سیدو شریف ائرپورٹ، پاکستان بھارت کشیدگی کے تناظر میں پھر فعال


سرکاری نام سیدو شریف ائرپورٹ، لیکن مشہور ہے سوات ائرپورٹ کے نام سے جو کہ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے قریب کانجو میں واقع ہے، 1978 میں تعمیر ہوا اور کئی دہائیوں تک اس نے سیاحتی اور مقامی فضائی سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ائرپورٹ اسلام آباد، پشاور، لاہور، چترال کے مسافروں کے لیے ایک اہم فضائی راستہ تھا، اگرچہ کراچی اور لاہور سے براہ راست پروازیں نہیں ہوتیں، لیکن ان شہروں سے مسافر اسلام آباد پہنچ کر یہاں کے لیے روانہ ہوتے تھے۔ یہ ائرپورٹ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر سعودی عرب، دبئی، امریکہ اور یوکے میں موجود سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع کے باشندے اس ائرپورٹ کو استعمال کرتے رہے۔ پی آئی اے کے لیے ریونیو کے لحاظ سے یہ خیبر پختونخوا میں دوسرے نمبر پر شمار ہوتا تھا۔ سیدو شریف ائرپورٹ 1978 سے 1999 تک بھرپور طریقے سے فعال رہا، اور اس دوران ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں آتے رہے۔ سیاحت، تجارت، اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے یہ ایک مضبوط رابطے کا ذریعہ تھا۔

1999 میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں یہ ائرپورٹ بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں 2004، 2006، اور 2012 میں پروازوں کی بحالی کا افتتاح ہوا۔ 2012 میں اسلام آباد سے صحافیوں کو لا کر اعلان کیا گیا کہ ائرپورٹ کو پی آئی اے کے فوکر طیارے کی پروازوں کے لیے بحال کر دیا گیا، لیکن وہ پہلی اور آخری پرواز ثابت ہوئی۔ 26 مارچ 2021 کو پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ایک بار پھر باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ محمود خان اور وفاقی وزیر مراد سعید نے اس ائرپورٹ کو فعال کیا، جس پر مقامی عوام نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔ اس وقت سول ایوی ایشن کا مکمل عملہ، ائرپورٹ سیکیورٹی فورس کے تقریباً 42 اہلکار، اور دیگر اسٹاف بھی یہاں تعینات کیے گئے۔ اس منصوبے پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن بدقسمتی سے صرف آٹھ سے نو پروازیں لینڈ کر سکیں اور ایک بار پھر سناٹا چھا گیا۔ سکردو ائرپورٹ سے موازنہ کریں تو جہاں سکردو ائرپورٹ کو انٹرنیشنل ائرپورٹ کا درجہ دیا گیا ہے، وہیں سوات جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ سیاحتی مقام کا فضائی رابطہ مسلسل معطل ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد ، سیدو شریف ائرپورٹ پر جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں، جس سے یہ تاثر ملا کہ ائرپورٹ کو اب مکمل طور پر ائر بیس میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ائرپورٹ پر تعمیراتی کام جاری رہا، جس میں رن وے کو توسیع دی گئی اور اس کی لمبائی اور مضبوطی میں اضافہ کیا گیا۔ اگرچہ مقامی لوگ کنٹونمنٹ بورڈ کے قیام کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں، لیکن وہ ائر بیس کے قیام کے خلاف نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ائر بیس کے ساتھ ساتھ سول طیاروں اور عام مسافروں کے لیے بھی ائرپورٹ کو بحال کیا جائے

سیاحتی اہمیت اور عوامی مطالبہ

سوات، پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شامل ہے، جہاں کالام، مالم جبہ، بحرین، مہوڈنڈ جھیل، گبین جبہ، میاندم، اور بہت سے دیگر سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ وادی سوات تک پہنچنے کے لیے سب کا بائی روڈ سفر کرنا ممکن نہیں، خاص طور پر کراچی، لاہور، اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے۔ اگرچہ موٹروے کی تعمیر کے بعد اسلام آباد تک کا بائی روڈ سفر بہتر ہوا ہے، لیکن اسلام آباد سے آگے سوات تک کا سفر اب بھی وقت طلب اور مہنگا ہے۔ ماضی میں کراچی سے جب پرواز اسلام آباد پہنچتی تو سیدو شریف ائرپورٹ کے لیے کنیکٹنگ فلائٹ بھی میسر ہوتی، جس سے سیاحوں کو آسانی میسر آتی تھی۔ ائرپورٹ کی بندش سے نہ صرف سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں بلکہ مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع بھی کم ہو گئے۔

سوات نہ صرف فطری خوبصورتی بلکہ تاریخی اہمیت کے لحاظ سے بھی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ یہ علاقہ گندھارا تہذیب اور بدھ مت کے آثار قدیمہ کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی ان آثار اور تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لیے سوات کا رخ کرتے تھے، جن کے لیے سیدو شریف ائرپورٹ ایک اہم گیٹ وے تھا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اس ائرپورٹ کو دوبارہ مکمل طور پر فعال کیا جائے، تاکہ نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے بلکہ سوات کی شناخت بھی زندہ رہے۔

حکومت وقت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ سیدو شریف ائرپورٹ کو ائر بیس کے ساتھ ساتھ سیاحتی اور کمرشل فلائٹس کے لیے بھی بحال کریں۔ یہ اقدام نہ صرف سوات بلکہ پورے خیبر پختونخوا کی معیشت، سیاحت، اور عوامی سہولت کے لیے ایک مثبت قدم ہو گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “سیدو شریف ائرپورٹ، پاکستان بھارت کشیدگی کے تناظر میں پھر فعال

  • 03/05/2025 at 8:20 شام
    Permalink

    مقامی لوگوں کے لئے بہتر ہوگا اگر اس کو ایئر بیس کی شکل میں مستقل ہونے دیں۔
    ایئر بیس بننے کے بعد پاک فضائیہ کی مدد سے سی ون 30 ٹائپ کے جہازوں کے ذریعے اسلام آباد – سوات روٹ پر فلائٹ چلنا ممکن ہونگی۔
    اس کے بعد دوسری نجی ایئرلائن کے لئے بھی ممکن ہوگا کہ وہ مسافروں کی تعداد کی مناسبت سے ہفتے میں 3 یا زائد فلائٹس چلاسکیں گے۔
    سوات کے مقامی امرا مل کر ایک یا دو جہاز خرید کر بھی پی آئی اے یا کسی نجی ایئرلائن سے معاہدہ کرکے ان جہازوں کو اپنے روٹ پر چلاسکیں گے۔ کراچی کے ساتھ بھی اور لاہور کے ساتھ بھی۔

Comments are closed.