زندگی سے خالی پروفیسر


پاکستانی سماج ایک ایسا سماج ہے جو مجموعی طور پر اینٹی آرٹ/ فن مخالف مزاج رکھتا ہے۔ پاکستان میں فن / آرٹ کو یا تو غیر سنجیدہ سرگرمی سمجھا جاتا ہے یا پھر وقت کا ضیاع سمجھ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ یہ تصور صرف عوامی حلقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں خاص طور پر اکیڈمیا میں بھی سرایت کیے ہوئے ہے۔ وہ یونیورسٹیاں جو تخلیق، تنقید، اور علم کا مرکز ہونی چاہیے وہ خود فن سے بیگانہ، خشک اور اکتاہٹ زدہ ماحول کا شکار ہیں۔

اکثر یونیورسٹی پروفیسرز کی پروفیشنل زندگی ان کی ذاتی دلچسپیوں، تخلیقی میلانات اور فنونِ لطیفہ سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ہے۔ یونیورسٹی نوکری کے تقاضے پروفیسرز کو تدریس، پبلکیشنز، اسیسمنٹ، امتحانی امور، کورس ڈیزائن اور فیکلٹی میٹنگز میں اس قدر الجھا دیتے ہیں کہ ان کے پاس خود سے کچھ سوچنے، تخلیق کرنے یا اپنے جذبات کو فن کے ذریعے برتنے کا وقت ہی نہیں بچتا۔

بظاہر آزاد پیشہ ہونے کے باوجود یونیورسٹیوں کے اساتذہ اکیڈمک مزدوری کے شکنجے میں جکڑے ہوتے ہیں جس کے باعث ان کی فکری پرواز محدود ہو جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے پروفیسرز ذاتی زندگی میں جمود کی وجہ سے خود بھی تخلیقی تجربات سے کٹ کر محض ”علمی شخصیت“ کے ایک سخت سانچے میں ڈھل جاتے ہیں جہاں جذبات اور فن کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سماجی سطح پر بھی ہمارے ہاں پروفیسر سے ایک سنجیدہ، خشک، اور ”علمی“ رویے کی توقع کی جاتی ہے۔ کوئی تخلیقی، جذباتی یا مزاحیہ رخ اگر ظاہر ہو بھی جائے تو اسے غیر سنجیدگی یا نان پروفیشنل سمجھا جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پروفیسرز کی اکثریت خوف اور سیلف سنسرشپ کو غیر ضروری طور پر اپنے اوپر مسلط کر دیتی ہے۔ کئی پروفیسرز اندر سے آزاد اور فن سے جُڑے ہوتے ہیں مگر اپنی خود ساختہ ”علمی ساکھ“ اور اینٹی آرٹ سماج کی جانب سے سماجی دباؤ اور ملازمت کے خوف سے وہ اپنی اصل سوچ اور جذبات کو دبا دیتے ہیں۔

یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسا اکیڈمک کلچر تشکیل دیتے ہیں جو فن اور تخلیق کے لیے غیر موزوں بلکہ مزاحم ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے نو آبادیاتی علمی ڈھانچوں پر قائم ہیں جہاں سائنسی اور حوالہ جاتی علم کو برتر، جب کہ مقامی یا تخلیقی اظہار کو کمتر اور ”غیر علمی“ سمجھا جاتا ہے۔ آرٹ چاہے وہ موسیقی ہو، شاعری ہو، مصوری ہو یا فلم اکثر ان کو محض شوقیہ یا تفریحی سرگرمی سمجھا جاتا ہے اور اس کا ”علمی“ بحث سے کوئی تعلق نہیں سمجھا جاتا۔ اس رویے سے بھی اکیڈمیا کی فکری گہرائی اور انسانی کشادگی متاثر ہوتی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں پروفیسر کا انسانی چہرہ ایک سوال بن کر ابھرتا ہے۔
کیا ایک پروفیسر صرف کتابوں اور لیکچرز کا مجموعہ ہوتا ہے؟
کیا وہ ہنسی، مزاح، خواب، تخیل، اور جذبات سے خالی ہوتا ہے؟
کیا ایک پروفیسر صرف عقل کی نمائندگی کرتا ہے احساسات یا جذبات کی نہیں؟
کیا پروفیسر کا چہرہ صرف سنجیدگی، علمیت اور رعب کا چہرہ ہے؟
کیا پروفیسر کو فن، تخلیق اور جمالیات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے؟
کیا تعلیمی ادارے انسان نہیں صرف ”علمی مشینیں“ پیدا کرنے کی فیکٹریاں ہیں؟
کیا تخیل اور فن محض ”غیر نصابی“ مشاغل ہیں جنہیں تعلیمی وقار کے لیے قربان کرنا ضروری ہے؟
کیا تنقید صرف تھیوری کی زبان میں ممکن ہے گلو کاری، شاعری یا مصوری میں نہیں؟
کیا وہ استاد جو قہقہہ لگاتا ہے گیت گاتا ہے یا خاموشی میں کوئی خواب دیکھتا ہے ”کم تر“ استاد ہوتا ہے؟
کیا استاد کا کردار صرف مواد کی منتقلی (Content Delivery) تک محدود ہے یا وہ حقیقی معنوں میں ایک تخلیقی رشتہ بھی قائم کرتا ہے؟

اگر ہم ان سوالات کے ساتھ ایمانداری سے مکالمہ کریں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارا تعلیمی نظام، تعلیمی ثقافت اور سماج استاد کو انسان نہیں بلکہ ایک ”فنکشن“ بنانا چاہتا ہے۔ ایک ایسا فنکشن جو جذبات، آرٹ، یا تخلیق سے آزاد ہو اور صرف سلیبس کی تکمیل، گریڈنگ، کاپیوں کی چیکنگ اور پالیسی میٹنگز کے قابل ہو۔ یہ پورا ماڈل خود نو آبادیاتی ادارہ جاتی عقل (Institutional rationality) کا حصہ ہے جو استاد کو ایک زندہ وجود کی بجائے ایک ”علمی پراڈکٹ“ کا مینوفیکچرر اور نالج ورکر سمجھتا ہے۔ اس ماڈل میں نہ عشق کی جگہ ہے نہ درد کی نہ جمالیات کی نہ شاعری کی۔ استاد کی آواز یہاں بس ایک پاور پوائنٹ سلائیڈ کے پیچھے دب جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور سانحہ یہ ہے کہ پروفیسر کے لیے سماجی سطح پر ایک ”سنجیدہ“ ، ”غیر جذباتی“ ، اور ”علمی“ رویے کی توقع کی جاتی ہے۔ اگر کوئی پروفیسر اپنی تخلیقی یا جمالیاتی شخصیت کا اظہار کرے تو اسے غیر سنجیدہ یا نان پروفیشنل سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً کئی اساتذہ فن سے جُڑے اپنے اندرونی باطنی رجحانات کو دبا دیتے ہیں یا پھر اندر ہی اندر ایک جذباتی قید میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آرٹ پروفیسر کی زندگی میں کوئی ”اضافی“ یا ”غیر سنجیدہ“ چیز نہیں بلکہ اس کی انسانیت کا مرکز ہے۔ فن ہی وہ ذریعہ ہے جو علم کو زندگی سے جوڑتا ہے سوال کو تجربہ بناتا ہے اور تدریس کو محض نوٹس دینے اور خشک لیکچرز سے آگے لے جا کر ایک انسانی رشتہ بنا دیتا ہے۔ فن سے جڑا ہوا استاد علم کو صرف پڑھاتا نہیں برتتا ہے اس میں روح پھونکتا ہے۔

ہمیں اس اکیڈمک کلچر کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے جو فن کو ”غیر سنجیدہ“ اور جذبات کو ”کمزوری“ سمجھتا ہے۔ لہٰذا اس اینٹی آرٹ سماجی رویے اور اکیڈمک ماحول کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی فضا تشکیل دینا ہو گی جہاں فن کو ”غیر سنجیدگی“ نہ سمجھا جائے بلکہ انسانی فہم و ادراک کی معراج تصور کیا جائے۔ جہاں پروفیسرز کو یہ موقع اور آزادی ہو کہ وہ اپنے اندر کے انسان، شاعر، فنکار، گلوکار اور خواب دیکھنے والے کو زندہ رکھ سکیں۔ یہی تبدیلی تعلیمی اداروں کو دوبارہ تخلیق سوال اور زندگی کے مراکز میں بدل سکتی ہے

ہمیں ایسی فضا پیدا کرنی ہو گی جہاں پروفیسر ایک مکمل انسان کے طور پر سامنے آ سکے۔ جو لکھتا بھی ہو سوچتا بھی ہو محسوس بھی کرتا ہو اور سکھانے کے ساتھ ساتھ خود بھی سیکھنے کا عمل جاری رکھے۔ ایسا استاد ہی تعلیمی ادارے کو محض امتحان گاہ سے نکال کر ایک تجربہ گاہ ایک مکالمہ گاہ اور ایک تخلیق گاہ بنا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS