سمندر، جزیرے اور جدائیاں


ایک زمانہ گزر گیا مگر میری دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے اس ملائم ڈھلکتے کپڑے کا لمس ابھی تک زائل نہیں ہوا جس کا تانا ایک رنگ کے ریشم کا تھا اور بانا دوسرے رنگ کے دھاگے کا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو تانے بانے میں ایک تند کتھئی سی تھی اور دوسری بادامی۔ بچپن میں رنگوں کی اتنی پہچان تو نہ تھی، یہ تو اب پیچھے کہیں دور جیسے مجھے نظر آتے ہیں ویسے رنگوں کے نام دے لیے ہیں تاہم یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کے ان میں سفید یا سیاہ رنگ کا کوئی دھاگا نہ تھا؛ بجا کہ تب مردوں کا پسندیدہ پہناوا دھوپ کا سا اجلا اور دودھ جیسا سفید ہوا کرتا تھا مگر عورتوں کے لیے داج بری میں رکھنے کو جیسے کالی یا سفید دھجی بھی بد شگونی کی علامت تھی۔ بتانا یہ ہے کہ وہ میرے بچپن کا زمانہ تھا اور میں پہلی بار ایک دائرے میں جھکی عورتوں کے درمیان ایک ساتھ اتنے ڈھیر سارے اور رنگا رنگ کپڑے دیکھ رہا تھا؛ لال، گلابی، ہرا، نارنگی، جامنی، نیلا، پیلا اور ہر رنگ کے مدہم اور تیز ہوتے رنگ؛ مجید امجد کے لفظوں میں رنگ رنگ کے رنگ۔ وہ کوئی شادی کا موقع تھا جس میں اپنے بڑوں کے ساتھ شریک تھا۔ میں جس ریشمی کپڑے کی بات کر رہا ہوں وہ اپنے لمس ہی سے نہیں اپنے نام کی وجہ سے بھی میری مستقل یادداشت کا حصہ ہو گیا تھا۔ ایک چنچل سی نوجوان لڑکی کے ہاتھ سے وہ ریشمی کپڑا پھسل کر دوسرے کپڑوں کے اوپر ڈھیر ہوا تھا اور لڑکی نے اس کا نام لیا تھا ’دھوپ چھاؤں‘ ۔ میں نے یہ نام سنتے ہی اس کپڑے کو بے اختیار چھوا تھا اور دھیرے سے دہرایا تھا دھوپ چھاؤں۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ جب جب نصیر ترابی کی معروف غزل کا مطلع پڑھا یا سنا ایک ریشمی لمس کا احساس بھی تازہ ہوتا رہا ہے :

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

دھوپ چھاؤں کی طرف میرا دھیان ایک کتاب کے سبب گیا ہے۔ یہ کتاب محمد اظہار الحق کی ہے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ جا چکی صدی کی ساتویں دہائی میں شاعری کے آسمان پر طلوع ہونے والے دب اکبر یا مجمع النجوم میں وہ نمایاں آب رکھنے والے ستارے کے طور پر معروف ہیں ؛ایک خوش بخت پیڑھی میں اپنے اسلوب کی الگ دھج اور موضوعات کی ندرت کے سبب نمایاں ہونے والے کے طور پر۔ ستر کی دہائی کو میں نے یوں خوش بختوں کی پیڑھی کہا ہے کہ تب تک لکھنے پڑھنے والے سماج کے مرکز سے بے دخل نہیں ہوئے تھے اور دانشوری کے منصب پر فائز تھے۔ اخبار، ریڈیو اور پھر ٹی وی ؛ ہر کہیں ان کا ذکر ہوتا یا انہیں دیکھا جاتا تھا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا کتاب، ادب، ادیب، شاعری، مصوری حتیٰ کہ مشرقی موسیقی سب پسپا ہو گئے اور حاشیے پر دھکیل دیے گئے۔

کوئی تو سبب رہا ہو گا کہ غالب نے ادبدا کر کہہ دیا تھا: ’کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے‘ مگر میں اظہار الحق کے کالم نگاری کی طرف لپکنے کو زمانے کے بدلتے ہوئے ڈھب کا شاخسانہ کہہ سکتا ہوں۔ انہوں نے حاشیے کی جانب دھکیلے جانے کو قبول نہ کیا تھا۔ کالم نگار ہی ان دنوں تجزیہ نگار اور دانشور ہو کر ٹیلی ویژن کی اسکرین پر نمودار ہونے لگے تھے۔ وہ وہاں بھی نظر آئے، یوں انہوں نے اپنے لیے ایک الگ میدان ڈھونڈ لیا اور ہم ”دیوار آب“ ، ”غدر“ ، ”پانی پہ بچھا تخت“ جیسی اعلیٰ کتب سے توقیر پانے والے ایک اعلیٰ شاعر کو عمدہ نثر نگار کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ اظہار الحق کی کالم نگاری کا آغاز 1992 میں ہوا تھا۔ انہوں نے جو کالم لکھے وہ سیاسی بھی تھے اور غیر سیاسی بھی۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی کالم پانی کے بلبلے جیسے ہوتے ہیں، ایک دن کی توجہ پائی اور ردی کا رزق ہوئے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ غیر سیاسی کالموں میں کچھ جان ہو تو یادداشت میں ٹھہر جاتے ہیں اور اگر ادب پارہ بن جائیں تو کالم رہیں نہ رہیں، لمبی عمر پاتے ہیں۔ یوں چنیدہ غیر سیاسی کالم کتابوں کی صورت شائع ہونے لگے۔ ”سمندر، جزیرے جدائیاں ’ان کے کالموں کے اسی سلسلے کا چوتھا مجموعہ ہے ؛ ایسی تحریروں کا مجموعہ جو ادب پارہ ہو گئی ہیں اور شاید اب انہیں اخباری کالم کہنا مناسب نہ ہو گا۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ نرم ملائم ڈھلکتی ہوئی دھوپ چھاؤں کی طرف میرا دھیان محمد اظہار الحق کی کتاب پڑھتے ہوئے گیا تھا۔ اپنی اس کتاب میں ایک مقام پر مصنف نے اُس دیے کا ذکر کیا ہے جو دونوں جانب سے جلتا تھا۔ مٹی کے پیالہ نما برتن میں گھانڑی (یعنی کولہو) سے نکلا ہوا رایا یا پھر سرسوں کا تیل ڈال کراس میں روئی کی بٹی ہوئی دو بتیاں ڈبو لی جاتیں اور ان کا ایک ایک سرا دونوں طرف سے باہر کھسکا کر جلا لیا جاتا تھا؛ غالباً ایسے دیے کو بینٹھی کہا جاتا تھا۔ یہ کتاب بھی میرے لیے بینٹھی جیسی ہو گئی ہے ؛ یادوں اور پچھتاووں کی ایسی دھوپ چھاؤں جس کا لمس روح پر محسوس ہوتا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اپنی محبتوں، یادوں، ناسٹیلجیا اور اپنوں سے بچھڑ کر رہنے کے احساس کا تیل ڈالا ہے۔ ان تحریروں کو پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے ایمپٹی نیسٹ سنڈروم جھوجھتے بھڑتے ان کے وجود کی گھانڑی کے اندر سے یہ تیل نکلا ہے۔ ایسے میں جو بینٹھی روشن ہوئی ہے اس کی ایک جانب جا چکا وقت ہے ؛ جسے ہم چاہیں بھی تو واپس نہیں لا سکتے۔ مصنف کا فیصلہ ہے کہ وہی اچھا تھا۔ یہاں ناسٹیلجیا اپنا کام دکھا گیا ہے۔ ایک دفعہ ہم انتظار حسین کے ساتھ بیٹھے مکالمے میں تھے کہ وہ کہنے لگے فکشن لکھنے والے کے لیے ماضی سے حاصل کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے کہ ایک رومان سا اس سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ جس ماضی کو اظہار الحق نے لکھا ہے اس میں ان کا اپنا رومان ہے ؛ ان آنگنوں اور گلیوں میں وہ کھیلتے رہے تھے، کھیتوں کھلیانوں میں وہ دوڑتے اور خربوزے توڑ توڑ کر کھاتے رہے، ’روڑا‘ پڑنے پر بھی مسجد میں کچھ زیادہ ہی کوزے بھرنے پر نمازیوں سے ڈانٹ کھاتے رہے، گھوڑی کی سواری کی، میٹھی لسی پی، باجرے کی روٹی کھائی، دادا سے فارسی پڑھی، گلستان سعدی، بوستان سعدی، جامی کی یوسف زلیخا، نظامی کا سکندر نامہ وہیں پڑھا، وہاں کی ڈھنوں سے پانی پیا اور اس کی مٹھاس اب تک ان کے دہن میں محسوس کرتے تھے، وہاں سباج جیسے دوست رہتے ہیں ؛ بیگاں کے پوتے سباج جیسے دوست، جو سر پر گھاس کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے اب کہیں ملا تھا۔ مصنف نے بتایا ہے کہ اس کے بچپن کے دوست کے چہرے کو زندگی کی دھوپ چھاؤں نے لکیروں اور چنٹوں سے بھر دیا تھا؛ ایک وقت تھا کہ وہ بارات میں اچھالے گئے پیسوں کو لوٹنے اور پھاکڑا ہوتی مٹی میں سے سکے ڈھونڈ نکالنے میں ساتھ دیتا تھا۔ وقت نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا ؛ جس کا ساتھ وقت نے دیا تھا یا جو وقت کے سمندر میں تیرا، وہ مصنف تھا اور وہ ایفا نہ ہو سکنے والا وعدہ کر کے گاؤں سے نکل آیا تھا کہ وہ جلد آئے گا اور ڈھیر ساری باتیں کرے گا۔ کڑوا سچ یہی ہے کہ اب واپس جا کر باتیں کرنے کا وقت جا چکا، ہاں خودکلامی ممکن ہے، انہیں رومان یا حسرت بنا کر لکھا جا سکتا تھا یوں یہ ان کالموں کا حصہ ہوتی گئیں اور بس۔

بینٹھی کی دوسری بتی جہاں مصنف کے وجود کا تیل لے کر روشنی پھینک رہی ہے وہاں زمان و مکاں کا وہ پارچہ ہے جس میں مصنف کی اولاد ہے، پوتے، پوتیاں اور نواسے، نواسیاں ہیں اور یہیں کہیں تین حصوں میں بٹا ہوا لکھنے والے کا اپنا وجود ہے ؛ ماضی، حال اور مستقبل کے آرے سے کٹا ہوا اور تین حصوں میں بٹا ہوا۔ وجود کا وہ حصہ جو ماضی میں آسودہ رہتا ہے یہ بچپن اور لڑکپن ہے۔ اس کا ذکر ہو چکا۔ تاہم ماضی قریب کا وہ زمانہ جو دیے کے کناروں تلے رہ جانے کے سبب کم کم روشن ہوا ہے، کچھ کچھ جھلک دے پایا ہے۔ اس میں ہم مصنف کو گریڈ بائیس کے ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کے روپ میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ اس دور کی عطا کی ہوئی نعمتیں اور آسائشیں انہیں لبھائے رکھتی ہیں ہم کتاب پڑھتے ہوئے ایسے مصروف اعلیٰ افسر صاحب بہادر کا گماں باندھ سکتے ہیں جو اپنی قومی ذمہ داریوں اور کامیابیوں پر بہت نازاں ہیں اور اس سبب ملنے والی اہمیت اور احترام کو بہت مقدم گردانتے ہیں ؛ اتنا زیادہ کہ اپنی اولاد سے ویسی وارفتگی والے تعلق کو قائم کرنے اور اس تعلق کو جذباتی سطح پر ویسا عروج نہیں دے پاتے جیسا اب وہ پوتوں، پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے لیے محسوس کرتے ہیں۔ وقت ایک اور جست لگا چکا ہے ؛ بقول ان کے، اب سائبیریا سے آئی ہوئی کونجیں جھیلوں کے کناروں کو ویران کر کے اڑ گئی ہیں۔ کوہ قاف سے آئے رنگین طلسمی پرندے اپنے پرستانوں کی طرف واپس چلے گئے ہیں۔ جی، اب مصنف کے بچے اور بچوں کے بچے گھر سونا کر کے سمندر پار جا چکے ہیں۔ ریٹائر منٹ کا زمانہ ہے۔ گھر بچوں کے بغیر سونا پڑا ہے۔ یہ گاؤں نہیں ہے جہاں کوئی بھی کسی وقت بھی ملنے کو آ جاتا تھا ؛ ملنے اور دکھ سکھ بانٹنے کے ایک سو ایک بہانے تھے ؛ یہ شہر ہے جہاں ہر ایک کی مصروفیت ننگا ناچ رہی ہے۔ اکلاپے کے اس ماحول میں مصنف پڑھنا چاہتا اور اوراق پر بچوں کے بچوں کے چہرے نظر آتے ہیں۔ تیزی سے بدلتے وقت نے اولاد کی ترجیحات کو کچھ کا کچھ کر دیا ہے ؛ جو باہر جا کر بستے ہیں، چاہے واپسی کے لیے گٹھڑی باندھے رکھیں تو بھی نہیں آ پاتے ؛ بچوں کے بچوں کی اولادیں چاہے لاکھ نانا دادا اور نانی دادی کی قربت چاہیں، جدائی ان کا مقدر ہوتی ہے ؛ کہ یہ مقدر کسی اور نے نہیں ہم نے خود اور ہماری ترجیحات نے بنایا ہوتا ہے۔ دراصل ہم اس بادشاہ کی سی زندگی کو عملی طور پر ترجیح دیتے ہیں جس کا ذکر اسی کتاب میں ایک مقام پر ہے۔ وہی بادشاہ جو اپنے محل میں سمُور والا لحاف اوڑھے رات بھر پہلو بدلتا رہا کہ اسے نیند نہیں آ رہی تھی اور اس نے اپنے محل کی کھڑکی سے، سامنے بجھے ہوئے تنور کے پاس، ایک فقیر کو گدڑی میں مست سوتے اور صبح گدڑی جھاڑ کر یہ نعرہ لگاتے پایا تھا :شب سمور گزشت، شب تنور گزشت۔

اظہار الحق نے اپنی اسی تحریر کے آخر میں لکھا تھا ؛ ”سوچ رہا ہوں، گاؤں پلٹ جاؤں اور گلہ بانی کروں“ واقعہ یہ ہے کہ ایسا سوچا اور کالم میں لکھا جا سکتا ہے ؛ کیا نہیں جا سکتا، یہ کیسے ممکن ہے کہ وقت کا پہیہ الٹا چلے ؛ بچے اپنے معاشی سطح پر روشن نظر آنے والے مستقبل سے دست کش ہو کر ماں باپ کے قرب کو ترجیح دیں، لوٹ آئیں اور گھر پوتوں، پوتیوں اور نواسوں، نواسیوں کی چہکار سے بھر جائے۔ ایک نسل کو اپنا گاؤں جو کچھ دے سکتا تھا وہ اس پر قانع نہ رہی، شہر آ گئی؛ جس شہر اور جس ملک نے اس نسل کو رزق اور توقیر سے نوازا تھا، اس کی اگلی پیڑھی کے لیے اس میں شاید اس کی توقع سے بہت کم تھا۔ انہوں نے جو خواب دیکھے اور جو زندگی انہیں چاہیے تھی، وہی انہیں اڑن کٹھولے میں ڈال کر دور کہیں لے گئی۔ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے ہماری محبوب تہذیب، جس کی بنیاد اخلاص اور انسانی رشتوں کا احترام تھا، پسپا ہوتی جا رہی ہے۔ ہماری دادا نانا ہو چکی نسل شہر کے اندھے کنویں میں گری تھی اور لاکھ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے نکل نہ پائی کہ اسے شہر کی آسائشیں مار گئیں۔ جب کہ اگلی نسل سمندر پار نکل کر جدائی اور تنہائی کی عطالت کا نہ ٹوٹنے والا تسلسل دے گئی۔ جو یہاں ہیں ان کے خاندان بھی ٹوٹ رہے ہیں۔ ایک زمانے میں مل جل کر رہنے میں ہی برکت تھی ؛ اب ایسا نہیں ہے۔ مارکیٹ اکانومی نے ہمیں اپنے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ ہم اس کے بہکاوے میں، روز کسی جانے والی ادوائن والی چارپائیوں کو چھوڑ کر پلنگ اور نرم نرم گدے خریدتے ہیں اور بدلے میں کمر درد پاتے۔ اظہار الحق نے اس سودے بازی کو تبذیر کہا ہے ؛ سورہ اسرا میں یہ تبذیر شعار کرنے والے اخوان الشیطان قرار پائے ہیں۔ اکثر لوگ تبذیر کو اسراف سمجھتے ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ اسراف میں اس ضرورت پر زیادہ خرچ کرنا ہے جو کم خرچ میں اسی سطح پر پوری ہو سکتی ہے جب تبذیر میں حرام پر خرچ کرنا ہے ؛ جیسے ہم آدھا کھانا کھائیں اور باقی کچرے میں پھینک کر ضائع کر دیں۔ کتاب پڑھیں تو لگتا ہے ہم نے زندگی کا غالب حصہ کچرے میں پھینک دیا ؛ وہ جو ہمیں تہذیبی سطح پر توانا کر سکتا ہے اور بدلے میں کئی انواع کے وجودی کرب خرید لیے ہیں۔

آخر میں بس یہی کہنا ہے محمد اظہار الحق جتنے عمدہ شاعر ہیں اتنے ہی عمدہ نثرنگار بھی ہیں اور جانتے ہیں کہ دل میں ترازو کرنے کے لیے جملہ کیسے تراشا جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی اس کتاب کو فکشن کی طرح دلچسپی سے پڑھا جا سکتا ہے۔ میں نے پڑھتے ہوئے یوں محسوس کیا ہے جیسے میں پنڈی گھیب اور اسلام آباد میں کم کم اور فتح جنگ اور سمندر پار ان کے بچوں کے بچوں کے ساتھ زیادہ رہا ہوں جنہیں وہ فتح جنگ کی پنجابی، گھیبی اور اس کی تہذیب سکھانے کی تاہنگ میں ہیں۔ اور یہ کہ خوب صورت نثر میں لکھی گئی یہ کتاب پچھتاوے اور جدائی کے دو پاٹوں میں پستی نسل کی کہانی ہی نہیں اس کی دردناک چیخ بھی ہے۔ شاید یہ چیخ سن کر اپنی تہذیب اور اپنی زبان سے دور ہوتی نسل پلٹ کر دیکھے اور رک کر ان مثبت اقدار کو بھی کلاوے میں بھر کر لیتی چلے جو ہماری اپنی ہیں اور ہر انسان کو کئی انسانی رشتوں میں جوڑ سکتی ہیں۔

(ادارہ فروغ قومی زبان، اسلام آباد اور زاویہ کے زیر اہتمام محمد اظہار الحق کی کتاب ’سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘ کی تقریب میں پڑھی گئی تحریر)

Facebook Comments HS