تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدان شہر
اے دردؔ آ کے بیعت دست سبو کریں
یہ مقطع خواجہ میر درد کی اسی غزل کا ہے جس کے تیسرے شعر کا پہلا مصرع ڈاکٹر قاسم بگھیو نے اپنی کتاب کا عنوان بنانے کے لیے اٹھایا ہے۔ تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو۔
ڈاکٹر بگھیو کا مزاج ایسا ہے کہ وہ شہر بھر کے زاہدوں کو دست ِ سبو پر بیعت کا درس دیتے مل سکتے ہیں ؛ مگر اس کتاب کی شخصیات کے ساتھ ان کی اپنی شخصیت کا خاکہ بنتا چلا گیا ہے ؛ ایک ایسے شخص کا خاکہ جو صاف گو، سماج سدھارنے کی للک رکھنے والا، اجتماعی بھلائی کے کاموں میں اپنے آپ کو اور اپنی شخصی ترجیحات کو جھونک دینے والا، کچھ ناراض اور نالاں سا اور سندھ، سندھیوں اور سندھی زبان و ادب سے اٹوٹ وابستگی رکھنے والا ہے۔ یہ تصویر اس عمومی تاثر سے قدرے مختلف ہے جس کی طرف میں نے درد کے شعر کا سہارا لے کر اشارہ کیا اور اس کے باوجود کہ جامی چانڈیو نے بگھیو کو غیر معمولی سکالر ماننے میں تامل برتا ہے اور ناحق نہیں برتا مگر کچھ مضامین کے ابتدائی حصوں میں وہ زاہدِ خشک کا سا مزاج رکھنے والے نرے دانشور نہ سہی ”عوامی دانشور“ ہو گئے ہیں۔ مثلاً وہاں جہاں وہ انسانی سماج میں فکری اور سماجی خدمات کے حوالے سے تین گروہوں کو نشان زد کر رہے ہیں ؛ یعنی پہلا، رائج نظام کا حامی اور اس سے مفادات وابستہ رکھنے والا گروہ، دوسرا اپنے اعلیٰ خیالات میں گم رہنے والا ایسا گروہ جس کی دانائی اور سچائی سماج کی تبدیلی اور بھلائی میں کام نہیں آتی اور تیسرا، رائج اقدار سے بغاوت کرنے اور بہتر انسانی اقدار کو فروغ دینے والا۔ اس تقسیم کی ذیل میں انہوں نے بہت اہم دانشورانہ نکات نکالے ہیں۔ یہ محض ایک مثال ہے ورنہ ایسا کچھ اور مقامات پر بھی ہوا ہے اور وہ اپنے ممدوح کی طرف بعد میں متوجہ ہوئے ہیں۔ اور ہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ ڈاکٹر بگھیو کے لیے ”عوامی دانشور“ کا خطاب میرا نہیں، حارث خلیق کا ہے ؛ لطف یہ کہ اس کا انطباق ان کی شخصیت پر پوری طرح ہو بھی گیا ہے۔
گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں مختلف اوقات میں اور مختلف مواقع پر لکھی گئی یہ متفرق تحریریں ایک مزاج کی نہیں ہیں مگر ایک کتاب میں مدون ہو کر پہلے سندھی میں شائع ہوئیں اور اب کہیں بیس بائیس برس بعد پروفیسر ساجد سومرو کا اردو ترجمہ مجلس ترقی ادب، لاہور نے شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر بگھیو سندھ میں پیدا ہوئے، وہیں پلے بڑھے، سندھ یونیورسٹی جامشورو میں پڑھاتے رہے، سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین رہے، یونیورسٹی آف ایسیکس یوکے سے لینگویج اینڈ لینگوسکٹس میں پی ڈی کر رہے تھے تو ذہن کے کہیں عقب میں یہی سندھی زبان چل رہی تھی۔ یہ الگ بات کہ پھر وہ اسلام آ گئے اور اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین بھی ہو گزرے کہ زبان اور پی ایچ ڈی کا مستحکم حوالہ ان کے لیے میرٹ کا کام کر رہا تھا۔ خیر یہ بعد کی بات ہے۔ کتاب اس آخری حوالے سے پہلے کی ہے اور اس میں ماقبل زندگی کے سارے لسانی حوالے بھی جھلک دینے لگے ہیں۔ ہم متنوع ثقافتوں کی امین اور کثیر لسانی مملکت پاکستان میں رہ رہے ہیں یہاں کی ہر زبان اور ہر ثقافت کے اپنے اپنے امتیازات اور رنگ ہیں تاہم اسی تنوع میں قومی اشتراک کے علاقے بھی موجود ہیں۔ ان کی گہری شناخت تب ہی ممکن ہوگی کہ ہم تنوع کو ان بڑے دماغوں کے دیے ہوئے شعور کی روشنی میں سمجھیں جنہیں اپنے اپنے ثقافتی دھارے کے اندر پہچان اور توقیر ملی۔ قاسم بگھیو کی اس کتاب کے وسیلے سے ہم ان شخصیات سے متعارف ہو رہے ہیں جو سندھی پس منظر رکھتی ہیں اور ان کی قومی سطح پر بھی اتنی ہی اہمیت ہے۔
مرزا قلیچ بیگ جنہیں 1924 میں اس وقت کی حکومت نے شمس العلما کا خطاب دیا تھا، ڈاکٹر بگھیو نے انہیں سندھی علم و ادب کا سدا روشن سورج کہا ہے۔ مرزا صاحب کے لغات اور لسانیات پر کام کی بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر بگھیو کے اندر کا ماہر لسانیات بیدار رہا ہے۔ مثلاً ایک مقام پر انہوں نے اپنے ممدوح کے زبان کے بارے میں خیالات کو جدید سائنسی ترقی یافتہ تحقیق کی روشنی میں رد کیا تو ایک اور مقام پر ان کی زبان کی اصل نسل اور گرامر کی تشریحات اور تصریحات کو محض پہلے سے موجود علما کے خیالات کو دہرانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر مرزا قلیچ بیگ کی شخصیت کے روشن پہلو اس تحریر کا حصہ ہوئے ہیں۔
اردو فارسی اور سندھی زبان کے عالم اور مورخ پیر حسام الدین شاہ راشدی کو ڈاکٹر بگھیو نے سندھ کی تاریخ میں ترقی پسند سوچ کا بانی کہا ہے کہ ان کے نزدیک ترقی پسند سوچ کے مطابق لکھی جانے والی تاریخ ہی اجتماعی رویوں کی تاریخ ہوتی ہے ؛ وہ تاریخ نہیں جو بادشاہوں اور حاکموں کو مرکز میں رکھتی ہے۔
شیخ ایاز سے ڈاکٹر بگھیو کی بہت قربت رہی۔ انہوں نے ایاز کو سندھی زبان کا غیر معمولی جینئس شاعر کہا ہے۔ ایسا غیر معمولی شاعرجس کی نثر دور تک اور گہرائی میں دیکھ سکتی تھی، سندھ سے ان کی وابستگی گہری تھی تاہم انہوں نے شخصی آزادی اور امن عالم کے موضوعات برتے اور بہ قول ڈاکٹر بگھیو، ایاز زبان اور جغرافیائی سرحدیں پھاند کر پورے عالم کے شاعر بن گئے۔ یہاں انہوں نے ایاز کی فکر اور شاہ لطیف کی فکر کے مطالعے میں اس گروہ کو بھی یاد کیا جو ایاز کو شاہ ثانی کے لقب سے پکارتا ہے اور اس گروہ کو بھی جو۔ بھاگ بھٹائی بھاگ تیرا ثانی آیا سندھ میں ”کے طنزیہ تیر چلاتا ہے۔ بگھیو کا کہنا ہے کہ ایاز اسی مذمتی گروہ سے آگاہ تھے مگر بے نیاز رہے اور شاہ لطیف کے ساتھ اپنے فکری تعلق، نسبت اور محبت کو قائم رکھا حتی کہ ان کی آخری آرام گاہ بھی کر اڑ جھیل کے کنارے شاہ لطیف کے قرب میں بنی۔
ڈاکٹر بگھیو کے مطابق سراج الحق میمن، نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود شیخ ایاز کی شاعری کو غیر ملکی زبانوں میں تراجم کے ذریعے متعارف کرانے اور سندھ دوستی اور سندھ کے مسائل کو اس شاعری کے وسیلے دنیا کے سامنے رکھتے رہے۔ کہ وہ اپنے مسلک کے مطابق سندھ کی زبان اور تاریخ کے باب میں جانبداری کو رویہ جانتے تھے۔ مجھے لگتا ہے یہ ادا ڈاکٹر بگھیو نے بھی سراج کی صحبت سے پائی ہے۔ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کو کتاب میں ایک مثالی شخصیت کہا گیا ہے۔ بجلی اور کمپیوٹر جو بیسویں صدی کے عظیم سائنسی تحائف ہیں، انہی جیسا بقول مصنف ڈاکٹر نبی بخش بلوچ تحقیق، تنظیم، اور سندھی زبان و ادب کے باب میں سندھیوں کے لیے گزری صدی کا تحفہ تھے۔ انہوں نے چالیس سال کا تعلق سامنے رکھ کر یہ تحریر لکھی۔ تعلق کی نوعیتیں بدلتی رہیں اور ہر جہت سے وہ متاثر ہوتے گئے۔
افسانہ نگار ثمیرہ زرین، کو مصنف نے سندھی ادب کی خاتون اول کے طور پر متعارف کروایا اور مردوں کی کمینگی کو نشان زد کر کے بتایا کہ ان کی مشکلات کیا رہیں۔ افسانہ نگار اور زندگی کو اپنے اصولوں کے تحت بسر کرنے والے، خوش لباس اور سندھی قوم پرست پروفیسر سید ظفر حسن شاہ کی شخصیت کا خاکہ بھی دلچسپ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر بگھیو کو ابتدائی زمانے میں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ سندھی شعبے کے سازشیوں سے بچو، اس شعبے سے نکلو اور جیوگرافی یا زندگی کی دوڑ میں کام آنے والے کسی اور شعبے میں داخلہ لے لو۔ مگر وہ اپنی ہٹ کے پکے تھے جہاں تھے وہیں قائم رہے اور زندگی سے اسی سندھی زبان کے وسیلے سے بہت کچھ پا بھی لیا۔
ڈاکٹر محبت برڑو بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو بگھیو کو پہلی ہی نظر میں پسند آ گئے تھے۔ اس تحریر میں وہ اپنی پی ایچ ڈی کرنے اور واپس آ کر بے کار ہو جانے کی یادیں بھی لے آئے ہیں۔ ڈاکٹر بگھیو کی سندھ یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر غلام علی الانہ سے پورا سال گزرنے کے کہیں بعد ملاقات ممکن ہو پائی تھی۔ محمد ہاشم میمن، عبد الغفار تبسم، تاج بلوچ، الطاف شیخ اور محمد عمر میمن پر تحریریں میں نے پہلے پڑھیں اور سب سے آخر میں پڑھنے کو ذوالفقار علی بھٹو پر لکھا گیا مضمون رکھ لیا۔
سچ پوچھیں تو بھٹو پر لکھی گئی تحریر میں نے ٹھہر ٹھہر کر پڑھی ہے۔ اس میں سندھ یونیورسٹی کے کافی دنوں سے بند رہنے کا ذکر ہے۔ اور ہاسٹل خالی کروا لینے کا بھی۔ سندھو میرانی کے میگزین ’لکھیک‘ میں اس وقت کے وائس چانسلر شیخ ایاز کے اس کارٹون کی بابت بھی اسی تحریر میں پڑھا جس کے نیچے لکھا تھا ’بند یونیورسٹی کا وائس چانسلر‘ ۔ میری نظر اس مضمون کی سطروں کے اوپر سے تیرتی چلی گئی اور چار اپریل 1979 کی صبح کا ذکر آ گیا۔ وہ صبح تھی یا سیاہ ترین دن کا آغاز۔ جب ڈاکٹر بگھیو بھٹو کے پھانسی چڑھا دینے کی خبر سننے اور لوگوں کے رد عمل کا آنکھوں دیکھا احوال لکھ رہے تھے تو میری سماعتوں میں کچھ اور گونج رہا تھا۔ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کا دباؤ کے تحت بھٹو کو سزائے موت دینے کا اعتراف اور پھر دھیان میں سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا وہ ریفرنس آ گیا جو تیرہ برس بعد کسی حتمی نتیجے پر پہنچ رہا تھا۔ اس ریفرنس میں ایک ڈکٹیٹر کے عہد میں اور اسی کی ایما پر پینتالیس سال قبل بھٹو کے عدالتی قتل کی واردات پر سوالات اُٹھائے گئے تھے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے تسلیم کیا تھا کہ بھٹو کے کیس میں فیئر ٹرائل کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے۔ بظاہر واحد سیاسی شخصیت بھٹو کتاب میں موضوع ہوئیں باقی سب کا تعلق سندھ یونیورسٹی یا علم و ادب کے شعبوں سے رہا ہے تاہم وہ بھی کتاب کے مرکزی نکتے کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔
مرکزی نکتے سے یاد آیا کہ اس کتاب میں مصنف کے علاوہ سات افراد کے تعارفی یا توصیفی مضامین ہیں اور ان میں چار تو ایسے ہیں جن سے وہ اپنی متفرق تحریروں میں سے ایک مرکزی نکتہ تلاش کرواتے رہے ہیں۔ جب حسب منشا بات نہ بنی تو ’انتساب‘ کے ایک الجھے ہوئے جملے میں وہ نکتہ ڈال دیا جس سے یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سماج کی بھلائی کے لیے کام میں مگن سب لوگ انہیں محبوب ہیں۔ یہ نکتہ بجا، مگر اس سماج کے اندر اپنی تحریروں میں سماجی کام کا کہنے اور اپنی دانش کو کام میں لاکر راستہ دکھانے والے تو شاید بچ جائیں کہ یہ ملک جن کے قبضہ قدرت میں ہے وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، تاہم تبدیلی کے لیے جو عملی قدم اٹھائے گا اس کا سوچتے ہیں تو بھٹو کا چہرہ نگاہوں میں گھوم گھوم جاتا ہے۔
(مجلس ترقی ادب، لاہور سے شائع ہونے والی ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو کی کتاب۔ تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو ”کی تقریب زیراہتمام شہید بھٹو فاونڈیشن، زیبسٹ کیمپس اسلام آباد میں پڑھی گئی)


