سردی کی بارش میں سفر


naseer ahmad

سردی کی بارشوں میں وہ سفر جو گرمیوں میں وادی پر خار سے گزران جیسا ہوتا ہے غزل حافظ کی طرح گلزار ہو جاتا ہے۔ اس سفر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ گانے بج اٹھے۔ ان میں نصرت فتح علی خان کی ایک مشہور قوالی ’ایسا بننا سنورنا ہو مبارک تمھیں‘ بھی سنی۔

کچھ دھیان قوالی میں موجود اشعار کی طرف بٹ گیا۔ ان اشعار میں موجود تصور عشق اور معاملات بندی کے تجزیے کرنے لگے۔ وہاں محبت تو نہیں ہو رہی تھی بلکہ مفتوحین فاتحین کی خوشامد میں گم تھے۔ ڈکیتی، چوری، لوٹ مار، قتل و غارت کی مدح خوانی ہو رہی تھی۔ مختلف قسم کے گھناونے جرائم محبت سے منسوب کیے جا رہے تھے۔ اور ہر جرم کو بذریعہ لفاظی خوش نما، خوش ادا اور با صفا بنایا جا  رہا ہے۔

مریضوں کو دم آنکھوں میں ہے وہ ہیں محو آرائش
وہاں ہونٹوں کی لالی ہے یہاں جانوں کے لالے ہیں

تم جیسی کوئی طرح دار خاتون ہو تو ہنسنے لگے کہ ذرا زلفیں درست کر لو تو یہ پگلے گرنے مرنے لگتے ہیں۔

آئینے میں ہر ادا دیکھ کریہ کہتے ہیں وہ
آج یہ دیکھیں گے ہم کس کس کی ہے آئی ہوئی

یعنی پیار کے نام پر نسل کشی کی تیاری ہو رہی ہے۔ دکھ کی بات ہے اب تک جتنی بھی نسل کشی ہوئی ہے اس کو پیار کے نام پر ہی کیا ہے۔

انھیں آرائش گیسو سے مطلب
کوئی دیوانہ ہو ان کی بلا سے

پہلے تو آرائش گیسو کا نظارہ کر کے دیوانہ ہونے والے کی ایسی کی تیسی۔ دوسرا ایسے کسی سے محبت کیوں کی جائے جس کی خود غرضی معاشرتی جرائم کی وجہ بنے۔ لیکن دیوانگی کی آڑ میں زیادہ تر معاشرتی مجرموں سے ہی محبت کرتے ہیں اور ان کی عظمت سازی کرتے ہیں۔

اب یہ معشوق سنگ دل بھی ہے ظالم بھی۔ لٹیرا بھی ہے قاتل بھی، چور اچکا بھی اٹھائی گیر بھی اور اس انسانیت دشمن معشوق کے سامنے بچھے بچھے جاتے ہیں۔

شاعری بھی قانون کی طرح ایک بیان ہوتا ہے کہ لوگ کیا ہیں اور بننا کیا چاہتے ہیں۔ مثالیوں میں اتنا تشدد ہے تو ان مثالیوں کی حقیقت کیسے مختلف ہو؟

یہاں پر توقعات کچھ اور کھیل کھیلنے لگتی ہیں۔ اگر معشوق کوئی خاتون ہو جائے (یہاں زیادہ تر پیار مرد مردوں سے ہی کرتے ہیں، اگر معاشرتی اور معاشی وسائل تک رسائی کے حوالے محبت جانچی پرکھی جائے ) اور وہ بیگم بھی ہو تو کوئی شوہر اس بیگم کی کچھ سننے لگے تو معاشرتی استہزا کا ہدف بن جاتا ہے۔

اور لوٹ مار اور قتل و غارت کو محبت سے منسلک کرتے ہوئے رہ نما ایسے منزہ و مصفا درکار ہیں جس میں انسانی خامیاں نہ ہوں۔ یہی پیر کامل وغیرہ وغیرہ۔ ایسے ہو نہیں سکتا تو جس رہزن میں اپنا آپ ذرا زیادہ دکھنے لگتا ہے تو اسے ہی پیر کامل کہنے کی بناوٹیں کرنے لگتے ہیں۔

اور یہ مجازی لٹیرا معشوق جب حقیقت کا پیرہن اوڑھ لیتا ہے تو نسل کشی کسی غیر مرئی پاکیزگی میں توجیہات ڈھونڈنے لگتی ہے۔

وہی کچھ بھی۔ اور معاشرتی فیبرک بنا ہی اس سے ہے۔ اور کبھی چاروکوں کی طرح کسی کو اس بات کی تفہیم ہو جائے تو جنوں کی ایسے باولے سے ہو کر پردہ دری کرتے ہیں کہ کچھ ادھیڑ بن کرنے کے لیے خرد کو پاس بھی پھٹکنے بھی نہیں دیتے۔ ہر سانحے کے بعد جنوں کی کشیدہ کاری گہری کرتے رہتے ہیں۔

چاروک ہند قدیم میں فلسفیوں کا ایک ہی گروہ تھا جس نے زندگی کی مسرت آگینی پر اور مذہبی سر دھروں کی بنیادی فریب کاری پر کچھ فوکس کیا تھا۔

اس کے بعد جو بھی گیانی دھیانی رشی منی سادھو سنت آیا اس نے ان بے چاروں کے خلاف اتنا پروپیگنڈا کیا کہ اب ان کے بارے میں وہی کچھ معلوم ہے جو سادھو سنتوں نے ان کے خلاف کہا ہے۔

لیکن باتیں مٹتی نہیں۔ ایک کو اچھی نہیں لگتی تو کوئی اور اسے اپنا لیتا ہے۔ اور جنھوں نے لطف و مسرت کی تفہیم پر بعد میں فوکس کیا انھوں نے انسانی زندگی کی بہتری ہی بڑھائی۔ وہ تفہیم نہ سہی لیکن اس تفہیم کے چند نتائج جیسے پر تعیش مصنوعات سے مجذوبوں، صوفیوں اور سادھو سنتوں کو والہانہ عقیدت ہے۔

بہرحال جس بننے سنورنے کی نصرت تعریفیں کر رہے تھے، اس میں نہ محبت ہے نہ برکت

Facebook Comments HS