ایک لرزتا ستارہ: تھیلیسیمیا اور پاکستان میں زندگی کا کرب


آٹھ مئی کا دن میرے لیے محض ایک تاریخ نہیں، یہ ایک پکار ہے، ایک چیخ ہے جو ہر سال میری سماعتوں میں گونجتی ہے۔ یہ بین الاقوامی تھیلیسیمیا ڈے ہے۔ میں اس دن حیدرآباد سندھ میں فاطمید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک آگاہی سیمینار میں شریک ہوا۔ وہ ایک بعد دوپہر کا وقت تھا جب مئی کی تپش ماحول میں گھلی ہوئی تھی۔ ننھے ننھے بچے، جن کی آنکھوں میں وہ چمک ہونی چاہیے تھی جو کھلتے پھولوں میں ہوتی ہے، ان کی پتلیاں بوجھل تھیں، ان کے ہونٹ پھیکے تھے، اور ان کے ننھے ہاتھ اپنے والدین کی انگلیوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔

وہاں بیٹھے والدین کے چہروں پر ایک ایسی تھکن تھی جو برسوں کی مسلسل جدوجہد اور بے پناہ تشویش سے عبارت تھی۔ وہ ہال محض ایک سیمینار کا مقام نہیں تھا، وہ دکھوں کا ایک سمندر تھا جس میں امید کے کچھ چراغ ٹمٹما رہے تھے۔ اب تھیلیسیمیا میرے لیے صرف ایک طبی اصطلاح نہیں رہی، یہ ایک جیتا جاگتا انسانی المیہ بن گیا، ایک ایسی کہانی جو پاکستان کے لاکھوں گھروں میں لکھی جا رہی ہے، خون کے قطروں سے، آنسوؤں کی روشنائی سے، اور ایک بے نام درد کے قلم سے۔

تھیلیسیمیا خون کی ایک موروثی بیماری ہے۔ یہ کوئی چھوت کا مرض نہیں، یہ قسمت کا ایک ایسا وار ہے جو والدین سے اولاد کو ملتا ہے۔ یہ بیماری ہمارے جسم میں ہیموگلوبن بنانے والے جینز میں خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے، وہی ہیموگلوبن جو ہمارے خون کے سرخ خلیوں کا لازمی جزو ہے اور آکسیجن کو ہمارے پورے جسم میں پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ تھیلیسیمیا میجر کے شدید مریضوں میں ہیموگلوبن کم یا ناکارہ ہوتا ہے، جس سے شدید انیمیا ہوتا ہے۔ ان بچوں کو زندہ رہنے کے لیے ہر دو سے چار ہفتے بعد خون چڑھانا پڑتا ہے۔ یہ خون زندگی کا ذریعہ ہے، مگر بار بار خون چڑھانے سے جسم میں آئرن جمع ہوتا ہے، جو دل، جگر اور دیگر اعضاء کے لیے خطرناک ہے۔ اس لیے آئرن خارج کرنے والی ادویات بھی لازم ہیں۔ یہ ایک زندگی بھر کا بوجھ ہے جو ان کمزور کندھوں پر پڑتا ہے۔

اس بیماری کا نفسیاتی پہلو اس کا سب سے تکلیف دہ حصہ ہے۔ ایک بچہ، جس کا دوسرا گھر ہسپتال بن جاتا ہے، سوئیوں کا درد، کمزوری اور ہسپتالوں کے دوروں میں زندگی گزارتا ہے۔ وہ اپنے ہم عمر بچوں کو کھیلتا دیکھ کر احساس محرومی کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا معصوم ذہن پوچھتا ہے کہ وہ مختلف کیوں ہے؟ یہ خوف، غیر یقینی مستقبل اور اکیلے پن کا احساس اس کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے۔ سکول جانا، پڑھائی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ راتیں تکلیف دہ ادویات یا بلڈ ٹرانسفیوژن کے خوف میں گزرتی ہیں۔ یہ نفسیاتی بوجھ اس کی مسکراہٹ چھین لیتا ہے، اس کی آنکھوں کی چمک مدھم کر دیتا ہے اور اس کے ننھے کاندھوں کو قبل از وقت جھکا دیتا ہے۔

والدین کے لیے یہ بیماری ایک مسلسل ذہنی اذیت ہے۔ اپنے بچے کو تکلیف میں دیکھنا، خون کا انتظام کرنا، اور مستقبل کی بے یقینی ان کی روح کو زخمی کرتی ہے۔ ماں کی راتیں جاگ کر اور دعاؤں میں گزرتی ہیں، جبکہ باپ مالی اور جذباتی بوجھ اٹھاتا ہے۔ علاج کے اخراجات خاندان کو مالی تباہی سے دوچار کرتے ہیں، اکثر قرض یا جمع پونجی ختم کرنی پڑتی ہے۔ بہن بھائی بھی متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ والدین کی توجہ بیمار بچے پر مرکوز ہوتی ہے، جس سے وہ نظر انداز ہونے کا احساس کرتے ہیں۔

کبھی انہیں خود بیماری کا خوف ہوتا ہے۔ یہ تناؤ خاندانی تعلقات کو کشیدہ کر سکتا ہے۔ سماجی رویہ بھی اہم ہے ؛ اگر آگاہی کم ہو تو امتیازی سلوک یا تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ بیماری کے بارے میں غلط فہمیاں پال سکتے ہیں، یا مریض اور اس کے خاندان سے کترانے لگتے ہیں۔ یہ سماجی تنہائی ان کے بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

پاکستان میں تھیلیسیمیا ایک بڑا سماجی اور طبی چیلنج ہے، جہاں مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ کیرئرز کی زیادہ تعداد اور آگاہی کی کمی ہے۔ کیرئیر صحت مند ہوتے ہیں، مگر اگر دو کیرئیر کی شادی ہو تو ان کے بچے میں تھیلیسیمیا میجر کا 25 فیصد امکان ہوتا ہے۔ شادی سے پہلے سکریننگ کا رجحان کم ہے، اور کزن میرجز بیماری کے پھیلاؤ کا سبب ہیں۔ مذہبی اور سماجی عوامل بھی سکریننگ کو روکتے ہیں۔ لوگوں کو علم نہیں کہ وہ کیرئیر ہو سکتے ہیں، یا وہ اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

تھیلیسیمیا کا علاج خون چڑھانے یا ادویات تک محدود نہیں۔ مریضوں اور خاندانوں کو نفسیاتی اور سماجی سہارے کی ضرورت ہے۔ ایک بچے کے لیے، جو اپنے آپ کو مختلف سمجھتا ہے، نفسیاتی مدد اسے خوف پر قابو پانے، اپنی شناخت کو قبول کرنے اور معمول کی زندگی گزارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ والدین کے لیے مشاورت، سپورٹ گروپس اور ہمدردانہ سماجی رویہ ان کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ انگلی اٹھانے یا نظریں چرانے کے بجائے، شفقت کا ہاتھ بڑھائے، آگاہی پھیلائے، اور ان گھرانوں کو تنہائی کے اندھیروں سے نکالے۔ نفسیاتی و سماجی مدد اس جنگ کا وہ محاذ ہے جسے نظر انداز کرنے کا مطلب ہے آدھی جنگ ہار جانا، کیونکہ بیماری صرف جسم کو نہیں روح کو بھی گھائل کرتی ہے۔

پاکستان میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ ناکافی ہے۔ محفوظ خون کی فراہمی، بلڈ بینکس کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی، اور تربیت یافتہ عملے کی کمی بڑے مسائل ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں وسائل کم اور رش زیادہ ہے، جبکہ نجی سیکٹر مہنگا ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں مفت خون اور ادویات دیتی ہیں، مگر ان کے وسائل محدود ہیں۔ ایک قومی پالیسی کی ضرورت ہے جو سکریننگ، آگاہی، علاج اور دیکھ بھال کو یقینی بنائے۔

تھیلیسیمیا ہمیں زندگی، موت، تکلیف اور انسانی روح کی لچک کے بارے میں گہرے سوالات اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ بیماری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کتنی نازک اور غیر متوقع ہو سکتی ہے۔ یہ ان ننھے فرشتوں کے صبر اور ان کے والدین کی بے مثال محبت کی کہانی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کیسے انسان انتہائی مشکل حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔ یہ ہمیں ہماری اپنی صحت کی قدر کا احساس دلاتی ہے اور ہمیں معاشرے کے ان کمزور طبقات کی طرف دیکھنے اور ان کی مدد کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

کیا یہ محض قسمت کا کھیل ہے؟ یا یہ ہمارے اجتماعی سماجی اور حکومتی ناکامیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس بیماری کو ایک وبا کی شکل اختیار کرنے دی؟ ایک طرف تقدیر پرستی کا فلسفہ ہے جو ہر چیز کو خدا کی مرضی قرار دے کر انسان کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے پر مجبور کرتا ہے، وہیں دوسری طرف انسانی کوشش اور تدبیر کا فلسفہ ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ علم، آگاہی اور عمل کے ذریعے ہم حالات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ تھیلیسیمیا کے معاملے میں، جہاں پیدائش کو روکا جا سکتا ہے، تقدیر سے زیادہ تدبیر اور اجتماعی ذمہ داری کا فلسفہ اہم ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں تھیلیسیمیا ایک پیچیدہ سماجی، اقتصادی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی، آگاہی کا فقدان، اور سکریننگ کی عدم موجودگی اسے بڑھا رہی ہے۔ ہمیں اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ افراد کو سکریننگ کروانی چاہیے، خاندانوں کو آگاہی پھیلانی چاہیے، معاشرے کو مریضوں کا سہارا بننا چاہیے، اور حکومت کو سہولیات بہتر کرنی چاہیے۔

آج، آٹھ مئی کو، جب میں ان ننھے چہروں کو آنکھوں کے سامنے لاتا ہوں، تو دکھ، درد، بے بسی، مگر ساتھ ہی ان بچوں اور ان کے والدین کی ہمت اور استقامت کو دیکھ کر ایک گہری احترام کا جذبہ بھی ابھرتا ہے۔ تھیلیسیمیا ایک لرزتا ہوا ستارہ ہے جو پاکستان کے افق پر چمک رہا ہے، مگر اس کی روشنی مدھم ہے، اس کی چمک میں درد ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد محض یاد دہانی نہیں، بلکہ عزم نو ہے۔ عزم اس بات کا کہ ہم اس لرزتے ستارے کو بجھنے نہیں دیں گے۔

عزم اس بات کا کہ ہم علم اور آگاہی کا چراغ روشن کریں گے تاکہ آئندہ نسلیں اس کرب سے محفوظ رہ سکیں۔ عزم اس بات کا کہ ہم ان ننھے ہیروز اور ان کے خاندانوں کا ہاتھ تھامیں گے جو ہر روز زندگی کی یہ مشکل جنگ لڑ رہے ہیں۔ تھیلیسیمیا صرف ایک بیماری نہیں، یہ ایک امتحان ہے، ہم سب کے لیے ایک امتحان، انسانیت کا امتحان، ہمدردی کا امتحان، اور اجتماعی عمل کا امتحان۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani