پہاڑوں کی سرزمین کی صدائے محبت
میں ڈاکٹر خالدہ نسیم کو ان کے ادبی سفر کی پہلی کتاب ”Echoes from the Mountains کی اشاعت پر مبارکباد دینا چاہتی ہوں اور شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے اتنے خلوص سے یہ کتاب مجھے بھجوائی اس تقریب میں مدعو کیا اور مجھے اس کتاب پر رائے کے اظہار کا موقع دیا۔ یہ کتاب انسانیت، تہذیب، اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں سے محبت اور اپنے نظریات کے لیے صعوبتیں برداشت کرنے اور بہادری سے کھڑی رہنے والے لوگوں اور وقت کی داستان ہے اور اپنے اندر ان اصولوں سموئے ہوئی ہے جن کو ہم آج کے new norm of billionaires میں بھلا چکے ہیں یہ شاعری، محبت اور اصولوں کے لیے بہادری سے اپنی بات کہنے کے حوصلے کی داستان ہے اور میرے لیے یہ وہ محبت کا قرض اتارنے کا موقع ہے جو ہمیشہ مجھے اور میرے خاندان کو اپنے پختون دوستوں سے ملی۔ اپنے بابا اور تایا کے پختون دوستوں کی بدولت مجھے باچا خان کی انگریز سرکار کے خلاف کی گئی پرامن مزاحمت کی تاریخ اور مدھر پشتون موسیقی جس کی شاعری کو میرے لیے ترجمہ کر کے پرلطف بنایا جاتا، دونوں سننے کے موقع ملے۔ اس لیے میرے دکھ کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے جب میں اس عظیم الشان سرزمین کو خون آشام جنگ اور وہاں کے جوانوں کو بارود کی نظر ہوتا دیکھتی ہوں۔ غنی خان جو خانوں کے خان باچا خان کے بیٹے ایک آزاد منش دانشور، روایت کے باغی اور نظریے کے پکے شاعر جن کا دل اپنی سرزمین کے لوگوں کے لیے دھڑکتا تھا ان کی پشتو شاعری کے انگریزی ترجموں ٗ پر مشتمل یہ کتاب ماضی حال اور مستقبل تینوں زمانوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ غنی خان کا نام اور ان کی شاعری اس خطے سے تعلق رکھنے والے ہر نظریاتی انسان کے لیے محترم ہے اور اس لیے میری اس سے آشنائی رہی ہے لیکن اس کو ایک ایسی خاتون کی نظر سے پڑھنا جو خود اپنی سرزمین سے بے حد محبت کرتی ہو اور اپنی زمین اور لوگوں کے دکھ کو ہر لمحہ محسوس کرتی ہو، پڑھنا ایک پرلطف تجربہ ہے۔ خالدہ نسیم نے بطور ٹرانسلیٹر اس سب دکھ کو اسی طرح بیان کیا ہے جیسے غنی خان نے اپنی خوبصورت سرزمین کو شدت پسندی کی آگ میں جلتا دیکھ کر محسوس کیا۔ کیونکہ غنی خان اور خالدہ دونوں نے اس شدت پسندی اور اس کے اثرات کو قریب سے دیکھا اور جھیلا ہے۔ یہ خالدہ کی غنی خان کی نظموں کے چناؤ سے عیاں ہے جو انہوں نے ترجمے کے لیے چنی، جیسے
O lover of Islam
O political momin
Today you praise Islam
What was the praise yesterday?
Today are promises of paradise
We ’re yesterday‘ s promises of hell ?
O ’Islam lover
O ’political momin
شاعری صرف خوبصورت ہم قافیہ الفاظ کو جوڑ کر عزل نظم بنانے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے اردگرد بسنے والے معاشرہ اور زمین کے ساتھ منسلک ہو جانے کا نام ہے۔ وہ شاعری جو عام آدمی کے دکھ تکلیف اور جذبات کی ترجمانی کرے اور اپنے وقت کے جبر اور ظلم کے خلاف صدا بنے صرف وہی شاعری تاریخ اور وقت کے امتحان کو سہار پاتی ہے اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی ہے اور غنی خان کی شاعری وقت اور تاریخ کے امتحان میں کھری اتری ہے کہ آج بھی یہ لوگوں کے دلوں دماغوں اور زبان پر بسی ہے اور ان کے خلاف ہونے والے جبر اور ان کے جذبات کی نمائندہ ہے۔ غنی خان کی شاعری نے عام پختون کے دل و دماغ میں جگہ اس لیے بنائی کیونکہ غنی خان کی روح ایک عام پختون کی روح کی طرح سادہ، دماغ اپنے خلاف ہونے والے ظلم کے خلاف برسر پیکار اور دل اپنی قوم کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ جب میں غنی خان کے عام پختون کی بات کرتی ہوں تو میرا ارادہ اس پختون کی طرف ہے جو آج بھی جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھائے انصاف کے لیے سڑکوں پر بیٹھا ہے، ایلیٹ پشتون کی طرف نہیں جو اسلام آباد کے خوبصورت عالیشان بنگلوں میں بیٹھے اپنی ہی قوم کے بچوں کو بیچ کے ڈالر کما رہے ہیں۔ غنی خان کی شاعری اس عام پختون کے لیے ہے جس نے ہمیشہ عدم تشدد کی تحریک میں ان کے والد اور خاندان کا ساتھ دیا حالانکہ اسی پختون کو انگریز سرکار اور آزادی کے بعد بھی بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے بچوں کو نام نہاد جہاد میں جھونک دیا گیا۔ غنی خان کو اس جھوٹ پر مبنی جہاد اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم برداشت اور تشدد پر مبنی مذہبی انتہا پسندی کے خوفناک نتائج کا بخوبی علم تھا اس لیے وہ اس کے خلاف کھل کر بولتے تھے۔ جب میں نے ان کی نظم ”you call it Jihad“ پڑھی تو میں ان کی سیاسی بصیرت، حقیقت شناسی اور دین کے ٹھیکیداروں کو للکارنے کی جرات پر حیران ہوئی اور مجھے مشال خان کا خیال آیا جن کو سوال کرنے کی پاداش پر ہجوم میں اس بیدردی سے قتل کیا گیا کہ ماں نے مشال کی ٹوٹی ہوئی انگلیاں چومیں۔ مذہب سب سے موثر اور کار آمد ہتھیار ہے عوام کو چپ کروانے کے لیے اور ان کو گونگا بہرہ کر کے امراء کے غلاموں میں بدلنے کے لیے۔ غنی خان نے اس اندھی بہری تقلید کے ہر ستون کو چوٹ لگائی اس لیے میں شکر کرتی ہوں کہ آج کے دور میں غنی خان زندہ نہیں ورنہ ان کا حال مشال خان سے مختلف نہ ہوتا۔
خالدہ اس شدت پسندی کی بربادی اور ہولناکی کے اثرات سے اچھی طرح واقف ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی خوبصورت سرزمین کو جہنم میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ جہاں کروڑوں ڈالر علم اور صحت کی سہولیات عام کرنے کی بجائے عوام کے معصوم بچوں کو مجاہدین اور خودکش بمبار بنانے میں صرف کیے گئے۔ ”And you name it Jahad“ جہاں غنی خان کی سیاسی بصیرت کا اظہار ہے وہاں خالدہ کے درد مند دل کی نشانی ہے جنہوں اس کو ترجمے کے لیے منتخب کر کے اپنی قوم کے ساتھ ہونے والے ظلم کا جائزہ پیش کیا۔
Dollars in pocket
Poison in hands ,
He tells me to kill a Pashtun brother
And calls it Jihad
The home and garden
And creeks and land
A pashtun ’s paradise
All turned into a desert
اس کتاب کی خوبصورتی، خالدہ نسیم کی غنی خان اور ان کی شاعری سے محبت اور اس کی میراث کی حفاظت ہے۔ اسی لیے انہوں نے جب غنی خان کی نظموں کا پشتو سے انگریزی میں ترجمے کا ارادہ کیا تو ان نظموں کا انتخاب کیا جو غنی خان کی سیاسی سوچ اور بصیرت کی عکاس تھیں جن میں انہوں نے مذہبی ٹھیکیداری اور انتہا پسندی کی ریاستی پشت پناہی کو موضوع سخن بنایا تھا جیسے کہ
O ’Mullah your heart is full of self، O‘ Mullah you and I and my personal favourites Islam O political momin اور You name it Jihad۔
جس ملا کو انہوں نے بار بار اپنی نظموں میں مخاطب کیا اور اس کی پھیلائی ہوئی انتہاپسندی کی طرف توجہ دلائی وہ گاؤں کی مسجد کا غریب امام نہیں تھا بلکہ ان ملاؤں کی طرف تھا جنہوں نے مذہب پر جاگیر کی طرح قبضہ کر کے اس کو ہتھیار بنایا اور سادہ لوح عوام کو یرغمال بنا کر ڈالروں کے عوض نام نہاد جہاد میں جھونک دیا۔
That man with the white turban ,
And a long beard to show off ,
Like a hidden poisonous snake
Crushing that cursed hypocrite
Is real Jihad
خالدہ نسیم پشتو اور انگریزی دونوں زبانوں میں قابل قدر مہارت کی حامل ہیں اور اسی مہارت کے سبب وہ غنی خان کی شاعری کی روح اس ترجمے میں برقرار رکھ پائیں ہیں۔ غنی خان جیسے اعلیٰ پائے کے شاعر کی شاعری کا ترجمہ کرنا آسان نہیں کیونکہ ان کی شاعری میں اتنے موضوعات اور جذبات کی ورائٹی ہے کہ اُن کے اظہار اور احساس کو صحیح روح کے ساتھ انگریزی کے قلب میں ڈھالنا کمالِ فن ہے۔ غنی خان کی شاعری میں محبت، وصل، ہجر، وطن سے محبت، مذہبی ٹھیکیداروں کو چیلنج، سیاسی بصیرت، اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا دکھ فلاسفی اور حال سے نکل کر اچھے مستقبل کی امید موجود ہے۔ اسی وجہ سے ان کا موازنہ جان کیٹس سے کیا جاتا ہے لیکن میری نظر میں ان کی شاعری زیادہ وسیع موضوعات اور جذبات کی حامل ہے کہ اس میں محبت اور انسانی جذبات کے ساتھ مذہبی شدت پسند علماء اور انتہا پسندی کی سیاست کے خلاف تنبیہ بھی موجود ہے۔ خالدہ نے بغیر کسی جھجک کے ان سب موضوعات پر غنی خان کی لکھی گئی نظموں کو انگریزی ترجمے کے لیے منتخب کیا اور بہت پیار، خلوص اور مہارت سے ان کے پیغام کو انگریزی میں ترجمہ کیا۔ میں امید کرتی ہوں یہ کتاب پختونوں کی آواز اور ان کے صحیح کلچر کی نمائندہ بنے گی اور اس ایکو چیبیر کو توڑنے میں کامیاب ہوگی جس میں پشتونوں کو طالبان، متشدد اور علم و عقل سے عاری دکھایا جاتا ہے بلکہ دنیا کو بتا سکے گی کہ عدم تشدد کا سب سے بڑا داعی اور عورتوں کی تعلیم کے حق کی سب سے مضبوط آواز باچا خان اور انتہا پسندی کا مخالف محبت امن کا شاعر غنی خان کی سرزمین ہے۔
O lovers
A few moments
In bloom of youth
Rack up the beauty
Of such precious moments
Fill your goblets
Relish the heart
The bells are ringing
Caravan is leaving
Bring your lips
To lips in passion
The Dawn is breaking
Parting is nearing
یہ تحریر ڈاکٹر خالدہ نسیم کی کتاب ”Echoes from the Mountains“ Selected poems of Ghani Khan کی تقریب رونمائی میں پڑھی گئی۔


