پاکستان کا سافٹ امیج کیسے برباد ہوا


سب سے پہلے تو یہ جانیے کہ سافٹ امیج کسے کہتے ہیں۔
ایسا ملک جہاں زندگی کے نرم رویوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ یہ نرم رویے فن و ثقافت در کلچر اور تہذیب سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں فنون لطیفہ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ فنون لطیفہ کا تعلق جمالیات سے ہے۔ اور جمالیات کا مطلب ہی زندگی کو خوبصورتی کے ساتھ بسر کرنا ہے۔ یہ رویہ ہمیں انسان دوست بناتا ہے۔ یہ ایک دوسرے کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔ محبت کرنا سکھاتا ہے۔

ایک اچھے معاشرے کو روشن خیال ہونا چاہیے لیکن روشن خیالی کی منزل تک پہنچنے کے لئے پہلے معاشرے کو اپنے اندر جمالیاتی حسوں کو بیدار کرنا بہت ضروری ہے۔ اور جمالیاتی حسیں فنون لطیفہ سے محبت اور فروغ کے بغیر بیدار نہیں ہو سکتیں۔ یہ ایک کے بعد دوسری سیڑھی چڑھنے کا معاملہ ہے۔

ادب زندگی کو معنویت عطا کرتا ہے۔ یہ ہمارے لطیف احساسات فکر اور نظریات کو خوبصورت اور اعلیٰ مقام دلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی قسم کا پروپیگینڈا اس کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ اس سے گریز ناگزیر ہے۔ مگر کئی دہائیوں سے اشرافیہ نے اپنے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لئے ہے پروپیگینڈے کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا ہے۔

آج ہماری درس گاہوں میں پانچ ہزار سالہ تاریخ نہیں بلکہ سات سو سالہ تاریخ کا درس دیا جاتا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ اس خطے میں سید اور شاہ، خطۂ عرب سے زیادہ ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو لوگوں کو خرید لیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی جو ملک بیچ کر بھی اعزاز کے ساتھ دفنائے جاتے ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے بنام مذہب عورت کی تذلیل کی اور وہ بھی جنہوں نے بنام دین دوسرے انسانوں کو واجب القتل قرار دیا۔ ان میں وہ بھی ہیں جو آئین کو محض کاغذ کا ٹکڑا کہتے رہے اور وہ بھی جنہوں نے آئین کی پاسداری کا حلف اُٹھانے کے باوجود کاغذ کا ٹکڑا قرار دینے والوں کا ساتھ دیا اور آمریت کو جواز فراہم کیا۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کے حلق سے نوالہ ہی نہیں بلکہ زندگی کا کوئی کام بھی سائنس کی مدد کے بغیر نہیں ہوتا مگر وہ سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ان میں منافق اور جھوٹے بھی ہیں، نرگسیت پسند اور انا پرست بھی ہیں، بے وقوف اور نالائق بھی ہیں اور توہم پرست بھی۔ ان میں قلم کی حرمت کا سودا کرنے والے بھی ہیں اور اپنے قلم سے تاریخ مسخ کرنے والے بھی۔ ان میں ایک قدر مشترک ہے کہ یہ سب پاکستانی ہیں۔

گزشتہ پینتالیس سالوں میں پاکستان کی وہ نسل جو ہائی اسکول میں پڑھتے ہوئے پروان چڑھی ہے اور اب زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہے، اگر اس نے تعلیم کو ریشنل نقطہ نظر سے نہیں دیکھا یا کورس کی کتابوں سے ہٹ کر کچھ اور نہیں پڑھا یا دنیا کی دیگر ثقافتوں، مذاہب اور تہذیبوں کا مطالعہ نہیں کیا اور صرف بند گلی میں اپنی کھڑکی سے دکھائی دینے والے آسمان ہی کو پوری کائنات سمجھا، اور سرکار کی مرتب کردہ مطالعہ پاکستان، تاریخ اسلام، پولیٹکل سائنس حتی کہ بائیولوجی فزکس کو ہی مکمل اور حتمی جانا تو پھر ایسے ایم اے، پی ایچ ڈی، انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر، قانون دان، سیاستدان، جج صاحبان، سی ایس ایس افسران صحافی اور صنعت کار ہی ملنے تھے جن سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی پچاس سالہ تعلیمی و علمی برین واشنگ سے ہٹ کر کچھ سوچیں اور اپنے بہترین انسان ہونے کا ثبوت دیں۔ تھوڑا سا غور کیجئیے کہ کیا ہم نے کریٹیکل تھنکنگ کی راہ ہموار کی ہے۔ میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم نے ایسا کیا ہوتا تو یہ سب نہیں ہو رہا ہوتا جو آج ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے کہیں کم کہیں زیادہ، کسی نے دانستہ کسی نے نادانستہ، کسی نے بالواسطہ کسی نے بلاواسطہ، کسی نے کسی کی محبت میں کسی نے کسی کی دشمنی میں کچھ نا کچھ ایسا کیا ہے جس نے پاکستان کو کبھی نا کبھی نقصان ضرور پہنچایا اور پاکستان کی تہذیب کو داغدار کیا۔ سازشیں کیں یا سازشی عناصر کا ساتھ دیا۔ کچھ ایسے ہیں جنہوں عوام کے درمیان نفرتیں پھیلائیں۔ کچھ نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے ملک کی سالمیت سے کھلواڑ کیا۔ کسی نے مذہب کی آڑ لے کر ایسے بیانیے کو فروغ دیا کہ عوام میں تفریق پیدا ہوتی چلی گئی۔ کچھ ایسے تھے جنہوں نے ملک سے وفاداری کا حلف اُٹھایا تھا مگر بھول گئے۔ کچھ نے شعور اور دانش سے انکار کیا اور وہ راہ اختیار کی جس پر معصوم عوام کو چلا کر گمراہ کیا گیا۔ کوئی اپنی وضع کردہ عقائد کی ترویج میں حد سے گزر گیا۔ کسی نے زمینی حقائق سے انکار کیا، تاریخ کو مسخ کیا اور ہمارا تعلق اُن خطوں سے جوڑا جو ہماری زمین کا حصہ تھے ہی نہیں۔

نصف صدی قبل ہم سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئیں ہیں، اور پھر ہم ان میں مسلسل اضافہ ہی کرتے چلے گئے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ بھی رہی کہ یہاں غیر جمہوری افراد بر سر اقتدار رہے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے جن قوتوں کو اپنے ساتھ ملایا وہ بھی غیر جمہوری لوگ تھے اور روشن خیالی سے نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے تعلیمی نصاب پر حملہ کیا۔ نصاب میں چن چن کر ایسا مواد شامل کیا گیا جو کہ اپنے سے مخالف شخص کی ہر طرح سے آزادی چھین لینے کی بات کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا۔ یہ ایک بڑی دلچسپ حقیقت ہے اور تاریخی طور پر ثابت بھی ہے کہ درباری علماء نے حکمرانوں کی طلب اور ضرورت کے مطابق دین میں سے وہی کچھ نکال کر دیا ہے جس سے حکمرانوں کی احتیاج پوری ہو اور ان کے مقاصد پورے ہو سکیں۔

تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے بعد جو نسل پروان چڑھی اسے بہت ہی منظم طریقے سے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ خوش ہونے کا اور زندگی سے مسرتیں کشید کرنے کا ہر ذریعہ نا صرف اُن سے چھین لیا گیا بلکہ انہیں خدائی فوجدار بنا دیا گیا کہ جہاں کسی کو خوش ہونے کا کوئی تہوار مناتے دیکھیں انہیں بزور طاقت روکیں۔ بعض عالمی تہواروں کو تو باقاعدہ سامراجی کہہ کر رد کیا گیا۔

ثقافتی سرگرمیوں کا ایک بہت بڑا ذریعہ فلمیں ہوا کرتی ہیں۔ فلمیں بہت سے فنون کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ وہ بیک وقت رقص، موسیقی، گیت، مزاح، اداکاری، صداکاری، ڈرامہ، کہانی، خیر و شر کے درمیان معرکہ کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ جو قوتیں ملک میں خوش ہونے کے ان تمام ذرائع سے نفرت کرتی تھیں، انہوں نے اس شعبے کو دھیرے دھیرے کمزور کرنا شروع کیا۔ کبھی رقص پر اعتراض کیا گیا، کبھی موسیقی کو حرام قرار دیا گیا، کبھی گانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کبھی ٹیلی وژن سے بھی پروگرام بند کیے گئے، کبھی مرد اور عورت کے درمیان دیوار کھڑی کی گئی، کبھی پردے کا حکم جاری ہوا، کبھی موضوعات پر حملہ کیا گیا۔ دھیرے دھیرے اچھے اداکار، ہدایت کار اور فلم ساز پس پشت چلے گئے اور انڈسٹری پر ایسے لوگ قابض ہوتے چلے گئے جن کا تخلیقیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔

ان ہی دنوں میں ملک کی اشرافیہ پر ایک خبط سوار ہوا تھا وہ خبط پورے ملک کے سرمائے کو پراپرٹی کے کاروبار جھونک دینے کا جنون تھا۔ جب فلمیں نہ بننے کی وجہ سے میں سنیما ویران ہوئے تو ان پر بلڈر مافیا نے حملہ کر دیا اور انہیں شاپنگ پلازہ میں تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح فلمی صنعت کی تباہی پر آخری مہر لگا دی گئی۔

فنون لطیفہ میں صرف گانا موسیقی فلم نہیں آتے بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ چنانچہ ذہن سازی کے عمل میں زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی وارداتیں ہو رہی تھیں۔ بہت ہی غیر محسوس طریقے سے یہ کام انجام دیا جا رہا تھا۔ باقاعدہ ایسی محفلوں اور مجلسوں کا اہتمام کیا جاتا جہاں فنون لطیفہ کو چھوڑ دینے کی ترغیب دی جاتی۔ اگر کسی جانب سے سوال اٹھایا جاتا کہ پھر ہم اپنی روزی روٹی کسی طرح کمائیں، تو انہیں متبادل راستے بتائے جاتے۔ اس متبادل رستے سے فن کار تو زندہ رہتا مگر فن کاری ختم ہو جاتی تھی۔ اس طرح بہت سے گلوکاروں کو نعت خوانی پر لگا دیا گیا۔ مصوروں کو مذہبی خطاطی پر لگا دیا گیا۔ اداکار تبلیغ کرنے لگے۔ موسیقار بے روز گار ہو گئے۔ اس کسمپرسی میں بہت سے فن کار ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جا کر آباد ہو گئے۔ وہاں کی ثقافتی دنیا میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی، لہٰذا زندہ رہنے کے لئے انہوں نے دوسرے ذرائع پر انحصار کرنا شروع کر دیا۔ وہ فن کار جو ملک میں ایک سیلیبریٹی تھا۔ اب وہ دیار غیر میں کیب جلا کر گزارا کر رہا تھا۔ یہ المیہ اب بھی جاری ہے۔

فن مصوری میں زوال بھی اسی طرح آیا۔ اور فن مجسمہ سازی تو تقریباً ختم ہی ہو گیا۔ کچھ فن کار جو اپنی تخلیق کو کسی دوسرے قالب میں ڈھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے، انہوں نے اپنے فن کو زندہ رکھا، کچھ بیرون ملک چلے گئے اور کچھ خاموش ہو گئے۔

ادب میں حملے کی واردات ادیبوں کے ذریعے ہی کی گئی۔ اشرافیہ کے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ادیبوں کی باقاعدہ کھیپ تیار کی گئی۔ انہیں اعلی عہدے دیے گئے۔ انہیں ریڈ یو اور ٹیلی ویژن کا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا جہاں سے انہوں نے اشرافیہ کی فکر کو پروان چڑھایا۔

زبان و ادب کا شمار بھی فنون لطیفہ میں ہی ہوتا ہے مگر کئی حوالوں سے اسے دوسری اصناف پر برتری حاصل ہے۔ بعض اصناف کا تو دارو مدار ہی کہانی اور شاعری پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اس پر قبضہ تو یقینی تھا۔

فلاسفر بتاتے ہیں کہ عوام کو اپنے زیر تسلط رکھنے کے لئے اشرافیہ مذہب کا بے دریغ استعمال کرتی ہے۔ کیونکہ تمام مذاہب کی تعلیمات میں بادشاہ، امیر، خلیفہ کو اختیارات براہ راست خدا کی طرف سے تفویض کیے گئے ہوتے ہیں اور اس کے حکم کی بجاآوری سب پر لازم ہے۔ وہ جس کا حکم دے، وہ کرو اور وہ جس سے منع کرے، رک جاؤ۔ اس بیانیے کی ترویج اور تبلیغ کے لئے اشرافیہ نے ایسے ادیبوں، دانشوروں اور مبلغین کی فوج تیار کی جو ریڈیو، ٹی وی، کانفرنسوں، مساجد، مدارس اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے پلیٹ فارمز سے ایک مخصوص بیانیے کو لوگوں کے دماغوں میں انڈیلنے لگے۔

دھیرے دھیرے غیر محسوس طریقے سے پوری سوسائٹی تبدیل ہوتی چلی گئی۔ گھروں میں درس کی محافل منعقد کی جانے لگیں۔

ایک بات جس کا ذکر کرنے سے میں نے اب تک گریز کیا تھا، اب محسوس ہو رہا ہے کہ وہ بات کیے بغیر ہم حالات کی تصویر کو مکمل طریقے سے پیش نہیں کر سکیں گے۔ وہ حکمرانوں کی زیر سرپرستی فروغ دیا جانے والا جہادی بیانیہ تھا جیسے 1980اور اس کے بعد بڑی تندہی سے پیش کیا گیا۔ جب تک یہ جہاد روسی افواج کے خلاف تھا، اس کی پیش کش مختلف تھی، مگر جب روس افغانستان سے چلا کیا تو اس کا تصور ہی بدل گیا۔ اب اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی لوگوں کے رسم و رواج اور معاشرت کے خلاف ہو گیا۔

پاکستان کے سافٹ امیج کو ختم کرنے کے لئے جو بات اب تک زبانی کی جا رہی تھی اب بزور طاقت اور ہتھیاروں کی مدد سے کی جانے لگی۔

لوگوں کی ذہن سازی تو پہلے ہی برسوں سے کی جا رہی تھی۔ مطالعہ پاکستان کی کتابوں کے ذریعے تصور پاکستان ہی بدل دیا گیا تھا۔ قدرت اللہ شہاب اشفاق احمد ممتاز مفتی بانو قدسیہ، نسیم حجازی، ایم اسلم، طارق اسماعیل ساگر، زیڈ اے سلہری، مجید نظامی، مولانا صلاح الدین، رفیق افغان، اشتیاق احمد، عمیرہ احمد، نمرہ احمد، ریاض شاہد، جیسے لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے مذہب اور حب الوطنی کے ریاستی مہا بیانیے کے تحت لکھا اور حکمرانوں اور اشرافیہ کی مدد سے پروپیگینڈے کے جدید ٹول استعمال کرتے ہوئے اذہان کو تبدیل کیا۔

عالمی سطح پر دنیا کا ہر ملک اپنے سائٹ امیج کو کو بہتر سے بہتر بنانے میں سیاحت کے فروغ اور اسے عالمی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ پورے کرہ ارض پر ہزاروں برس کی تاریخ بکھری ہوئی ہے۔ قدرتی حسین مناظر سے پوری دنیا مالامال ہے۔ بیشتر ممالک اینی تاریخ پر نہ صرف فخر کرتے ہیں بلکہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات شائع کر کے پوری دنیا کو اس کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اپنی تاریخ کو فخریہ بیان کرنے میں عصری نظریات و افکار آڑے نہیں آتے اور نہ ہی عہد گزشتہ میں بسنے والے قدیم باشندوں کے فکری نظریات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بس انہیں یہ کہ کر تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ ہمارے خطے کی قدیم تاریخ ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے کہ ہمارا خطہ اس سے مالا مال تھا۔

مگر افسوس ہم نے دنیا کے سامنے اپنا یہ چہرہ پیش کرنے میں نہ صرف ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا بلکہ بہت سی آرکیالوجیکل سائٹ کے نشانات کو مٹا بھی دیا۔ پاکستان میں گندھارا، ہڑپا اور موہن جودڑو، ایسے باکمال اور حیرت انگیز تاریخی مقامات ہیں جن یہ ہمیں فخر کر نا چاہیے تھا۔ مگر افسوس یہ آثار اپنا حسن کھو رہے ہیں۔ اب تک بدھا کے بہت مجسمے اور ٹیمپل یہ کہہ کر توڑے جا چکے ہیں کہ ہم بت فروش نہیں بت شکن ہیں۔

یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ سیاحت کے حوالے سے پاکستان کو محفوظ ملک نہیں سمجھا جاتا۔ سیاحوں کو جو آزادی اور سہولیات درکار ہوتی ہیں، وہ اب ہمارے خطے میں میسر نہیں ہیں۔

روسی ادیب رسول حمزہ توف اپنی مشہور کتاب میرا داغستان میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ جب کوئی قوم دنیا میں اپنی پہچان کرواتی ہے یا دنیا کو بتاتی ہے کہ وہ کیسے لوگ ہیں تو وہ اپنے سائنس دان، فن کار، ادیب، شاعر، مصور، کھلاڑی پیش کرتے ہیں تا کہ دنیا ان کے کمالات سے ان کے ملک کو شناخت کرے۔

ذرا غور کیجئے کہ اس حوالے سے ہم نے کیا کیا۔ ہم نے یہ سفر خط معکوس میں کیا ہے۔ ہمارے ملک نے دو نوبل انعام یافتہ لوگ دیے مگر افسوس ہم ان دونوں افراد کے بارے میں فخریہ نہیں بتاتے۔ ایک کو اس لئے قبول نہیں کرتے کہ اس کے مذہبی نظریات کو ہم نے دیس نکالا دے دیا ہے، اور دوسری اس لئے قبول نہیں کہ اس نے جن کے خلاف آواز اٹھائی وہ ہمارا اثاثہ ہیں۔

دنیا بھر میں کھلاڑی بھی اپنے ملک کا سافٹ امیج بہتر کرنے میں بڑا کردار اداکرتے ہیں۔ مگر جب دنیا یہ تحقیق کرتی ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے کون سے عوامل ہوتے ہیں تو مذہبی امور کی انجام دہی میں حد سے زیادہ شدت اور غیر ضروری دکھاوا پہلی سیڑھی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ کھیلوں میں پروفیشنل ازم کو اپنانے کی ضرورت پر بہت زور و یا جاتا ہے۔ مگر جب کھلاڑی کھیل کے میدان میں مذہبی رسومات ادا کرنے لگیں تو سافٹ امیج مجروح ہونے لگتا ہے۔ کیوں کہ یہ دنیا بھر میں مروجہ کھیلوں کی اخلاقیات کے خلاف ہے۔

مذہب ذاتی معاملہ ہے اور جب ہم اسے پبلک مقامات پر باقاعدہ اس غرض سے سرانجام دیتے ہیں تا کہ دوسرے متاثر ہوں اور ہماری فکر کی طرف راغب ہوں تو یہ سیدھا سادہ دوسروں کی آزادی میں دخل دینے کے مترادف ہے۔

پاکستان اس خطے میں جغرافیائی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ملک ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اپنی خصوصیت اور اہمیت کا ادراک کریں اور مثبت قدم اٹھاتے ہوئے دنیا میں اپنا امیج بہتر کریں۔

Facebook Comments HS

One thought on “پاکستان کا سافٹ امیج کیسے برباد ہوا

  • 13/05/2025 at 1:02 صبح
    Permalink

    آپ نے سب کچھ درست لکھا بجز آپ نے جن لوگوں کو اس کا مورد الزام ٹہرایا یہ زیادتی کی۔

    "مطالعہ پاکستان کی کتابوں کے ذریعے تصور پاکستان ہی بدل دیا گیا تھا۔ قدرت اللہ شہاب اشفاق احمد ممتاز مفتی بانو قدسیہ، نسیم حجازی، ایم اسلم، طارق اسماعیل ساگر، زیڈ اے سلہری، مجید نظامی، مولانا صلاح الدین، رفیق افغان، اشتیاق احمد، عمیرہ احمد، نمرہ احمد، ریاض شاہد، جیسے لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے مذہب اور حب الوطنی کے ریاستی مہا بیانیے کے تحت لکھا اور حکمرانوں اور اشرافیہ کی مدد سے پروپیگینڈے کے جدید ٹول استعمال کرتے ہوئے اذہان کو تبدیل کیا۔”

    کیا ان میں سے کسی نے مجسمہ سازی، گلوکاری، اداکاری، مصوری یا مخلوط تعلیم کی کبھی مخالفت کی۔
    کیا دوسری طرف کے لوگ موجود نہیں تھے وہ کیوں بھنگ پی کر سوتے رہے۔ فراز، فیض، افتخار عارف ان جیسوں کا کس نے ہاتھ روکا تھا۔
    ہرجا کہ یہ سب جب اہستہ آہستہ تبدیل ہورہا تھا معاشرہ اس کو اس لئے ہضم نہ کرسکا کیوں کہ ہمارے یہاں سیاسی ابتری بہت زیادہ تھی۔
    درحقیقت اس معاملے میں تیزی بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور 1993-1995 کے بعد سے آئی جب افغانستان میں طالبان کو سپورٹ کیا گیا۔ وہاں سلفی یا وہابی نما لوگ جب اقتدار میں آئے تو ان کی شدت پسندی کے اثرات سے ہماری طرف کے لوگ بھی متاثر ہوئے۔
    انہوں نے مجسمہ سازی، گلوکاری، اداکاری، مصوری یا مخلوط تعلیم کے ساتھ جو کچھ کیا یہیں سے اثرات ہم تک بھی آپہنچے۔
    اس معاملے میں رہی سہی کسر ایک اورعجیب سیاسی فیصلے نے کی جسے ہم 18 ویں ترمیم کہتے ہیں۔
    مجسمہ سازی، گلوکاری، اداکاری، مصوری یا مخلوط تعلیم جیسے معاملات اب صوبائی مسائل اور اختیارات ہیں اور کوئی ان سے پوچھ تو لے

Comments are closed.