فرحت اللہ بابر کے ساتھ میری "جَلن”


محکمہ اطلاعات سے وابستگی اور بعد ازاں پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی ترجمانی کے باوجود فرحت اللہ بابر صاحب خاموش طبع مگر شفیق و خلیق آدمی ہیں۔ ان سے ناراض ہونے کے لئے آپ کو سو بہانے ڈھونڈنا پڑیں گے۔ میں البتہ ان سے جل گیا  ہوں۔ کسی دور میں متحرک رہے ہر رپورٹر کی طرح میں نے بھی مختلف حکومتوں  اور سیاسی رہ نمائوں کے مشاہدے کے بعد بقول غالب کچھ یادیں ’’الگ باندھ رکھی ہیں‘‘۔ سوچا تھا انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد لکھی کتاب یا کتابوں میں بیان کروں گا۔ جو کتابیں میرے خیال میں موجود ہیں ان میں سب سے ’’تہلکہ خیز‘‘ کتاب وہ ہو سکتی تھی جس  کا موضوع آصف علی زرداری کی شخصیت اور سیاست ہو۔ بابر صاحب مگر مجھ سے اس ضمن میں بازی لے گئے ہیں۔

چند ہی روز قبل ان کی The Zardari Presidency (زرداری کا دورِ صدارت) کے عنوان سے ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ اخبارات میں اس کا ذکرپڑھنے کے بعد اسے خریدنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ڈان لیک کی فرضی کہانی کے سبب خواہ مخواہ بدنام اور مصیبتوں میں گھرے مہربان دوست رائو تحسین صاحب نے اسی کتاب کی ایک جلد خرید کر اتوار کی سہ پہر میرے گھر بھجوا دی۔

شام ہوتے ہی میں نے 462 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو پڑھنا شروع کر دیا۔ حاسد دماغ بنیادی طور پر یہ دریافت کرنے کی کوشش میں جتا رہا کہ صدر پاکستان کے 2008ء سے 2013ء  تک ترجمان رہے فرحت اللہ بابر سے اس دور کے واقعات بیان کرتے ہوئے کس مقام پر کیا چوک ہوئی ہے۔ جو واقعات ان کے مشاہدے میں آئے انہیں قلم بند کرتے ہوئے قصیدہ گوئی اختیار ہوئی یا نہیں۔ بابر صاحب ان دنوں زرداری صاحب اور پیپلز پارٹی سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جو خفگی یا دوری ہے مجھے اس کی وجوہات کا قطعاََ علم نہیں۔ بابر صاحب نے اس کے باوجود ’’بدلہ یا بدلے اتارنے‘‘ کی کوشش نہیں کی۔ کتاب کی ابتدا ہی میں کھل کر بیان کر دیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی میڈیا منیجری کے دوران آصف علی زرداری انہیں فاصلے پر رکھتے تھے۔ بابر صاحب نے بھی ان کا دل جیتنے کی تگ و دو نہیں کی۔ دوری اختیار کئے رکھی۔

آصف علی زرداری کو ’’حادثاتی صدر‘‘ پکارتے ہوئے وہ خود کو بھی ان کا ’’حادثاتی ترجمان‘‘ ٹھہراتے ہیں۔ ایوان صدر میں چشم دید گواہ کی طرح دیکھے واقعات کو انہوں نے غیر جذباتی انداز میں تاریخ کے لئے رقم کر ڈالا ہے۔ ان کی کتاب ایک حوالے سے انسانی جذبات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایوانِ صدر میں ہوئے واقعات یوں بیان کرتی ہے جیسے کیمرہ منظر کشی کرتا ہے۔ سنسنی خیزی کے متوقع قارئین کو اس کتاب سے گریز کرنا پڑے گا۔ قدرت اللہ شہاب مرحوم کی طرح انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے باس کا مذاق بھی نہیں اڑایا۔ نہ ہی یہ دعویٰ کیا کہ کون سے مسئلے پر ان کی رائے صدر زرداری کے مقابلے میں بالآخر درست ثابت ہوئی۔ زرداری صاحب جیسی پہلودار شخصیت کے بارے میں ایسی ’’خشک‘‘ یا  قطعی معروضی کتاب لکھنا بابر صاحب کی سچ سے غیر مشروط محبت اور انکساری کا بھرپور اظہار ہے۔

مجھے یہ گماں لاحق رہا کہ آصف علی زرداری کے بارے میں اگر میں نے کوئی کتاب لکھی تو اس میں بیان ہوئے چند واقعات لوگوں کو حیران کردیں گے۔ میرا یہ گماں مگر بابر صاحب کی لکھی کتاب کے صفحہ 77 تک پہنچنے کے بعد وقتی طورپر غلط ثابت ہوا ہے۔ مذکورہ صفحے سے کتاب کا چوتھا باب شروع ہو جاتا ہے۔ یہ یمن میں ایران اور سعودی عرب کے مابین 2015ء کے آغاز میں ہوئی پراکسی جنگ کا احاطہ کرتا ہے۔ زرداری صاحب اس برس ملک کے صدر نہیں پیپلز پارٹی کے محض سربراہ تھے۔

ہمارے ہاں کئی برسوں سے یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی مختلف وجوہات کی بنیاد پر ’’پرو ایران‘‘ پارٹی ہے۔ ایک زمانے میں وکی لیکس بھی آئی تھیں۔ ان کے ذریعے سعودی عرب کے مرحوم شاہ عبداللہ سے چند ایسے فقرے منسوب کئے گئے تھے جو زرداری صاحب کی شخصیت کی تذلیل کرتے سنائی دیے۔ زرداری ان دنوں صدر پاکستان تھے۔ وکی لیکس میں بیان کردہ کہانی جھٹلانے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے صدر پاکستان نے نپے تلے الفاظ میں ایک بیان جاری کیا۔ اس کے ذریعے پاکستان کے عوام کو خبردار کیا کہ وکی لیکس میں شاہ عبداللہ سے منسوب کلمات درحقیقت پاک سعودی برادرانہ تعلقات بگاڑنے کی بھونڈی کوشش ہیں۔ میڈیا کے لئے وہ بیان اپنے باس کی ہدایت پر تیار کرتے ہوئے بابر صاحب بہت حیران ہوئے تھے۔

2015ء میں جب ایران اور سعودی عرب یمن میں ایک دوسرے کے ساتھ پراکسی جنگ میں الجھ گئے تو اکثر لوگوں کا یہ خیال تھا کہ پیپلز پارٹی ’’ایران نوازی‘‘ سے کام لیتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف مذمتی رویہ اپنائے گی۔ حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی یمن میں جاری خانہ جنگی پر کوئی رائے بنانے کے لئے آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا۔ اس اجلاس کے انعقاد سے قبل ہی تاہم سابق وزیر داخلہ رحمن ملک مرحوم نے صدر زرداری کا ایک ’’پالیسی بیان‘‘ میڈیا کے لئے جاری کر دیا۔ اس بیان میں واضح طورپربیان کردیا گیا کہ ’’پیپلز پارٹی (یمن میں برپا جنگ میں)  ہر حوالے سے سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کرتی ہے‘‘۔

فرحت اللہ بابر صاحب کو یہ بیان بقول ان کے ’’بم شیل‘‘ کی مانند لگا۔ انہوں نے میڈیا کو خود اعتماد انداز میں بتایا کہ آصف علی زرداری سے منسوب بیان ان کے دفتر سے جاری نہیں ہوا ہے۔ بابر صاحب کا بیان آنے کے فوری بعد آصف علی زرداری نے کراچی سے انہیں فون کیا اور واضح الفاظ میں بتا دیا کہ ’’رحمن ملک نے جو بیان دیا ہے وہ ہی پیپلز پارٹی کا سرکاری مو قف ہے‘‘۔
اس کے ایک روز بعد زرداری صاحب نے اپنی اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلایا۔ مذکورہ اجلاس میں بابر صاحب کے بقول عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے پرجوش انداز میں یمن جنگ کے حوالے سے پاکستان کو غیرجانب داری اختیار کرنے پر زور دیا۔ ان کی دانست میں پاکستان پہلے ہی افغان جنگ میں ملوث ہونے کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔آصف علی زرداری مگر سعودی عرب کی حمایت میں ڈٹے رہے۔ اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے چند روز بعد انہوں نے اپنی جماعت کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا۔ اس اجلاس کے دوران زرداری بارہا دہراتے رہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کو اس کی مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی حمایت کرتے ہوئے آصف علی زرداری یہ بھی اصرار کرتے رہے کہ ’’حوثی‘‘ بنیادی طور پر ایک ملیشیا تنظیم  ہے۔ نان اسٹیٹ ایکٹر جو ریاستی نظام کا دھڑن تختہ کرنا چاہ رہے ہیں اور نان اسٹیٹ ایکٹر اگر یمن میں ریاست کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان بھی ایسے ہی نان اسٹیٹ ایکٹرز یا باغی تنظیموں کی زد میں آجائے گا۔ 2015ء میں صدارت سے فراغت کے بعد سعودی عرب کی حمایت میں کھل کر بولنے والے آصف علی زرداری مگر 2011ء میں بطور صدر پاکستان ایران میں ہوئی ایک کانفرنس میں شریک ہونے چلے گئے تھے حالانکہ انہیں تجویز یہ دی گئی کہ وہ اپنے بجائے کسی اور کو مذکورہ کانفرنس کے لئے بھیج دیں۔ سرکاری افسروں کی تجویز کے برعکس آصف علی زرداری ایران پہنچے تو وہاں کے روحانی رہ نما سے بھی تنہائی میں ایک طویل ملاقات کا موقعہ نکالا۔ اس ملاقات کے عین  ایک ماہ بعد وہ دوبارہ ایران کے روحانی رہ نما – علی خمینائی- ہی سے تنہائی میں ملاقات کیلئے روانہ ہو گئے۔ فرحت اللہ بابر کو یہ دریافت کرنے میں وقت لگا کہ آصف علی زرداری درحقیقت ایران کے روحانی رہنما سے ایران-سعودی عرب تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کو ملاقاتیں کر رہے تھے۔ جب وقت گزر گیا تو بابر صاحب کو علم ہوا کہ ایران کے روحانی رہ نما سے ملتے ہی انہوں نے انہیں انتہائی عاجزی  سے آگاہ کیا کہ وہ اس وقت تک اس ملاقات کو ختم نہیں کریں گے جب تک جناب علی خمینائی سعودی عرب کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی حامی نہیں بھرلیں۔ ایران  اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی میں کمی لانے میں اپنی کوششوں سے صدر زرداری نے چین کو بھی آگاہ رکھنے کی کوشش کی۔

صدر زرداری کی ایران-سعودی عرب میں کشیدگی دور کرنے کی کاوشوں کے عین دس سال بعد اپریل 2023ء میں یہ اعلان ہوا کہ سات برس کے طویل وقفے کے بعد سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ چین کے دارالحکومت میں ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کے اختتام  پر ایران اور سعودی عرب نے ایک دوسرے کے ملک میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔

ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی میں کمی لانے اور اس میں چین کو حصہ ڈالنے کو مائل کرنے والے آصف علی زرداری کی خارجہ پالیسی کے محاذ پر ایسی پیش قدمی سے میں اپنے تئیں  ’’ماہر آصف علی زرداری ہوا‘‘  قطعاََ لاعلم تھا۔ فرحت اللہ بابر نے مجھے اس ضمن میں بے خبر ثابت کر دیا ہے۔ دیکھنا  ہو گا کہ ان کی کتاب مکمل کر لینے کے بعد ایسے ہی مزید انکشافات کی بدولت میرا دل کباب بن جانے سے بچ پائے گا یا نہیں۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS