فرخ یار کا عشق نامہ


خلقت کے اجتماعی حافظے اور اس کے تخیل کی حیران کن کرشمہ سازیوں (یا کارستانیوں؟) نے جہاں گزشتہ کئی صدیوں سے شاہ حسین اور میلہ چراغاں کی رنگا رنگی کو لازم و ملزوم کر رکھا ہے وہاں شاہ حسین کی تصویر بھی بہت کچھ بدل دی ہے۔ سوال ہے کیا شاہ حسین واقعی یہی کچھ تھے : تکالیفِ شرعی سے آزاد بلکہ ان کی تضحیک و تحقیر کرنے والے، افعال شنیعہ میں مبتلا، مے نوش و امرد پرست و ہر وقت رقص کناں ملامتی؟

خاکسار نے جب سے شاعرِ خوش نوا و محققِ جز رس و خوش ادا فرخ یار کی شاہ حسین پر محققانہ، عاشقانہ اور والہانہ کتاب ”عشق نامہ: تصوف ملامت سنگیت کلام“ پڑھی ہے ہماری علاقائی شاعری کے توسط سے عام ہونے والے تصوف اور بطور خاص با خلق مارا کار نیست والے ”ملامت“ کے تصور کے بارے میں بہت سے سوالات پیدا ہو گئے۔ راقم ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ میلہ چراغاں کی طرح کے دیگر میلوں ٹھیلوں اور تہواروں کی رونقیں اور رنگینیاں ماند پڑیں مگر ہماری علاقائی شاعری، صوفی شاعروں کے ساتھ جڑ جانے والے ملامتی تصورات اور قصہ جات و خرافات کے رنگوں سے بنی شاہ حسین کی تصویر اور دوسری طرف ان کی کافیوں سے ابھرنے والے تصورات کے مابین جو تفاوت ہے اسے کھنگال کر دیکھنے کی خواہش کو ضرور عام کرنا چاہتا ہے۔ اس سفر کا پہلا قدم جناب فرخ یار کے ”عشق نامہ“ کے زرخیز مقدمے ”تصوف میں فتوت اور ملامت کی تخلیقی روش کا شاہ حسینی اسلوب“ اور ان کے مہیا کردہ شاہ حسین کے اپنے متون کے ”قریبی مطالعے“ (close reading) سے اٹھنا چاہیے۔

تفصیل تو پھر کبھی مگر سردست مسئلے کی حقیقی نوعیت کے وضوح کے لیے سال بھر پہلے لکھا گیا بلھے شاہ اور رومی پر جناب معین نظامی کا ایک فکر انگیز شذرہ دیکھیے :

« مجھے درست طور پر اندازہ نہیں ہے کہ ہم میں سے بہت سے ”روشن خیال“ لوگوں نے بابا بلھے شاہ کے ساتھ وہ بدسلوکی کیوں شروع کر رکھی ہے جو مغرب میں رومی کے ساتھ روا رکھی جاتی ہے؟ یعنی مغرب میں رومی منفی مذہب اور مشرق میں بلھے شاہ منفی مذہب۔

یہ دونوں امر ہی حقائق کا بد ترین مسخ ہے۔ دونوں اکابر کی کیفیتی شاعری کے بعض اجزا کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا کُلّی اور قطعی حکم لگا دینا علمی و تاریخی دیانت سے بعید ہے۔ اس رنگ کی شاعری کم و بیش ہر اہم صوفی شاعر کے ہاں ملتی ہے۔ تو کیا ہر صوفی شاعر مذہب بیزار تھا؟ بالکل نہیں۔

یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ بابا بلھے شاہ اس نوعیت کے مجذوب یا قلندر تھے کہ دائرۂ دین و مذہب سے آزاد تھے یا وہ عملاً بھی نام نہاد دارا شکوہی طرز کی وحدتِ اَدیان کے قائل تھے۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ بہت پختہ سُنی حَنفی مسلمان، ذمہ دار قادری شطّاری صوفی، نہایت قابلِ احترام انسان اور شریعت و طریقت پر دو ٹوک عمل کرنے والے اہلِ دل و نظر تھے۔

بابا بلھے شاہ کے شیخِ طریقت شاہ عنایت قادری کی جتنی عربی و فارسی تصانیف بھی باقی رہ گئی ہیں اور ان کے قلمی عکس چَھپ چکے ہیں، وہ سب کی سب ان کی راسخ العقیدگی، دینی حمیت، فقہی بصیرت اور مذہبی اصولوں کی بے لاگ پابندی کی عکّاس ہیں۔ ایسا سخت گیر پیر و مرشد اور ذمہ دار مربّی اپنے کسی لا ابالی، آزاد خیال اور لا دینیت کی حدوں کو چھوتے ہوئے مرید کو تا دیر خود سے وابستہ نہیں رکھ سکتا تھا۔ بابا بلھے شاہ اپنے فکر و عمل میں اگر سچ مچ ویسے ہی مبالغہ آمیز حد تک آزاد منش ہوتے، جیسا کہ الفاظ میں ان کی شخصیت اور افکار کی تجریدی مصوری کرنے والے دانش ور ہمیں بتاتے ہیں تو وہ اپنے شیخ سے قطعاً متوسّل نہ رہ پاتے۔ جب کہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کے باہمی روابط ہمیشہ برقرار رہے اور شاہ عنایت کو بلھے شاہ میں کوئی ایسی بے عملی نظر نہیں آئی جو قابلِ مواخذہ یا لائقِ ترکِ تعلق ہوتی۔

رومی کے محبوب شمس تبریزی بھی، عام تصور کے برعکس انتہائی پابندِ شریعت بزرگ تھے۔ ان کا پابندیِ شریعت کا معیار اور اہتمام اتنا کڑا تھا کہ اس تعلق سے وہ ابنِ عربی اور کئی دوسرے اکابر کو بھی روک ٹوک دیا کرتے تھے۔ یہ سب باتیں بھی مستند منابع سے ثابت ہیں۔

بلھے شاہ اور رومی میں بہت سی فکری اور عملی مشابہتیں ہیں جن پر بہت ٹھوس اور تفصیلی بات چیت ہونی چاہیے۔ دونوں شاہ عنایت اور شمس کی وجہ سے تنقید اور ناپسندیدگی کا شکار ہوئے اور دونوں ہی نے اپنے اپنے کلام میں شاہ عنایت اور شمس تبریزی کا ایک جیسا والہانہ ذکر کیا۔

ہمارے لیے مناسب نہیں ہے کہ ہم اپنے دانستہ یا نا دانستہ مفادات کی خاطر دونوں بزرگوں کو ان کے حقیقی لباس کی جگہ اپنی مرضی کے رنگ برنگے چولے پہناتے پھریں۔ معین نظامی 31۔ اگست 2024 ء »

راقم نے جب نظامی صاحب کا یہ شذرہ پڑھا اس پر یوں تبصرہ کیا تھا:

”آپ نے نہایت اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا۔ اسے بدقسمتی کے سوا اور کیا سمجھا جائے کہ مغربی لبرل اور مذہب بیزار ادبی شعریات (اور کچھ اپنے ہاں کے گمراہ متصوفانہ خیالات) کے زیر اثر صوفی شعرا کو عموماً اور اپنی علاقائی زبانوں (پنجابی سرائیکی و سندھی) کے صوفی شاعروں کو خصوصاً، پابند شریعت مذہب کے مقابلے میں آزاد روی کا نمائندہ سمجھ کر ان کی تجلیل و تمجید کی جاتی ہے۔

امید ہے کہ بلھے شاہ کے بارے میں فرخ یار کی عالی شان کتاب ”عشق نامہ“ کے ذریعے بابا کے بارے میں پھیلی عمومی غلط فہمیوں کے ازالے اور اپ کے اشارہ کردہ مسئلے کی تفہیم، میں بہت مدد ملے گی۔

سال بھر پہلے جب فرخ یار نے مجھے یہ کتاب ارسال کی تو میں نے اس کے بارے میں ایک مفصل تحریر لکھنا شروع کی تھی پھر کاہلی کے ایک طویل وقفے نے بہت کچھ غارت کر دیا۔

دعا کیجئے کہ پھر سے ہمت باندھ پاؤں ”
امید ہے کہ پڑھنے والے مسئلے کی نوعیت سے آگاہ ہو چکے ہوں گے۔

فرخ یار کے ”عشق نامہ“ خصوصاً اس کے مقدمات اور شاہ حسین کے کلام کے متنی مطالعے کی معنویت پر لکھنے کی ہمت تو اب بھی نہیں کر پا رہا لیکن معین نظامی نے بابا بلھے شاہ کے نادان عقیدت مندوں، کچھ سیانے و چالاک دانشوروں اور اباحیت پسند صوفیوں کے حوالے سے جس المیے کی طرف متوجہ کیا ہے سر دست اس کے بارے میں عرض ہے کہ اس المیے کے مہیب سائے ہماری علاقائی زبانوں کے اکثر بڑے صوفی شاعروں کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ اور گوناگوں اسباب کی وجہ سے شاہ حسین ( 1599۔ 1535 ) بھی اپنے انتقال کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد سے اس طرح کے اباحیت پسندوں کی زد میں چلے آرہے ہیں۔

فرخ یار کی تحقیق یہ ہے کہ شاہ حسین کی زندگی کی یہ مخصوص تصویر کاری (جس میں وہ دین و مذہب کی پابندیوں سے آزاد بلکہ ظواہر و رسوم جس کا عرفی نام شریعت ہے، کی چار دیواری سے مکمل طور پر باہر کر کے پیش کیے گئے ہیں ) اول تا آخر اس کی وفات کے 62 سال بعد لکھے گئے ایک رسالے ”حقیقت الفقرا“ سے شروع ہو گئی تھی:

”یہی حوالہ اول تا آخر پچھلے تقریباً 400 سال سے روبہ عمل ہے طالب علم، محققین، تاریخ نویس، تذکرہ نگار لاکھ کوشش کر لیں گھوم پھر کر“ حقیقت الفقرا ”کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔ شاہ حسین کی ذات کا تاثر کبھی کسی نے ان کے میسر کلام سے بنانے کی ہمت نہیں کی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ جو زیب داستانی حقیقت الفقرا کے ذریعے ممکن ہے ان کے کلام سے پیدا کرنا مشکل تھا سو اسے کھوجنے کی کوشش ہی نہ کی گئی“ ۔

یہ حقیقت بڑی حد تک ازلی ہے کہ عوامی جذبات واقعیت زدگی سے زیادہ تخیل کاری سے متاثر ہوتے ہیں۔ حقیقت بے رنگ ہوتی ہے جبکہ تخیل کا منشور بے رنگ روشنی کو رنگ و الوان کی دھنک بنا دیتا ہے۔ روز مرہ کی بے رنگ، اکتاہٹ پیدا کرنے والی زندگی میلوں ٹھیلوں میں آ کر کھیل تماشوں اور وہاں کے گیت سنگیت سے تفریح پاتی ہے۔ ڈھول کی تال پر والہانہ رقص کرتے دیوانوں کو جب صوفیانہ شاعری بھی میسر ہو جائے تو عوام الناس اس کی عارفانہ جہت سے زیادہ اس کے گیت سنگیت، عشق و مستی اور رقص و سرود سے حاصل ہونے والے وفور و سرور سے بہجت افزائی پاتے ہیں کیونکہ صوفیانہ شاعری کا جذب و وفور اپنی کشش و سرمستی سے زندگی کی تکان اور اکتاہٹ کو شادابی و توانائی میں مبدل کرنے کی بے پناہ قابلیت رکھتا ہے۔

میلوں ٹھیلوں اور کھیل تماشوں کے شوقینوں کو اگر دین و شریعت کی پابندی کو آزار سمجھنے والے قدیم روش جعلی صوفیاء اور ان کے ساتھ جدید لبرل اخلاقیات والوں کی آزادہ رو دانشورانہ کمک بھی حاصل ہو جائے تو پھر انجام وہی ہوتا ہے جو مغرب میں رومی اور عمر خیام کے ساتھ ہوا اور ہمارے ہاں شاہ حسین سے لے کر بلے شاہ، خواجہ غلام فرید اور لعل شہباز قلندر اور شاہ لطیف بھٹائی تا سچل سرمست کے ساتھ ہو رہا ہے۔ علاقائی صوفی شعرا کی اس مخصوص پیکر تراشی اور تصویر کاری میں اگر ترقی پسندی و قومیت پرستی بھی اپنے رنگوں کی پھلکاریاں شامل کر دے تو سمجھیے عوامی مزاحمت، جاگیردار سے نفرت، مقتدرہ سے بغاوت اور محنت کش و مزدور کی عالمی حکومت والا خوابناک نگار خانہ بھی مکمل ہو گیا!

سوال ہے کہ ہمارے مقامی صوفی شعراء کے ساتھ اکثر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ فرخ یار نے شاہ حسین کے حوالے سے اس امر کی جو تشخیص کی ہے وہ بڑی حد تک تمام صوفی شعراء کے بارے میں بھی درست ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ

”صوفیہ کی دیہی اور قصباتی کھپت کے لیے ان پر رنگ دار افسانوی پرتیں چڑھائی گئیں تاکہ وہ اکثریتی حلقے کے لیے محبت کے ساتھ قابل قبول ہو سکیں۔ یہی قصہ ہمارے ممدوح شا حسین کے ساتھ بھی ہوا۔

شاہ حسین کو مقتدر حلقوں، جہاں گرد، صوفیہ، عقیدت مندوں، تاریخ نویسوں، سیاسی ترقی پسندوں اور اصولیت پر اصرار کرنے والے مذہبی علماء نے اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ مغلیہ، خالصہ اور انگریز حکومتوں نے شاہ حسین کو ہندو سکھ اور مسلم مشترکہ ثقافتی ورثہ بنایا۔ شاہ حسین کے بارے میں مشہور ہو جانے والی کرامات اس ترکیبی تصور کے لیے سود مند تھیں سو میلہ چراغاں دو تین سو سال تک پنجاب کا سب سے بڑا سرکاری میلہ بھی رہا۔ یہ میلہ شاہ حسین کی یاد میں شالا مار باغ واقع باغبان پورہ روڈ لاہور بہت تزک و احتشام سے منایا جاتا تھا۔ آوارہ گرد صوفیہ نے اپنی بے راہ روی کو شاہ حسین کی آڑ لے کر معنویت کا حامل بنانے کی کوشش کی۔ عقیدت مندوں کی طبقاتی محرومیاں اپنی جذباتی تسکین کے لئے شاہ حسین کی شخصیت سے فیض یاب ہوتی رہیں تاریخ نویسوں اور سیاسی ترقی پسندوں نے زبانی روایت کی ہوبہو نقل کو نسل در نسل منتقل کیا۔ اصولیت پر اصرار کرنے والے علما نے ہمارے ممدوح پر خوب تبرا کیا۔ ان کے لئے ویسے بھی کسی ایسے شخص قبول کرنا ممکن نہیں تھا جو قدرے آزاد خیال ہو اور جس سے غلط صحیح روایات منسوخ کردی گئی ہوں

عجیب اتفاق ہے کہ ہر زمانے میں شاہ حسین کے بارے میں تصورات اور توہمات کے بے سروپا ہیولے پھیلتے چلے گئے۔ کسی نے کبھی سنجیدہ سطح پر متن کے ذریعے انہیں کھوجنے کی کوشش نہیں کی۔ ملامت کی رٹ لگانے والے شاہ حسین کے کلام سے ملامت کی مثالیں نہیں دے پاتے تو ”حقیقت الفقرا“ کے فرضی واقعات کی طرف اشارہ کرنے ہیں۔ ترکِ دنیا کی مثالیں اور حوالے ان کی شاعری میں ڈھونڈنے کے بجائے، ان کی افسانوی زندگی سے نقل کیے جاتے ہیں۔ ان کے مذاقِ عجم (مصنف کا اشارہ یہاں یقیناً مادھو لال کے قصے والی امرد پرستی ہے۔ عزیز) اور بادہ نوشی کو ان کی کافیوں میں تلاش کرنے کے بجائے ان سے منسوب اساطیری قصوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالا جاتا رہا ہے۔

آئیے ہم سب مل کر کیوں نہ ایک دفع شاہ حسین کی شاعری کو بنیاد بنا کر ان کی ایک تصویر بنائیں ”[پیش لفظ عشق نامہ، ص 21۔ 19 ]

اس حوالے سے شاہ حسین کے بارے میں کہنے کی اکثر باتیں فرخ یار نے اپنے پیش لفظ اور مقدمات میں کہہ دی ہیں۔

تاہم یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان مقامی صوفی شعراء کے ہاں اگر مولوی، ملا، شیخ، واعظ، زاہد اور دیگر مذہبی علائم: کعبہ و حرم، منبر و محراب اور مسجد و مدرسہ پر تنقید، تعریض، تضحیک پائی جاتی ہے اور ان کے مقابل ساقی، شراب، میخانہ، جام و سبو، مغبچہ اور رندِ خرابات کی جو تحسین اور تجلیل ملتی ہے وہ صرف ان دیہی و قصباتی صوفی شعراء سے خاص نہیں بلکہ وہ کلاسیکی فارسی اردو شاعری کی عمومی روایت کا ہی حصہ ہے جسے نام نہاد کلاسیکی ”سیکولر“ شعراء از قسم خیام، بیدل و غالب (جی ہاں، نوید ہو کہ اب ہمارے ہاں بیدل کی بھی کچھ ایسی تعبیرات کا چلن شروع ہو چکا ہے ) کی طرح خسرو حافظ رومی و سعدی کے ساتھ ساتھ سعد اللہ گلشن خواجہ میر درد اور ریاض خیر آبادی بھی برتتے ہیں۔ سبک خراسانی و ہندی کی شعریات کے یہ مشترک آلات و وسائلِ شعری ہیں جو ہمارے مقامی صوفی شعراء بھی بکثرت بکار لاتے ہیں کیونکہ یہ سب ایک ہی شعری کٹم قبیلے کے فرد ہیں۔ لہذا جس طرح طریقت کو شریعت کے مقابل رکھ کے دیکھنا غلط ہے اسی طرح ان شعراء کو شریعت کے ارکان و ظواہر کے متضاد کے طور پر روحانیت کے اکھاڑے کا پہلوان گرداننا بھی درست نہیں۔

ہمارے ہاں پس نوآبادتیاتی مطالعات کی جو نئی رو شروع ہوئی ہے اس کی مہیا کردہ اصطلاحات و لفظیات میں ایک شے indigenousism یا Indigenism بھی ہے جس کا اردو متبادل دیسیت، بومیت یا مرزبومیت وغیرہ ہو سکتا ہے لیکن آج کل علمی و ثقافتی مباحث میں اس کے لیے ”مقامیت“ کی اصطلاح مروج ہے۔ اس سے مراد اپنے مخصوص خطے اور علاقے کے وہ مظاہر و علامات ہیں جن سے نوآبادیاتی تسلط سے قبل قدیم زمانے کی لوک روایات و فکری دانش، تیج تہوار، میلے ٹھیلے، گیت سنگیت، شعر و شاعری ناچ رنگ، رقص و موسیقی، فنون و ہنر اور مقامی قصے کہانیوں پر مشتمل ثقافتی ورثے کا اظہار ہوتا ہو۔ پس نوآبادیاتی مطالعات میں آج کل استعماری دور سے قبل کی مقامی شناخت و تشخص کو ازسر نو زندہ کرنے کے لئے ان عناصر پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔ اس طرح گویا استعماری اثرات کا قلع قمع کر کے ہم اپنی اصل قدیمی ثقافت کا احیا کر رہے ہوتے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقامیت کے احیا کی یہ سرگرمیاں بھی لا شعوری طور پر اسی جدیدیت کی متعین کردہ حدود کے اندر اور شرائط کے ساتھ ہو رہی ہوتی ہیں جو خود استعماریت کی جڑواں بہن ہے۔ اس جدیدیت میں ہر شے کی گنجائش اور اجازت موجود ہے ما سوائے مغربی روشن خیالی سے قبل کے تصورِ انسان حیات و کائنات کے۔ یہی وجہ ہے کہ ”مقامیت“ کی تھیوری کی روشنی میں جب ہم اپنی جڑوں کی تلاش اور مقامی شناخت کا تعین کرنے نکلتے ہیں تو غیر محسوس طور پر ہمارے رد و قبول کی چھلنی سے وہی کچھ چھن کے آتا ہے جس کی گنجائش جدیدیت کی رنگدار عینک دیتی ہے۔ اپنی اصل میں جدیدیت چونکہ خود روشن خیال تصور انسان کا فکری ڈھانچہ (thought structure) ہے اس لیے اس کے بعض نہایت بنیادی تصورات اس کی لپیٹ میں آنے والوں (خواہ مذہبی لوگ ہو یا لبرل دانشور) کی ذہنی ساخت کا لا شعوری طور پر حصہ بن چکے ہوتے ہیں جن میں سے سب سے اہم شے ماورا سے بیزاری و قطع تعلقی اور ہر طرح کے فکری ثقافتی اور جمالیاتی مظاہر کی صرف افقی ارضی اور سیکولر تعبیر اور تشکیل ہے۔

اسی لئے جب ہم ”مقامیت“ کو اپنی علاقائی صوفیانہ شاعری کے مطالعے میں صرف ہوتا دیکھتے ہیں تو اس کے حاصلات میں مقامی ثقافت کے جملہ ترکیبی ارضی عناصر، لسانیاتی شعبدے بازیاں، صوفیہ کی انسان دوستی، وسیع المشربی، صلح کل رویہ، سماجی رسوم سے بے نیازی اور مذہبی و مقتدر طبقے کے خلاف مزاحمت و مخالفت وغیرہ تو خوب زیر بحث آتے ہیں مگر فارسی اور اردو کے دیگر بڑے شاعروں کی طرح یہ مقامی شعرا جس منفرد تصورِ حقیقت کے نمائندہ ہیں، اس تصور حقیقت کو اور اس کے عرفانی متعلقات اور ارضی تقاضوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ ان صوفیا کی انسان دوستی جو اپنی اصل میں خدا اور اس کی مخلوق کے عبد و معبود کے رشتے کے ذیل میں ہی بامعنی بنتی ہے، اس میں سے خدا اور عبد و معبود والے مذہبی تصور کو منہا کر کر دیا جاتا ہے۔ ان صوفی شعراء کے ہاں دنیا اور زندگی کی بے ثباتی، دنیاوی رشتہ و پیوند سے لا تعلقی اور اپنے اصلی گھر لوٹ جانے کے جو مضامین بکثرت آتے ہیں ہے جدیدیت کی بنائی سیکولر سپیس میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

مولانا روم کا کہنا ہے کہ
چیست دنیا از خدا غافل بدن
نے قماش و نقرہ و فرزندان و زن

دنیا و پیوندِ دنیا یعنی زندگی، دھن دولت اور اس کے مقابلے میں آخرت کے بارے میں دیگر صوفیہ کی طرح شاہ حسین کا رویہ بھی یہی ہے

تسیں مت کرو گمان، جوبن دھن ٹھگُ ہے
ہنساں دے بھلاوے بھلی، جھولی لیتا بگّ ہے
پبن پتر کے اپرِ موت، تو ہی سارا جگّ ہے
نندیا، دھروہ، بخیلی، چغلی، نت کردا پھردا تگ ہے
کہے َ حسین سئی جگّ آئے، جنہاں پچھاتا اگ ہے

جبکہ جدیدیت کی وضع کردہ سیکولر سپیس میں خدا و آخرت کی کوئی خاص گنجائش یا ضرورت نہیں ہے بس دنیاوی ساز و سامان سونا چاندی بیوی بچے، سماجی و ثقافتی رنگا رنگی اور زیادہ ہوا تو سیاسی مزاحمت ہی سب کچھ ہوتی ہے۔ اپنی جڑوں کی تلاش اور مقامی شناخت کے تعین کے سلسلے میں علاقائی صوفی شاعروں کو آلہ کاریت (instrumentalism) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کا مقصد ان صوفیہ کے تصور حیات و کائنات کو دھرتی اور زندگی میں کار فرما دکھانے کے بجائے کچھ خاص قسم کے سیاسی و سیکولر سماجی اہداف کا حصول ہوتا ہے۔

شاہ حسین کے بطور آلہ کاریت اس استعمال کی بہت عمدہ اور جامع تصویر فرخ یار نے اپنی کتاب میں پیش کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ خالصہ دور میں ہند مسلم سکھ مشترکہ نمو پذیر روایت کی سیاسی ضرورت کے تحت اور پھر پاکستان میں ایوب خان کے مارشل لا کے دور میں سماجی جبر کے رد عمل کے طور پر سماجی اور سیاسی ضرورت کے تحت شاہ حسین کی ذات پر مزید افسانوی پرتیں چڑھائی گئیں :

”شاہ حسین کے کردار کی انحرافی تصویر سازی میں قریب کا ایک زمانہ بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں کچھ آزاد فکر اور روشن خیال پنجابی دانشوروں کے ایک قابل قدر حلقے نے لاہور میں مجلس شاہ حسین کی بنیاد رکھی ان بنیاد گزاروں میں نامور پنجابی ترقی پسند بھی شامل تھے۔

”۔ مقامیت کے ثقافتی اور ادبی منظر نامے کو عوامی سطح کے ساتھ زیادہ سے زیادہ موافقت دینے کے لیے مقامی لیجنڈز (legends) کی بازیافت کا عمل شروع کیا گیا۔ یہ گویا حبس زدہ معاشرے کا رد عمل تھا۔ (جبر اور حبس کے حالات ہوں تو ایسے میں ) قدیم عقائد، نظریات اور بیانیے کی قطع برید کر کے اسے نامساعد حالات کے مقابل نئی وابستگی سے بھرپور کر دیا جاتا ہے۔ تازہ علامتیں دریافت ہوتی ہیں پرانے استعاروں میں نئے معنی ڈھونڈے جاتے ہیں۔ تاریخی سورماؤں کی کانٹ چھانٹ اور آرائش کر کے یوں پیش کیا جاتا ہے کہ ان میں وسیع تر ذمہ داریوں اور افزائش کے امکانات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ مزاحمت ترقی پسندی اور جدت کے کلاسیکی انداز کو بڑا کر کے (magnify) دکھایا جاتا ہے۔

”پنجاب میں تاریخی ادبی اور ثقافتی بحالی کی شروعات شاہ حسین کے کردار کی انحرافی صورت گری سے ہوئی۔ جڑوں کی تلاش کے احساس اور مجلس شاہ حسین کے تحرک سے پیدا ہونے والا جوش زبان ثقافت مردانگی شجاعت اور قربانی کے بیانیے میں ڈھل گیا۔

(مگر) ”عمومی حبس اور شدت پسندی کے ماحول میں متوازن یا علانیہ عدم مزاحمت پر عمل پیرا کلاسیکی تاریخ و تصوف کے کردار، مزاحمت پر عمل پیرا ادیبوں اور دانشوروں کو زیادہ موافق نہیں ہوتے۔ اسی لیے خصوصاً شاہ حسین کے کردار کو رواں سیاسی ثقافتی اور سماجی ماحول سے حسبِ ضرورت مطابقت دے کر ترمیم کی گئی۔ اس زمانے میں چونکہ ایک آزاد خیال، سیکولر، بادہ نوش، سامراج دشمن، انسان دوست، ملامتی اور مزاحمتی شاہ حسین پنجابی دانشور ادبی برادری کے لیے موضوع ترین تھا اس لیے شاید نہ اس کی ملامت کو کسی خاص چھان پھٹک کے عمل سے گزارا گیا نہ اس سے منسوب رسالہ ’تہنیت‘ کا ترجمہ ہوا نہ اس کے فن اور اثر انگیزی کو تقابلی تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ شاہ حسین کی ملامت کو سیاسی مذہبی مزاحمت شجاعت جراتِ اظہار کی متبادل علامت کے طور پر برتا گیا۔ گو اس روش سے ویسے تو حسین کی بھرپور مراجعت ہوئی مگر اس کی پوری شخصیت، بشمول کلام، افسانوی اور اساطیری اثر میں چلی گئی اور اس اثر کا نمایاں ترین وصف ایک ہمہ گیر ملامت تھا“ ۔ [عشق نامہ، ص 118 و بعد ]

اپنی دھرتی اپنی زمین اپنے رسم و رواج اور ثقافتی جڑوں کی کھتونی کے لیے استعمال کرنا اچھی بات ہے مگر ان کی شعری مواد کے مدار المہام عنصر خدا اور آخرت سے صرف نظر کر کے انہیں صرف مقامی رسم و رواج، موج میلے گیت سنگیت اور سیکولر ہیومنزم والی انسان دوستی اور وسیع المشربی کا نمائندہ بنا کر پیش کرنا، انہیں قوم پرستی اور آج کل والی سیاسی مزاحمت کی محدودیت میں بند کرنا یا انہیں ملا صوفی جھگڑے میں لا کر شریعت کے مقابل والی طریقت و روحانیت کا سورما بنانا بہرحال کوئی اتنا مستحسن نہیں۔

اچھا، اس مابعد جدیدیت یا پس نوآبادیاتی مطالعے والی ”مقامیت“ کا ایک اور مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ایک طرف یہ لوگ مقامیت کے شوقین ہوتے ہیں اور دوسری طرف جب ان کی سیکولر انسان دوستی تخیل کے پر لگا کر اڑتی ہے تو یہ لازمانیت اور آفاقیت سے کم پر گزارا نہیں کرتے۔ اپنی مقامی زبانوں کے صوفی شاعروں کو یونان اور روم کے سورماؤں سے جا بھڑاتے اور وارث شاہ کو شیکسپیئر سے لڑاتے ہیں۔ ان کا ایک قدم مقامیت کی ثقافتی لسانی اور ادبی دھرتی میں دھنسا ہوتا ہے تو دوسرا دور زمینوں کی وثنیت پرستانہ روایات پر پڑتا ہے۔ باقی رہا درمیان کا صدیوں پر محیط اسلامی تہذیبی ورثہ (جو ان صوفیہ کا اصل سرمایۂ فکر و فن ہے ) تو اسے عرب ایرانی ”نوآبادیات“ قرار دے کر گاہے گاہے اپنی سندھی و پنجابی زبان کو عربی فارسی کے الفاظ کی ملاوٹ سے پاک کرنے کی مہمات بھی شروع کرنے لگتے ہیں۔ ایک انتہا پر انہیں ٹھیٹھ اپنی دھرتی کے راگ رنگ گیت سُہاتے ہیں تو دوسری انتہا پر فکر و نظر اور ادب و فن کے آفاقی سرچشموں سے رشتے جوڑنے کی عالمگیرانہ آرزوئیں انہیں گدگداتی ہیں۔

غور کریں تو اس رویے کے پیچھے بھی اباحیت پسند جعلی تصوف اور سیکولر ہیومنزم کی دین و مذہب سے پہلو بچانے والی خواہش کار فرما ہوتی ہے کیونکہ پس ساختیات اور مابعد جدیدیت کے مطابق خدا مرکز تصور انسان اور لوگو سنٹرک متن میں تکثیرِ معنی کے گنجائش نہیں رہتی صرف معنئی واحد پر اصرار بڑھتا ہے جو آگے چل کر تشدد کو جنم دیتا ہے۔

ہماری اب تک کی معروضات کا دائرہ زیادہ تر فرخ یار کے ”عشق نامہ“ کے گرد رہا ہے جو شاہ حسین کی مخصوص اباحیت پسندانہ اور سیکولر تعبیرات اور اس کی شخصیت سے وابستہ افسانہ سرائیوں کو اس کے متن کی روشنی میں چیلنج کرتا ہے۔ لیکن شاہ حسین کی اسی تصویر کاری میں کچھ حصہ ڈالنے کے باوجود قدرے اختلاف کے حوالے سے اب ہم ایک اور دانشور، جس کی معروف شہرت مذہبی عالم کی بجائے ایک لبرل فلسفی کی ہے، کی تحریر سے استفادہ کرتے ہیں۔ قاضی جاوید نے اپنی کتاب ”پنجاب کے دانشور صوفی“ میں اس بارے میں جو لکھا ہے اس کا کچھ حصہ تو انہی اساطیری کہانیوں پر مشتمل ہے، جن کی طرف اور رقیات نے اشارہ کیا، مگر آخر میں واضح اختلاف بھی موجود ہے :

”شاہ حسین کا جسم ملامتی تھا اور روح قادری۔ ان کی روزمرہ زندگی ملامتی رنگ میں رنگی ہوئی تھی، مے نوشی، امرد پرستی، سماجی قدروں اور مذہبی اصولوں سے انحراف اور بے خوفی ملامتی گروہ کے اثرات ہیں۔ تاہم ان کے خیالات میں بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو اس گروہ سے انہیں ممتاز کرتے ہیں۔ ملامتی روایت سے ممتاز کرنے والے خیالات میں اہم ترین وحدت الوجود کے فلسفے سے ہمارے دانشور کا گریز ہے حالانکہ یہی عقیدہ ملامت پرستوں کے فکر و عمل کی اساس ہے۔ حسین کے نزدیک خدا انسان ایک ہی ذات کے دو مظہر نہیں۔ یہ قائم بالذات وجود ہیں۔ ان کے مابین وحدت ممکن ہے مگر یہ عارضی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ وحدت دو مختلف اور قائم بالذات ذوات کا ملاپ ہے جو ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوتیں بلکہ اپنی اپنی شخصیت برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔

”اسی فلسفے کو شاہ کے عظیم معاصر شیخ احمد سرہندی نے پیش کیا تھا۔ شاہ حسین کے اس خیال کی جڑیں قرآن حکیم میں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں جو واضح طور پر خدا کی ماورائیت کا درس دیتا ہے“ [پنجاب کے صوفی دانشور، ص 159۔ 157

”شاہ حسین کے نظام فکر کے اس مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وحدت الوجودی نہیں تھے۔ بہت سے تذکرہ نگاروں اور نقادوں نے انہیں وجودی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

”حالانکہ اصل یہ ہے کہ شاہ حسین کے یہاں وحدت الشہود کے فلسفے اور تجربے کی جانب رجحان ملتا ہے۔ غالباً اسی لئے شیخ احمد سرہندی کے ایک مرید شیخ محمد طاہر لاہوری نے کہا تھا

’اگر مجھے علمائے ظاہر کے طعنوں کا خدشہ نہ ہوتا تو میں اکثر شیخ حسین کے مزار پر جا کر استمداد کرتا‘

مقامِ تعجب ہے کہ جس نقطے کو شیخ طاہر لاہوری نے پا لیا تھا آج تک اہل نظر اس سے غافل رہے ہیں ”[پنجاب کے صوفی دانشور، ص 163۔ 162 ]

حیرت اور افسوس مگر یہ ہے کہ آخر میں اتنا واضح نتیجہ نکالنے کے باوجود سینہ بہ سینہ چلے آ رہے افسانوں کی زیر اثر قاضی صاحب شاہ حسین کو ملامتی بھی کہنے سے باز نہیں آتے : ”شاہ حسین کا جسم ملامتی تھا اور روح قادری۔ ان کی روزمرہ زندگی ملامتی زندگی میں رنگی ہوئی تھی، مے نوشی، امرد پرستی، سماجی قدروں اور مذہبی اصولوں سے انحراف اور بے خوفی ملامتی گروہ کے اثرات ہیں“ ۔

جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا دنیا کی زندگی اور اس کے مال و متاع کے عارضی ہونے کے بارے میں تمام صوفیہ کی طرح شاہ حسین کا موقف بھی یہ ہے :

جگ میں جیون تھوڑا، کون کرے جنجال
کیندے گھوڑے، ہستی، مندر، کیندا ہے دھن مال
اے دنیا دن دو اے پیارے، ہر دم نام سنبھال
کہے حسین فقیر سائیں دا، جھوٹا سب اے بیوپار

لیکن قاضی جاوید انہیں وحدت الشہودی رجحان والا کہنے کے باوجود ان کی مذکورہ بالا کافی کی یہ تعبیر کرتے ہیں :

”۔ علاوہ ازیں (جب) حسین دوسروں کو شاد کام اور اپنے تئیں ناکام دیکھتے ہیں (تو) احساس شکست نفی ذات کا سبب بن جاتا ہے۔ احساس جرم ملامت پسندی کی بنیاد بنتا ہے۔ لیکن یہ ملامت پسندی ترک دنیا کا جواز نہیں بنتی بلکہ تحیر افزا زندگی میں بھرپور شرکت کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ زندگی سے محبت اور اس سے پوری طرح گرفت میں دینے کی آرزو حسینی فکر کا اہم حصہ ہے حسین منادی کرتے ہیں کہ دنیا اور جیون چار دنوں کا ہے اس کھیل کو پورے طور پر کھیلنا ہی مقصد حیات ہے رنگ رلیاں مناؤ کہ

جگ میں جیون تھوڑا، کون کرے جنجال۔ ”الخ
[قاضی جاوید، پنجاب کے صوفی دانشور، نگارشات لاہور، 1986، ص 161]

جبکہ تصور ملامت کی اصل، اس کی بگڑی ہوئی شکل کے تجزیہ و تنقیح اور شاہ حسین کی کافیوں کے متن کی چھان پھٹک اور اس کے دستیاب رسالے ”تہنیت“ کی روشنی میں قصہ کہانیوں، سینہ بہ سینہ منفی روایات کی دھند صاف کرنے کے بعد فرخ یار کا حاصل مطالعہ یہ ہے :

”شاہ حسین کی تصویر کشی کرتے ہوئے بے شمار توہمات، غلط فہمیوں، جنسی انحراف کے قصوں، بلاجواز نفرت، کرامات سے بھری کہانیاں اور اساطیری محبت سے کام لیا گیا ہے۔ ان عوامل نے پڑھے لکھے سنجیدہ حتیٰ کہ متوسط ذہنی استعداد کے حامل عام پنجابی کو بھی شاہ حسین کی شخصیت کے بارے میں متذبذب کر دیا۔ ان کے مشرب پر ہر مکتب فکر نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اندیشہ ہائے دور دراز کی اتنی رنگین پرتیں چڑھائیں کہ ان کی شخصیت سطحی اور کلام غیر اہم نظر آنے لگتا ہے۔ ان کی فنی اور فکری شخصیت پر البتہ تاریخی ریکارڈ میں صرف شیخ احمد سرہندی اور شاہ سکندر کیتھلی کے مرید شیخ محمد طاہر بندگی کا بصیرت افروز تبصرہ قابل قدر اہمیت کا حامل ہے۔ ’اگر مجھے علمائے ظاہر کے طعنوں کا خطرہ نہ ہوتا تو میں اکثر شیخ حسین کے مزار پر جا کر استمداد کرتا‘ “

شیخ طاہر بندگی کا یہ جملہ لکھنے کے بعد فرخ یار کہتے ہیں :

”اس جملے میں جس حقیقت کی طرف اشارہ ہے اس کا ربط شیخ احمد سرہندی کی تعلیمات سے زیادہ شاہ سکندر کیتھلی کے قادریہ وفور میں تلاش کرنا چاہیے جسے وحدت الوجود یا وحدت الشہود کے خانوں میں بانٹنا علمی تاریخی اور ادبی نا انصافی ہوگی۔ شاہ حسین جس ما بعد الطبعیات کے اثر میں ہیں وہاں خدا اور انسان قائم بالذات ذوات ہیں جن کی اپنی اپنی شناخت ہے“ [عشق نامہ، ص 161]

یہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ شیخ طاہر بندگی کا جو جملہ قاضی جاوید اور فرخ یار دونوں محققین کے ہاں اقتباس کیا گیا، ان کا بنیادی ماخذ ایک ہی ہے : محمد اقبال مجددی، تہنیت، صحیفہ لاہور جولائی 1972 صفحہ 75

اور یہ دونوں حضرات، لفظاً اور معناً یعنی ہر اعتبار سے یکساں طور پر، شاہ حسین کو ایک ایسی فکر کا نمائندہ قرار دیتے ہیں جو عرف عام والے وحدت الوجودی تصور سے مختلف ہے :

(شاہ حسین کے ہاں ) ”یہ وحدت دو مختلف اور قائم بالذات ذوات کا ملاپ ہے جو ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوتیں بلکہ اپنی اپنی شخصیت برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔“ (قاضی جاوید)

”شاہ حسین جس ما بعد الطبعیات کے اثر میں ہیں وہاں خدا اور انسان قائم بالذات ذوات ہیں جن کی اپنی اپنی شناخت ہے“ (فرخ یار)

شاہ حسین کے اس امیج کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ لبرل دانشور قاضی جاوید، شاہ حسین کو واضح طور پر وحدت الوجود کے مقابلے میں وحدت الشہود کے قریب بتاتے ہیں مگر فرخ یار حسین کی طبیعت، مزاج اور شاعری میں پائے جانے والے والہانہ پن اور جمالیاتی وفور کے پیش نظر ایک محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں :

”شیخ احمد سرہندی کی تعلیمات سے زیادہ شاہ سکندر کیتھلی کے قادریہ وفور میں تلاش کرنا چاہیے جسے وحدت الوجود یا وحدت الشہود کے خانوں میں بانٹنا علمی تاریخی اور ادبی نا انصافی ہوگی“ ۔

اس ذرا سے اختلاف کے اندر راقم کے لئے اطمینان اور اس سے زیادہ حیرت کا پہلو یہ ہے کہ پنجابی زبان کے اس شہنشاہِ عشق و مستی اور شاعرِ جذب و جنوں کی شخصیت پر پڑے دبیز اساطیری پردوں اور عرف عام والی ملامت کی ملمع کاریوں کے باوجود یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ شاہ حسین نہ تو جعلی صوفیہ والی اباحیت پسند طریقت کے قائل تھے اور نا ہی لبرل سیکولر قوم پرست دانشوروں کی مذہب بیزار مزاحمتی سیاست کاروں کی ہاتھ کا کھلونا بننے کو راضی ہیں۔ زور زبردستی کی بات البتہ اور ہے : کھیڑوں نے تو ہیر کے ”انسانی حقوق“ کا کبھی خیال نہیں رکھا۔

نی مائے! مینوں کھیڑیاں دی گل نہ آکھ
رانجھن میرا، میں رانجھن دی، کھیڑیاں نوں کُوڑی جھاک
لوک جانے ہیر کملی ہوئی، ہیرے دا ور چاک
کہے حسین فقیر سائیں دا، جاندا مولیٰ پاک

اور، اگر مجدد الف ثانی کے مرید شیخ طاہر بندگی کا یہ جملہ درست ہے کہ ’اگر مجھے علمائے ظاہر کے طعنوں کا خطرہ نہ ہوتا تو میں اکثر شیخ حسین کے مزار پر جا کر استمداد کرتا‘ تو شریعت اور طریقت والے ترازو میں حسین کا وزن واضح طور پر شریعت کو فائق جاننے والوں کے پلڑے میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔

مگر اس کے باوجود راقم کو ہرگز یہ خوش گمانی نہیں کہ ہمارے ان محققین کی دقیق کاوشوں کے بعد شاہ حسین اور بابا بلھے شاہ جیسے صوفی شاعروں کے گرد عامۃ الناس کی عقیدتوں، جعلی صوفیوں کی دسیسہ کاریوں، جدید لبرل دانشوروں اور ترقی پسندوں و قوم پرستوں کی تانے ہوئے پر فریب پردے چاک ہو جائیں گے۔ کیونکہ افسانے ہمیشہ حقیقت پر حاوی رہتے اور تخیل کی رنگینیاں واقعیت کے بے آب و رنگ آئینے کو دائم دھندلا کیے رکھتی ہیں۔

لیکن اتنی بات تو طے ہے کہ شاہ حسین پر اس تازہ تحقیق کے بعد بھی ہمارے لبرل ترقی پسند اور قوم پرست دانشور اگر شاہ حسین کے اسی روایتی و خرافاتی بت کے گرد دھمال ڈالتے نظر آتے ہیں تو یہ ان کی معروضیت کے دعووں اور عقلیت پسند دانش جوئی پر ایک بہت بڑا سوال ہو گا!

ایک اور بات بلا مماثلت اور مشابہت عرض ہے۔ تاریخ کی یہ ستم ظریفی قابل ملاحظہ ہے کہ ابن عربی کے بارے میں اس کے معاصرین اور سخت ناقدین کی ان مستند گواہیوں کے باوجود کہ ’شیخ اکبر کی ظاہری زندگی پوری طرح احکام شریعت کے مطابق تھی‘ ، بعضے بدبین ان کے متن کی کچھ عبارتوں کو بنیاد بنا کر مستقل ان سے زندقہ نکالتے اور انہیں مطعون کیا کرتے ہیں۔ لیکن اگر شاہ حسین کا معاملہ ہو تو ان کے متن کی گواہیوں کے علی الرغم ان کی زندگی کی گرد بُنی ہوئی تخیلی داستانوں کو مستند مان کر ان کی خیالی صنم تراشی کے گرد رقصاں رہتے ہیں : یعنی ابن عربی کا معاملہ ہو تو شخصی گواہیاں ناقابل اعتبار اور متن پر بھروسا؛ اور شاہ حسین کی باری آئے تو متن سے کلیتاً صرفِ نظر اور صرف کہانیوں پر اعتبار! ہیں نا مزیدار رویے؟

ہمارے رویے خواہ کچھ ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرخ یار نے شاہ حسین کے عشق نامہ میں بڑی دقیقہ سنجی سے ان کے گرد بُنے تانے بانے کے جالوں کو صاف کر کے ان کی ایک اجلی جگمگاتی اور روشن تصویر پیش کی ہے۔ ملامت کے تصور کے تاریخی سفر میں ملامت کے حقیقی معنی کھوج اور بعد کے زمانوں میں اس کی بدلتی صورتحال کی قلعی کھول کر، اور سب سے بڑھ کر شاہ حسین کی کافیوں کی متن اساس (close reading) تعبیر کی بنیاد پر ان کی شخصیت پر پڑی گرد جھاڑ کر کا ان کی ایک واضح تصویر ہمارے سامنے پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ شاہ حسین کی رندی و اوباشی مے نوشی و رقص کنی اور مادھو لال کے ساتھ بدمستی کی کوئی مثال ان کی کافیوں میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی حالانکہ شاعری کے اندر ایسے معاملات کو سمونے اور پھر بھی احتساب و فتویٰ سے بچ نکلنے کا وافر سامان ہوتا ہے۔

فرخ یار کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ ان کے تیار کردہ عشق نامہ کے مباحث پر جب جب نظر پڑتی ہے زبان پر بے ساختہ یہ شعر آ جاتا ہے

تا شود فصل بھار از مدد گریہ ابر
گل خندان بطراوت چو رخ فرخ یار

باقی رہ گئے ”پاکستانی ادب اور واردات عشق و جنوں“ والے پروفیسر فتح محمد ملک تو وہ منٹو سے لے کر راشد اور احمد فراز تک سے اسلام برآمد کرنے کے حوالے سے ویسے ہی بدنام ہیں۔ انہوں نے بعض شواہد کی جمع تفریق کی بنیاد پر شاہ حسین، مجدد الف ثانی اور علامہ اقبال کی کڑیاں ملاتے ہوئے اگر

”شاہ حسین کا نقشبندی سیاسی مسلک ارتقائی مراحل طے کرتے کرتے بیسویں صدی میں اقبال کے تصورِ پاکستان میں عکس ریز“ دیکھ لیا ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہر قسم کی رومانوی اڑانوں سے گریزاں اور کڑے حقیقت پسند قائد اعظم نے بھی تو ’پاکستان کو اسی دن وجود میں آتے دیکھ لیا تھا‘ جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا ’!

تفنن برطرف، مگر یہ ایک حقیقت ہے پاکستان صرف ایک ارضی ٹکڑے اور جغرافیائی خطے کا نام نہیں بلکہ یہ ان تہذیبی و ثقافتی روایات کا وارث ہے جن کا ایک مؤرث اعلیٰ باغبانپورے والا بابا شاہ حسین بھی ہے اور یہ کہ اگر شاہ حسین سے پنجابیت، مقامیت، مرزبومیت اور پنجابی کلچر وغیرہ دریافت کرنے والے ان کارستانیوں کے باوجود معروضیت پسند نقاد کہلا سکتے ہیں تو پھر شاہ حسین کے ”نقشبندی سیاسی مسلک“ کا پاکستان میں عکس ریز ہونا بھی کیوں مستبعد ٹھہرے؟

بھانت بھانت کی ادبی تھیوریز والے ان تھیوریز کے روزن سے کسی متن کو دیکھنے کا سب سے بڑا جواز یہ بتایا کرتے ہیں کہ اس کارگزاری سے متن کے اندر نت نئے معنی پیدا ہونے کے امکانات کھلتے ہیں، اور متن کے جتنے معانی ہوں اتنا ہی اچھا کہ کثرت تعبیر کا حامل متن بے تہہ متن کی نسبت زیادہ تخلیقی ہوتا ہے!

سوال ہے کہ مجھ جیسا راقم آثم رولاں بارت کے مرگِ مصنف، دریدا کے التوائے معنی اور روزن بلیٹ، فش اور ایسر کی قاری اساس تنقید سے کام لے کر معانی کے نئے جہان کھوجتا کثرتِ تعبیر والا مستحسن منہج اختیار کرتے ہوئے اگر ”اسلامی تہذیب تھیوری“ والے عدسے (lens) کی مدد سے شاہ حسین سے ”پاکستانی ادب“ کا سراغ کشید کر نکالے تو ہمارے عدسے کی یہ کارستانی کیوں مذاق کا نشانہ بنے؟ پاکستانی ادب کے تصور پر اعتراض کرنے والے اکثر جو یہ سوال اٹھایا کرتے ہیں کہ پاکستانی ادب صرف اردو میں ہی کیوں، ہماری علاقائی زبانوں کے ادب کو اس بحث سے باہر کیوں رکھا جاتا ہے، تو ہماری اس کاوش سے ان کی بے چینی کو قرار آنے کا سامان بھی ہو جائے گا۔

اسلامی تہذیبی روایات بھی اگر پاکستانی ادب کا حصہ نہ بنیں تو پاکستانی ادب بھی محض دیگر ارضی خطوں لاطینی امریکی، فرانسیسی، جرمنی اور روسی چینی اور فلاں فلاں ادب کی طرح کا ایک جغرافیائی ادب ہی تو بن کے رہ جائے گا نا! پاکستانی ادب اب تک ایسا بن سکا ہے؟ یا اگر نہیں بن سکا تو سوال ہے کہ بعید بعید مستقبل میں اس کے اپنی تہذیبی روح کا آئینہ بن سکنے کے امکان کو کیوں رد کیا جائے؟

اخری نوٹ۔

اس تحریر میں ہم نے اپنے علاقائی صوفیہ کو مقامیت کی تھیوری کی آنکھ سے دیکھنے کے رویے کو جابجا جدیدیت اور پس نو آبادیاتی مطالعات کی دین لکھا ہے جبکہ فرخ یار کے مقدمے کے بعض اقتباسات میں اس رویے کی شہادتیں ایوب خان کے دور کے بعض ترقی پسند دانشوروں کی سرگرمیوں سے بھی دی گئی ہیں۔ مبادا کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اُس دور میں تو ابھی پس نوآبادیاتی مباحث شروع ہی نہیں ہوئے تھے تو پھر یہ سب کیسے، تو اس بارے میں مختصر یہ ہے کہ نوآبادیات ہو، جدیدیت ہو یا ترقی پسندی اور پھر مابعد جدیدیت ہو یا پس نوآبادیات، اپنی اصل اور نہاد میں یہ سب تحریکِ تنویر اور سیکولر ہیومنزم کے انڈے بچے ہیں۔ ان سب میں بے شمار اختلافات کے باوجود ماورائے زمین و زمان اور بالائے حیات و انسان کسی بالاتر ہستی، حقیقت اور حیات و کائنات میں اس کی اثر اندازی و کار فرمائی کی ہمیشہ سے کوئی گنجائش نہیں۔ لہذا جدیدیت ہو یا ترقی پسندی مابعد جدیدیت ہو یا پس نوآبادیات ان سب کا حاوی ورلڈ ویو ایک ہی ہے اور تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مذہب تصوف تہذیب ثقافت صوفیانہ شاعری اور ادب و فن کے ساتھ ان کا برتاوا بھی کم و بیش یکساں اور ایک عظیم قدرِ مشترک پر قائم رہتا ہے : غیر شخصی صفات کی حامل حاکمیت اعلیٰ، جس کی سب سے بڑی نمائندہ ریاست ہے! جو کسی کے آگے جواب دہ نہیں جس کو لاطینی امریکہ افریقہ آسٹریلیا اور پچھلی صدی کے جاپان سے لے کر 21 ویں صدی کے غزہ تک ہر قسم کے استبداد روا رکھنے اور حتیٰ کہ دوسروں کی علمی روایات کا قتل اور نسل کشی تک کا مکمل حق حاصل ہے! یاد رہے کہ جدیدیت کی نہاد میں پنہاں غیر کی علم کشی اور نسل کشی کسی واقعے کا نام نہیں بلکہ یہ ماڈرنٹی کی نہاد میں پنہاں فکری ڈھانچے (structure of thought) کے ایک تسلسل اور عمل ِجاریہ کا عنوان ہے!

ایسے عظیم الشان کارنامے سرانجام دینے والی روشن خیال جدیدیت کے لیے شعر و ادب کے ساتھ ایسے کھلواڑ کرنا تو چیونٹی کچل دینے سے زیادہ معمولی اور معمول کی بات ہے!

تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں

Ramón Grosfoguel, ”The Structure of Knowledge in Westernized Universities Epistemic Racism/Sexism and the Four Genocides/Epistemicides of the Long 16th Century“

Facebook Comments HS