تحریک انصاف کی مزاحمتی سیاست: ایک موقع یا مغالطہ؟


پاکستان تحریک انصاف گزشتہ دو برس سے مقتدر حلقوں کے زیرِ عتاب ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ جماعت اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے ساتھ سامنے آئی ہے، لیکن اس کے اندرونی رویے میں فوج مخالف جذبات کی کوئی گہرائی نظر نہیں آتی۔ ”حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھرپور مزاحمت اور اقتدار کے حصول میں اس کے کردار کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہے۔

1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ ایک طرف مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو تھے، جنہوں نے الذوالفقار کے پلیٹ فارم سے جنرل ضیاء الحق کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اپنایا، اور گوریلا کارروائیوں کے ذریعے انقلاب کی کوشش کی۔ دوسری جانب محترمہ بینظیر بھٹو تھیں، جنہوں نے پُرامن سیاسی جدوجہد اور عوامی ایجی ٹیشن کو ترجیح دی۔ 10 اپریل 1986 کو وطن واپسی کے بعد محترمہ نے مختصر وقت میں پارٹی کو پورے ملک میں منظم کیا۔ تمام تر رکاوٹوں اور میڈیا سنسرشپ کے باوجود انھوں نے عظیم الشان جلسے منعقد کیے، جن کی نظیر آج بھی نہیں ملتی۔ کم عمری اور ناتجربہ کاری کے باوجود ان کی سیاسی بصیرت اور پختگی کا نتیجہ تھا کہ 16 نومبر 1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے تین صوبوں میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ انتخابی نتائج متنازع تھے، پارٹی مرکز اور دو صوبوں میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔

1988 کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت اس نتیجے پر پہنچی کہ پاکستان میں صرف عوامی طاقت سے اقتدار حاصل کرنا ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سرمایہ داروں اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات بھی ضروری ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک ذہین اور زیرک رہنما تھیں۔ وہ سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی قوتوں سے مذاکرات میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔ ان کی ایک اور نمایاں خوبی صبر و استقامت تھی۔ وہ ہمیشہ درست وقت کا انتظار کرتی تھیں اور سیاسی تبدیلیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی تھیں۔ انھوں نے خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی برسوں پابند سلاسل رہے۔

آج تحریک انصاف اپنی تاریخ میں پہلی بار ایک مزاحمتی جماعت کی صورت اختیار کر چکی ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کی قیادت صرف ایک شخصیت، عمران خان، پر مرکوز ہے۔ عمران خان سیاسی مخالفین سے مفاہمت اور مذاکرات کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کی غیر موجودگی میں پارٹی منتشر ہو چکی ہے اور ان کی رہائی کا فی الوقت کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ عمران خان اور ان کی جماعت آج بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ایسی ”برائیاں“ سمجھتے ہیں جن سے بات چیت ممکن نہیں۔ مگر دوسری جانب، وہی جماعت اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ عمران خان آج بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اقتدار کا حصول صرف فوج کی مدد سے ممکن ہے، جو کہ ایک غیر سیاسی اور غیر ذمہ دارانہ سوچ ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، فوج سے تعلقات رکھنے کے باوجود جمہوریت اور پارلیمانی سیاست کی حامی ہیں۔ انہی جماعتوں کی سیاسی بلوغت کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ سترہ برسوں میں فوج نے براہِ راست اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی، باوجود اس کے کہ ملک کئی سیاسی و معاشی بحرانوں سے گزرا۔ عمران خان اگر واقعی مزاحمتی سیاست کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں فوج کے کردار کو مسترد کر کے اصل سیاسی میدان میں قدم رکھنا ہو گا۔

یہ بات درست ہے کہ موجودہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں سرمایہ دار طبقے کی نمائندہ ہیں اور عوامی مسائل پر سنجیدہ توجہ نہیں دیتیں، لیکن ان میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، جیسے تحریک انصاف میں بھی سب ”فرشتے“ نہیں۔ اگر عمران خان سیاست میں غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے مکمل سیاسی راستہ اپنائیں تو وہ نہ صرف اپنی جماعت کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ مستقبل کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کا نعرہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“ آج بھی اس کی سیاسی بقا کا ضامن ہے۔ عمران خان ایک مقبول عوامی رہنما ہیں، انھیں بھی ”گیٹ نمبر چار“ کے بجائے عوام کو اصل طاقت ماننا ہو گا۔ وگرنہ یہی غیر نظریاتی سیاست ان کی جماعت کو دھیرے دھیرے ختم کر دے گی۔

Facebook Comments HS