ہٹلر، پطرس اور ہم

بہت کم مورخین کو یہ بات معلوم ہے کہ ایڈولف ہٹلر، پطرس بخاری اور اس خامہ خراب میں ایک قدر مشترک ہے۔ ہم بھی جان بوجھ کر اس بات کی زیادہ تشہیر نہیں کرتے کہ سادہ دلانِ شہر بجائے پطرس بخاری سے ہمارا رشتہ زعفرانی استوار کرنے کے، کہیں ہٹلر سے ہماری نسبتِ خونیں نہ قائم کر لیں۔ یہ وضعِ احتیاط اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم تینوں پر خداوندانِ مکتب کے مشترکہ احسان ہیں۔
ہٹلر کا قصہ درد یہ ہے کہ وہ مہ رخوں کے لیے مصوری سیکھنا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ویانا کی اکیڈمی آف فائن آرٹس میں داخلہ لینے کے لیے دو بار عرضی گزاری لیکن اہل مدرسہ نے ان کی پذیرائی نہ کی اور وہ اپنا سا منہ اور مونچھیں لے کر رہ گئے۔ پطرس لاہور کے کالج میں داخل تو ہو گئے مگر ہوسٹل کے رومان پرور ماحول میں روز و شب بسر کرنے کی ان کی تمنا پوری نہ ہو سکی۔ اول تو ان کے والدِ گرامی ہی ہوسٹل میں قیام کے مخالف تھے۔ ستم بالائے ستم، کالج کے امتحانات میں ہر سال ناکامی ان کے قدم چومتی رہی اور اگر کہیں بہار کے امکان روشن بھی ہوئے تو خزائیں اس کے تعاقب میں رہیں۔ انہیں ہوسٹل میں پڑھنا نصیب نہ ہوا اور وہ اپنے دُور کے ماموں کے گھر میں ہی جوانی کی راتیں، مرادوں کے دن برباد کرتے رہے۔ رہی ہماری داستان، تو صاحبو، یہ بھی کسی سے کم دل خراش نہیں۔ ہماری عمومی صحت کبھی قابلِ رشک نہیں رہی، اس لیے زمانہ¿ طفلی میں ہی بڑے ہو کر ڈاکٹر بننے کا غیر اصولی فیصلہ کر لیا تھا۔ ڈاکٹر بننے کا فائدہ یہ ہے کہ تشخیص خواہ درست ہو یا نہ ہو، لیکن انسان اپنا علاج مفت کر سکتا ہے۔ اپنے خواب کی تکمیل کے لیے ہم پھونک پھونک کر دس بارہ برس دشتِ تعلیم میں قدم رکھتے رہے اور مدارجِ علمی طے کرتے گئے۔ ہماری احتیاط کا یہ عالم تھا کہ اگر امتحانی پرچے میں کام یابی کے لیے تینتیس فیصد نمبروں کا مطالبہ کیا جاتا تو ہم ہمیشہ دو تین نمبر زائد ہی لیتے کہ استاد بھی خطا کے پتلے ہیں، گنتی میں بھول چوک ان سے بھی ہو سکتی ہے اور اگر پرچے کی دوبارہ جانچ ہو تو اتنی گنجائش ضرور ہونی چاہیے کہ انہیں کسی قسم کی ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ شاگرد کی کام یابی پر ان کا سر فخر سے بلند ہو جائے۔
انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں سرخرو ہونے کے بعد ہم آنکھوں میں نرسوں کے خواب سجائے مقامی میڈیکل کالج کے پرنسپل صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے داخلے کی خواہش اور دکھی انسانیت کی خدمت کے عزم کا اظہار کیا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے اور ان کی آنکھوں میں عقیدت کی نمی بھی جھلکنے لگی مگر جب انہوں نے ہمارا ’اعمال نامہ‘ دیکھا تو ایک دم بگڑ گئے اور جانے کیوں گھنٹی بجا کر چپڑاسی کو بلا لیا جو اپنی ہیبت اور قدوقامت کے اعتبار سے واہگہ بارڈر کا کوئی شیر دل حوالدار دکھائی دیتا تھا۔ ہم نے پرنسپل صاحب سے عرض کی ”حضور، خیریت تو ہے، جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو۔“
پرنسپل صاحب نے سگریٹ کا کش لگا کر گرم لہجے میں کہا ”میاں، تمہارے لیے ایک مشورہ ہے۔ اگر تمہیں طب کا اتنا ہی شوق ہے تو ایک میڈیکل اسٹور کھول لو۔ یہ بھی ایک طرح سے دکھی انسانیت کی خدمت ہی ہے۔“
یہ سن کر ہمیں بھی طیش آ گیا اور ہم نے آستین چڑھا لیں مگر جب مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے چپڑاسی کو دیکھا تو خیال آیا کہ کہیں اس دنگے میں یہ غریب نوکری سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے، اس لیے پاؤں پٹختے ہوئے وہاں سے چل دیے۔ راستے میں یہی سوچتے رہے کہ تاریخ میں حوصلہ شکنی اور خواب کشی کا یہ پہلا واقعہ نہیں، ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں۔ ایک صدی قبل، ہٹلر کے ساتھ بھی اہلِ مکتب نے یہی سلوک کیا تھا۔ پرنسپل نے انہیں یہ عذر پیش کرتے ہوئے فنِ مصوری کی تعلیم دینے سے انکار کر دیا تھا کہ ”حضرت، آپ مکان کی تصویر تو ٹھیک بنا لیتے ہیں لیکن انسان کی صورت پہچانی نہیں جاتی۔ پری پر بھوت کا شبہ ہوتا ہے۔“
اس روز اگر ہٹلر کو داخلِ مکتب کر لیا جاتا تو دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ ہٹلر ایک ممتاز مصور ہوتا اور بجائے نازی پارٹی بنانے کے، نازنینوں کی تصویریں بنا رہا ہوتا۔ نمائش گاہوں میں اس کی تصویرِ بتاں آویزاں ہوتیں اور فن کے بازاروں میں اوراقِ مصور فروخت ہوتے۔ دنیا، انسان کے لیے جائے امان ہوتی۔ نہ جنگ عظیم ہوتی، نہ جاپان پر بم گرائے جاتے اور نہ کہیں جنازے اٹھتے۔ کبھی کبھی ایک عام سا واقعہ، کسی سانحہ عظیم کی تمہید بن جاتا ہے، اس لیے احتیاط پسند طبائع تو مگس کو بھی باغ میں نہیں جانے دیتے کہ مبادا پروانے کا ناحق خون ہو جائے۔ ہم خود بھی خاصے محتاط آدمی ہیں اور سارا دن بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے ہیں تاکہ کوئی مکھی باغ میں داخل نہ ہو سکے۔ شہد کی مکھی سے ہمیں قدرے خوف محسوس ہوتا ہے، اس لیے ان پر ہاتھ نہیں اٹھاتے اور یوں بھی شکل و صورت میں مصری کی مکھی اور شہد کی مکھی میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ کم از کم ہمیں تو ہم جنس ہی دکھائی دیتی ہیں۔
حال ہی میں ہم نے ایک کانفرنس میں ”نظریہ مگس“ کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا جس کی علمی حلقوں میں بہت پذیرائی ہوئی اور ہمارے خلاف اخبارات میں کئی کالم شائع ہوئے۔ زیادہ تر کالموں میں ہماری دلاوری کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہم تاریک راتوں میں ہتھیلی پر چراغ رکھ کر گھومتے ہیں تاہم بعض قلم کاروں نے نامناسب الفاظ میں ہمیں یاد کیا ہے۔ ان حاسدین کا خیال ہے کہ ہماری ولادتِ باسعادت سے برسوں پہلے امریکہ کے ایک ماہر موسمیات ایڈورڈ نارٹن لورینز نے یہی تصور پیش کیا تھا جسے اس نے ”تتلی کی اثرانگیزی“ (Butterfly Effect) کا نام دیا تھا۔ ایڈورڈ پر تجربہ گاہ میں یہ راز منکشف ہوا تھا کہ موسم کا حال جاننے کے لیے ہوا کی نمی، سمت اور دباؤ کی بابت جو کوائف درج کیے جاتے ہیں، اگر ان میں بقدرِ واہمہ بھی تبدیلی کی جائے تو ”طوفانِ نوح“ جیسے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایڈورڈ کے بقول یہ دنیا اتنی نازک اور حساس ہے کہ اگر برازیل میں کوئی تتلی پر لہراتی ہے تو ٹیکساس میں طوفان آ سکتا ہے۔ یار لوگ اس بے معنی جملے کو قولِ زریں کی طرح ایک دوسرے کو سناتے ہیں، حال آں کہ خاکسار نے اس سے زیادہ معنی خیز بات عرض کی تھی کہ اور واقعاتی شہادت بھی پیش کی تھی کہ نصف صدی قبل نارنگ منڈی جو طوفانِ گرد و باد آیا تھا، اس کا باعث برازیل کی ایک رنگین تتلی کی شوخی پرواز تھی۔ یہاں ہر مسبب کا ایک سبب ہے۔ اس کائنات میں محض اتفاقات رونما نہیں ہوتے۔ واقعات میں ایک سلسلہ وار آہنگ ہوتا ہے۔ اس دنیا کی بے ترتیبی میں بھی حسنِ ترتیب ہے۔
عوام کی پرزور فرمائش پر اب ہمیں اپنے نظریے کی ملکیت پر اصرار نہیں رہا تاہم اس باب میں ہم فکرمند ضرور رہتے ہیں کہ مستقبل میں تتلی کے پروں کی جنبش ہمیں اڑا کر کس سمت لے جائے گی؟ ہم بڑے ہو کر پطرس بخاری کے نقشِ قدم پر چلیں گے یا ایڈولف ہٹلر کے؟
