دنیا کے دو تخریب کار بڈھے
مشرق و سطیٰ اور جنوبی ایشیا کے امن کو کئی خطرات لاحق ہو چکے ہیں ان خطرات کے ذمہ دار دو تخریب کار، بدبخت اور خونخوار بڈھے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی بقا کے لیے نفرت، انتہا پسند سوچ، فرقہ واریت، نسل کشی اور مذہبی کارڈ کا استعمال کر کے انسان کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا ہے ان دو بڈھوں میں ایک بڈھا ایسا ہے جو مشرق وسطیٰ کا امن تباہ کرچکا ہے جبکہ دوسرا بڈھا جنوبی ایشیا کے امن کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے ان بڈھوں کو شدت پسند سوچ کی وجہ سے اپنے اپنے ملکوں میں سخت مخالفت کا سامنا ہے پھر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے مختلف طرح کی مکاریاں کر رہے ہیں۔
قارئین آج ہم آپ کے سامنے ان بڈھوں میں سے پہلے بڈھے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں آپ کو آگاہ کرتے ہیں نریندر متنازع ترین سیاسی شخصیت ہیں ہندو انتہا پسند انہیں بھارت کے ترقی پسند لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ بھارت میں بی جے پی کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیاں ان پر فرقہ واریت، اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جمہوریت کو کمزور کرنے والا بدبخت سیاسی رہنما قرار دیتی ہیں نریندر مودی بھارت میں ہمیشہ اختلافات کا شکار رہے ہیں جس کے چند ایک پہلووں کا ذکر یہاں ضروری ہے۔
2002 میں گجرات فسادات کے دوران نریندر مودی وزیر اعلیٰ گجرات تھے ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پس پردہ نریندر مودی گجرات فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے کیونکہ ان کی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو روکنے میں جان بوجھ کر غفلت مظاہرہ کیا تھا جبکہ بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی انہیں ذمہ دار ٹھہرایا حتیٰ کہ ایک عرصہ تک امریکہ جانے پر ان پر پابندی عائد تھی۔
بھارت میں مودی حکومت کی اقلیتوں کے حوالے سے وجہ شہرت متنازع ہے مودی حکومت نے شہریت کے ترمیمی قانون (CAA) اور این آر سی (NRC) جیسے متنازع ترین اقدامات متعارف کرائے ہیں جس کا نشانہ صرف مسلمان بنے ہیں اس کے علاوہ گائے کے نام پر اقلیتوں پر تشدد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں اور دلی فسادات جیسے واقعات نے مودی حکومت کے ”سیکولرازم“ کے دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق مودی کے دور میں بھارت میں میڈیا کی آزادی پر ایسی قدغنیں لگی ہیں کہ اب صرف بھارتی میڈیا مودی کی زبان بولتا ہے سچ بولنے صحافیوں کے خلاف مقدمات، اداروں پر کنٹرول اور مخالفین کو ”غدار“ قرار دینے کا رجحان بڑھ گیا ہے یہ تمام عوامل مل کر مودی کو ایک تخریب کار اور بدبخت سیاسی رہنما قرار دیتے ہیں۔
مودی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیاں بھارت کی معاشی ترقی اور ہندو اکثریت کے مفادات کے لیے ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ فرقہ ورانہ تقسیم کو ہوا دے کر اپنی سیاسی طاقت مضبوط کر رہے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ان کی حکمت عملی صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے یا پھر یہ ملک کو مزید تقسیم کرنے کا سبب بن رہی ہے؟ تاریخ ہی اس کا فیصلہ کرے گی۔
حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے ذمہ دار نریندر مودی ہیں مودی نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے اس طرح کا ڈرامہ رچایا ہے کیونکہ مرکز میں مخلوط حکومت ہے نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو سیاسی کندھا فراہم کر رہے ہیں کچھ ماہ بعد بہار میں الیکشن ہیں وہاں پی جے پی اور نتیش کمار کی حالت بہت خراب ہے مودی کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں ہار کی صورت میں نتیش کمار نے مرکز میں ساتھ چھوڑ کر راشٹریہ جنتا دل (لالو پرساد یادو) کے ساتھ اتحاد کر لیا تو مرکزی حکومت جاتی رہے گی اسی طرح چندرا بابو نائیڈو کا انتخابی مہم کے دوران آندھراپردیش کے لوگ سے ریاست کے خصوصی درجے کا وعدہ ہے مودی خصوصی درجہ دینے کے حق میں نہیں ہیں دوسرا کشمیر کا الیکشن مودی ہار چکے ہیں وہاں نیشنل کانفرنس کی کانگریس کے ساتھ اتحادی حکومت ہے جو بی جے پی کو ہضم نہیں ہو رہی افسوس بھارت کی لبرل اور دیگر سیاسی جماعتوں پر ہے کہ مودی کو آئینہ دکھانے کی بجائے سیاسی مقاصد کے لیے اس کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔
مودی حکومت میں پاک بھارت کشیدگی ایک نئے انتہا پسندانہ رخ پر چلی گئی ہے مودی کی سیاست کا بنیادی نکتہ ہندوتوا (Hindutva) کا نظریہ ہے جس کے تحت بھارت کو ایک ”ہندو راشٹر“ (ہندو قوم) بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس نظریے نے نہ صرف بھارت کی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ہوا دی ہے۔ مودی اور ان کی جماعت بی جے پی نے انتخابات میں کامیابی کے لیے دو ہزار چودہ سے بار بار پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکایا ہے۔
بھارتی میڈیا اور بی جے پی رہنما اکثر جھوٹی خبریں پھیلا کر پاکستان کے خلاف جذبات بھڑکاتے ہیں مثال کے طور پر پلوامہ کے بعد بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا دیا تھا جس طرح اب بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے پہلگام واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا حتٰی کہ پاکستان نے مذمت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تحقیق کرانے کی پیشکش کی افسوس یہ ہے کہ پیشکش قبول کرنے کی بجائے معاملہ جنگ تک پہنچا دیا ہے
مودی نے SAARC جیسے خطائی فورمز کو کمزور کرنے کی کوشش کی پاکستان کے ساتھ ٹریڈ روکنے اور ثقافتی تعلقات ختم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے
کیا مودی کی نفرت کی سیاست کامیاب ہو رہی ہے؟
بھارت کے اندر مودی کو ہندو انتہا پسندوں کی حمایت حاصل ہے لیکن بھارت کی اقلیتیں اور لبرل طبقہ ان کی پالیسیوں کے خلاف ہے مودی کے انتہا پسندانہ بیانات اور پالیسیاں نہ صرف بھارت کی اقلیتوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ان تخریب کار بڈھوں میں دوسرا بڈھا نیتن یاہو ایک تخریب کار ذہن کا حامل سیاستدان ہے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو دنیا کے متنازع ترین سیاسی رہنما ہیں غلط سیاسی حکمت عملیوں، مسلمانوں کے خلاف سخت گیر پالیسیوں اور طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کی خواہش نے انہیں ایک ایسے لیڈر کے طور پر پیش کیا ہے جو انسانی جانوں کی قیمت پر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دیتا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے تشدد اور تنازعات کو ہوا دی ہے۔
یاہو کی سیاسی سوچ کی تشکیل میں صیہونی انتہا پسند نظریات کا گہرا اثر رہا ہے تخریب کار پس منظر اور جاسوسی کا کردار کے مالک نیتن یاہو نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی لیکن ان کا تعلق اسرائیلی فوج اور موساد (اسرائیلی خفیہ ایجنسی) سے رہا۔ وہ صیہونی لابی کے زیر اثر رہے جس کا بنیادی مقصد عظیم اسرائیل کا قیام ہے۔ یاہو لیکود پارٹی کے بانی ہیں۔
انہوں نے یہودی آبادکاروں کی حمایت کی جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
غزہ کی جنگ میں لاکھوں فلسطینی شہری مارے گئے ہیں اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنگی جرائم کیے ہیں لیکن یاہو نے کبھی معافی نہیں مانگی بلکہ یاہو کی حکومت نے مغربی کنارے میں یہودی بستیاں بڑھائیں جسے بین الاقوامی برادری قانونی قبضہ قرار دیتی ہے۔
2023۔ 24 کی غزہ جنگ میں لاکھوں فلسطینی شہری ہلاک ہوئے جس پر یاہو پر نسل کشی کے الزامات لگے سیاسی مفادات کے لیے تشدد کو ہوا دینا یاہو کی حکمت عملی رہی ہے کہ تنازعہ جاری رکھو اقتدار برقرار رہو دائیں بازو کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یاہو نے کئی یہودی انتہا پسند رہنماؤں کو اپنی حکومت میں شامل کیا۔ کرپشن کے مقدمات سے بچنے کے لیے جنگ کا سہارا لیا نیتن یاہو پر بدعنوانی، رشوت اور فراڈ کے متعدد مقدمات چل رہے ہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ تنازعات کو زندہ رکھ کر عوام کا دھیان اپنے مقدمات سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
کیا نیتن یاہو ایک جنگی مجرم ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں (جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل) نیتن یاہو پر جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کا الزام لگاتی ہیں۔
بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے امکان پر سماعت کی امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت کے باوجود نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کو بین الاقوامی تنہائی میں دھکیل دیا ہے۔
نیتن یاہو کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے اقتدار کی خاطر لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ان کی تربیت، صیہونی انتہا پسندی اور فوجی ذہنیت نے اسرائیل کو ایک نا انصافی کی علامت بنا دیا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے حامیوں کے لیے ایک ”مضبوط لیڈر“ ہیں، لیکن تاریخ انہیں انسانی المیوں کا ذمہ دار قرار دے گی۔
نامور فلاسفر نوم چومسکی کی نیتن یاہو کے بارے میں رائے ”نیتن یاہو کی سیاست خون سے سچائی کو دبا دیتی ہے“ ۔


