چراغ کا انصاف
سہ پہر کے ڈھلتے سائے میں لاہور کچہری کے ہال میں بیٹھا میں اپنے اگلے کیس کے کاغذات دیکھ رہا تھا کہ دروازے پر ایک نحیف سا نوجوان دکھائی دیا۔ چہرے پر تفکر کی پرچھائیاں، آنکھوں میں امید کی آخری جھلک۔ سلام کے بعد دھیرے سے بولا ”سر آپ سے مشورہ چاہیے۔“ میں نے سر ہلایا، وہ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خستہ کاغذ کا لفافہ تھا جس میں والد کی وفات کا سرٹیفکیٹ، ایک مکان کی فرد اور دو تین خاندانی تصاویر تھیں۔
”میرے ابو کا انتقال چند سال قبل ہوا۔ ان کا ملکیتی سمن آباد میں چھ مرلے کا ڈبل سٹوری مکان ہے جس میں میرا چھوٹا بھائی اپنی فیملی سمیت رہتا ہے۔ جب بھی حصے کی بات کرتا ہوں تو بات کو ٹال دیتا ہے۔ ایک رشتے دار نے اسے کہا تو مجھ پر ناراض ہوا۔ اب کبھی کہتا ہے تم اتنے لاکھ لے لو، کبھی اتنے۔ لیکن مکان کی قیمت آج کل کے حساب سے بہت زیادہ ہے۔ میں غریب آدمی ہوں، میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ مکان اپنے کھاتے ڈال لوں۔ لیکن حق تو میرا بھی ہے نا سر؟“ اس کے سوال میں آنسوؤں کا وزن تھا جسے صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے باپ کی وراثت صرف کاغذوں پر دیکھی ہو، دیواروں کو بس خوابوں میں چھوا ہو۔
میں نے تھوڑے توقف کے بعد کہا، ”بھائی جائیداد کا انصاف صرف کاغذی نہیں، جذباتی بھی ہوتا ہے۔ کیا تم نے کبھی مکان کی تقسیم کا عدالت سے باہر حل سوچا؟ کسی بہن بھائی کو درمیان میں ڈالا؟ کوئی گھر کی پنچایت وغیرہ؟“ تقسیم کے بہت کیس آتے رہتے ہیں یا لوگ فون پر بھی مجھ سے مشاورت کرتے رہتے ہیں۔ ہر مہینے کم از کم تین سے چار لوگ ایسے کیسز کے بارے میں فون پر رہنمائی لیتے ہیں۔ یہ مشورہ میں ہر ایک کو دیتا ہوں کیونکہ ان کیسز کا فیصلہ زیادہ تر ہوتا مل بیٹھ کر ہی ہے کوئی درمیانی راستہ نکالا جاتا ہے جو حق اور انصاف پر مبنی ہو کسی فریق کو ٹھیس نہ لگے۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ میں نے اسے نرمی سے تمام قانونی راستے بتائے، پارٹیشن اگر ممکن ہو تو مکان تقسیم، ورنہ مارکیٹ ویلیو پر فروخت اور مشترکہ خریداری کا موقع۔ وہ سن رہا تھا، لیکن شاید دل اب بھی بھائی کے وعدوں پر ٹکا ہوا تھا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ، ”یہ سچ ہے کہ کسی بھی مشترکہ جائیداد میں بدنیتی سے قیمت کم لگوانا اور کسی کا حصہ دبا لینا، صرف قانون شکنی نہیں بلکہ وہ ظلم ہے جو کسی کے چراغ کو بجھا دیتا ہے۔ لیکن رب کا انصاف ناپ تول سے بھی زیادہ عادل ہوتا ہے۔ تم اپنا قانونی حق حاصل کرو لیکن دل میں نفرت نہ رکھنا۔“
اس نوجوان نے اگلے ہفتے عدالت میں مکان کی تقسیم کا دعویٰ دائر کر دیا۔ میں نے اس کا مقدمہ سنبھالا۔
عدالت میں بحث کے دوران دوسرے بھائی کی بددیانتی سامنے آ گئی۔ مارکیٹ سے کم قیمت پر دوست کے ذریعے مکان کی خریداری دکھانے کی کوشش، جھوٹے معاہدے اور وکیل کے مشوروں سے بچنے کی تدبیریں۔ کیس کو کھینچنے کی بھی پوری پوری کوششیں ہوئیں مگر عدالت کو سب سمجھ آ گیا کیونکہ یہ وہاں روز کی پریکٹس ہے۔ بالآخر عدالت نے مارکیٹ ویلیو کے مطابق متفقہ مارکیٹ ویلیو پر مکان فروخت کرنے کا فیصلہ دیا جس پر فریقین متفق ہوں۔ البتہ اگر کوئی بھائی طے شدہ قیمت پر مکان اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہے تو دیگر تمام خریداروں پر اسے ترجیح دی جائے گی دوسرا بھائی کوئی اعتراض کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
کیس کے فیصلے کے روز میرے کلائنٹ کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن اس بار وہ دکھ کے نہیں شکر کے آنسو تھے۔ اس نے مجھے الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے کہا، ”سر، آپ نے میرا چراغ بجھنے نہیں دیا۔“
میں نے دھیرے سے کہا، ”چراغ وہی جلتا ہے جو حق سے روشن ہو، باقی سب خدائی ہوا کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔“ اسی روز شام کو دفتر کی کھڑکی سے آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھتے ہوئے دل نے کہا، ”عدالتوں میں صرف انصاف نہیں، کسی کا چراغ، کسی کا خواب، کسی ماں کا سکون، اور کسی بچے کا کل محفوظ ہوتا ہے۔“ اور تب میں نے خود سے وعدہ کیا۔ جب تک قلم ہاتھ میں ہے اور قانون میرے ساتھ، میں ہر اس چراغ کے ساتھ ہوں جسے کوئی سرد دل بجھانا چاہے۔


