زندہ دل پاکستانی قوم بمقابلہ انڈین جنگی جنون
پاکستانی قوم کی زندہ دلی اور سوشل میڈیا پر ان کی جگت بازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جب بات جنگ کی ہو یا انڈیا کے ساتھ کشیدگی کی، پاکستانی عوام اپنے منفرد انداز میں میمز، جگتیں، اور جملہ بازی کے ذریعے نہ صرف ماحول کو ہلکا پھلکا کر دیتے ہیں بلکہ دشمن کے ہوش بھی اڑا دیتے ہیں۔ آج کل ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستانیوں نے گویا جنگ کا محاذ سوشل میڈیا پر منتقل کر دیا ہے، جہاں وہ انڈینز کو ٹرول کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ ایک طرف پاکستانی اپنے ہنسی مزاح سے میدان مار رہے ہیں، تو دوسری طرف بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر جنگ کی دھمکیوں کا شور ہے، لیکن پاکستانیوں نے اسے جوتے کی نوک پر رکھ کر الٹا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے۔
مثال کے طور پر، ایک میم میں لکھا گیا: ”انڈیا والو، رات کو سونا نہیں، کیونکہ پاکستانی میمز تمہارے خوابوں میں بھی آئیں گے!“ ایک اور جگت جو وائرل ہوئی: ”بھارت والے کہتے ہیں جنگ کریں گے، لیکن ان کے کچھ لوگ تو پہلے ہی ائرپورٹ پر ویزا مانگ رہے ہیں!“ یہ پاکستانیوں کی وہی زندہ دلی ہے جو مشکل حالات میں بھی انہیں ہنسنے اور ہنسانے کا موقع دیتی ہے۔ ایک صارف نے تو حد ہی کر دی جب اس نے لکھا: ”صبح سے بجلی نہیں، اور میں نے جنگ کے لیے کپڑے بھی استری نہیں کیے!“ اب اس سے بڑھ کر زندہ دلی کیا ہوگی کہ جنگ کی بات ہو اور پاکستانی استری کی فکر میں ہو۔
دوسری طرف، انڈین سوشل میڈیا پر کچھ صارفین جنگ کی باتیں سن کر اتنا گھبرا گئے ہیں کہ ”ہم تو کینیڈا جا رہے ہیں“ والے میمز بننے لگے۔ پاکستانیوں نے اسے بھی نہیں چھوڑا اور فوراً جگت لگائی: ”انڈیا والے اپنی فوج کو کہہ رہے ہیں، تم لڑو، ہم فلاں فلائٹ پکڑ رہے ہیں!“ ایک میم میں تو انڈین فوج کے جوان کو دکھایا گیا جو کہہ رہا ہے : ”سر، دشمن کے میمز بہت خطرناک ہیں، ہنسی روک نہیں پاتے!“ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستانیوں نے جنگ سے زیادہ میمز کا خوف بھارت میں پھیلا دیا ہے۔
یاسر پیرزادہ نے اپنے ایک کالم میں اس پاک۔ بھارت ٹویٹر جنگ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانیوں کی جگتیں ایسی ہیں کہ مرحوم ایوب خان کا جملہ یاد آ جاتا ہے : ”دشمن کو اندازہ نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے!“ ایک پاکستانی صارف نے انڈین کی دھمکی ”رات کو مت سونا“ کا جواب دیا: ”کیوں، صبح نوکری پر تمہارے والد جائیں گے؟“ بس اس ایک جملے نے سارا ٹویٹر ہلا کر رکھ دیا۔
پاکستانیوں کی یہ زندہ دلی کوئی نئی بات نہیں۔ 1965 کی جنگ ہو یا 1999 کا کارگل، پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی ہمت اور مزاح سے مقابلہ کیا۔ آج سوشل میڈیا پر یہ میمز اور جگتیں اسی جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ جہاں بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر جنگ کا خوف پھیلا رہا ہے، وہیں پاکستانی عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف میدان جنگ میں بہادر ہیں بلکہ میمز کے میدان میں بھی کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ایک صارف نے بالکل درست لکھا: ”انڈیا کو لگتا ہے وہ جنگ جیت لے گا، لیکن پاکستانی میمز کے سامنے تو مودی جی کی تصویر بھی شرما جاتی ہے!“
تو بس یہی ہے پاکستانی قوم کی زندہ دلی۔ جنگ کی دھمکیوں کو وہ ہنسی میں اڑاتے ہیں، جگتیں لگاتے ہیں، اور میمز بناتے ہیں جو نہ صرف ان کے اپنے حوصلے بلند کرتے ہیں بلکہ دشمن کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ”یہ قوم ہے یا میمز کی مشین!“ آخری بات، اگر جنگ چھڑ بھی گئی تو پاکستانی شاید میمز بناتے بناتے ہی جیت جائیں، کیونکہ جیسے ایک میم میں کہا گیا: ”ہمارے پاس ایٹم بم بھی ہے اور حسِ مزاح بھی، اب بھارت والے سوچیں کون سا زیادہ خطرناک ہے۔“
ہم نے سوشل میڈیا پر بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ان کو یہ جواب بہت بہترین انداز میں دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں موت سے نہیں ڈرتے اور شہادت سے پیار کرتے ہیں۔ انڈیا جنگ کی دھمکیوں سے پاکستان کو ڈرانا چاہتا تھا، آپ ان سب دنوں میں پاکستان کی لیڈر شپ اس کی فوج کا اطمینان دیکھیں پاکستانی قوم کی خوش مزاجی دیکھیں، انڈیا اب خود اس ردعمل سے خوف کی کیفیت میں ہے۔
مزاح کرنا بری بات نہیں ہم نے آج بھی بھارتیوں کو صرف اپنی باتوں سے ہی رونے پر مجبور کر دیا اور ہم اپنے ملک کا دفاع کرتے رہیں گے لیکن ایک بات کا خاص خیال ضرور رکھیں کہ جنگ کوئی مذاق نہیں ہوتی ہمیں اس کو تھوڑا سنجیدگی سے بھی لینا ہے اور اپنے مجاہدین کے لئے دعا بھی کرنی ہے اور سپورٹ بھی کرنا ہے۔ تھوڑا سا ٹرینڈ کو تبدیل کریں اور بھارتیوں کو ان کی اوقات اپنے ایمانی جوش اور جذبے کے مطابق بھی دکھائیں۔


