی جائے۔ اس میں نہ صرف لسانی تنوع کا احترام کیا جائے گا بلکہ سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ وہ مقام ہو گا جہاں ہر فرد کی زبان اس کی ثقافت اور شناخت کو اس کی پوری قدر اور اہمیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے گا اور اس سے نہ صرف قومی یکجہتی کی بنیاد مضبوط ہوگی بلکہ ایک حقیقت پسندانہ اور پائیدار سیاسی و سماجی نظم بھی قائم ہو گا۔ اس طرح کی سوچ ہمارے سماجی رشتہ کو مزید گہرا اور مضبوط بنائے گی اور ہر فرد کو اپنی اصل کے ساتھ جینے کا حق ملے گا۔


