انسانی حقوق؟ پہلے عورت کو انسان تو مانیں

پچھلے دنوں ایک نشست میں ”فیمینزم“ کے موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی جب ایک دوست نے کہا کہ ان کو لگتا ہے کہ، ”فیمینسٹ“ ہونے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو بس ایک ”اچھا انسان“ ہونا چاہیے اور اچھا انسان، عورتوں کی عزت ہی کرتا ہے اور ان کا خیال ہی کرتا ہے۔ اسی طرح اکثر لوگ کہتے ہیں، کہ ”ہم سب انسان ہیں، ہمیں بس انسانی حقوق کی ہی بات کرنی چاہیے، عورت، مرد، سب برابر ہیں۔ “ سننے میں یہ بات کتنی خوب صورت لگتی ہے ناں کہ مرد اور عورت برابر ہیں، مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ، ایک پدر شاہی سماج میں کیا ایسا ممکن بھی ہے؟
کیونکہ اگر واقعی ہی ایسا ہے تو پھر کیوں عورت آج بھی قبر سے پہلے دفنا دی جاتی ہے؟ کیوں وہ گھر کے دروازے سے باہر نکلے تو اس کی عزت داؤ پر لگ جاتی ہے؟ کیوں وہ اگر اپنی مرضی کی بات کرے تو باغی کہلاتی ہے؟ کیوں اگر خاموش رہے تو اچھی بیٹی، اچھی بہن، اچھی بیوی کہلاتی ہے؟ اور کیوں، اس سب کا سامنا مردوں کو نہیں کرنا پڑتا؟
اور اگر انسانی حقوق ہی کافی ہوتے تو، لڑکوں کی پیدائش پر جشن اور لڑکی کی پیدائش پر خاموشی نہ ہوتی۔ عورت کو اپنی مرضی سے تعلیم، شادی، ملازمت، لباس، اور زندگی کے فیصلوں کا اختیار حاصل ہوتا۔ غیرت کے نام پر قتل نہ ہوتے، اور اگر ہوتے بھی، تو ان کے مجرم سزا پاتے۔ عورتوں کو ”برداشت“ ، ”قربانی“ ، ”خاموشی“ جیسے اوصاف کا پابند نہ بنایا جاتا، جیسے یہ ان کی فطری ذمہ داریاں ہوں۔ اور مرد کی غلطی کو ”لڑکوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں“ کہہ کر نظر انداز نہ کیا جاتا، اور عورت کی غلطی کو ”کردار“ کا مسئلہ نہ بنایا جاتا۔ اس لیے تو فیمینزم بہت ضروری ہے کیونکہ فیمینزم صرف ایک لفظ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل تصور اور نظریہ ہے جو صرف عورتوں کے مسائل ہی کی بات نہیں کرتا بلکہ وہ ایک ساختیاتی سیاسی تنقید بھی ہے، جو معاشرے میں طاقت، اختیار اور پدرشاہی نظام کے گہرے نقوش پر سوال بھی اٹھاتا ہے۔ پھر یہ صرف حقوق کی ہی بات نہیں کرتا، بلکہ یہ عزت کی، اختیار کی، زندگی کی بھی بات کرتا ہے۔
فیمینزم وہ سوالات پوچھتا ہے جنہیں معاشرہ ہمیشہ دبانا چاہتا ہے، جیسا کہ :
عورت کے خوابوں کو کیوں شرم کا طعنہ دیا جاتا ہے؟
بیٹی پیدا ہو تو چپ کیوں چھا جاتی ہے؟
غیرت کا جنازہ ہمیشہ عورت کی لاش پر کیوں اٹھتا ہے؟
یہ سب عام انسانی حقوق کی کتابوں میں کہیں نہیں لکھا۔
انسانی حقوق کی زبان عمومی ہوتی ہے، جس میں ہر فرد کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہی عمومی پن اکثر ان خاص مسائل کو نظر انداز کر دیتا ہے جو صرف عورتوں اور صنفی اقلیتوں کو درپیش ہوتے ہیں۔ یہ صرف فیمینزم کی زبان ہے جو ان سچائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ جب فیمینزم کو انسانی حقوق میں چھپا دیا جائے تو عورت کے زخم ”سب کے زخم“ کہہ کر بے نام ہو جاتے ہیں۔ اس کی چیخ، ایک ”آواز“ میں گم ہو جاتی ہے۔ اس کا دکھ، ”ہم سب کا دکھ“ بن کر نظر انداز ہو جاتا ہے۔
لیکن عورت کا دکھ تو اس کا اپنا ہے، وہ دکھ جو رات کے سناٹے میں ہراساں کرتی سانسوں سے جڑا ہے، وہ دکھ جو شادی کی زبردستی، طلاق کی لعنت، یا جہیز کی آگ میں جلتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جو عورتوں کی آواز کو ”سب کی آواز“ کے شور میں دبا دیتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب پدرشاہی کامیاب ہو جاتی ہے۔ خاموشی سے، علمی اور اخلاقی زبان میں۔
مشہور افریقی فیمینسٹ اور مصنفہ، چممنڈا نگوژی ایڈیچی اپنی کتاب، ”ہم سب کو فیمینسٹ ہونا چاہیے (We Should All be feminists)“ میں اس حوالے سے کہتی ہیں کہ :
”فیمینسٹ کا لفظ کیوں؟ کیوں نہ بس یہ کہہ دیں کہ آپ انسانی حقوق کے حامی ہیں یا کچھ ایسا؟“ کیونکہ یہ جھوٹا ہو گا۔ فیمینزم یقیناً انسانی حقوق کا حصہ ہے، لیکن اگر ہم صرف ’انسانی حقوق‘ جیسا عمومی اور مبہم لفظ استعمال کریں تو ہم جنس کے مخصوص اور خاص مسئلے کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا انکار کرنے کا طریقہ ہو گا کہ خواتین ہی وہ طبقہ ہیں جو صدیوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کو جھٹلانے کا طریقہ ہو گا کہ جنس کا مسئلہ خاص طور پر خواتین کو ہدف بناتا ہے۔ مسئلہ انسانی ہونے کا نہیں ہے، بلکہ مخصوص طور پر ایک عورت ہونے کا ہے۔ صدیوں تک دنیا نے انسانوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا اور پھر ایک گروہ کو مظلوم کیا۔ یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ مسئلے کا حل اس حقیقت کو تسلیم کرے۔
اسی طرح پاکستانی فیمینسٹ اور خواتین کے حقوق کی کارکن، قرات مرزا سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا :
”گو کہ عورتوں کے حقوق بھی دراصل انسانی حقوق ہی ہیں، اور ہر انسان برابری کے حقوق کا حقدار ہے۔ لیکن ہم خاص طور پر عورتوں اور مختلف صنفی شناخت رکھنے والے افراد کا ذکر اس لیے کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ مخصوص اور منفرد قسم کے امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔ ان گروہوں کا نام لینا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ان کے تجربات نظرانداز نہ ہوں، اور ہم ان کی مخصوص ضروریات کو بہتر طریقے سے سمجھ کر اُن کے لیے موثر اقدامات کر سکیں۔“
اس لیے فیمینزم کی بات کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ اس کی ایک اپنی شناخت، زبان اور سیاست ہے، جسے انسانی حقوق کے دائرے میں محدود کرنا دراصل اسے غیر موثر، غیرسیاسی اور غیر واضح بنا دینا ہے۔ لہٰذا ہمیں فیمینزم کو الگ، واضح اور باوقار انداز میں اپنانا چاہیے، تاکہ عورتوں، خواجہ سراؤں اور صنفی اقلیتوں کی مخصوص جدوجہد کو حقیقی معنوں میں آواز دی جا سکے۔ گو کہ انسانی حقوق کی حفاظت ہر فرد کا حق ہے، لیکن انسانی حقوق کی عمومی زبان، گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، کم عمری کی شادی، تولیدی حقوق، وراثت کے مسائل اور غیرت کے نام پر قتل جیسے مسائل کی پیچیدگیوں کو مکمل طور پر واضح نہیں کر سکتی۔
اس لیے ہمیں انسانی حقوق سے محبت ضرور رکھنی چاہیے، لیکن فیمینزم سے ڈرنا ہرگز نہیں چاہیے۔ کیونکہ فیمینزم عورت کی وہ صدا ہے، جو صدیوں سے دبائی جا رہی ہے۔ اور اب وقت ہے کہ وہ صدا گونجے، زور سے، واضح انداز میں، اور پوری طاقت سے۔ اور فیمینزم کی یہ صدا کہتی ہے کہ : ”نہیں، تمہارا دکھ الگ ہے، تمہاری تکلیف سچ ہے، تمہاری بات سننا ضروری ہے۔“ یہ وہ تحریک ہے جو عورت کو صرف انسان نہیں، ایک مکمل انسان مانتی ہے، خواہ وہ عورت کھیت میں کام کرتی ہو یا کلاس روم میں پڑھاتی ہو، سڑک پر احتجاج کرتی ہو یا خاموشی سے آنسو بہاتی ہو۔

