ناول لہو رنگ فلسطین (دوسرا حصہ)


فلسطین سے محبت کی سرشاری میں جب ناول میں اس دھرتی کے شعرا کا ذکر آیا، تب بے اختیار میرا دل چاہا کہ میں ان نظموں کا مطالعہ کروں جو ان جری شعرا  نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس مٹی کی محبت میں اپنا قلم دکھ، درد اور رائیگانی کی سوز بھری روشنائی میں ڈبو کر، محبت سے رقم کیں۔

جن شعرا نے اپنی شاعری میں ابتدا ہی سے عرب اسرائیل تنازعے کو بیان کیا، ان میں نزار قبانی اور محمود درویش جیسے محبت کے متوالے شعرا کا ذکر سب سے پہلے آتا ہے، جو فلسطین کو اپنا دل مانتے ہیں اور اس دھرتی کے سبھی دکھوں کو اپنی روح میں اتار لیتے ہیں۔ سلمیٰ آپا کے ناول ”لہو رنگ فلسطین“ کے مطالعے کے ساتھ ساتھ جب میں نے نزار قبانی کی شاعری کو اس کے ساتھ جوڑ کر پڑھنا شروع کیا تو جیسے فلسطین کا غم میرے اپنے دل کا درد بنتا چلا گیا۔

نزار قبانی ( 1923۔ 1998 ) شام اور دنیائے عرب کی طاقتور انقلابی آواز تھے۔ انھوں نے 1967 ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ پر عربوں کی سخت مخالفت کی تھی اور مصری حکمران جمال عبدالناصر کی کئی باتوں اور پالیسیوں سے اختلاف کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان کی کئی سیاسی مصلحتوں پر بھی خوب تنقید کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مصری حکمران جمال عبدالناصر ان پر خاصے برہم ہوئے اور ان کے حکم پر مصر کی سحر انگیز آواز اُم کلثوم نے نزار قبانی کی جو نظمیں گائی تھیں ان سب کو جلا دیا گیا۔ یہ بات یہیں تک نہ رکی بلکہ ان کے مصر میں داخلے اور ان کی کتب کی اشاعت، خرید اور فروخت سب پر مصر میں پابندی لگاتے ہوئے ان پر مقدمہ چلانے کا اصرار بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے ان کی ایک یادگار نظم ملاحظہ کیجیے :

یاد رکھو!
جنگیں کبھی جیتی نہیں جاتیں
طاؤس و رباب کے ساتھ
ہمارے دشمن ہماری سرحدوں میں رینگ کر نہیں آئے
وہ تو چیونٹیوں کی طرح
ہماری کمزوریوں کے ذریعے آئے ہیں
وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
اگر اتفاق و اتحاد کو ہم دفن نہ کر چکے ہوتے
اس کے نوخیز بدن میں سنگین نہ اتار چکے ہوتے
اور
اگر اتحاد ہمارے درمیان باقی ہوتا
تو دشمن یوں ہمارے خون سے ہولی نہ کھیلتا

اپنی بیوی بلقیس جس سے انھیں دل و جاں سے محبت تھی۔ وہ بغداد کے ایک مشاعرے میں انھیں ملیں اور وہ پہلی ہی ملاقات میں ان پر فدا ہو گئے تھے۔ بلقیس وقت ماری گئیں، جب 1881 میں لبنان عالمی طاقتوں کی مداخلت کی بدولت خانہ جنگی سے گزر رہا تھا، تب ان کی عدم موجودگی میں ایک بم عراقی سفارت خانے پر گرا، وہیں قریب واقع ہونے کی وجہ سے نزار قبانی کا گھر بھی اس دھماکے کی لپیٹ میں آ گیا اور بلقیس موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئیں۔ بلقیس کی وفات پر درد و رقت کے تحت کی گئی ان کی شاعری مرثیہ گوئی کی تاریخ میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ وہ دکھ سے بار بار کہتے :

شکریہ! میری بلقیس کو مارنے کا شکریہ!
اب جاؤ اور جام نوش کرو
شہید کی قبر کے کنارے
کہ میری نظم بھی قتل ہو گئی
اسی طرح ایک اور جگہ بڑے کرب سے لکھتے ہیں کہ:
بلقیس تم میرا درد ہو
وہ درد جو نظم لکھتے ہوئے
مجھے اپنے دل
اور انگوٹھے میں محسوس ہوتا ہے
ان کی ایک نظم ”او یروشلم“ دکھ درد اور مزاحمت سے بھرے درد کی عکاس ہے ذرا یہ سطور دیکھیے :
او یروشلم
افسردگیوں کے شہر تم ایسے ہو
جیسے آنکھ میں تیرتا پھرتا ایک بڑا سا آنسو
تم جو مذاہب کے قیمتی موتی ہو
تمہاری خون آلود دیواریں کون دھوئے گا؟
انجیل کی حفاظت کون کرے گا؟
عیسیٰ کی حفاظت کون کرے گا؟
وہ جنھوں نے عیسیٰ کو مارا؟
اب انسان کو کون بچائے گا؟
ایک اور جگہ اپنے دکھوں کو لفظوں کے قالب میں کچھ یوں ڈھالتے ہیں کہ:
ہماری آہ و بکا ہمارا چیخنا چلانا
ہمارے کاموں سے زیادہ بڑا ہے
ہماری تلواریں ہماری قامت سے
کہیں زیادہ لمبی ہیں
ہمارا المیہ یہی ہے
ہم جدید تہذیب کی قبا تو ضرور پہن لیتے ہیں
لیکن ہماری روحیں
پتھر کے زمانوں میں ہی رہتی ہیں

”میں دہشت گردی کا حامی ہوں“ جیسی شہرہ آفاق نظم نے جہاں انھیں دنیا بھر میں پہچان دی، وہیں اس نظم کو لے کر ایک بہت بڑا ہنگامہ و طوفان بھی اٹھا، مگر شاعر کو اس سے کیا غرض، انھیں تو اپنا درد، اپنا کرب اور اپنا دکھ لکھنا تھا۔ ذرا اس نظم کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے :

ہمیں دہشت گرد کہا جاتا ہے
اگر ہم اسرائیلی بلڈوزروں تلے آ کر
مرنے سے انکار کر دیں
اپنے لوگوں پر ہونے والے
ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھائیں
وہ ہماری دھرتی ملیا میٹ کر رہے ہیں
اگر ہمارا گناہ یہ ہے تو
واللہ! کتنی خوبصورت ہے دہشت گردی
میں د۔ ہشت گر۔ د۔ ی کا حامی ہوں

نزار قبانی کے ساتھ فلسطین کے دل کی آواز محمود درویش کو پڑھنا، درد کی ایسی ٹیس کی مانند تھا جس کا کرب دل سے کبھی جاتا ہی نہیں۔ محمود درویش ( 1941۔ 2008 ) جنھیں فلسطین میں انسانیت کا پیغمبر تسلیم کیا جاتا ہے، انھیں محض چھ برس کی عمر میں، اپنے سر سبز و شاداب گاؤں براوہ سے فقط اس لیے بھاگنا پڑا کہ وہ گاؤں صیہونی قوم کی قبضہ گری کی فہرست میں شامل تھا۔

غصے اور نفرت سے بھرے ایک صیہونی فوجی کے عتاب سے ماں کی انگلی تھامے بچ نکلنے اور لبنانی پناہ گزین بننے تک کی سبھی خوفناک و المناک یادیں ان کے ننھے سے دماغ پر ثبت ہو گئی تھیں۔ ننھا سا ذہن بس یہی ایک بات بار بار سوچتا کہ ہم سے ہمارا گھر کیوں چھینا گیا؟

جیزن اور دیمور میں سال گزارنے کے بعد جب وطن واپسی ہوئی تو اب وہ اسرائیلی ریاست کی شکل اختیار کر چکا تھا جہاں وہ غیر تھے۔ اپنے ہی گھر اور مدارس میں چھپ چھپ کر رہنے اور کسی بھی وقت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نکالے جانے کا خوف ہمیشہ ان کے اعصاب پر حاوی رہا۔ لبنان کا ذکر تو ویسے بھی ممنوعہ تھا کہ جہاں ابتدائی پناہ گزینی کی بھنک بھی انھیں دہشت گرد قرار دے سکتی تھی۔

غربت اور کسمپرسی کے ہاتھوں مجبور خاندان کا یہ ننھا سا فرد کوئلوں سے دیواروں پر تصویریں بناتا اور اپنے دل سے نکلنے والی آہوں کو لفظوں کی شکل دے کر شاعری کے قالب میں ڈھالتا رہا۔ اسرائیل کی آٹھویں سالگرہ کے موقع پر جب عرب رہائشی علاقوں میں جلسوں اور سکولوں میں تقریری مقابلہ جات کی اجازت دی گئی تو انھوں نے اپنے کرب کا اظہار جس احتجاجی نظم میں کیا وہ ایک ننھے بچے کے ڈرے سہمے خیالات و سوالات کا اظہار تھی:

تمہارے پاس گھر ہے
میرے پاس گھر کیوں نہیں؟
تم جیسے چاہو جس طرح چاہو
سورج کے نیچے کھیل سکتے ہو
میں کیوں نہیں؟
خوشیاں تمہارے لیے ہیں
میرے لیے کیوں نہیں؟
میں ایک پناہ۔ گزین کیوں ہوں؟
تم اور میں اکٹھے مل کر کیوں نہیں کھیل سکتے؟

اگلے ہی دن انھیں فوجی دفاتر طلب کر لیا گیا۔ خوب کھنچائی اور سرزنش کی گئی، بری طرح ڈرایا دھمکایا جاتا رہا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے ان کے اندر غم، غصے اور بغاوت کو جنم دیا۔ اپنے درد اور محرومی کے احساس کو انھوں نے ہمیشہ شعری قالب میں ڈھالا اور فلسطین کے لوگوں کی ترجمانی کی۔ انھیں کئی مقامی عیسائی و یہودی دوستوں کا سہارا بھی ملا، جنھوں نے ہمیشہ انھیں اپنی پہچان اور اپنی دھرتی کی آواز قرار دیا اور اس فلسطینی قومیت کی بھی جو اب ان سب کی واحد مشترکہ شناخت تھی۔

1956 میں اس ننھے لڑکے کو غزہ پر قبضے اور مصر پر حملے کے خلاف ہڑتالوں اور جلوسوں کے سبب کچھ عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔ 1960 میں ہائی سکول کی تعلیم مکمل ہونے اور 1970 میں ماسکو سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہ ایک چیز جو ہمیشہ ان کے وجود کا حصہ رہی، وہ ان کی دکھ، درد اور کرب کے بیان پر مشتمل شاعری تھی۔ ان کی شاعری کا پہلا دور ہجرت اور غریب الوطنی کے ان دکھ بھرے تجربات کا بیان ہے جسے انھوں نے کمسنی میں دیکھا اور سہا۔

لبنان پر اسرائیل کی غاصبانہ بمباری سے جنم لینے والے آگ اور خون کے کھیل نے ان کے اندر جس بغاوت اور شعری مزاحمت کو جنم دیا وہ ہر فلسطینی کے دل کی آواز تھی۔ کسی بھی قسم کے مذہبی تعصب سے بالاتر ہو کر انھوں نے ہمیشہ اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو فقط فلسطین کی شناخت سے پہچانا اور اپنایا۔ وہ ہمیشہ جنگ کے نہیں محبت کے علمبردار رہے۔ ذرا ان کے یہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے :

میرے وجود میں ایک دل کی ضرورت ہے
ایک بندوق کے میگزین کے وزن کی ضرورت نہیں
میں مرنے سے انکاری ہوں
اپنی بندوق کو محبت میں بدلتا ہوں

مگر محبت بھرے اس دل کو جب محبت کرنے والے پیاروں کے خون کی ہولی دیکھنا پڑی تو وہ درد سے بلبلا اٹھا۔ ان کی نظم ”شناختی کارڈ“ ایک ایسی چیخ ایک ایسا نوحہ تھی جس نے عرب دنیا کو دہلا کر رکھ ڈالا اور اسرائیل کی نفرت کو مزید گہرا کر دیا۔

رجسٹر میں لکھو میں ہوں عرب
کارڈ کا نمبر ہے اکاون ہزار
میرے بچے ہیں آٹھ
اور نواں آنے کو ہے گرما کے بعد
تم نے ہی چھینے ہیں مجھ سے
باغ تھے جتنے میرے اجداد کے
اور چھینا ہے زمین کا قطعہ
ہاں تو پہلے صفحے پر لکھو
مجھ سے انسانوں کو کوئی بغض یا نفرت نہیں
لیکن اتنا ہے کہ
میرا رزق گر چھن جائے گا
غاصبوں کا گوشت بھی کچا چبا جاؤں گا میں
بس ڈرو تم بھوک سے میری ڈرو
اور میرے غیظ و غضب سے بھی ڈرو!

ان کی نظم ”عاشق من الفلسطین“ اس دھرتی سے محبت کا ایسا والہانہ اظہار ہے جس میں وطن کی محبت رگوں میں خون کی طرح دوڑتی محسوس ہوتی ہے۔ ذرا یہ اشعار دیکھیے :

ہمارا ملک وہ ملک ہے، جس کے ہم ملک بنتے ہیں
اس کے پرندے اور اس کے پھل پھول
اس کی سب جاندار و بے جان چیزیں
ہمارا ملک ہے ہماری جائے پیدائش
ہمارے آبا و اجداد کی
ہماری آنے والی نسلوں کی
ہمارا ملک تو وہ ہے
جہاں ہمارے لوگ
آگ اور راکھ سے
اس کے گرد بنفشی باڑ بناتے ہیں
اس انداز سے کہ
ایک طرف جنت اور ایک طرف جہنم!

دنیا جہاں میں فلسطین سے محبت و حریت کی بناء پر ان کے وجود کو جو محبت ملی، اس نے انھیں آفاقی شاعر بنا ڈالا۔ ”یوسی ساردد“ جو اسرائیل کا وزیرِ تعلیم تھا اس نے محمود درویش کو اس خطے کا نمائندہ شاعر ہونے کے ناتے، ان کی پانچ نظموں کو اسرائیلی سکول میں اختیاری مطالعے کے طور پر یہ کہہ کر شامل کرنا چاہا کہ ”ایک دوسرے سے لا تعلقی اچھے پڑوسیوں کے زمرے میں نہیں آتی۔“ مگر حکومتی اراکین کی سخت مخالفت پر اس تجویز کو رد کر دیا گیا۔

فلسطین کی تاریخ اور اس کے اجتماعی تہذیبی ورثے کی امین یہ شاعری اپنے اندر صدیوں کے اس جبر کو سموئے ہوئے ہے جو ہر فلسطینی کے دل کا نوحہ و کرب ہے۔ ذرا ایک نظم ”قید اور محاصرے میں“ کے یہ چند مصرعے ملاحظہ کیجیے :

زمین ہمارے اوپر تنگ ہو رہی ہے
ہم کہاں جائیں گے
اس آخری سرحد کے بعد
پرندے کہاں اڑیں گے
اس آخری آسمان کے بعد

1988 میں ان کی ایک اور نظم جو اسرائیلی پارلیمنٹ میں بھی زیرِ بحث آئی اور جس نے بڑا طوفان اٹھایا گیا اس کی بھی چند سطور ملاحظہ کیجیے :

ہماری زمین کو چھوڑ دو
ہمارا ساحل، ہمارا سمندر
ہماری گندم، ہمارا نمک
اور ہمارے زخم!
(دوسرا حصہ ”لہو رنگ فلسطین“ ۔ ابھی جاری ہے )

Facebook Comments HS