رضی الدین رضی کی کہانی میری زبانی

ملتان آرٹس کونسل کے روح رواں محترم سلیم قیصر نے محترم شیخ رضی الدین رضی کی عمر رواں کے 60 سال مکمل ہونے پر ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ علم و ادب کی مہان ہستیوں، اساتذہ، ادیبوں، صحافیوں اور مداحوں نے شرکت کر کے تقریب کو گل و گلزار بنایا۔ یہ سوشل میڈیا کا کمال ہے کہ ایسی تقریبات ہزاروں، لاکھوں نظروں سے گزرتی ہیں۔ ”شام دوستاں آباد“ نے اس کہکشاں میں اس تحریر کے ذریعے قوس و قزح کے مزید رنگ بھرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔
رضی الدین رضی شاعر، ادیب، صحافی، نقاد، اینکر اور بلاگر ہیں۔ فیصل آباد میں شیخ ذکا الدین اوپل کے ہاں 7 مئی 1965ء کو پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی والد کا ٹریفک کے ایک حادثے میں انتقال ہو گیا۔ فیڈرل پبلک سکول ملتان سے 1980 ء میں میٹرک کیا۔ لکھنے کے شوق نے اسی زمانے میں قلمی مسافر بنا دیا۔ 1978 ء میں روزنامہ ”امروز“ میں پہلی غزل شائع ہوئی۔ سکول کے زمانہ طالب علمی میں ادبی لگاؤ کی وجہ سے ”سکول نامہ“ کے ایڈیٹر بنے۔ فوٹو اسٹیٹ کے ذریعے ہی اخبار نکالا۔ گورنمنٹ کالج سول لائنز ملتان سے ایف اے کر کے روزگار کی جستجو میں لگ گئے۔ 1983 ء میں 18 سال کی عمر میں روزنامہ ”سنگ میل“ سے منسلک ہو گئے۔ ”ڈرتے ڈرتے“ کے نام سے کالم نگاری شروع کی۔ ”سنگ میل“ میں سال بھر کام کیا پھر روزنامہ ”نوائے ملتان“ میں چلے گئے۔ ان دو اخبارات کے لئے قد آور ادیبوں منیر نیازی، منو بھائی، شہزاد احمد، بشری رحمان، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر انور سدید اور دیگر کے انٹرویوز کیے۔ 1985 ء میں لاہور سے گریجویشن کی۔ کالج کے دوستوں کی رفاقت اور قابل اساتذہ کی صحبت نے انہیں ادبی دنیا کا سیاح بنا دیا۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ اور روزنامہ ”جنگ“ سمیت بہت سے اخبارات میں میگزین ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر اور ڈپٹی نیوز ایڈیٹر کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ الیکٹرانک میڈیا میں Ptv، وسیب ٹی وی اور دنیا ٹی وی سے منسلک رہے۔ بہترین تجزیہ نگار، نقاد اور ماہرِ صحافی ہیں۔ قلم کاغذ کے ساتھ ایسا رشتہ جڑا کہ بہت سی کتابیں لکھ دیں۔ ان کی چار شعری مجموعوں سمیت پچیس کے قریب کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ان کے فن اور شخصیت پر مختلف یونیورسٹیوں میں طلبا نے کئی تحقیقی مقالے بھی لکھے ہیں۔
رضی الدین رضی اپنی ذات میں ایک دبستانِ ہیں۔ اچھی گفتگو کے ماہر ہیں۔ پسند ناپسند کا بے لاگ اظہار کر دیتے ہیں۔ بہت تحمل اور سنجیدہ مزاج کے مالک ہیں۔ صحافتی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں۔ بڑے بڑے نامور اخبارات ان کے واجبات کے مقروض ہیں۔ خبر کیسے بنانی ہے، جونیئرز ان سے سیکھتے ہیں۔ کس کس ادارے نے اچھی یادیں چھوڑیں، ممنون رہتے ہیں۔ صحافت کے اس سمندر میں بہت تھپیڑے کھائے مگر بہت سے اداروں کی معطر یادیں بھی ان کو مہکاتی ہیں۔ رضی الدین رضی سات صحافتی اداروں کی تاسیسی ٹیم کے رکن رہے۔ انہوں نے اپنی ایک تحریر میں لکھا کہ اخبار کی اجراء کے پہلے شمارے کی تیاری میں میرا حصہ یوں ہے کہ نئے اخبار کا پہلا دن انہیں آج بھی محبوبہ کے پہلے بوسے کی طرح یاد ہے۔
اخبار ایک ایسا میڈیم ہے جو اپنے خالق سے عرق ریزی کا تقاضا کرتا ہے۔ نئے اخبار کا اجرا ہو تو لوازمات کا تھکا دینے والا پہاڑ حائل ہوتا ہے۔ قاری کو ہر صبح سجا سجایا اخبار ملتا ہے، اس کے پیچھے راتوں کی قربانی، تنقید اور مقابلہ صحافی کو کندن بناتا ہے۔ یہ سب کر کے بھی اکثر صحافی خالی جیب گھر جاتے ہیں۔ یہ سب رضی الدین رضی نے ہوتے دیکھا ہے اور ثابت قدمی سے بھگتا بھی ہے۔
رضی الدین رضی کا صحافتی سفر بہت دل چسپ ہے۔ لاہور کے پندرہ روزہ رسالے ”دید شنید“ میں کالم اور فیچر لکھے۔ ملتان میں ایک نئے اخبار ”قومی آواز“ کا اجراء ہوا تو وہ اس کی ٹیم کے ساتھ جڑ گئے۔ اس روزنامے میں بھی انہوں نے کالم نگاری کی۔ اس کے بعد وہ روزنامہ ”اعلان حق“ کی ٹیم کا حصہ بن گئے۔ پھر کچھ عرصہ روزنامہ ”آفتاب“ کے لئے لاہور چلے گئے۔ ”اعلان حق“ سے ”نوائے وقت“ میں چلے گئے۔ انہی دنوں ملتان کی اخباری صنعت میں ایک انقلاب آیا۔ ملتان کے صحافی کم تنخواہوں پر کام کر رہے تھے کہ روزنامہ ”نیا دن“ کا آغاز ہو گیا۔ اس اخبار کے مالکان کاروباری لوگ تھے انہوں نے منجھے ہوئے صحافیوں کی ٹیم اچھی تنخواہوں پر لے لی۔ ”نوائے وقت“ سے تین گناہ زیادہ تنخواہ پر ”نیا دن“ میں کام کیا۔ ”نیا دن“ نے ملتان میں دھومیں مچا دیں۔ صحافی بھی خوش حال ہو گئے۔ اخبار کے خرچے زیادہ اور آمدنی کم ہو گئی۔ اوپر سے لاہور کے روزنامہ ”دن“ کے مالکان نے ”نیا دن“ پر ٹائیٹل کا مقدمہ کر دیا۔ روزنامہ ”دن“ نے مقدمہ جیت کر ”نیا دن“ بند کروا دیا۔ مالکان مالی بحران کا شکار تو تھے ہی یوں یہ اخبار بند ہو گیا۔ ”نیا دن“ کی ٹیم لے کر چوہدری یونس نے روزنامہ ”نیا دور“ کا اجراء کر دیا۔ 2010 ء میں روزنامہ ”جنگ“ کا ملتان سے اجراء ہوا تو رضی الدین رضی روزنامہ ”جنگ“ ملتان میں چلے گئے۔ ملتان سے 2015 ء میں روزنامہ ”دنیا“ کا اجراء ہوا تو امجد بخاری انہیں ”دنیا“ میں لے گئے۔ رضی الدین رضی میں ایک خداداد صلاحیت ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اخبار کا پہلا شمارہ بہت جانفشانی سے بناتے ہیں۔ ان کی یہی خصوصیت ہر جگہ ان کے کام آئی۔ قومی آواز، اعلان حق، نیا دن اور جنگ کی طرح روزنامہ دنیا اخبار کا پہلا میگزین بھی انہوں نے تیار کروایا۔ صحافتی دنیا میں رضی الدین رضی کی یہ خصوصیت بھی رہی ہے کہ انہوں نے بعض اداروں میں کسی مقررہ تنخواہ پر کام نہیں کیا بلکہ اعزازی طور پر اپنے شوق اور پرانی دوستیوں کو نبھانے کے لئے کام کیا۔
رضی الدین رضی کی صحافتی زندگی کا آخری پڑاؤ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP ) اردو سروس ملتان تھا۔ اس ادارے کو انہوں نے اپنی عمر کے 29 سال دیے۔ اسی ادارے سے انہوں نے ریٹائرمنٹ لی۔ وہ اس ادارے سے 1996 ء سے منسلک تھے۔ اس دوران انہیں سیاسی دباؤ پر دو مرتبہ نکالا بھی گیا۔ رضی الدین رضی نے جس لگن، خلوص اور ذمہ داری سے اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں وہ یقیناً انہی کا خاصا ہے۔ خطے کے تقریباً ہر اخبار میں انہوں نے اپنے کام سے اپنا نام بنایا۔ وہ کبھی زرد رپورٹنگ کا شکار نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہمیشہ سادہ زندگی گزاری۔ اپنے رفقاء کے ساتھ ان کا حسن سلوک قابل تقلید رہا ہے۔ وہ اپنی سنہری یادیں لوگوں کے دل و دماغ میں چھوڑ کر گئے ہیں۔ وہ اپنی خدمات کی وجہ سے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی ان کی زندگی کو مزید آسان بنائے۔ آمین۔
رضی الدین رضی نے ساٹھ سال کی عمر مکمل ہونے پر ایک خوبصورت نظم کہی ہے۔ یہ نظم ان کی زندگی کے مشاہدات و حوادث کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
ساٹھ سال ہو گئے
کھِلے تھے ایک شاخ پر،
اُگے کہیں تھے ریت میں
بہت سی آندھیاں چلیں
بہت سی بجلیاں گریں
کھلے تھے جس کی شاخ پر،
شجر وہی اکھڑ گیا
جو اس پہ آشیاں تھا اک،
وہیں کہیں بکھر گیا
سو ہم جو نونہال سے تھے،
پائمال ہو گئے
ساٹھ سال ہو گئے
ساٹھ سال ہو گئے،
چلے تھے ایک راہ پر
وہ راستہ جو دھوپ تھا
وہ لے گیا ہمارا جو بھی رنگ اور روپ تھا
وہ راستہ جو خار تھا
طویل بے شمار تھا
وہاں بہت سی دھول تھی
وہاں بہت ببول تھے
جو لوگ راہ میں ملے،
بہت ہی بے اصول تھے
مگر ہمیں بچا گئے،
جو چند با اصول تھے
اگرچہ بچ گئے تھے ہم،
مگر نڈھال ہو گئے
ساٹھ سال ہو گئے
ساٹھ سال ہو گئے ہیں،
خود کو کھوجتے ہوئے
ساٹھ سال ہو گئے ہیں،
خود کو ڈھونڈتے ہوئے
کہاں گرے تھے ہم کہیں،
اسی کو سوچتے ہوئے
ہجوم اک گزر گیا،
ہمیں تو روندتے ہوئے
کمال، پھر بھی بچ گئے
کمال، پھر بھی جی رہے
کمال ہی تو ہے کہ،
ہم بھی با کمال ہو گئے
ساٹھ سال ہو گئے
ساٹھ سال ہو گئے ہیں،
ہم کو جاگتے ہوئے
کسی کو سوچتے ہوئے،
کسی کو پوجتے ہوئے
کہیں پہ دوڑتے ہوئے،
کہیں پہ بھاگتے ہوئے
کسی کی آنکھ سے بہے،
کسی کے دل میں رہ گئے
مگر جھجک کے اپنی بات پھر بھی،
ان سے کہہ گئے
ساٹھ سال ہو گئے ہمیں،
یہ پوچھتے ہوئے
یہ کون لوگ ہیں بھلا،
یہاں پہ بولتے ہوئے
جو بولتے ہیں ہر گھڑی،
یہاں پہ چیختے ہوئے
اگرچہ ہنس رہے ہیں سب،
انہی کو دیکھتے ہوئے
مگر وہ بولتے ہیں ان کو بولنے کا اذن ہے
یہ دوسری طرف بھی،
چند لوگ ہیں کھڑے ہوئے
جو ہاتھ ہیں بندھے ہوئے تو،
ہونٹ ہیں سلے ہوئے
یہ کون لوگ ہیں بھلا کوئی ہمیں بتائے تو
یہ کون ہیں کہ جن کے پاؤں میں سجی ہیں بیڑیاں
وہ کون تھے کہ جن کی مائیں،
رو رہی ہیں آج بھی
گھروں سے تو گئے تھے وہ بھی ایک روز کام پر
کہیں نشان سرخ لگ چکا تھا،
ان کے نام پر
محاذ پر گئے تھے جو،
کفن سروں پہ باندھ کر
لکھا تھا ان کا نام بھی،
شہادتوں کے جام پر
کہاں گئے، کہاں گئے، ہمیں کبھی بتاؤ ناں
تم ان کی یاد میں کہیں دیا کوئی جلاؤ ناں
وہ کون تھے؟ یہ کون ہیں؟
یہ کون تھے؟ وہ کون ہیں؟
رضی یہ پوچھ پوچھ کر،
ہم اک سوال ہو گئے
بہت نڈھال ہو گئے
بہت نڈھال ہو گئے
جہاں پہ رد کیے گئے وہیں بحال ہو گئے
ساٹھ سال ہو گئے
ساٹھ سال ہو گئے
۔
ان کی ایک اور نظم بھی بہت پیاری ہے۔
اب سمجھ میں آتا ہے
پیار کی کہانی میں
کس جگہ ٹھہرنا تھا؟
کس سے بات کرنا تھی؟
کس کے ساتھ چلنا تھا؟
کون سے وہ وعدے تھے
جن پہ جان دینا تھی؟
کس جگہ بکھرنا تھا؟
کس جگہ مکرنا تھا؟
کس نے اس کہانی میں
کتنی دور چلنا تھا؟
کس نے چڑھتے سورج کے
ساتھ ساتھ ڈھلنا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے
اُس نے جو کہا تھا سب
ہم نے جو سنا تھا تب
کس طرح ہلے تھے لب
کس طرح کٹی تھی شب
ہم نے ان سنی کر دی
بات جو ضروری تھی
کس قدر مکمل اور
کس قدر ادھوری تھی
وہ جو اک اشارہ تھا
ذکر جو ہمارا تھا
وہ جو اک کنایہ تھا
جو سمجھ نہ آیا تھا
اب سمجھ میں آتا ہے
جان کے ہی دشمن تھے
جان سے جو پیارے تھے
ہم جہاں پہ جیتے تھے
اصل میں تو ہارے تھے
راہ جس کو سمجھے ہم
راستہ نہیں تھا وہ
واسطہ دیا جس کو
واسطہ نہیں تھا وہ
کس نے رد کیا ہم کو؟
کس نے کیوں بلایا تھا؟
جس کو اتنا سمجھے ہم
کیوں سمجھ نہ آیا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے
اب سمجھ میں آیا جب
زندگی اکارت ہے
دیر سے سمجھ آئی
ایسی اک بجھارت ہے
زندگی کے بھیدوں کو
ہم نے اب سمجھنا تھا
تب سمجھ بھی آتی تو
ہم نے کب سمجھنا تھا
آنکھ جب پگھل جائے
اور شام ڈھل جائے
زندگی کی مٹھی سے
ریت جب نکل جائے
بھید اپنے جیون کا
تب سمجھ میں آتا ہے
سب سمجھ میں آتا ہے

