جنہوں نے خاموشی بیچی وہ آج بولنے کا حق نہ لیں


وفاقی حکومت کا سندھو دریا پر کینالز بنانے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنا دراصل سندھ کے عوام کی زبردست جدوجہد اور مسلسل مزاحمت کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی آئینی، اخلاقی یا پارلیمانی اصول کی پاسداری کا ثبوت۔ وفاقی حکومت کی یہ پسپائی واضح کرتی ہے کہ جب تک عوام سڑکوں پر نہ آئیں اپنی زمین، پانی اور شناخت کے لیے آواز بلند نہ کریں اس نظام سے کسی خیر کی توقع عبث ہے۔ وفاقی حکومت کا فیصلہ عوامی دباؤ کے تحت ایک مجبوری بن کر سامنے آیا ہے نہ کہ کسی اصولی، جمہوری جذبے کے تحت۔ یہ اس تلخ حقیقت کا اظہار ہے کہ یہاں طاقت صرف مزاحمت سے سمجھی جاتی ہے اصولوں سے نہیں۔

کینالز کے خلاف سندھ کے عوام کی جدوجہد نہ کسی ائرکنڈیشنڈ بیوروکریٹک آفس میں لکھی گئی فائل کا نتیجہ تھی نہ کسی سیاسی محل میں بیٹھے ہوئے نام نہاد ”عوامی نمائندے“ کی مہربانی اور نہ ہی کسی میڈیا چینل کی مرضی سے نشر ہونے والے پریس ریلیز کا کارنامہ۔ یہ خالص عوام کی پسینے، آنسو، اور مزاحمت سے لکھی گئی تاریخ تھی جسے وفاقی حکومت اور ان کی اتحادی سندھ حکومت اب اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت جو برسوں سے سندھ کے پانی، زمین اور اختیار پر خاموشی سے قبضہ کرتی آ رہی ہے اور سندھ میں ان کے اتحادی جو اس استحصال اور لوٹ مار پر راضی برضا تھے آج محض پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کے لیے اس عوامی جدوجہد کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے اس تحریک نے عوام میں نہیں بلکہ کسی چیف منسٹر ہاؤس کے فیصلے یا اسلام آباد کی کسی میٹنگ میں جنم لیا ہو۔

کینالز کے خلاف یہ تحریک اس کسان کی فریاد تھی جس کی زمین بنجر ہونی تھی، اس عورت کی مزاحمت تھی جس نے پانی کے لیے احتجاج کیا اس نوجوان کی للکار تھی جس نے لاٹھی اٹھائی اور شاہراہ پر دھرنا دیا۔ یہ ان گمنام چہروں کی فتح ہے جنہوں نے تھر کی دھوپ، کوٹری کی گرد اور لاڑکانہ کی تپتی گرمی کو چیخ بنا دیا۔

یہ جدوجہد صرف دیہات یا کھیتوں تک محدود نہ رہی۔ وکیلوں نے ببرلو کو میدانِ جنگ بنا دیا اور کراچی، حیدرآباد، دادو، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہرو فیروز اور دیگر شہروں میں طلبہ، دانشوروں، پروفیسرز، فنکاروں، اساتذہ اور عام شہریوں نے مزاحمت کے بینر بلند کیے۔ کراچی میں پریس کلب کے سامنے آوازیں بلند ہوئیں دادو کی سڑکوں پر جلوس نکلے اور سندھ کے ہر کونے میں عوام نے اپنے وسائل کے دفاع کا علم بلند کیا۔

اس تحریک میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر، سائیں زین شاہ، ایاز لطیف پلیجو، صنعان خان قریشی، شہاب اوستو، نصیر میمن، ناصر منصور، جگدیش آہوجا، عامر نواز وڑائچ اور رحمان کورائی جیسے غیور رہنماؤں کی شرکت نے اسے مزید وسعت دی۔ سندھ کی سول سوسائٹی، ادیب، فنکار، میڈیا ورکرز، ٹریڈ یونین، محنت کش، کالج لیکچرارز، اسکول ٹیچرز، یونیورسٹی کے طلبہ سب نے ایک ساتھ کھڑے ہو کر مزاحمت کو تحریک میں بدل دیا۔

آج جب فتح کا، کامیابی کا اعلان کیا جا رہا ہے تو وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی جانب سے اس جدوجہد کا ”کریڈٹ“ لینے کی کوشش دراصل عوام کی قربانیوں کی سیاسی چوری ہے۔ یہ وہی آزمودہ ہتھکنڈہ ہے جس میں اشرافیہ، ریاستی نمائندے اور جاگیردار طبقات عوام کی مزاحمت کو ہائی جیک کر کے اسے اپنی بصیرت یا قیادت کا کمال ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک دن بھی سندھ دھرتی کے ساتھ سندھو دریا کے ساتھ کھڑا نہیں رہا جب وہ اپنا حق، انصاف اور اپنے وسائل مانگ رہی تھی۔

یہ وہی پرانا کھیل ہے جہاں طاقتور طبقے عوام کی قربانیوں کو اپنی فتح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہم یہ ہرگز نہیں مان سکتے کہ جو برسوں خاموش رہے اور عوامی دباؤ کے سبب مجبوری میں رسمی یا علامتی احتجاج کرنے کی کوشش کرتے رہے اب نجات دہندہ بن جائیں۔ عوامی مزاحمت کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوتی۔ یہ ایک تاریخ ہوتی ہے۔ یہ تاریخ سندھ کے عوام نے لکھی ہے کسی جاگیردار، کسی وزیر یا کسی سیاسی وارث نے نہیں۔ یہ کامیابی عوامی شعور، اجتماعی مزاحمت، اور دھرتی سے جڑے رشتے کی فتح ہے۔

عوامی مزاحمت زندہ باد
سندھ دھرتی پائندہ باد
سیاسی اجارہ داری، مردہ باد۔

Facebook Comments HS