تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول ( 10)
اس نے خود سے کہا۔
”شریر جانے مٹی کیوں ہوا جار ہا ہے اور من بھی کیسا اجڑا، اجڑا ہے؟ کسی کام کے کرنے پر طبیعت ہی مائل نہیں۔“
یوں کام کرنے کی اسے کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس گھر میں تھوک کے حساب سے نوکر تھے۔ پر رسوئی گھر کا بیشتر کام اسے ہی کرنا پڑتا تھا۔ اس کا سسر ڈاکٹر جو چند سال قبل بنگال کا وزیر صحت تھا کھانے پینے اور برتنوں کی صفائی میں کچھ زیادہ ہی محتاط رہتا تھا۔ یوں گھر میں کچھ زیادہ افراد بھی نہ تھے۔ وہ تھی اس کا سسر اور شوہر۔
ملازم چھوکرا سینی لئے اندر آیا۔ اس نے رومال میں لپٹی چپاتیوں کو کھول کر دیکھا یہ جاننے کے لئے کہ اس کے بیمار سسر نے کچھ کھایا ہے کہ نہیں؟ وہ ملول ہوئی تین روٹیوں میں سے ڈھائی جوں کی توں تھیں۔ اور وہ بھی لکڑی ہو رہی تھیں۔
”رام! بنگال کی عورت کو کبھی اچھی روٹی بنانی نہ آئے گی۔ اب اگر یہ نرم ہوتیں تو وہ کم از کم ایک تو ضرور کھاتا۔“
اس نے سینی پرے کی۔ پتیلی کا ڈھکن اٹھایا۔ ایلش ماچھ کی خوشبو اس کے نتھنوں میں گھسی پر اس کی بھوک نہ چمکی۔
اداسی سے اس نے باہر دیکھا۔ رسوئی گھر سے اسے اپنی راجباڑی کا کشادہ آنگن نظر آ رہا تھا۔ کرشنو چوڑا کے درختوں میں آگ لگی تھی کیلے کے درخت پھل سے جھکے پڑے تھے۔ مالوتی کے بوٹے نکھرے نکھرے کھڑے تھے۔ اوپر بادل گہرے تھے۔ بارش کھل کر برسی تھی اور ابھی اور برسنا چاہتی تھی۔
وہ اٹھی، ساڑھی کا آنچل اس نے پشت پر پھینکا۔ کونے سے بندھا ہوا چابیوں کا گچھا کمر پر لگا تو اسے خفیف سی چوٹ کا احساس ہوا۔ آلتا لگے گورے گورے ننگے پاؤں فرش پر بیزاری سے مارتی وہ کمرے میں آ گئی۔ درگا کی خوبصورت مورتی سامنے کھڑی تھی، اسے میمن سنگھ کے کمہاروں نے آنے والے درگا پوجا کے تہوار کے لئے تراش کر اسے کے سسر کو خصوصی تحفہ بھیجا تھا۔
”کون جانے ہم یہ تہوار اس سال منا بھی سکیں گے۔“
ایک آہ اس کے دل سے نکلی اور نم آنکھوں سے وہ مورتی کے سامنے دو زانو ہو گئی۔ یہاں بہت شور تھا، اس عظیم الشان ورثہ کو، جس کا نام ہندوستان تھا تقسیم کرنے کی خطرناک سازشیں ہو رہی تھیں۔ اسے یہی سمجھ نہ آر ہی تھی کہ یہ پراسرار سا ہندوستان جو فلسفہ، آرٹ، موسیقی، ادب اور تصوف کی گتھیوں میں الجھا ہوا ہے اس کی یہ اقدار ایک سے دو کیسے ہو جائیں گی؟
اس کا دل یوں بھی ڈوبتا تھا کہ یہ اگر ایک سے دو ہو گیا، تب وہ کلکتہ اپنے ماں باپ کے گھر جلدی جلدی نہ جا سکے گی۔ پاسپورٹ اور ویزا کے چکروں میں الجھ جائے گی۔ کیونکہ اس کا سسر اپنی راجباڑی اور زمین چھوڑ کر کلکتہ نقل مکانی پر تیار نہ تھا۔ اس کا کلیجہ منہ کو آنے لگا تھا۔
تو میرا خوبصورت کلکتہ، جسے مشرق کا لندن کہا جاتا ہے، مجھ سے چھن جائے گا؟ بارک پور کی عالیشان کنٹری ہاؤس اور دریا کے کنارے کنارے گارڈن ہاؤس دیکھنے میں نہ آئیں گے۔ میرے کلکتہ کے عالی شان ہوٹل، اس کی فراخ سڑکیں، چورنگی کے بھانت بھانت کے لوگ، دھرم تلہ میں رہنے والی میری موسیاں مانک تلہ کے عالی شان مکانوں میں رہنے والے میرے چچا جن کے برآمدوں میں فرن کے پتے خنک ہوا سے جھومتے ہیں تو جیون چند لمحوں کے لئے بے حد سندر لگتا ہے یہ سب میرے لئے اجنبی ہو جائے گا۔
اس کی آنکھیں چھلکیں اور موٹے موٹے آنسو گالوں پر بہتے رہے۔
باہر کوئی جلوس گزر رہا تھا۔ پاکستان پاکستان ہو رہا تھا۔ ناقابل برداشت درد اسے اپنے سینے میں محسوس ہوا۔ وہ اس لفظ کو سننا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھ لئے۔
”یہ پاگل ہو گئے ہیں۔ ہمیں صرف سوراج چاہیے۔“
تب پانچ فٹ پانچ انچ کا ایک نوجوان جس کے بال سیاہ اور گھنگریالے تھے اور جس نے باریک کر تا اور دھوتی پہن رکھی تھی وہاں آیا اس نے گاجر رنگی ساڑھی میں اسے کھڑکی کے پاس کھڑے دیکھا جسے وہ صرف تین ماہ پہلے بیاہ کر یہاں کومیلا لایا تھا وہ کچھ دیر اسے کے پیچھے کھڑا رہا پھر اس کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
”کیا دیکھتی ہو باہر؟ سومیتا وہی پرانی چیزیں ہیں۔“
اور اس نے جب رخ پھیرا تو اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ بے چین ہو گیا۔ انگلیوں کی پوروں سے اس نے اس کی آنکھوں کو بند کیا۔ آنسو ادھر ادھر ڈھلک گئے۔ پر اس کے ساتھ ہی وہ سسک پڑی۔
” رنیش کیا ہونے والا ہے؟ میرا پیل پایوں جھلمبیلوں کے برآمدوں والا گھر مجھ سے چھن جائے گا۔ میں اپنے ماما کی بیٹیوں کے ساتھ مل کر اب کالی گھاٹ نہ جا سکوں گی؟ ٹیگور کی چترنگدا کے گیت گاتے ہوئے میری بہنوں کی آنکھیں بھر بھر آئیں گی۔ بھارت ناٹیم کرتے ہوئے شنیلا کہے گی۔
”سومیتا دیدی کے بنا کچھ اچھا نہیں لگتا۔“ رنیش کلکتہ مجھ سے جدا ہو رہا ہے۔ آبی راستے بند ہو رہے ہیں۔ ریلیں نہیں چلا کریں گی حدیں کھنچ جائیں گی اور اس پار اور اس پار خلیجیں حائل ہوجائیں گی۔ جنہیں من چاہنے پر پاٹا نہیں جائے گا۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ رنیش! بھارت ماتا کو اکھنڈ کیوں کیا جا رہا ہے؟ ”
اور اس نے اس کے جوڑے سے نکلی بالوں کی ایک پتلی لٹ کو انگلیوں سے مسلا اور سان سے بولا۔
” حوصلہ کرو سومیتا! انسانوں پر بہت کڑے وقت آتے ہیں۔“
”یہ تم کہتے ہو میرا تو من جیون سے اوبھ گیا ہے۔“
اور اس کے ہونٹوں پر بے بس سی مسکراہٹ آئی۔
” حالات جس نہج پر تیزی سے جا رہے ہیں۔ ان پر اس سمے ہمارا کوئی بس نہیں۔ میں مانتا ہوں سومیتا اسے برداشت کرنا بہت کٹھن ہے پر اسے برداشت کرنا ہو گا۔“
وہ رکا۔ اس نے گہری اداسی سے باہر دیکھا، کیلوں کے گچھے لٹک رہے تھے تب اس نے اس کی لانبی پلکوں کو چھوا اور بولا۔
” ہمیں وقت کا انتظار کرنا ہو گا۔ اگر حالات سے فائدہ اٹھایا گیا اور کوششیں صحیح سمت میں لگائی گئیں تو یقیناً ایک دن تم یہ ضرور سنو گی کہ ٹکڑے کرنے والے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔ آؤ چلو کھانا کھائیں۔“
اس نے گیلی آنکھوں کو اوپر اٹھایا، ان میں بے یقینی نمایاں تھی۔ اس کے شوہر نے اسے پڑھا اور کہا۔
” سومتیا! شکست نے کبھی سبق نہیں سکھایا اس سے سبق سیکھنا پڑتا ہے اور ہم نے سیکھنے کا عزم کر لیا ہے۔“


