ڈاکٹر یاسمین راشد: ایک مسیحا، ایک مجاہدہ


جب بھی علم و خدمت اور مزاحمت کے امتزاج کی کوئی مثال درکار ہو، جب بھی عورت کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہو اور جب بھی استقامت ہمدردی اور پیشہ ورانہ شرافت کا نام لیا جائے تو ایک عورت کی شخصیت روشن ستارے کی مانند جگمگاتی نظر آتی ہے۔ وہ نام محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ ایک ایسا عہد جو علم، عزم اور انسانی خدمت سے لمحہ لمحہ عبارت ہے۔ 21 ستمبر 1950 کو پنجاب کے ضلع چکوال کے گاؤن نیلہ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ لاہور منتقل ہوئیں جہاں انہوں نے کونونٹ آف جیزیز اینڈ میری سے تعلیم حاصل کی۔ 1978 میں انہوں نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں برطانیہ سے انہوں نے رائل کالج آف آبسڑٹیکس اینڈ گائناکالوجی سے MRCOG کی ڈگری 1989 اور 1999 میں FRCOG کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کراچی کے کالج آف فریشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان سے FCPS کی ڈگری بھی حاصل کی۔
یاسمین راشد محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ ایک ایسا عہد جو علم، عزم اور انسانی خدمت سے عبارت ہے۔ انہوں نے گائنا ولوجی جیسے حساس شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ وہ شعبہ جہاں صرف لمبی مہارت کافی نہیں ہوتی، بلکہ دل کی وسعت، رحم و شفقت اور ایک خاص قسم کی نسوانی فراست بھی درکار ہے۔ ان کی میڈیکل تعلیم محض ڈگریوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک درخشندہ روایت کی تجدید تھی۔ ایک ایسی روایت جو فاطمہ جناح جیسے بے لوث کردار سے جُڑی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے صرف مریضوں کا علاج نہیں کیا، بلکہ عورتوں کی عزت نفس، محبت سے زچگی اور ماں بننے کے سفر کو وقار بخشا۔ وہ اَن گنت خواتین کے لیے نہ صرف ایک ڈاکٹر تھیں بلکہ ایک ماں، ایک بہن اور راز دار بھی تھیں۔ یاسمین راشد کی زندگی کا ایک اور درخشندہ باب تب کھلا جب انہوں نے طب کے دائرے سے نکل کر عوامی سیاست میں قدم رکھا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس میں ان کے ذاتی مفاد کی بجائے عوامی اجتماعی فلاح کا جذبہ کار فرما تھا۔ سیاست کے خارزار میں قدم رکھنا آسان ہر گز نہ تھا۔ خصوصاً ایک ایسی عورت کے لیے جو علم و عمل کی پہچان رکھتی ہو۔ مگر انہوں نے اس راہ کو اپنے اعتماد، خلوص اور اصولوں سے سنوارا۔ ایک طرف وہ اسپتالوں میں مریضوں کے زخموں پر مرہم رکھتی رہیں تو دوسری جانب اسمبلی میں بیٹھ کر صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قوانین کی جنگ لڑتی رہیں۔


ان کی وزارتِ صحت کے دور میں سرکاری ہسپتالوں کی اَپ گریڈیشن، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تربیت اور ماں اور صحت کے حوالے سے متعدد سکیمیں متعارف کروائیں گئیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدارت کے دوران بھی انہوں نے نہ صرف خواتین مریضوں کو درپیش مسائل کو اُجاگر کیا بلکہ ان مسائل کو حل کروانے کے لیے جاں توڑ کوششیں بھی کیں۔ وہ طبی اخلاقیات کی علم بردار تھیں۔ ان کے لیے مریض محض ایک ”کیس“ نہیں بلکہ ایک ”کہانی“ ہوتی۔ ایسی کہانی جس میں دُکھ، امید اور نجات چھپی ہوتی ہے۔ گائنا کولوجی میں ان کا علاج محض دواؤں تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ روحانی اور جذباتی پہلوؤں کو بھی ساتھ لے کر چلتی تھیں۔ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھیں کہ ایک عورت جب زچگی کے درد سے گزرتی ہے تو اسے صرف جسمانی دیکھ بھال نہیں بلکہ حوصلے، پیار اور تحفظ کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد وہ ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں نہ صرف سیاست کے میدان میں اپنی جگہ بنائی۔ بلکہ اپنی ایمان داری، خلوصِ نیت اور سچائی کی وجہ سے عوام کے دل بھی جیتے۔ ان کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں جو ہمیں سخت ترین حالات میں بھی استقامت کا درس دیتے ہیں۔ خاص طور پر ان کی جیل کی زندگی اور کینسر کے خلاف جدوجہد ان کی اٹوٹ ہمت کی زندہ مثال ہے۔ جس وقت ڈاکٹر یاسمین راشد کو سیاسی دشمنیوں اور نا انصافیوں کی بنیاد پر جیل میں ڈال دیا گیا تو ان کے لیے یہ وقت بہت ہی کٹھن تھا۔ خاندان سے دوری، جیل کی تنہائی اور بے سہارا پن ان کے لیے کڑے امتحان تھے۔ وہ صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ جیتی جاگتی محبت کرنے والی ایسی زندہ مثال ہیں جو ہر درد کو گلے لگا کر مسکراتے ہوئے اپنی جیت کا قصہ سناتی ہیں۔ جیل کی دیواروں میں بھی وہ ایک دلیر ملکہ کی طرح اپنی ایمانداری کی تلوار لیے ظلم و ستم کے اندھیروں سے لڑ رہی ہیں۔ کینسر جیسا جان لیوا مرض ایک قاتل سایہ ان کے سائے میں گھومتا رہا مگر یاسمین راشد کی روح میں اُمیدوں کے چراغ جلتے ہیں۔ مسکراہٹ تو مانو جیسے ان کی وہ پکی سہیلی ہے جو ہر دم لبوں پر سجی رہتی۔ درد کی ہر سسکی میں محبت کی بسی خوشبو ان کی ہمت کو جِلا بخشتی ہے۔ ان کی ہر جد و جہد میں ایک نہ ختم ہوئے والی ایسی امید ہے جو نوجوانوں کو بھی حوصلہ دیتی ہے۔ وہ انسانیت کی بے لوث محبت میں جیتی ہیں حتیٰ کہ اپنی قوم کی بھلائی کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ یہ ہی ان کی شان ہے۔ ان کی گرفتاری اور سیاسی مقدمات نے ان کے صبر، عزم اور جرات مندانہ پہلوؤں کو بے نقاب کیا۔ کوئی بھی ایسا شخص جو صرف عوامی خدمت کی نیت سے سیاست میں آیا ہو وہ صاحبِ ضمیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے مردانہ وار خندہ پیشانی سے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ یاسمین راشد اس بات کی علامت ہیں کہ عورت صرف کمزور، مظلوم یا محتاج ہی نہیں ہوتی وہ مسیحا بھی ہے۔ رہنما بھی ہے اور قربانی کا پیکر بھی۔ وہ ہزاروں بیٹیوں کے لیے حوصلے کی روشن مشعل ہیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ایمانداری کا استعارہ اور ان گنت ماؤں کے لیے اُمید کی کرن ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی شخصیت ادب کے ہر اس کردار سے بڑھ کر ہے جو قلم کاروں نے تخلیق کیے۔ کیوں کہ وہ بہادری کی جیتی جاگتی داستان ہیں۔ ایک ایسی کتاب ہیں جس کے ہر صفحے پر خدمت، ہر نئے باب کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے تاریک ترین لمحوں میں بھی امید کی کرنیں جلائے رکھیں۔ اگر تاریخ انصاف کرے گی تو ڈاکٹر یاسمین راشد کی شخصیت کو محض ایک سیاستدان یا معالج کے طور پر نہیں بلکہ ”ایک مسیحا۔ ایک روحانی مجاہدہ“ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ جس نے ہر درد کو اپنے دل پر سہا، ہر چوٹ پر مسکرائیں مگر پھر بھی خدمت کرتی رہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ زنداں کی سنگلاخ سلاخوں کے پیچھے سے اصولوں اور جمہوریت کی دیوانی بزرگ ماں کو آزادی دی جائے تاکہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں اپنے بچے ہوئے خوابوں کی مشعل جلا کر اندھیروں میں روشنی کریں تاکہ لوگ ان کی پیروی کر سکیں۔ کیا عمر بھر انہوں نے اپنے وطن اور معاشرے کی خدمت اس لیے کی کہ جیل کی سلاخیں ان کا مقدر ہوں۔ آخر میں میری ایک چھوٹی سی نظم ان کے لیے خراجِ تحسین :

وہ جو خالص ہے وفا کا نام ہے
وہ تو مسکراہٹ کے سکوت میں کلام ہے
عجب انوکھی سی خامشی کا وہ کوئی احتجاج ہے
مامتا اور خلوص کا وہ حسین سا امتزاج ہے
اک فکری انقلاب ہے اس کی نظر کے سامنے
ہر ایک شہری آیا ہے ہاتھ اس کا دیکھو تھامنے
وطن کی محبت میں دردِ دل کے سوز سے۔
اپنے بدن کی بوڑھی ہڈیاں بھلا بھسم کرتا ہے کوئی
ہاں اِک دیوانی بزرگ ماں
ہمارے تمہارے پنجاب کی ماں

Facebook Comments HS