شہزادہ سلمان کا آگے بڑھتا وژن 2030 اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مہر تصدیق


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سعودی دورے نے خطے کی صورتحال کو کافی حد تک واضح کر دیا ہے، شہزادہ سلمان کی درخواست پر شام پر سے پابندیوں کا ہٹایا جانا، ٹرمپ کی شاہی محل میں ایم بی ایس کی کھلے لفظوں میں تعریف کرنا اور اسے ”اے مین آف وژن“ تسلیم کرنے کے علاوہ شام کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی تلقین و تاکید ایک نئے عہد کے آغاز کا شاخسانہ لگتا ہے، جس کی نگرانی و نمائندگی ٹرمپ خود کر رہا ہے۔

ٹرمپ کا فقید المثال استقبال، دونوں سربراہان ریاست کے مابین مسکراہٹوں کے سائے میں دفاعی ساز و سامان کے مہنگے ترین سمجھوتے اور مختلف یادداشتوں پر دستخط آنے والے دنوں میں کیا راگ چھیڑیں گے کون جانے؟

ان تعلقات اور پیار کی پینگوں کی عرب ریاستوں کو کس قدر بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے کون جانے؟

ایک بات تو طے ہے کہ خطہ عرب کے حکمران اس حقیقت کو پا چکے ہیں کہ مضبوط معیشت کے بغیر بقا ناممکن ہے، اسی لیے ماضی کے سخت گیر رویوں سے سیکھتے ہوئے انہوں نے انسانی رویوں پر نگاہ رکھنے کی بجائے معیشت کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا اور انسانوں کے لیے تفریحی دروازے بلا امتیاز کھول دیے۔

خیر ملکوں کے درمیان تو بہت کچھ چلتا رہتا ہے، سوال یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ والے بیانیے کا کیا بنے گا جسے سن سن کر ہم بچے سے بوڑھے ہونے لگے ہیں؟

ہمیں تو یہی بتایا گیا تھا کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے، رہنمائی درکار ہے کہ اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟

قطر نے تو ٹرمپ جی کو ایک لگژری جیٹ ہی گفٹ کر ڈالا، شنید ہے کہ اس کی مالیت بلین ڈالرز میں بنتی ہے، پیسہ پھینک تماشا دیکھ کے مصداق اس دنیا کی شروع دن سے یہی ریت رہی ہے۔

دولت دیوتا کے سامنے سب کچھ ڈھیر ہو جاتا ہے، اصول و ضوابط دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، عظمت رفتہ کے سریلے گیت معاشی حقائق کے سامنے سرنگوں ہو جاتے ہیں۔

عالمی منظر نامہ بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، طاقت کا چکر ٹرمپ ایسے پاپولرازم کا شکار شخص کے ہاتھوں یرغمال ہے، شام کے عبوری صدر کی ٹرمپ سے ملاقات، ایم بی ایس کی چھ سو ملین ڈالر کی امریکہ کے ساتھ کاروباری شراکت اور ٹرمپ کا ابراہیمی معاہدے کو فعال کرنے کا عندیہ لمحہ موجود کا تقاضا یا بین الاقوامی منصوبہ بن چکا ہے۔

اس معاہدے کے تانے بانے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے جا ملتے ہیں، عرب ریاستوں کو اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے اگر ان کی معیشت اس سے جڑی ہوئی ہو۔

ضد، انا، جذباتیت، کھوکھلی نعرے بازی اور اساطیری پہلیاں محض ہمارے خطے کا چلن ہے، جن کے ساتھ ہماری روحانی و مذہبی سرحدیں ملتی ہیں وہ تو جدیدیت کی چھتر چھایا میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ ہم آج بھی ماضی کے غاروں میں اٹکے ہوئے ہیں۔

عرب ریاستیں خاص طور پر سعودی عرب مذہبی باؤنڈری سے باہر نکل کر ”انکلوزن“ کی طرف گامزن ہو چکا ہے، انٹر یا انٹرا فیتھ ایسی اصطلاحات عرب ڈکشنری میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی تھیں، لیکن اب تو ایل جی بی ٹی کمیونٹی کو بھی اپنے اندر سمونے پر متفق ہو چکے ہیں۔

دنیا میں رہتے ہوئے بھلا دنیا سے منہ کیسے موڑا جا سکتا ہے؟

تارک الدنیا کا دعویٰ کرنے والے بھی دراصل حقیقی دنیا دار ہوتے ہیں بس لینز کا فرق ہوتا ہے، دنیا دار دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مال و دولت کماتا ہے جبکہ دیندار دنیا سے منہ موڑنے کا عذر کر کے دنیا سمیٹتا ہے۔

Facebook Comments HS