مختار صدیقی کی نظم ”ٹھٹھہ“ ایک مطالعہ


مختار صدیقی نے نظم ”ٹھٹھہ“ میں دو باتوں کا تذکرہ کیا ہے : ایک تو آباد تہذیبوں کے ویران ہونے کا نوحہ اور دوسرا بابِ فنا یعنی موت کا ذکر۔ اور ان دونوں موضوعات کو مختار صدیقی کے ہاں بنیادی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ان کے ہاں مناظر فطرت کی عکاسی بھی بھر پور انداز سے نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”جہلم کا بہتا پانی“ عمدہ مثال ہے۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ زندگی کی طرح حسنِ فطرت بھی فانی ہے۔ مختار صدیقی زندگی اور اس کے تمام مظاہر سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ اس لیے فنا و زوال کا احساس اور وقت کے تیزی سے گزر جانے کا خیال ان کے ہاں بہت ہے۔ احساسِ فنا ان کے اندر ایک طرف حالات سے لڑنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف وہ زوال اور فنا کے غم سے آہ بھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

زیرِ مطالعہ نظم ”ٹھٹھہ“ میں بھی ان کی یہی صورت حال ہے۔ اس میں انھوں نے ٹھٹھہ شہر کی رونقوں کے اجڑنے کا نوحہ بیان کیا ہے۔ یہ شہر کراچی کے ساتھ ہی ہے اور رقبے کے لحاظ سے سندھ کا دوسرا بڑا ضلع ہے۔ مغلیہ عہد میں ٹھٹھہ ایک ترقی یافتہ اور متحرک شہر تھا۔ یہ شہر بہت بڑی منڈی کا مرکز تھا۔ اور بہت سارے قافلوں کی گزرگاہ تھا۔ لیکن برطانوی راج کے دوران کراچی کی ابھرتی ہوئی حیثیت نے اسے شدید متاثر کیا۔ اور بالآخر کراچی میں بندرگاہوں کے قیام کے بعد یہ اپنی اہمیت مکمل طور پر کھو بیٹھا۔ آج یہاں کی شاہجہانی مسجد اور مکلی کا عظیم قبرستان اسی شاندار ماضی کا نوحہ پڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

مختار صدیقی کا گزر جب یہاں سے ہوا تو وہ اس شہر کی حالت زار کو دیکھ کر افسردہ ہو گئے۔ نظم کا آغاز وہ اس طرح سے کرتے ہیں :

اب مرے سامنے راہیں ہیں غبار آلود
جن کے ہر موڑ ہر اک خم میں یہ ویراں آثار
مرگِ سلطانی کے یہ خستہ صنادید یہ بے جاں آثار
اپنے معدوم ہوئے جانے میں ہیں آسودہ

وہ ان راستوں کا ذکر کر رہے ہیں جو کبھی آباد تھے۔ جو قافلوں کی گزر گاہ تھے لیکن اب وہ فقط غبار آلودہ ہیں۔ ان کے ہر اک موڑ میں ویران ہو چکے آثارِ قدیمہ کے صرف نشان باقی ہیں۔ یہ بے جان آثار معدوم ہو رہے ہیں اور اپنے معدوم ہوئے جانے میں یہ خوش ہیں۔

اس شہر میں ایک قدیم مکلی قبرستان بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں اس کے قریب وہ پہلی مسجد بھی ہے جو محمد بن قاسم نے بنوائی۔ وہاں موجود کچھ قبروں پر نقش و نگار بھی بنائے گئے ہیں۔ جو شخص جس حساب سے صاحب استطاعت تھا اس کی قبر بھی اسی حساب سے ہے۔ اس میں زیادہ تر مقبرے امرا اور روسا کے ہیں۔ بہت ساری ایسی قبریں ہیں جن پر کوئی کتبہ نہیں ہے۔ اور ان کے بارے میں کسی کو یہ معلوم نہیں کہ یہ کس کی قبریں ہیں۔ اس شہر کے ساتھ اب یہ قبرستان بھی معدوم ہو چکا ہے۔ مختار صدیقی نے اس نظم میں اس قبرستان کی حالت کو بھی بیان کیا ہے۔ اس کا تذکرہ وہ یوں کرتے ہیں :

اور ٹیلوں پہ نشیمن میں یہ مردہ راہیں
بے نشان قبروں کی یہ خاکی فرسودہ راہیں

مختار صدیقی نے جب مکلی قبرستان کو دیکھا تو افسردہ دل کے ساتھ اس کی منظر کشی کی کہ جہاں روسا کے عالیشان مقبرے ہیں آج ان کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں۔ وہ اپنی خستہ حالی کو اپنے دامن میں لیے پڑے ہیں۔ اب ان پر کسی در و بام کا سایہ نہیں رہا۔ مکلی قبرستان کی معدومی کا تذکرہ کرنے کے بعد مختار صدیقی ان رستوں کی ویرانی کا ذکر کرتے ہیں جن پر کبھی قافلے رواں دواں تھے اور اب ان کی صورت حال یہ ہے کہ:

سینکڑوں صدیوں سے اب جادہ منزل بھی نہیں یہ راہیں
کاروانوں کی تمناؤں کا حاصل بھی نہیں یہ راہیں
اب غم راحلہ و زاد میں شامل بھی نہیں یہ راہیں
دشت و آبادی میں اب عرصہ حائل بھی نہیں یہ راہیں

یعنی وہ راہیں اب ان پر چلنے والے قدموں سے محروم ہو چکی ہیں۔ کبھی جن راہوں پر میلے اور رونقیں تھیں آج وہ وہاں سے گزرنے والے کسی ایک انسان کو ترستی ہیں۔ یہاں بے اختیار میر تقی کے وہ دو اشعار یاد آتے ہیں :

کل پاؤں ایک کاسہ سر پر جو آ گیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کھبو کسو کا سر پر غرور تھا

یعنی بہار کے ساتھ خزاں کا بھی رشتہ ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ تمام عمر کسی جگہ پر سبزہ ہی رہے اسے ویرانی بھی گھیر سکتی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہاں آج آبادیاں ہیں ایک وقت ایسا آئے کہ آپ وہاں سے گزریں تو ان کی کھوپڑیاں آپ کے پیروں تلے آ رہی ہوں۔ یہاں ناصر کاظمی کے وہ اشعار بھی یاد آتے ہیں جن میں وہ آج کے ہر خرابے کو ماضی کا ایک مکان قرار دیتے ہیں :

اب وہ دریا نہ وہ بستی نہ وہ لوگ
کیا خبر کون کہاں تھا پہلے
ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے
میں بھی آباد مکاں تھا پہلے

مختار صدیقی کہتے ہیں کہ اِس ساری صورتِ حال کے بعد اب یہاں کا ہر ساز خاموش ہو چکا ہے۔ اب یہاں دن نہیں گزارے جا سکتے اور نہ ہی راتیں بسر کی جا سکتی ہیں۔ اب یہاں ہر طرف صرف پتوں کے ڈھیر ہیں۔ یہاں پر کوئی پھول نہیں اُگتا۔ یہ سارا منظر صدیوں کی وحشت گاہ ہے :

گنگ ہے سازِ ازل، مرگ ابد ہے طاری
دن میں دوبھر تو سرِ شام سے راتیں بھاری
کب سے ہیں لالہ و گل سے یہ زمینیں عاری
اور یہ صدیوں کی ماری ہوئی وحشت گاہیں

اس بات کا تذکرہ مختار صدیقی نظم ”موہن جو داڑو“ میں یوں کرتے ہیں :

اب وہ روحیں نہیں مٹی کے گھروندوں کی اسیر
جن سے یہ ساحلِ دریا، یہ زمینِ گُل خیز
ہر ترقی کی شرف گاہ تھی تہذیب کا گہوارہ تھی
آج ٹیلوں کی کھلی گود میں یہ دیواریں
اپنے معدوم در و بام پہ ہیں نوحہ کناں
اپنے معدوم شرف کی ہیں حدیثِ خاموش

یہ وحشت گاہیں جو خاموش ہو چکی ہیں یہ ہم سے سوال کر رہی ہیں کہ ہم موجود اور ناموجود کے درمیان معلق ہیں۔ نہ نیستی میں گئے ہیں اور نہ ہست میں کھڑے ہیں۔ یعنی ہماری صورتِ حال ”To be or not to be“ والی ہو چکی ہے۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ نہ ہم فنا ہوئے ہیں اور نہ ہمیشہ کے لیے رہنے والے ہیں۔ ہونے اور نہ ہونے کے درمیان میں یہ کیسا طویل وقفہ ہے۔ وہ یہ خواہش کر رہے ہیں کہ کاش ہم کھنڈر بن کر ختم ہو جاتے۔ اس طرح ہم یوں درمیان میں معلق تو نہ رہتے۔

حدود ہستی سے ہم نکل کر کھنڈر بنے تھے
مگر کھنڈر بن کر مٹ بھی جاتے

یعنی اگر ہمارا وجود مکمل طور پر ختم ہو جاتا تو وہ اس درمیان میں معلق رہنے سے بہتر تھا۔ لوگوں کو دکھانے کے لیے ہمیں عبرت گاہ بنا کر مقید کر لیا گیا ہے تا کہ وہ ہمارا تماشا بنائیں۔ مختار صدیقی اس کا تذکرہ یوں کرتے ہیں :

ہماری ہستی کو اپنی یادوں سے محو کر دیتے، بھول جاتے
نہ یہ کہ ہم کو تماشا گاہ جہاں بناتے ہمارے عبرت کدوں کو محفوظ کر کے رکھتے
نہ یہ کہ آبادیوں کی خاطر
ہماری بربادیوں کو تاریخی یادگاریں بنائے رکھتے

یعنی اب ہماری وہ رونق تو رہی نہیں تو کیوں نہ آپ ہمیں پورا ہی دفن کر دیتے۔ یوں لوگوں کے لیے تماشا گاہ نہ بتاتے۔ وہ بارگاہیں جو ادب و آداب کی جگہیں تھیں وہاں یہ کسی بھی وقت اپنی مرضی سے گھس آئیں۔ اور جہاں ان کا دل کرے یہ اپنا نام اور اشعار لکھتے پھریں۔ یہاں کھڑے ہو کہ گیت گائیں۔ اور پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ یہاں آ کر کسی کے لیے فاتحہ پڑھ دیں۔ یہ تو فقط خاک اُڑا کر شام ڈھلے گھروں کو پلٹ جاتے ہیں۔

مختار صدیقی نظم ”موہن جو داڑو“ میں اس صورت حال کا تذکرہ یوں کرتے ہیں :

نگر نگر سے آنے والو، یہ بستی بھی کبھی بستی تھی
پھر اُجڑی تو ایسی کہ تباہی، جیون رس کو ترستی تھی
اب بھی وہی ویرانی ہے، لیکن چپ کا بندھن ٹوٹا
جھن جھنن جھنن پھر باجے پائیلیا، چپ کا بندھن ٹوٹا
دور ہی دور سے دیکھنے والو
دور کا ناتا جھوٹا

نظم ”ٹھٹھہ“ کے تیسرے تابلو میں مختار صدیقی نے دو باتوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک بابِ فنا یعنی موت کا تذکرہ اور دوسرا اُمیدِ سحر۔

عین ہستی ہے کبھی باب فنا کا آغاز
زندگانی کی نمو موت کا سماں ہے کبھی
زندگی پہلے غموں سے کبھی یکسر ہی نڈھال
زندگی انجمن آرا و غزل خواں ہے کبھی
مردے زندوں میں بھی زندہ بدست مردہ
شہر کے پیش نظر، شہر خموشاں ہے کبھی

مختار صدیقی نے یہاں اپنے نظریہ تصورِ موت کی جانب اشارہ کیا ہے۔ اُنھیں اس بات کا دکھ ہے کہ انسان خلیفہ الارض ہونے کے باوجود بھی موت کے سامنے مجبور ہے آخر کیوں؟ اس طرز کے سوالات اُنھوں نے اپنی نظم ”موہن جو داڑو“ میں بھی اُٹھائے ہیں۔ جس میں وہ کہتے ہیں :

جو بھی ہو، موت کے چنگل سے کوئی چھوٹا ہے؟
جان چلی جاتی ہے، رہ جاتی ہیں، بے جان چیزیں
رفتہ تہذیبوں کا بن جاتی ہیں، عنوان چیزیں

مختار صدیقی کے ہاں موت کو کبھی بطور پناہ گاہ نہیں برتا گیا۔ بلکہ وہ جسمانی موت کو اک اٹل حقیقت سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس بات پر مُصر ہیں کہ جب تک سانسیں چل رہی ہیں زندگی باقی ہے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی نظموں ”ایک تمثیل“ اور ”قبر میں پہلی رات“ میں موت کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ان نظموں میں طنزیہ سوال اٹھائے ہیں۔ نظم ”قبر میں پہلی رات“ میں وہ بڑے طنزیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ: مٹی کے اس گھروندے میں جہاں نمی کی بد بودار سرد ویرانی بسیرا کرتی ہے۔ ایسے وحشت ناک گھر میں جانے کے لیے آبِ زم زم کے چھینٹوں کا تکلف کیوں؟

موت کے حوالے سے مختار صدیقی کا رویہ مختلف ہے۔ ان کے برعکس میرا جی، راشد، قیوم نظر اور ضیا جالندھری وقت کی اس تیز رو میں بہہ رہے ہیں جو جسم میں جوار بھاٹا تو لاتی ہے مگر روشنی عطا نہیں کرتی۔ لیکن مختار صدیقی موت سے خائف ہونے کی بجائے اس سے مکالمہ کرتے ہیں۔ ضیا جالندھری موت کو حیات کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ ان کے ہاں موت زندگی کا ایک مختلف روپ ہے۔ اس لیے ان کے ہاں نہ تو موت کے مقابل ڈٹ جانے کا انداز ہے اور نہ ہی فرار کا رویہ نظر آتا ہے۔ بلکہ کہیں کہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ موت کو امن و سکون کا گہوارہ خیال کرتے ہیں۔ اس لیے اکثر وہ موت سے سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر نظم ”زمہریر“ سے ایک بند دیکھیں :

وہ لمحہ جو آتا ہے جاتا ہے لیکن گزرتا نہیں
اسی ایک لمحے کی پہیم بدلتی ہوئی ہیتوں میں روانی حیات
نہیں موت کچھ بھی نہیں، موت بھی زندگی کا ہی اک روپ ہے

اسی طرح زندگی سے محبت کرنے والا اختر الایمان بھی جب زوال کی دھمک سنتا ہے تو حیرت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں موت کے مقابل ڈٹ جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی فرار کی صورت نظر آتی ہے۔ بسں اک ساقط کرنے والی سوچ ہے کہ اب کس راہ چلنا ہو گا؟ اس کا اظہار نظم ”محرومی“ میں یوں کرتے ہیں :

ایک دوراہے پہ حیران ہوں کس سمت بڑھوں
اپنی زنجیروں سے آزاد نہیں ہوں شاید

موت کے مسئلہ پر مختار صدیقی نے ہر انداز سے غور کیا۔ کبھی کبھی وہ اپنے معاصرین کی طرح موت کو زندگی کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ خیام، حافظ، غالب اور میر بھی موت کو زندگی کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔

سب کہاں کچھ لالہ و گُل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
(اسد اللہ خاں غالب)

مختار صدیقی نظم ”ٹھٹھہ“ کے آخری حصے میں کہتے ہیں کہ کبھی کبھی فنا کا آغاز عین زندگی بن جاتا ہے۔ مرزا غالب بھی اسی نظریے کے پیرو معلوم ہوتے ہیں :

پر تو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں اک عنایت کی نظر ہونے تک

غالب ایک اور جگہ کہتے ہیں :

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

یہی وجہ ہے کہ مختار صدیقی بھی موت کو خوفناک حادثہ نہیں بننے دیتے بلکہ ہنس کر اُس سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ اس بارے میں کہتے ہیں :

حجلہِ گور میں سامانِ عروسی ہو گا
لاش آرام سے سوئے گی سہاگن بن کر

اصل سے ملاپ کا یہی سرور حافظ کو بخوشی اپنی جان دینے پر مائل کرتا ہے وہ کہتے ہیں :

ایں جاں عاریت کو بہ حافظ سپردہ دوست
روزے رخش بہ بینم و تسلیم ولے کنم

مختار صدیقی بھی موت سے گھبراتے نہیں بلکہ اُن کے ہاں زندگی کی ظاہر داری سے نجات پا لینے کی آرزو موجود ہے۔ اس حوالے سے ان کی ایک سی حرفی دیکھیں :

راہ کٹے گی زیست کی جس دن نذرِ جاں گزرانیں گے
ہم سمجھیں گے سستے چھوٹے تن من دے کر چھوٹ گئے
شکر کریں گے، بیڑی کٹے گی جب اس ظاہر داری کی
جان میں جان آ جائے گی جس دن موہ کے بندھن ٹوٹ گئے

مختار صدیقی مادی وجود کے فنا ہو جانے سے خائف نہیں ہوتے۔ کیونکہ یہ سب فطری تقاضے ہیں۔ وہ اس موت سے ڈرتے ہیں جو تہذیبی زوال اور انسانی قدروں کی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔ انھیں دکھ اس وقت ہوتا ہے جب اُنھیں اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی اور حُسن کی تباہی کا باعث قدرت نہیں، بلکہ انسان کی اپنی ہوسناکی ہے۔ اس کا ذکر یوں کرتے ہیں :

یہ بقائے بہتریں کی مصلحت تھی بھی تو کیا
کیوں فنائے کمتریں کا اک بہانہ تھے وہ لوگ
پر سکون نیندوں میں گم ہے جینے والوں کا جہاں
وہ جنھیں اوروں کے مرنے سے ملی ہے زندگی

یہی وجہ ہے کہ نظم ”ٹھٹھہ“ کے آخری حصے میں موت اور فنا سے نظریں نہیں چراتے بلکہ اس فنا میں نئی سحر طلوع ہونے کی نوید اور اُمید دلاتے ہیں۔ ان کے ہاں اس سحر کا بیانیہ اس طرح ہوا ہے :

شام آتی ہے کہ شب ہو تو سحر ہو جائے
سمجھی جاتی ہے یہی عنایت تقدیر یہاں
بستیاں بستی رہیں، مٹتے کھنڈر مٹ نہ سکیں
بس یہیں تک ہے خداوندیِ تدبیر یہاں

بقول غالب:

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

غالب کے اس شعر کی طرح کہ درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا، مختار صدیقی بھی یہ اُمید دلاتے ہیں کہ یہ آثار جو معدوم ہو چکے ہیں اور فنا ہو رہے ہیں اسی فنا سے نئی سحر کی کونپلیں نکلیں گی۔ اور ان راہوں سے دوبارہ قافلے گزرا کریں گے اس بارے میں کہتے ہیں :

پھر میرے سامنے آتی ہیں وہ پھیلی راہیں
جو یہ کہتی ہیں کہ راہوں سے ہی نکلی راہیں
جرسِ گل پہ رواں قافلہ موسمِ گل
ہر خزاں ڈھونڈتی پھرتی ہے اسی کی راہیں

ایک وقت آئے گا کہ یہ راہیں پھر سے آباد ہوں گی۔ ان پہ وہی پرانی رونقیں ہوں گی۔ یہ راہیں پھر سے قافلوں کی گزرگاہ ہوں گی۔ یہ راہیں کوئی ایسی منزل تو نہیں ہیں کہ اگر ایک بار اجڑ جائیں تو پھر آباد نہ ہو سکیں۔

راہیں منزل تو نہیں ہیں کہ اجڑ کر نہ بسیں
زیست کی طرح سنورتی ہی رہیں گی راہیں

Facebook Comments HS