اصغر ندیم سید کی افسانوی نثر کا اجمالی جائزہ


ادبی دنیا میں شاہ جی کے نام سے پہچانے جانے والے اصغر ندیم سید کا پہلا بڑا حوالہ ڈراما نگاری ہے مگر محض ڈراما نویسی تک محدود کرنے سے ان کے مقام و مرتبے کی تصویر مکمل نہیں ہو پاتی۔ اس مختصر مضمون میں شاہ جی کے ناولوں اور افسانوی مجموعے کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

آدھے چاند کی رات

”آدھے چاند کی رات“ اصغر ندیم سید کا اولین ناولٹ ہے جو پہلی بار 1993 ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس کا انتساب اصغر ندیم سید کے بچوں عدیل، ماہم اور مریم کے نام ہے۔ ناولٹ کی کہانی ماہ رخ جو کہ پہاڑی علاقے میں ایک سکول ٹیچر ہے اور فیصل جو کہ اسی علاقے کا اسسٹنٹ کمشنر ہے کی ادھوری محبت کے گرد گھومتی ہے۔ دونوں کی ملاقات اتفاقاً ہوتی ہے اور پھر وہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اس محبت کے کھیل میں ایک اور کردار بھی شامل ہے جس کا نام عامر ہے۔ عامر دراصل ماہ رخ کا طالب علم ہے۔ وہ ہاسٹل میں رہتا ہے کیونکہ اس کے والدین کی ایک دوسرے سے علیحدگی ہو چکی ہے۔ والدین کی محبت کے خلا کو وہ ماہ رخ سے انسیت کی صورت پُر کرنا چاہتا ہے۔ عامر، فیصل کی وجہ سے پریشان ہے کہ جب سے ماہ رخ اس سے ملی ہے وہ عامر کا خیال نہیں رکھتی۔ جبکہ فیصل اپنے باپ کی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے اور ماہ رخ سے شادی نہیں کر سکتا۔ جبکہ ماہ رخ داخلی کرب کو برداشت کرنے اور اپنی شخصیت کو ٹکڑوں کی صورت بکھر جانے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آخر میں فیصل تمام پابندیوں سے بغاوت کرتے ہوئے ماہ رخ سے شادی کرنے کے ارادے سے اس سے ملتا ہے مگر وہ انکار کرتے ہوئے، عامر کا ہاتھ پکڑے، ہاسٹل چلی جاتی ہے۔ یوں یہ کہانی اختتام کو پہنچتی ہے۔

کہانی مجھے ملی

2017 ءمیں اصغر ندیم سید کے دس افسانوں پر مشتمل کتاب ”کہانی مجھے ملی“ شائع ہوئی۔ تمام افسانوں کے موضوعات انسانی ادھوری خواہشات، زندگی کے تنگ و تاریک گوشوں، ہجرت کا کرب، تقیسم سے تقیسم ہوئی انسانیت، تقسیم در تقسیم کے کرب سے گزرتے لوگ اور بچھڑی محبتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ مگر یہاں محبت دو جوان جسموں کے درمیان ہونے کے بجائے تاریخی سرحدوں سے پھوٹتی نظر آتی ہے۔ اس مجموعے کی دو کہانیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں، پہلی کہانی ”ایک اور ٹوبہ ٹیک سنگھ“ جو کہ سعادت حسن منٹو کے رنگ میں لکھی گئی ہے اور دوسری ”ایک اور شہر افسوس“ اس میں انتظار حسین کے اسلوب کو برتا گیا ہے۔ یہ دونوں کہانیاں دراصل دونوں لیجنڈز کی خدمات کا اعتراف اور ان سے عقیدت کا اظہار ہیں۔ جب کوئی ادیب اپنے سے پہلے والے یا ہم عصر ادیب کا رنگ اپناتے ہوئے کوئی تخلیق کرتا ہے تو یہ دراصل ان ادیبوں کی قبولیت اور ان سے محبت کے اظہار کا نام ہے۔ مجموعی طور پر تمام افسانوں کا موضوع تقیسم ہے چاہے وہ تقسیمِ ہند ہو یا تقسیمِ پاکستان۔ چاہے وہ حویلی کے بیچ کھڑی دیوار ہو یا دو ملکوں کے درمیان کھینچی گئی سرخ خونی لکیر۔ اس کتاب کا ہندی ترجمہ ہندوستان سے شائع ہو چکا ہے۔

ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر

ملتان کی ایک ہزار سالہ تاریخ کے تناظر میں لکھا گیا ناول ”ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر“ 2019 ء میں شائع ہوا۔ اس ناول کا مرکزی کردار قصہ گو امام بخش ہے جس کی رسائی راجوں مہاراجوں کے درباروں تک بھی ہے اور شاہی حرم تک بھی۔ اصغر ندیم سید نے اس قصہ گو کردار کے ذریعے جاگیرداری نظام کے سیاہ گوشوں کے ساتھ ساتھ جاگیر داروں کی بیویوں کے مسائل تک کو اجاگر کیا ہے۔ یہ ناول دراصل قرۃ العین حیدر کے ناول ”گردشِ رنگِ چمن“ کی طرح مٹتی ہوئی تہذیب اور گم ہوتی بستیوں کا نوحہ ہے۔ ملتان کی تہذیب و ثقافت کو بھی منظرنامے میں شامل کیا گیا ہے۔ حویلیاں کیسی ہوا کرتی تھیں، ان کے رہائشی کیسے لباس پہنا کرتے تھے، کیسے کیسے کھانے دن رات پکائے جاتے اور دستر خوانوں پر سجائے جاتے۔ اس ناول کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ملتانی زمین میں درگاہوں، آستانوں کی کیا اہمیت رہی اور اب تک چلی آتی ہے۔ ملتان میں ادبی حوالے سے کیسے کیسے چائے خانے ہوا کرتے تھے جہاں بیٹھ کر لوگ تازہ موضوعات پر بحثیں چھیڑا کرتے تھے۔ ملتان کی گلیاں محرم الحرام کے دنوں میں کیسا منظر پیش کرتی تھیں اور جدید عہد میں ان گلیوں میں کیوں ہو کا عالم طاری رہتا ہے۔ وہ بازار کہاں گم ہو گئے جو عرقیات و مربہ جات خریدنے کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ وہ خوبصورت لوگ کہاں کھو گئے جو بازار میں خاندانی وجاہت کے ساتھ آلتی پالتی مار اپنی نشستوں پر براجمان ہوتے تھے۔ چوک کے اطراف کی ساری رونقیں کیوں سوگ میں بدل گئیں۔ یہ سب اور اس طرح کے کئی المیے ناول کے کینوس میں بکھرے پڑے ہیں۔ ناول پڑھنے کے بعد قاری خود کو زمان و مکان سے ماورا ہزار سالوں کو اپنے اندر سموئے، خاموش کھڑا محسوس کرتا ہے اور محو حیرت ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی کیوں کر ممکن ہوئی۔ ناول کا اختتام یوں ہوتا ہے کہ ”قصہ گو خود بھی تو ایک قصہ ہوتا ہے۔ جس کا یقین کرنا ہے کر لو۔ نہیں کرنا نہ کرو۔ ایسا ہی کچھ ہوا امام بخش کے ساتھ۔ ایک تھا امام بخش ہمارا تمہارا امام بخش۔ ایک تھا بادشاہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔“

دشتِ امکاں

2021 ء میں ”دشتِ امکاں“ منظرِ عام پر آیا۔ یہ اردو ناول کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جس میں قصہ گو زمان و مکان سے ماورا ہو کر کسی بھی وقت خود کو کسی بھی زمانے میں کھڑا پاتا ہے اور تاریخ کو اپنی نظروں کے سامنے جنم لیتا دیکھتا ہے۔ اس ناول کی کہانی دو میاں بیوی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ مرد کردار، جس کا نام آنس ہے، وہ فوت ہو چکا ہے اور کہانی اس کی زندگی کی داستان جو کہ اس کی بیوی بیان کر رہی ہے سے شروع ہوتی ہے۔ مگر جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے ہمیں آنس زندہ نظر آنے لگتا ہے جو اپنی کہانی خود بیان کر رہا ہے۔ آنس نیورو ڈس آرڈر کا شکار ہے جس سبب وہ خود کو زمان و مکان سے ماورا محسوس کرتا ہے۔ کبھی وہ اس زمانے میں پہنچ جاتا ہے جب وہ لندن کی یونیورسٹیوں میں طالب علم تھا، عشق لڑایا کرتا تھا تو کبھی مؤرخ کے اس روپ میں آ جاتا ہے جس کا کام تاریخی منافقت کو بے نقاب کرنا ہوتا ہے۔ اس کی بیوی بھی آہستہ آہستہ اسی بیماری کا شکار ہونے لگتی ہے اور وہ بھی اپنے شوہر کی طرح اپنی زندگی کے ان سیاہ گوشوں کو سامنے لاتی ہے جو شوہر سے پوشیدہ رہیں تو بہتر ہوتا ہے۔ دوسری طرف آنس بھی اپنی زندگی کے ایسے ایسے راز کھول کے رکھ دیتا ہے کہ اگر وہ تندرست ہوتا تو کبھی اس حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔

اس ناول میں وہ حصے بڑے شاندار ہیں جہاں آنس کے سامنے کبھی فیض احمد فیض تو کبھی ن م راشد آ کر بیٹھ جاتے ہیں، اپنی شاعری اور سماجی بے حسی کو موضوع بناتے ہوئے بڑی جاندار گفتگو کرتے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ آنس کے نام کو اگر کھولا جائے تو وہ اصغر ندیم سید بنتا ہے اور ناول میں کئی جگہ ایسے واقعات موجود ہیں جو خود اصغر ندیم سید پر گزرے۔ اس لیے یہ ناول ایک سطح پر اصغر ندیم سید کی زندگی کی ایک ایسی افسانوی داستان ہے جو آدھے سچ کو مکمل بیان کرتی معلوم ہوتی ہے۔

جہاں آباد کی گلیاں

پاکستان پر مارشل لاء کے دور بڑے بھاری گزرے ہیں۔ ایسے ہی ایک دور کی سیاہ داستان کو احاطہ تحریر میں لاتا ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ ہے۔ یہ ناول 2023 ء میں شائع ہوا اس کا پسِ منظر ضیاء الحق کے مارشل لاء کا سخت دور ہے۔ کہانی مرکزی کردار کے گرد گھومتی ہے جو اپنی کہانی اپنی زبانی بیان کرتا ہے۔ مارشل لاء کے دوران جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو اس حوالے سے مرکزی کردار نے ایک نظم لکھی۔ جس کو حکمران برداشت نہ کر پایا اور مرکزی کردار کو رات کی تاریکی میں گھر سے اٹھا کر شاہی قلعے میں بند کر دیا گیا۔ وہاں سے جلاوطن کرتے ہوئے اسے لندن روانہ کر دیا گیا۔ وہاں کی کہانی بیان کرتے ہوئے مرکزی کردار پاکستانی سیاست دانوں کی منافقت کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف حصوں کے ایسے لوگوں کی کہانیاں منظرِ عام پر لاتا ہے جو غربت کی جبریت کے سبب مجرم بن گئے یا بنا دیے گئے۔ اس ناول میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران کیسے پاکستانی مزدوروں کے لیے لندن کے دروازے کھلے اور پھر ان پاکستانی مزدوروں نے کیسے ان پاکستانی عورتوں کا، جنہیں وہ بیوی کے روپ میں لندن لائے تھے، استحصال کیا۔ ناول میں یہ بحث بھی چھیڑی گئی ہے کہ کیسے مارشل لاء نے پاکستان کو لسانی، نسلی، صوبائی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم در تقسیم کیا۔ مرکزی کردار پاکستان میں بیوی اور ایک نومولود بیٹا چھوڑ کر گیا تھا مگر جب وہ گیارہ سال بعد واپس آیا تو اس کا اپنا ملک اس سے روٹھ چکا تھا، آبائی شہر اجنبی بن چکا تھا اور بیوی بچے سمیت تمام رشتے مارشل لاء کی تاریکی میں کہیں کھو گئے تھے۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais