تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔( 7)


پانی میں کوئی کوس بھر کا پینڈا مارنے کے بعد جب وہ احتشام چاچا کی باشا پر پہنچے وہاں مستفیض بھیا کے دوستوں اور ملاقاتیوں میں الیکشن اور مسلم لیگ کے ٹکٹ پر لڑنے والے سبھی امیدوار زیر بحث تھے۔ مستفیض کے وجود سے پھوٹتی محبت اور خلوص کی روشنی میں پور پور نہانے کے بعد سب لڑکے مؤدب ہو کر بیٹھ گئے۔

مستفیض کی سیاہ آنکھیں چمکیں جب اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

تم سب دن رات کام کرو۔ اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ مسلم لیگ بنگال کی 200 نشستوں میں سے سو فیصد جیتے گی۔ انشاء اللہ۔

”انشاء اللہ“ لڑکوں نے یک زبان ہو کر کہا۔ احتشام چاچا نے دھیمی آواز میں شیر بنگال کی مسلم لیگ کی طرف مراجعت اور قائد اعظم سے کوئی صلح صفائی کے بارے میں پوچھا۔ مستفیض تڑ سے بولے۔

”بابا اب کیسی واپسی اور کیسی صلح صفائی؟ قائداعظم اصولی آدمی ہیں۔ جب انہوں نے کہا کہ وائسرائے ڈیفنس کونسل سے استعفیٰ دے دو تو پھر شیر بنگال کا ٹال مٹول کیسا؟ اب مسلم لیگ کی رکنیت تو ختم ہونی تھی۔ خیر بہت دیر ہو گئی ہے اب تو۔“

”ہاں بھلا کیوں کیے ایسے؟“

احتشام چاچا کے ساتھ ساتھ کچھ اور بڑوں نے بھی سر ہلایا۔ قائداعظم جو بولے وہ ٹھیک باقی سب غلط۔ ابو البشر چاچا نے فوراً کہا۔

احتشام چاچا کی باڑی کے پاس ہی گوپال بابو کا ٹیلہ تھا۔ گوپال بابو بنگال کے مشہور ناول نویس چندر چیٹرجی کے عزیز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے عقیدت مند بھی تھے۔ بندے ماترم کا ترانہ ان کے گراموفون پر اکثر ہی بجتا رہتا تھا۔ اس وقت بھی ایکا ایکی فضا میں یہ آواز گونجنے لگی۔

بندے ماترم میں تیرا بندہ ہوں، اے میری ماں
شو جلدم، شوپھلدم، مویوبوشیتلدم اچھے پانی، اچھے پھلوں، بھینی خشک جنوبی ہواؤں
شش شیاملد ماترم شاداب کھیتوں والی میری ماں
شپت کوئی کنٹھ کلکل نناوکرائے تیس کروڑ گلوں کی پرجوش آوازیں
دو شپت کوئی بھوجے دھرپت کھر کھر بائے ساٹھ کروڑ بازوؤں میں سنبھلنے والی پتواریں
ایلا کینول مان اینویلے کیا اتنی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی، اے ماں تو کمزور ہے
بھوبھل ورہارنم تمامی تارنم تو ہی ہمارے بازوؤں کی قوت ہے، میں تیرے قدم چومتا ہوں
دیپودل بار نیم ماترم تو دشمن کے لشکر کی غارت گر ہے میری ماں

مستفیض نے اسے سنتے ہوئے دکھ بھرے لہجے میں کہا:

” چیٹرجی جتنے بڑے ناول نگار تھے، کاش اتنے بڑے انسان بھی ہوتے۔ قدرت نے انہیں بہت بڑا ذہن اور بے پناہ تخلیقی صلاحیت بخشی تھی۔ مگر ان کی بیشتر تحریروں کا واحد مقصد ہندو کو مسلمانوں کے خلاف صف آرا کرنے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ خدا انہیں معاف کرے۔“

پر بھیا! بندے ماترم کی نغمگی اس کی شرینی اس کا حسن انسان کو محسور کن کر دیتا ہے۔ تمیزالدین نے۔ ”شو جلدم، شوپھلدم، مویوبو شیلتدم“ ۔ ایک کیف میں گنگنایا۔

وہاں موجود مستفیض بھیا کے دوست عبدالاوّل جو کلکتہ یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم تھے فوراً بولے۔
”میرے خیال میں تم سے کسی نے چیٹر کی انند مٹھ نہیں پڑھی ہوگی۔“

”نہیں تو بھیا۔“ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ بڑے ہو کر ضرور پڑھنا۔ یہ گیت اسی ناول کی روح ہے۔ جو دراصل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

گھٹائیں جھوم کے آئی تھیں۔ اور کسی دم میں تیز بارش ہوا چاہتی تھی۔ تاڑ اور سپاری کے درخت جھوم رہے تھے۔ اس نے افق کی طرف دیکھا۔ ان دنوں وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ سورج کی صورت تو دنوں نظر نہیں پڑتی۔ رات بھر وہ اُلٹے سیدھے خواب دیکھتا رہا۔

اس کی آنکھ کھل گئی۔ ہڑ بڑا کر وہ اٹھ بیٹھا۔ ہمیشہ کی طرح دادو تخت پر بیٹھے ناک کی پھنگی پر عینک رکھے مطالعے میں مصروف تھے۔ یہ اس کی اپنی باشا تھی۔ مانوس اور محبت بھرا ماحول تھا۔ اس کے دھڑکتے دل کو تسکین ہوئی اور اس کے محض سپنا ہونے پر اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔

دادو کے بالکل پاس بیٹھ کر اس نے انہیں صبح کا سلام کیا۔ ان سے پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ لیا اور سپنا انہیں سنایا۔ دادو نے ایک لحظہ کے لئے اسے غور سے دیکھا ان کی آنکھوں میں برسوں پر پھیلی دکھی کہانیاں تھیں۔ جنہوں نے آنکھوں کو بہت وسعت اور گہرائی دی تھی۔ کچھ دیر وہ اسے دیکھتے رہے پھر رسان سے بولے۔

” یہ تمہاری سوچ کا نتیجہ ہے۔“
”پر یہ سوچ فضول اور خیالی تو نہیں دادو! ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے واقعات نہیں دیکھتے۔“

تب انہوں نے ایک ٹک اسے دیکھا اور سوچا۔ یہ جو بھی بات کہتا ہے، اس کی عمر سے کہیں بڑی ہوتی ہے۔ انہیں اپنے دل میں پھوٹتی خوشی کا گہرا احساس ہوا۔ اس کی پیٹھ پر انہوں نے محبت بھرا ہاتھ رکھا اور خود سے کہا ”میں نے اس لڑکے کو جو میرے لخت جگر کا ٹکڑا ہے۔ جس کی عمر ابھی صرف گیارہ بارہ سال ہے پر جس کی ذہانت اور احساس اس کی عمر سے کہیں زیادہ ہے۔ فخر بنگال کا نام دے کر کچھ غلطی نہیں کی کون جانتا ہے کہ وہ اس مملکت کا فخر ہی ثابت ہو۔ جس کا نام پاکستان ہو گا۔“

”دادو آپ کس سوچ میں پڑ گئے۔ آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔“
”کچھ فکر نہیں کرو بچہ! سراج الدولہ کا بنگال اب زیادہ دنوں غلام نہیں رہے گا۔“

دادو کی اس بات کا اس نے فوراً یقین کیا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کرن بن کر چمکی۔ وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ اس کا دادو اتنا بڑا عالم جو تھا۔ ان کی باشا میں تھا ہی کیا کتابوں کے سوا۔

اپنے دادو کی سنگت اسے عزیز بھی تو بہت تھی۔ وہ ان سے عالم اسلام کے نامور سپہ سالاروں کی کہانیاں رات گئے تک سنتا۔ سراج الدولہ اس کا آدرش تھا جس کے بنگال کو بھوک اور غربت کے آکٹوپس نے جکڑ رکھا تھا۔ گوشت گورے کھا گئے تھے اور خون کی آخری بوند اب ہندو جاگیر دار پی رہا تھا۔ تبھی تو مسلمان ایک علیحدہ ملک کے لئے لڑ رہے تھے۔ قائداعظم اس کا زندہ قومی ہیرو تھا۔ وہ لگن سے ان کی باتیں سنتا اور مسلم لیگ کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے ذہن کے مطابق تجاویز سوچا کرتا تھا۔

یہ وہ تھا جس کا نام اجتبیٰ الرحمٰن تھا۔ پر جسے اس کی دادی اور ماں پیار سے شلپی کہتیں۔ اس نے باہر نکل کر دیکھا، آسمان گہرا تھا۔ دھان کے کھیتوں کی ہریالی فضا کو بہت حسین بنائے ہوئے تھی۔ سپاری اور ناریل کے درخت دور دور تک پھیلتے چلے گئے تھے۔

”مجھے ان کے پاس فوراً جانا چاہیے۔ کیا معلوم انہوں نے کچھ کھایا بھی ہے۔“

(جاری ہے )

Facebook Comments HS