سوشل میڈیا کے ”پائیڈ پائیپر

مجھے یقین ہے کہ آٹھ سو سال سے بھی پرانے بچوں کے لیے لکھی جرمنی کی ایک لوک کہانی the Pied Piper of Hamelin (دی پائیڈ پائپر آف ہملین) کے مشہور کردار پائیڈ پائپر سے بہت سے لوگ واقف ہوں گے۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ جرمنی کے ایک قصبہ ہملین میں 1284 ءمیں چوہوں کی یلغار سے بچنے کے لیے وہاں کے میئر نے ایم پائیڈ (رنگ برنگ لباس میں ملبوس) پائپر کو اجرت پہ چوہوں سے نجات کی ذمہ داری دی، جس کا دعوی تھا کہ وہ اپنی بانسری کی آواز کے جادوئی سحر میں چوہوں کو مبتلا کر کے ہمیشہ کے لیے دریا میں ڈبو دے گا۔ پائیڈ پائپر نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی لیکن وعدہ کے مطابق اسے اس کے کام کی پوری اجرت نہ ادا نہیں کی گئی۔ اس وعدہ خلافی کی بدلے میں پائیڈ پائپر قصبہ کے 130 بچوں کو اپنی بانسری کی دھن کے سحر میں مبتلا کر کے اسی طرح لے گیا جس طرح ان چوہوں کو۔ صرف تین بچے سماعت، بصارت اور چلنے سے معذور بچے نہ جا سکے۔ اور ان رہ جانے والے بچوں نے ہی اپنے والدین کو، جو اس وقت گرجا میں عبادت میں مصروف تھے، بچوں کے غائب ہو جانے کا حال بتایا۔
ظاہر ہے کہ یہ قدیمی کہانی تصوراتی ہے لیکن آج کا سوشل میڈیا مثلاً فیس بک، آن لائن میگزین، انسٹا گرام وغیرہ تصوراتی دور جدید کی زندہ حقیقتیں ہیں کہ جہاں ہمیں ایسے کئی ”لکھاری پائیڈ پائیپر“ ملیں گے جو سحر زدہ پوسٹوں یا تحاریر سے اپنے پڑھنے والوں کی حساسیت اور پھر نفسیات پہ گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ جو ہجوم بلکہ ریوڑ کی نفسیات سے مطابقت رکھتی ہے۔ ان کی یہ تحاریر اہم ہیں، جو پڑھنے والوں پہ منفی اور مثبت دونوں ہی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ اگر لکھاری مثبت رہنمائی کرنے والے پائیڈ پائپر ہوں تو وہ اداروں یا سماج کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن منفی ہونے کی صورت میں مضر رساں۔
تو وہ آئیے دیکھیں کہ کس طرح اس لیجنڈ کہانی کے اور سوشل میڈیا کے قلمکار پائیڈ پائپر کی خصوصیات مشترک ہیں۔
سب سے اہم خصوصیت کرشماتی یا جادوئی شخصیت کا حامل ہونا ہے جو اپنے پیچھے چلنے والوں نسبتاً کمزور سوچ رکھنے والوں کا ایک دفعہ اعتماد حاصل کرنے کے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے۔ کتنی جلدی مقصد حاصل ہو اس کا انحصار ملک کی ثقافت، تعلیم، آگہی اور سیاسی اور اقتصادی حالات پہ بھی منحصر ہے۔ مثلاً دولت کی بڑھتی تفریق، مہنگائی بڑھتی بے روزگاری میں ٹرمپ اپنے تمام تر کرپشن کے باوجود عوام میں مقبول ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں کہ جہاں تعلیم کا تناسب کم اور فرسودہ روایات میں جکڑی کم تعلیم وہنر یافتہ خواتین ہیں، ایسی پڑھی لکھی، ڈگری یافتہ خوشحال اور آزاد خیال عورتیں خاص کر کرشماتی اور کامیاب تصور کی جاتی ہیں جن تک عام عورتوں کی رسائی یا ان جیسا ہونا تو ممکن نہیں۔ تاہم ان کی بظاہر ”کامیاب“ زندگی اور خیالات، جو خواہ زمینی حقائق سے کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں، حسرت سے اپنانے کے خواب دیکھتی اور نہ پانے کی صورت میں جلتی کڑھتی رہتی ہیں۔ اگر یہ کرشماتی شخصیات انہیں اپنی ہیرے کی انگوٹھی سونے کے زیورات، قیمتی لباس، اور بظاہر کامیاب خاندانی خوشیوں سے بھری زندگی کو مرکز بنا کرپاکستان یا انڈیا کی دولت اور وسائل سے محروم عوام کو للچاتی ہیں تو نامسدود حالات میں ریوڑ کی مانند چلنے والی خواتین اپنی پائیڈ پائپر خواتین کی محض فیس بک یا انسٹاگرام سے زیارت کرنے کو ہی اپنی خوش نصیبی جانتی ہیں۔ حالانکہ ان معصوم، آگہی سے محروم مداحوں کو پورے حقائق تک رسائی کبھی نہیں ہوپاتی۔
بقول فراز
جب تلک دور ہے تو تیری پرستش کر لیں
ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں۔
اس طرح اندھی پیروی، ہجوم یا ریوڑ کی نفسیات ان شخصیات کو مقبول بناتی ہے۔ انفرادی سوچ کے بجائے اکثریتی سوچ غلبہ پا لیتی ہے۔ ایسے لوگوں میں کریٹیکل یا تنقیدی سوچ معدوم ہوتی ہوجاتی ہے۔ وہ کہانی کے ان چوہے اور بچوں کی طرح ہو جاتے ہیں جو پائیڈ پائپر کی بانسری کی دھن پہ اس کے پیچھے جاتے ہوئے اپنا آپ تک کھو بیٹھتے ہیں۔
ہمیں پتہ ہے کہ شہرت کی طمع ایک نشہ ہے۔ لہذا خاص کر ایسے قلمکار اس نشے میں بیماری کی حد تک مبتلا ہیں جو اپنی جانب توجہ کی طلب میں سنسنی خیز تحریریں پوسٹ کرنے میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں، ملک کے زمینی حقائق کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے وہ جو مضامین یا پوسٹیں ایسی لکھتے ہیں جو ان کے مداحین کی سوچ پہ منفی انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق شہرت کی بھوک میں مبتلا یہ پائیڈ پائپر ادیب کسی ٹارگٹ شخصیت کے لٹکتے ازاربند، تک کو اپنے مضمون کا عنوان بنا لیتے ہیں۔ پھر ان کا یہ لالچ کہ تحریر کو کتنوں نے دیکھا، لائک کیا اور کمنٹ کیا۔ یہ طمع ان کی شخصیت کی خود ستائی اور خود نمائی کے پہلو کو اجاگر کرنے کے ساتھ ان میں احساس کمتری کی علامت ہے۔ لہذا وہ لاشعوری طور پہ اپنے پیچھے آنے والے مداحوں کے ساتھ پاور اور کنٹرول کے کھیل میں مصروف رہتے ہیں۔
آخر میں کہانی میں درج ان تین بچوں کا ضرور سوچیے کہ جو اپنی معذوری کے سبب پائیڈ پائپر کے پیچھے جانے والے بچوں کے ساتھ نہ جا سکے۔ یہی تھے جو سارے والدین کو اس المیہ کہانی کا انجام بتانے کے لیے رہ گیے۔ یہ ایک سبق بھی ہے کہ سماج میں کسی معذوری کی وجہ سے نہ تیز دوڑنے والے لوگ بھی قابل توجہ اور اہم ہیں۔ بس ہمیں انہیں تعصبات کی عینک کو نکال کر دیکھنا ہو گا۔
مجھے یقین ہے کہ ہم اگر سوشل میڈیا کی پوسٹوں پہ نظر دوڑائیں تو کہیں نہ کہیں اس قسم کے ”منفی پائیڈ پائیپر“ ضرور مصروف عمل نظر آئیں گے۔ سوچنا ہو گا کہ کہیں لاشعوری طور پہ ہم اس ہجوم کا حصہ تو نہیں جہاں ہماری انفرادی سوچ ریوڑ کی نفسیات بن کے اپنی شناخت کھو رہی ہے۔ ہمارے ملک کے نمایاں ادیب اور سماجی کورسز کے ٹرینر ایاز مورس کے مطابق اصل قائدانہ صلاحیتوں کی جڑیں آپ کے مقاصد، انکساری، اور انسانی خدمت میں مضمر ہے۔ یہ وہ قدریں ہیں جو سماجی بہتری اور فرد کے بدلاؤ میں مددگار ہیں۔


Good