لاہور شہر، جنگ، اور موت کے سائے
وہ کیا محاورہ ہے، ”سر منڈواتے ہی اولے پڑنا“ ؟ ہمارے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا اور ایسا ہوا کہ اولے تو کیا گولے برس پڑے۔ قریب دس برس کے بعد ہمیں سوجھی کہ اب مغرب کی چکاچوند کو خیرباد کہا جائے۔ کبھی واپسی کا دل کیا تو سوچیں گے لیکن فی الحال یہاں سے بوریا بستر لپیٹا جائے۔ جس چاردیواری کو بھلے لوگ گھر کا نام دیے ہوئے ہیں اس کا سامان تتر بٹر کیا جائے۔ برتنوں کو دوستوں میں دان کر دیا جائے۔ ائر لائن تیس کلو کے جو کپڑے جوتے لانے کی اجازت دے، اس کے سوا باقی سب کو خدا کے آسرے پھینک دیا جائے۔
شاید وہ خواتین جو یہ کالم پڑھ رہے ہیں ان کے دل کو دھچکا سا لگے۔ ہمیں عادت ہوتی ہے تنکا تنکا جوڑ کر گھونسلہ بنانے کی۔ ان تنکوں کو پھر سے بکھیر کر ایک نئی اڑان بھرنا دل تو چیرتا ہے۔ لیکن اٹس اوکے، جب یہ عمل بار بار کرنا پڑے تو دل بھی آہن کی مانند سخت ہو جاتا ہے۔ ہمارا ہو چکا ہے۔
آنے سے پہلے احباب سے ذکر نہیں کر رکھا تھا کہ ہم آ رہے ہیں۔ قیاس تھا کہ جیٹ لیگ بھگتا کر بتاتے رہیں گے۔ تاکہ فوری ملنے کی بندش نہ ہو۔ آ کر ایک دم سکون بھی ملا کہ اب ہر جگہ انگریزی نہیں بولنی پڑے گی۔ تنہائی کا عفریت اب منہ پھاڑے نگلنے کو نہیں لپکے گا۔ جو کبھی آسٹریلوی نیلے آسمان اور بھورے کنگرو یاد بھی آئے تو لبرٹی مارکیٹ جا کر گول گپے کھا لیں گے۔ نہر کی سیر کو چلے جائیں گے۔ شہر رومان لاہور میں ایسا کیا ہے جو نہ ہو پائے، جو نہ مل پائے۔
تو صاحب، تین دن لگے جیٹ لیگ اترنے میں اور چار دن پہلگام پر اندوہناک حملے پر۔ زندگی جیسے فاسٹ فارورڈ پر آ گئی۔ ہندو مسلم کی تفریق زناٹے سے سامنے آئی۔ توقع کے عین مطابق، اس دہشت گردی کا مکمل ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا۔ ثبوت کا ذکر کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا۔ بھارت نے نہ صرف ثبوت دینے سے انکار کیا بلکہ پاکستان کو عسکری جارحیت کی دھمکیاں بھی دیں۔ صاف صاف کہہ دیا گیا کہ بھئی ہمیں پتہ ہے کہ تم ہی اس دہشت گردی کے مرتکب ہو۔ پاکستان ہی دہشت گردوں کی نرسری ہے۔ نہ بی جے پی کا بہار کا چناؤ دور تھا اور نہ ہی جنگ کا خطرہ۔
سچ پوچھیے تو جنگ کے منڈلاتے خطرات کے باوجود ہم اس بات کی نفی کرتے رہے۔ دل کو یہی سمجھاتے رہے کہ دو ایٹمی قوتیں کیسے گتھم گتھا ہو سکتی ہیں۔ جنگ تو گئے دنوں کی بات ہے۔ اب اس کا فیشن کہاں رہا ہے؟ اب تو فرشی شلوار ان ہے۔ آج کل فل فلمی جنگیں کون کرتا ہے؟ دونوں ممالک کی عوام غربت کی جنگ صبح شام لڑ رہی ہے۔ یہ جنگ کے متحمل کہاں ہو سکتے ہیں؟ اگر بہت ہی شغل میلے کا دل ہوا، تو دونوں فوجیں ہلکی سی جھڑپ کر لیں گی، جسٹ فار فن۔ وہ ہمارے درختوں پر گولہ پھینکیں گے ہم ان کے۔ دونوں اپنی عسکری برتری کا بلند و بانگ لیکن کھوکھلا دعوی کریں گے۔ سوشل میڈیا پر تابڑ توڑ میمز چلیں گی۔ اللہ اللہ خیر صلا!
نفی یا ڈینائل کی ایک کمال خصوصیت ہے اور وہ یہ کہ یہ یکسر جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ درد کش گولیوں کی طرح بس وقتی آرام دیتا ہے لیکن مرض کی جڑ نہیں مٹاتا۔ جیسے ہی اثر ختم ہو درد لوٹ آتا ہے۔ جھوٹ کی عمر کچھ خاص لمبی ہو نہیں سکتی۔
یہی ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ ایک صبح آنکھ کھلی تو پتہ چلا کہ کشمیر، بہاولپور، اور دیگر مقامات پر حملے کا آغاز ہو گیا ہے۔ بھارت کا دعوی تھا کہ اس نے دہشت گردوں کے اڈوں کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ جھوٹ کی قلعی اور دل کی ڈھارس دونوں اکٹھی ڈھے سے گئیں۔ موت نظروں کے سامنے ناچنے لگی۔ باوجود اس کے کہ ہماری پود نے امریکہ افغان جنگ کا وہ وقت دیکھا ہے جس کا خمیازہ پاکستان نے خودکش دھماکوں کی صورت میں بھگتا۔ دل تو پتے کی طرح لرز رہا تھا۔ بظاہر ہنسی مذاق کرنے کے باوجود ہمیں اس بات کا علم تھا کہ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
بھارتی جنگی جنون سوشل میڈیا پر بھی عیاں تھا جہاں بھارتی عوام اس بات پر مصر تھی کی پاکستان کو دنیا کے نقشے سے ربڑ لے کر مٹا دیا جائے۔ غزہ کی تصاویر لاہور سے ملائی گئیں۔ کلموہی اے آئی کا بھی زمانہ ہے جس نے یہ کام بدرجہ اتم سر انجام دیا۔ وہ شہر جہاں کی دھوپ سے بھی محبت اور ہنسی کی مہک آتی ہو اس کا سب ملیامیٹ کر دینے کی بھارتی آرزو سب کے سامنے تھی۔ خیر، کراچی اور راولپنڈی بھی ان کے جنون سے محفوظ دکھائی نہ دیتے تھے۔
پورے ملک میں بھارت کے ڈرون لہرانے لگے۔ انہیں مار گرانے کی کوشش میں پاکستان بھی فائرنگ کرنے لگا۔ لاہور کے اسکول کالج بند ہو گئے۔ کئی دفتروں نے ورک فرام ہوم کا اعلان کر دیا۔ ہوا میں ایک خاموش سا خوف تھا۔ موت کے سائے ہر طرف لہراتے دکھائی دے رہے تھے۔ ہم سب ”سب ٹھیک ہے“ کی بے تکی اداکاری میں خود کو مصروف رکھے ہوئے تھے۔ بار بار فون اٹھا کر خبریں دیکھتے تھے کہ جانے اب سننے کو کیا ملے۔
شاید موت اس قدر مشکل نہیں لیکن اس کا خوف مرنے سے پہلے انسان کو مار ڈالتا ہے۔ خاص طور پر اپنے پیاروں اور ارد گرد کی معصوم جانوں کے یک دم ختم ہو جانے کا ڈر انسان کو اندر سے یوں نچوڑ دیتا ہے جیسے ویکوم کلینر سے سب کھینچ لیا ہو۔ شاید خوف ہے حقیقی موت ہے۔
یہ سلسلہ رکنا تو کیا تھا، بڑھتا گیا۔ بالآخر پاکستان نے بھی بھارتی جارحیت کا جواب وہاں کے فضائی اڈوں پر حملے کی صورت میں دیا۔ دونوں ممالک گولے یوں برسا رہے تھے جیسے بارات پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں۔
کبھی کبھار کھوٹا سکہ بھی چل جاتا ہے۔ خراب گھڑیال بھی دن میں دو بار درست وقت بتاتا ہے۔ امریکی صدر سے چینی ہتھیاروں کی بالادستی سہی نہ گئی۔ وہ جو پہلے اس جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے تھے اب سرپنچ بن کر سامنے آ گئے۔ دونوں ممالک کے کان کھینچے۔ انہیں مرغا بنایا۔ اور انہیں زبردستی ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے پر مجبور کیا۔ ہم وہاں نہیں تھے لیکن ہمارا دل کہتا ہے کہ یہی ہوا تھا۔
سیز فائر ہوا۔ دونوں ممالک نے اپنی فتح کا ڈھول پیٹا۔ کہنے کو کہانی ختم ہوئی۔
لیکن نہیں۔ کہانی ختم کہاں ہوتی ہے۔ ایک نئی کہانی کی شکل لے لیتی ہے۔ وقت کا کچھ پتہ نہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ کب چناؤ انسانی جانوں پر حاوی ہو جائے اور ایک بار پھر آگ برسے۔ جسم، دماغ، اور دل یوں شل ہو چکے ہیں جیسے میلوں کی مسافت طے کر آئے ہوں۔ موت کے سائے چھٹ ضرور گئے ہیں لیکن موت ہماری زندگی سے رخصت نہیں ہوئی۔ ابھی بھی بعض دفعہ رات کو آنکھ کھلتی ہے اور فون دیکھتے ہیں۔ ابھی بھی چھوٹی بہن کی آواز کانوں میں گونجتی ہے جو ایک دم لیٹی ہوئی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی،
”باجی، کیا ہم مرنے والے ہیں؟“
لیکن اسی لمحے یہ سکون بھی ہے کہ اب ہم پردیس میں نہیں۔ جو ہو گا مل کر دیکھ لیں گے۔ ایک دوسرے کا حوصلہ بنیں گے۔ اپنے آنسو اور خوف کو ہنسی میں اڑائیں گے۔ آخری دم تک دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ جو ہو گا مل کر سہیں گے۔ دل کو کڑا کریں گے۔ امن کی دعا کرتے رہیں گے۔
اور حلوہ پوری کھاتے رہیں گے۔ آفٹر آل، نہیں ریساں شہر لاہور دیاں۔



اچھا لکھا۔
چلیں کچھ میں بھی لکھ ہی دوں گا کہ "عالی پہ کیا گزری”۔
آج کی نسل کو شاید علم نہ ہو کہ : عالی پہ کیا گزری ۔۔۔ کیا ہے۔