مظلوم کی مُذمت


 

وقت بنا پوچھے اپنے ایک مخصوص دائرے میں گردش کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کہیں خوبصورت یادیں تو کہیں افسوس اور نہ ختم ہونے والی حقیقتیں چھوڑ جاتا ہے۔ تاریخ کے گرد و غُبار میں آپ جس سمت کا راستہ اپنائیں ہر قدم پر آپ مختلف اشخاص کی عجیب و غریب داستانوں کا سامنا کریں گے۔ کہیں ریاستوں کے نشیب و فراز دیکھیں گے تو کہیں علم و ادب کے خوبصورت بادلوں کے سائے تلے ایک ٹھنڈک محسوس ہوگی۔ کہیں خستہ حال بے یار و مددگار مگر مزاحمت سے سرشار قوموں سے واسطہ پڑے گا تو کہیں وہ لوگ بھی آپ کے سامنے ہوں گے جو طاقت و قدرت تو رکھتے ہوں گے مگر ذہنی غلامی اُن پر اس قدر حاوی ہو گی کہ وہ ماننے کو تیار نہ ہوں گے۔

وہ قومیں اپنا تشخص کھو دیتی ہیں جو ذہنی غُلامی کا شکار ہوتی ہیں۔ طاقت رکھنا کمال مہارت نہیں مگر اُس طاقت کو ضرورت کے وقت اپنی مرضی سے استعمال کرنا ایک آزاد انسان کی واحد شرط ہے۔ یہاں اگر بات کی جائے بلوچ قوم کی تو وہ ہمیشہ سے آزاد اور خودمختار قوم رہی ہے مگر افسوس یہ کہ وہ وقت کی رفتار سے پیچھے رہ گئی یا اُسے رکھا گیا۔ اسے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت علم و حکمت کے خزانوں سے دور رکھا گیا۔ یہ دنیا کی نئی حکمتِ عملی اور چالوں سے دور رہی۔ بلوچ قوم کو دنیا کے سب سے بڑے اور انقلاب برپا کرنے والے میڈیا اور سوشل میڈیا سے دور رکھنا اس سازش کا ایک بنیادی ستون تھا جس کی وجہ سے بلوچ قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان اُٹھانا پڑا اور آج تک اُٹھا رہی ہے۔

سوشل میڈیا کے ایک حد تک استعمال نے بلوچ اور بلوچستان کی درد بھری آواز پاکستان کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے انجان اور بہرے حکمرانوں سمیت دنیا کے کئی کونوں تک پہنچائی۔ جس کی وجہ سے ایک بار پھر بلوچستان میں غیر معینہ مُدت تک انٹرنیٹ سروس کو معطل کر دیا گیا جو اس جدید دور میں بلوچ قوم کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ ستم ظریفی تو یہ کہ انٹرنیٹ کو بند کر کے حکومتِ وقت نے سرزمینِ بلوچستان کی اُس آواز کو دبانے کی کوشش کی جو آج بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے۔ جہاں اس تپتے دنوں میں پانی کی شدید قلت انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کی ہلاکت کا بھی باعث بنتی جا رہی ہے۔ گیس، اور بجلی کی تو بحث ہی فضول ہے۔ مگر سرزمین بلوچستان کے وہ طالبعلم جو علم کی کھوج میں بلوچستان سے دور رہتے ہیں وہ اس چیز سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا بہتر استعمال سرزمینِ بلوچستان میں رہنے والوں کے اُن زخموں کا مرہم بن سکتا ہے جو اس قدر شدید اور گہرے ہیں کہ اُنہیں بہتر ہونے میں کہیں سال لگیں گے بشرط کہ اُس پر نمک نہ چِھڑکا جائے۔ بلوچستان کی سرزمین سے باہر بیٹھا ایک شخص ان حالات کا تصور ہی نہیں کر سکتا کہ وہاں کے حالات کیا ہیں۔ اپنے زخموں اور بے پناہ محرومیوں میں ڈوبی بلوچ قوم کو بیرونی دنیا سے کاٹا گیا۔ اس کی آواز بلوچستان کی حدود سے باہر پہنچ نہیں پاتی اور نہ ہی بلوچستان کی حدود میں دنیا کی کوئی آواز داخل ہونے کی جُرات کر سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی، جنگ و جدل یا انقلاب برپا کرنے والی ہواؤں سے دور اپنی آنسوؤں میں گِھری جب اس قوم کو انڈیا یا پاکستان مخالف دشمنوں کے خلاف مُذمت کا کہا جاتا ہے جو اس جنگ کی الف تک سے ناواقف ہوں اُنہیں پاکستان کا پرچم ہاتھ میں تھما کر بھارت کے خلاف نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو آنکھ کے دریچوں میں کھڑے آنسو اگر زمین پر گِر جائیں تو زمیں لرز اُٹھے اور اسے آگ لگ جائے۔ جس سرزمین کی کوئلہ، تانبا، سونا، خام لوہا اور ماربل کرومائیٹ، بیرائیٹ، لائم اسٹون، گرینائیٹ سمیت 20 دیگر قیمتی معدنیات کے علاوہ تیل اور گیس کے بھی وسیع ذخائر کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کر کے بیرونی دنیا سے کاٹ کر سرزمین بلوچستان کے ہر گھر سے نوجوانوں کے خون کا نذرانہ طلب کیا جاتا ہے تو اس خون کی ہولی کھیلنے کے بعد یہ توقع بھی کی جاتی ہے بلوچ عوام ہماری انا کے مخالفوں کے خلاف ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔

وہ وقت مجھے یاد ہے جب بلوچستان کی سرزمین سے بے شمار لوگ اُس سرزمین کی آہ و پُکار ساتھ لیے آئے تھے۔ ننگ و ناموس کو ایک طرف رکھ کر وہاں کی خواتین پاکستان کے وفاق میں ٹھٹھرتی سردی میں اپنا دُکھ خود اپنی زبانی بیان کرنے آئیں تھی تو یہاں کے نام نہاد صحافیوں نے مظلوموں سے کالعدم تنظیموں کی مذمت کا کہا وہ یاد رکھا جائے گا جی ہاں سب یاد رکھا جائے گا۔

Facebook Comments HS