خواب، محبت اور زندگی 17
ایک روز امی سہ پہر کو کسی کام سے چھت پر گئیں اور دیوار سے نیچے گلی میں جھانک کر دیکھا تو سامنے لیڈی ڈاکٹر کے گھر میں عقبی دروازے سے ابی داخل ہوتے نظر آئے۔ امی کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور انہوں نے وہیں فرش پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ مجھے یہ سب کچھ کیسے پتا چلا تو دراصل اسی دن سے امی نے ڈائری لکھنا شروع کر دی تھی جو وہ بچوں سے چھپا کر رکھتی تھیں۔
بہت عرصہ بعد وہ ڈائری میرے ہاتھ لگی۔ اسے پڑھ کر خود میرا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا۔ پڑھنے کے بعد میں نے وہ ڈائری وہیں چھپا دی تھی جہاں امی نے رکھی ہوئی تھی۔ اپنی شادی کے بعد بھی جب میں امی سے ملنے جاتی تھی تو کبھی کبھار ڈھونڈ ڈھانڈ کر وہ ڈائری نکال لیتی تھی اور ہر مرتبہ پڑھتے ہوئے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلتا تھا۔ ایک مرتبہ امی نے مجھے ڈائری پڑھ کر روتے ہوئے دیکھ لیا اور انہوں نے غصے میں ڈائری پھاڑ کر پھینک دی۔
یہ بہت بعد کی بات ہے جب میں خود نانی بن چکی تھی لیکن اس کا مجھے آج بھی دکھ ہے کہ اتنی قیمتی ڈائری، (دکھوں کے خزانے کی اپنی قدروقیمت ہوتی ہے، ) میرے جذباتی پن کی وجہ سے ضائع ہو گئی۔ ابی کی بے وفائی کا پتہ چلنے کے بعد امی ابی کے درمیان آئے دن جھگڑے ہونے لگے۔ اور امی نے چیئر مین صاحب کو بھی اس کے بارے میں بتا دیا۔ انہوں نے امی کو مشورہ دیا کہ آئندہ جب بھی انہیں پتا چلے کہ ابی لیڈی ڈاکٹر کے گھر گئے ہیں تو فوری طور پر انہیں مطلع کیا جائے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ چئیر مین خود اس خاتون میں دلچسپی لے رہے تھے، وہ کیسے برداشت کرتے کہ ان کا ایک ملازم ان کی پسندیدہ خاتون کو لے اڑے۔ ظاہر ہے یہ ان کی انا کے لئے تازیانہ تھا۔ اس لئے وہ بھی دونوں ”مجرموں“ کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے خواہشمند تھے۔ چئیر مین کی یہ بات امی کے دل کو لگی اور اس کے بعد سے ان کی ہر سہ پہر اور شام سراغ رسانی کے لئے وقف ہو گئی۔ دفتر کی چھٹی کے وقت سے کچھ پہلے وہ چھت پر چلی جایا کرتی تھیں تا کہ لیڈی ڈاکٹر کے گھر پر نظر رکھ سکیں۔
ان کی مستقل مزاجی رنگ لائی اور ایک روز انہوں نے چھت پر سے ابی کو لیڈی ڈاکٹر کے گھر داخل ہوتے دیکھ لیا۔ انہوں نے اسی وقت چئیر مین کو اطلاع کرائی جس نے وقت ضائع کیے بغیر پانچ چھ گارڈز کو لیڈی ڈاکٹر کے گھر چھاپہ مارنے کے لئے بھیج دیا۔ گارڈز نے سارا گھر چھان مارا لیکن ابی انہیں نہیں ملے۔ صرف ایک الماری وہ کھول کر نہیں دیکھ سکے کیونکہ اس پر تالا لگا ہوا تھا۔ لیڈی ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ یہ الماری اس کی ماں کی ہے، وہ لاہور گئی ہوئی ہیں اور چابی بھی ساتھ لے گئی ہیں۔
گارڈز ناکام ہو کر واپس لوٹ گئے۔ ان کے جانے کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے تالا کھول کے ابی کو باہر نکالا، دروازے پر گارڈز کی گھنٹی بجتے ہی اس نے ابی کو الماری میں چھپا دیا تھا۔ اپنی بے عزتی پر لیڈی ڈاکٹر نے رونا دھونا شروع کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔ گارڈز ابی کو نہیں ڈھونڈ سکے تھے لیکن صبح تک اس کے گھر پر چھاپے کی خبر تو ساری کالونی میں پھیل جائے گی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سارے مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ ابی اس سے نکاح کر لیں۔
ابی مان گئے اور دونوں نے کالونی میں اسی رات کوایک دوست کے گھر جا کے نکاح پڑھوا لیا۔ اگلی صبح جنگل کی آگ کی طرح پوری کالونی میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ قریشی صاحب نے لیڈی ڈاکٹر سے شادی کر لی ہے۔ کالونی کی بیگمات خبر ملتے ہی افسوس کرنے امی کے پاس آنا شروع ہو گئیں۔ امی صحن میں کرسی پر خاموش بیٹھی آنسو بہا رہی تھیں۔ ہم بچے صورت حال کو پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ ہم دیکھ سکتے تھے کہ امی دکھ اور تکلیف میں تھیں۔ ہم چاروں بہن بھائی ان کے ارد گرد منڈلا رہے تھے مگر امی کی سہیلیوں کی آمد کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا تھا۔ اس لئے تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہم باہر بھاگ جاتے تھے۔ چئیر مین نے فوری طور پر لیڈی ڈاکٹر کو ملازمت سے برخاست کر دیا لیکن امی اور بچوں کی وجہ سے ابی کی ملازمت برقرار رکھی۔ لیڈی ڈاکٹر نے پیپلز کالونی میں ایک کوٹھی کرائے پر لے لی اور ابی کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئی۔ وہیں اس نے اپنا کلینک بھی کھول لیا۔
انتظامیہ کی طرف سے امی کے لئے ایک جز وقتی ملازمت کا انتظام کر دیا گیا کیونکہ ابی کی تنخواہ اب دو گھروں میں تقسیم ہونے لگی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہماری دنیا بدل گئی، ہماری زندگی الٹ پلٹ ہو گئی۔ امی کو ہر وقت افسردہ دیکھنا ہم بچوں کے لئے بے حد تکلیف دہ تھا۔ ابی باقاعدگی سے ہم سے ملنے آتے تھے لیکن میں ان سے ناراض رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ گھر میں گھی ختم ہو گیا تھا اور کھانا نہیں بنا تھا۔ ابی آئے تو میں نے ان سے کافی بد تمیزی کی ”خود تو عیش کر رہے ہیں اور ہم یہاں بھوکے بیٹھے ہوئے ہیں ”، میں نے ان کے چہرے کے سامنے ہاتھ نچا کر کہا تھا۔ میری بات سن کر ابی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور مجھے امی سے خوب ڈانٹ پڑی۔ میرا ننھا ذہن یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ امی مجھے اس شخص کے لئے کیوں ڈانٹ رہی ہیں جو انہیں چھوڑ کر ایک دوسری عورت کے ساتھ رہنے چلا گیا ہے۔ شاید امی ابھی بھی ابی سے محبت کرتی تھیں اور شاید ابی بھی ان سے محبت کرتے تھے۔ یونہی دنیا بدلتی ہے، اسی کا نام دنیا ہے۔

