ہلکی سی مسکراہٹ۔
انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلاء کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبۃ ( 15 مئی) کے نام۔ النکبۃ ستّتر سال کے بعد بھی جاری ہے۔
فیضان چہرہ نچڑا ہوا، پیٹ اندر دھنسا ہوا، بازو اور ٹانگیں جیسے سوکھی ہوئی ٹہنیاں، پسلیاں نمایاں،
بال بکھرے ہوئے، بدن کئی ہفتوں سے غسل سے محروم، چند چیتھڑوں میں لپٹا ہوا، ایک زندہ لاش۔
اس نے بمشکل اپنا دھڑ سنبھالا، آنکھیں ایک اجنبی عورت پر جم گئیں۔
”میرے ماں باپ کہاں ہیں؟“ اس کی آواز کانپ رہی تھی مگر آنکھیں آنسو نہ بہا سکیں۔
”پانی، روٹی۔“ پھر وہ مٹی پر ڈھے گیا۔
عورت نے تڑپ کر اس کا سر گود میں لے لیا، انگلیوں کو محبت سے اس کے الجھے ہوئے بالوں میں پھیرا۔
”میں ابھی آتی ہوں، پانی اور روٹی لے کر“ ۔
فیضان کی سانسیں مدھم تھیں یہ وعدہ وہ کئی بار سن چکا تھا۔
”پانی۔ روٹی۔ پانی۔“
مگر چاروں طرف فقط اجڑے ہوئے لوگ۔ کوئی کراہ رہا تھا، کوئی سسک رہا تھا، کچھ بچے بلک رہے تھے۔
رات میں بمباری دن میں گولہ باری۔
زمیں کے اس خطّے پہ دوزخ نازل ہو چکی تھی۔
پانچ کلومیٹر دور، ایک اور بچہ۔
باپ کو دیکھ کر خوشی سے اچھلا، گود میں آ کر گلے لگ گیا۔
”ابو، آپ کل رات کہاں گئے تھے؟“
باپ نے مسکرا کر بیٹے کو قریب کیا، ”ہاں، میری رات کی ڈیوٹی تھی مگر اب پورا دن تمہارے ساتھ رہوں گا“ ۔
بچے کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی، ”ابو، کل بھی آپ نے بم گرائے؟“
”ہاں بیٹا، جنگ میں ایسا کرنا پڑتا ہے، دشمن کو مارنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم محفوظ رہیں۔“
باپ بچے کی گہری نظروں کا سامنا نہ کر سکا۔ ”کیا بات ہے، بیٹا؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے؟“
”مجھے البرٹ نے بتایا کہ ان بموں سے کئی بچے بھی مر جاتے ہیں۔ زخمی ہو جاتے ہیں اور وہ کئی دنوں سے بھوکے ہیں۔“
باپ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ خاموشی کا سایہ فضا میں لرز رہا تھا۔
”یہ بچے دشمن ہیں، بڑے ہو کر یہی ہمیں مار ڈالیں گے۔“
بچہ الجھن میں پڑ گیا۔ دشمن! دشمن کا قتل!
کچھ سوچ کر وہ باغیچے میں بھاگ گیا۔ تتلیوں کے پیچھے دوڑنے لگا۔
”ابو، میں ان سے کھیلتا ہوں، نہ انہیں زخمی کرتا ہوں، نہ مارتا ہوں۔
یہ تو میری دشمن نہیں ہیں! ”
یہ کہتے ہوئے بچے کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ٹھیک اسی وقت۔
فیضان کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
وہ اپنی تکلیفوں کو چھوڑ کر زندگی کا آخری سانس لے رہا تھا۔


