125 سی سی کی لاش اور سجی سنوری قبر
رات کی تنہائی میں جب شہر نیند کی پناہوں میں چلا جاتا ہے تب کچھ آنکھیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو نیند کے سنگھاسن پر کبھی سوار نہیں ہو سکتیں۔ لودھراں کی وہ ماں بھی آج ساری رات چھت پر آنکھیں جمائے بیٹھی ہو گی۔ وہ ماں، جس نے اپنی سادہ سی بیٹی کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے تنکا تنکا جوڑا تھا، برتنوں کی چھن چھن سے لے کر دلہن کی چوڑیوں کی کھن کھن تک، سب کچھ خواب بن کر گھر کے ہر کونے میں رکھا تھا۔ مگر خواب کا وہ آخری باب، وہ سفید گھوڑے پر آنے والا ”راجا“ آیا ہی نہیں۔
آیا نہیں کیونکہ اس کے پاؤں میں خواہشوں کی زنجیر بندھی تھی۔ وہ موٹر سائیکل جسے وہ ”جہیز“ کے نام پر مانگ بیٹھا، وہ اس کی مردانگی کا معیار تھا۔ محبت کا سودا تھا اور اس سودے میں دلہن کا سارا وقار گروی رکھ دیا گیا۔
یہ واقعہ کوئی پہلا نہیں اور شاید آخری بھی نہیں۔ مگر ایک ایسی ضرب ضرور ہے جو ہمارے ضمیر پر لگنی چاہیے۔ 125 سی سی کی وہ موٹر سائیکل جو دلہے کے لیے ”عزت“ اور ”سٹیٹس“ کا نشان تھی، وہی اس غریب باپ کے لیے بے بسی کا بوجھ تھی۔ وہ باپ جو مزدوری کر کے بیٹی کے جہیز کے پیسے جوڑ رہا تھا، شاید یہ سوچتا ہو گا کہ ”کیا میری بیٹی کی عزت صرف اس لیے زمین بوس ہو جائے کہ میں ایک موٹر سائیکل نہ خرید سکا؟“
اس سوال کا جواب شاید ہمارے سماج کے ”شریفوں“ کے پاس نہیں۔ ان کے ہاں عزت، جہیز سے ناپی جاتی ہے ؛ رشتے، سونے کی مقدار سے تولے جاتے ہیں ؛ اور مردانگی، موٹر سائیکل کے گیج سے ماپی جاتی ہے۔ اور ہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جہیز کا مطالبہ زیادہ تر خواتین کی جانب سے ہی کیا جاتا ہے یعنی اس معاشرے میں عورت ہی عورت کی بدترین دشمن ہے۔
ذرا سوچیے کیا یہ وہی معاشرہ ہے جو بیٹی کو ”رحمت“ کہتا ہے؟ کیا یہی وہ دین ہے جو نکاح کو آسان اور جہیز کو لعنت کہتا ہے؟ کیا یہ وہی سماج ہے جس میں بیٹی کو زمین کا نہیں، دل کا بوجھ سمجھا جانا چاہیے؟ ہمارے ہاں نکاح ایک تقریب نہیں، ایک مقابلہ بن چکا ہے۔ دولہا کی ماں کی فرمائشیں، بہنوں کے نخرے، اور خود دولہا کی انا، سب کچھ لڑکی والوں پر واجب ہو چکا ہے۔ اور اگر خدانخواستہ کوئی ایک مطالبہ نہ مانا جائے تو شادی رک جاتی ہے، عزت خاک میں مل جاتی ہے اور سجی سنوری دلہن چپ چاپ کمرے میں بیٹھی رہ جاتی ہے، مہندی کی خوشبو کے ساتھ آنکھوں میں ذلت کے آنسو لیے۔
یہ جو 125 سی سی کا مطالبہ تھا، یہ دراصل ایک ”درخواست“ نہیں، ایک ”دھمکی“ تھی کہ دو، ورنہ ہم نہیں آئیں گے۔
کیا ایسے شخص کو داماد کہنا چاہیے؟ نہیں! وہ صرف اپنے خاندان کی خواتین کے ہاتھوں میں ”کٹھ پتلی“ یا ”سوداگر“ ہے جو بیٹی کے ساتھ موٹر سائیکل، فرنیچر، ٹی وی، اور واشنگ مشین کا پیکج چاہتا ہے اور افسوس، سماج اسے مرد بھی کہتا ہے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ ہم کب تک ایسی روایات کا دفاع کرتے رہیں گے؟ کب تک جہیز کو ”رضاکارانہ تحفہ“ کہہ کر اس کے مظالم پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟ اور کب تک ایسی خبریں پڑھ کر صرف افسوس کا اظہار کرتے رہیں گے، عمل نہیں؟
یہ وقت ہے مزاحمت کا، وقت ہے، ماں باپ کو یہ اختیار دینے کا کہ وہ عزت کے ساتھ اپنی بیٹی کو رخصت کر سکیں بغیر کسی خریدو فروخت کے، بغیر کسی فہرست کے، بغیر کسی موٹر سائیکل کے۔
اور لڑکی والوں کے ساتھ ساتھ، لڑکوں کو بھی سوچنا ہو گا۔ اگر ایک مرد میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ زندگی کا سفر اپنی محنت سے شروع کرے، تو وہ نکاح کے بجائے کسی کاروبار کا اہل ہے۔ اور نکاح کاروبار نہیں۔ یہ دو دلوں کا معاہدہ ہے، دو خاندانوں کی جڑت ہے اور سب سے بڑھ کر، دو انسانوں کی عزت کا بندھن ہے۔


