سندھو کی کہانی جیم عباسی کی زبانی

سندھو کا مصنف سیدھا، سچا اور خالص انسان ہے جس میں تصنع نہیں ہے نہ بیان میں نہ زبان میں۔ اسے الجھی ہوئی باتوں، سخت تنقید اور مشکل سوالات کا جواب سادگی سے دینا آتا ہے ایسے جیسے سندھ اپنی رو میں بہہ رہا ہو اسے کچھ پرواہ نہ ہو کہ کتنی رکاوٹ ہے کیا کٹھنائیاں ہیں بس یہ جانتا ہے کہ یہ اردگرد بستی دنیا اور اس کے اندر رہتی کائنات اس کی اولاد کی مانند ہے جن سے ہر صورت پیار کرنا ہے وہ چاہے جو ہوں جیسے ہوں ان کی بات کو سننا اور سمجھنا ہے۔ سادگی سے پینل میں بیٹھا پرسکون انسان جو اپنی بات کہتا ہے تو بہت عاجزی کے ساتھ سندھی ادب کا ذکر کرتا ہے تو احترام سے ہر لکھنے والے، ہر لوک دانش کی بات کرتا ہے۔ یہ جیم عباسی سے پہلا سامنا تھا جو عالم بی بی فاونڈیشن کے زیر اہتمام ہونے والے سلسلے وار سپیس ٹالک میں ہوا۔ جسے ڈاکٹر فرح دیبا جو کہ عالم بی بی فاونڈیشن کی فاؤنڈر ہیں نے تشکیل دیا ہے۔ پینل میں ڈاکٹر فرح دیبا نے ماڈریٹر کا کردار نبھایا جبکہ اظہر حسین جو معروف لکھاری اور ادبی نقاد ہیں گفتگو کے لیے موجود تھے۔ خوبصورتی سے سجائی گئی محفل جہاں کھل کے بات کی جا سکتی ہے اور دوسروں کی بات کو اختلاف کے باوجود سیکھنے کے نظریے سے سنا جاتا ہے۔

سندھو کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا مرکزی کردار ایک ایسی لڑکی ہے جو ہزاروں سال پہلے کے سندھ میں رائج مادر سری نظام کی نمائندہ ہے۔ جہاں عورت حکمران تھی وہ ہر فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی تھی اور اس کے فیصلوں کو مانا جاتا تھا۔ جہاں و ہ اپنی پسند سے مرد کو چنتی یا مسترد کرتی ہے اور ایک گاؤں کے سردار کی طرح مردوں سے اپنے پاؤں دبواتی ہے۔ اس کردار کو تشکیل دینے اور اسے ایک جیتا جاگتا انسان بنانے کے لیے جس مہارت سے الفاظ کا چناؤ کیا گیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ وقت کے ساتھ زبان میں جو بدلاؤ آیا ہے اس کے باوجود الفاظ کا قدیمی چناؤ اور انداز قابل تعریف ہے۔ اس کردار کی بنت ایسی ہے کہ چشم تصور میں وہ زندہ چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔
تقریب میں ناول کے مختلف پہلووں پہ بات کی گئی۔ ساتھ ہی سندھی ادب کو ڈسکس کیا گیا کہ کیسے سندھی ادب آفاقی ہے۔ اس میں وسعت ہے اور بات کو کھل کے کہنے کا ایک مخصوص انداز ہے جسے جیم عباسی نے بیان کیا کہ اردو ادب میں ایک مختلف تہذیب اور رکھ رکھاؤ ہے جسے جیم عباسی کے الفاظ میں ”اردو ادب میں میں بات کو برقعہ پہنا کے پیش کیا جاتا ہے جبکہ سندھی ادب میں الفاظ کھل کے مدعا بیان کرتے ہیں۔“ پھر سندھی ادب میں عورت کو بہت سی جگہوں پہ محبوب کی بجائے عاشق کے طور پہ دکھایا گیا ہے جیسا کہ شاہ لطیف بھٹائی کہتے ہیں کہ عورت عشق کی استاد ہے۔ سندھی ادب کا کمال ہے جو عورت کو محبوب کی بجائے عاشق ظاہر کرتی ہے۔
جیم عباسی کا لکھنے کا سفر بھی زیر بحث رہا کہ کس طرح انہوں نے اجمل کمال کے رسالے آج میں کہانیاں لکھنے سے آغاز کیا اور انہیں اجمل۔ کمال نے یہ اعتماد دیا کہ وہ اردو میں سندھی کے علاقائی الفاظ بھی استعمال کریں کہ وہ علاقے کی روایت سے جڑے ہونے کی وجہ سے مخصوص معنی بیان کر سکتے ہیں۔ مختصر کہانیوں سے شروع ہونے والا سفر بتدریج ناول رقص نامہ سے ہوتا سندھو تک جا پہنچا جسے ہندی میں ارجمند آرا نے ترجمہ کیا ہے۔
تقریب شریک مہمانوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ناول، ادب، معاشرت، بدلتے خیالات اور تہذیبوں پہ بھی بات چیت ہوتی رہی۔ مجموعی طور پہ یہ ایک ایسی علمی اور ادبی محفل تھی جس میں غیر رسمی انداز میں بات کہی اور سنی گئی اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔


