افسانوی مجموعہ ”پہلی چپ کا شور“
افسانہ نگار :ماہ جبین آصف
تبصرہ نگار: شاہانہ جاوید
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا، ہماری دوست ماہ جبین کے افسانوں کی کتاب ”پہلی چپ کا شور“ کو چھپے دو سال ہونے کو آرہے ہیں، پچھلے سال گھر کی شفٹنگ کی تو ان کی کتاب کسی کارٹن میں لاپتہ ہو گئی، اور ہم مسنگ کتاب کے مجرم ٹھہرے، گھر کی سیٹنگ، اور نئی جگہ کے مسائل کتاب مل کر ہی نا دی، جبکہ ہمارا وعدہ تھا کہ اس مجموعہ پر بلاگ ضرور لکھیں گے۔ سیٹ ہوتے ہوتے سال لگ گیا، پھر ہم نے کتاب ڈھونڈنے کا بِیڑا اٹھایا اور کامیاب رہے، کتاب بہ حفاظت مل گئی گم نہیں ہوئی نا کوئی لے کر گیا۔ ہماری عادت ہے جب تک کتاب پڑھ نا لیں تبصرہ نہیں لکھتے، آہستہ آہستہ یہ مرحلہ عبور کیا اس دوران، مختلف پریشانیاں، بیماری اور خوشی کے لمحات سے بھی گزرے، ”پہلی چپ کا شور“ ہماری سماعتوں کو جھنجھوڑ رہا تھا کہ دوست بھول نا جانا۔
پیش لفظ میں ہی ماہ جبین نے کس خوبصورتی سے لکھ دیا ہے کہ
داستاں بن سکے تو لے لیجیے
یاد ہیں چند واقعات مجھے ماہ جبین ایک حساس دل رکھنے والی لڑکی جو شروع ہی سے کہانی، افسانوں میں الجھی رہتی اور چلتے پھرتے کہانیوں کے تانے بانے بنتی رہتی تھی اس نے جب قلم سے رشتہ جوڑا تو زمانے کے دکھ اور سچائیاں عیاں کر دیں، خود پہ گزرے یا زمانے کے تجربات سامنے آئے انھیں اتنی خوبصورتی سے الفاظ کے پیرہن سے سجایا کہ افسانوں کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر قاری اپنے آپ کو ان افسانوں کا کردار سمجھنے لگتا ہے۔
ماہ جبین نے افسانہ نگاری کی ابتدا تو بہت پہلے کردی تھی لیکن اپنا افسانوی مجموعہ لانے میں بہت وقت لے لیا، کچھ غم دوراں، کچھ غم ِجاناں سے فرصت ملی تو دوستوں کے اصرار پر اپنے افسانوں کو یکجا کر کے کتابی صورت میں لانے کا سوچا، اس کام میں رکاوٹیں آنے کے باوجود آخر ”پہلی چپ کا شور“ منظرِ عام پر آہی گیا، کاسنی ملبوس سے آراستہ یہ کتاب آپ پڑھتے جائیے، ماہ جبین کی زندگی سے لے کر اس کی تحریروں تک سب اس میں ہے۔ وہ ایک فیملی اورینٹڈ خاتون ہیں اس لیے انتساب ثانی بیٹی، داماد، بھائی شوہر اور نواسوں کے نام کیا ہے۔
انسانی زندگی کو وجود میں لانے اور سنوارنے والے ماں، باپ اور استاد ہوتے ہیں، ماہ جبین نے ان پر لکھ حق ادا کر دیا، سب سے پہلے کتاب میں ان کی یہی تحریریں ہیں۔ دل نؤشت میں رودادِ سفر حرمین شریفین پڑھ کر دل بے اختیار کہ اٹھتا ہے لبیک اور روح ایمانی جذبے سے سرشار ہوجاتی ہے۔
”نائلون میں لپٹی لاش“ سے افسانہ سیکشن کی ابتدا کی ہے افسانہ پڑھنے میں قاری اتنا کھو جاتا ہے کہ اسے اپنے آپ کو افسانے سے ڈھونڈ کر نکالنا پڑتا ہے کیونکہ یہ سب تو اس پر بھی گزر چکی ہے یا گزر رہی ہے، جملوں کی جاٹ ملاحظہ ہو، ”آج ایک اور لڑکی لال کپڑے پہنے گم ہو گئی ہے وہ صرف اپنا نام بتا سکتی ہے۔ اس دن کے بعد وہ لڑکی کسی کو نہ ملی وہ جیسے گم ہو گئی۔ اس کی ساس بہت خوش ہوئی تھی۔ ارے کیسی اللہ کی گائے سی بہو ملی ہے“ ۔
ایک اور جملہ ”بھئی تم بڑی اچھی بیوی ہو سستی سی کوئی فرمائش ہی نہیں کرتیں۔“
افسانہ سلپنگ پلز نام سے ہی قاری کو جکڑ لیتا ہے اور اختتام پر ایک المیہ بیان کرتا ہے۔ تہمت ہوئی ہر سانس، مختصر افسانہ ہے، حساس دل کے جذبات بیان کرتا ”یہ کیسا جیون ہے جبر و قدر کے درمیان کی کوئی حالت“ ۔
ماہ جبین کی تحریر میں خود کلامی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ قاری اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرنے لگتا ہے، شاید یہ لکھنے والی کے جذبات و احساسات ہوتے ہیں جنھیں ہم سمجھ نہیں پاتے کیونکہ انھیں محسوس کرنے والی ذات اپنی کھوج میں دور تک چلی جاتی ہے جیسے ”بخت نگر کی بختی“ میں لکھتی ہیں، جس طرح رنگین پٹاری میں سانپ کنڈلی مارے بیٹھا رہتا ہے اور کسی تحریک پر باہر نکل آتا ہے، اسی طرح کردار ہمیشہ میرے وجود کی پٹاری کے اندر کنڈلی مارے سمٹا سکڑا بیٹھا رہا، اسے کردار کہ لیں یا جیتی جاگتی عورت سمجھیں۔
انکے افسانے پڑھتے ہوئے کچھ جملے ایسے اثر پذیر ہوتے ہیں کہ پڑھتے ہی دل میں کھب جاتے ہیں، جیسے افسانہ، ”الٹی سمت کا سفر“ میں لکھتی ہیں، گھر نشان پتہ ہنوز لا پتہ زندگی کے ہاتھ کبھی کبھی آپ کے پیر میں الٹی چپلیں پہنا دیتے ہیں۔ الٹی چپل پہننے والا کبھی منزل پر نہیں پہنچ پاتا۔ کیا کاٹ دار جملہ ہے جسے پڑھ کر انسان کچھ لمحوں کے لیے سوچتا رہ جاتا ہے۔
”کافوری خوشبو“ ایک علامتی افسانہ ہے، کافور کی خوشبو ایک علامت کے طور پر برتی ہے، لکھتی ہیں ”موت ہمیشہ گھات میں ہوتی ہے۔ کب نقب لگائے کب ہمارے درمیان سے جیتے جاگتے انسان۔ اور کبھی ان جیتے انسانوں کے دل سے مردہ جذبے ہمیں دان کر جاتی ہے۔“
” کھڑکیاں کھول دو“ ، جذبات و احساسات سے بھرپور اور حقیقت بیان کرتا افسانہ کہ احساسات دبا کر اپنے جذبات کو ظاہر کرنا ایک روگ بن جاتا ہے۔ ”اجالوں کا پس منظر“ ، وہ باغی لڑکی جو کامیابیوں کے در وا کرتے کرتے عروج پر پہنچ کر واپس مڑی تو اس کی جھولی میں ”آوارہ“ کا خطاب آ گرا اور پھر وہ اپنے وجود کو سہار نا سکی اور اس کے سامنے اجالوں کا پس منظر واضح ہوتا چلا گیا۔ ”وصل نفی“ کا یہ جملہ ”کورے برتن کو لمس دینے کی خواہش اس کو وصل نفی کی صورت مات دیتی رہی ہے! ایسا کاٹ دار اختتام، جو صرف ماہ جبین ہی لکھ سکتی ہے۔
” میں جدا گریہ کناں“ چوک میں ایستادہ مجسمہ جو بول نہیں سکتا، دنیا کی نا انصافیوں اور ظلم سب کو محسوس کر رہا ہے جبکہ اس کو تراشنے والا اسے نصب کر کے اپنے حصے کی داد وصول کر رہا ہے، علامتی افسانہ جو حقیقت سے قریب ہے۔ ”کہانی کے اندر کہانی“ وہ افسانہ جو ماہ جبین کے انداز تحریر کو بخوبی قاری کے سامنے کھل کر بتا دیتا ہے اور ان کا یہ انداز ہی انھیں دوسروں سے منفرد کرتا ہے۔ ”ٹوٹے تتلی کے پر“ اس نامکمل عورت کا افسانہ ہے جو جبلی اور ذہنی طور پر ایک ماں تھی ہمیشہ سے لیکن وہ ماں نہیں بن پائی اور کھلونا اس کی کوکھ میں ہی ٹوٹ گیا۔ احساسات سے مزّین تحریر اس کا عنوان تو بہت ہی خوب صورت۔ ”راکھ کے ڈھیر میں دبی چنگاری“ حقیقت سے قریب افسانہ ہے جس کا اختتام جذباتی ہے۔ ”لکھنؤ کی ورجینیا وولف“ وہ افسانہ ہے جو مجھے بہت پسند ہے ایک مکمل کہانی جو پرت در پرت کھلتی چلی جاتی ہے اس کا ایک جملہ تو بہت ہی کمال ہے، ”مرد عورت اور محبت یہ ثلاثی جب لکھی جاتی ہے وقت کے ماتھے پر پسینہ آہی جاتا ہے اور آنکھوں میں آنسو!
”تم انہونی سے ڈرنا“ ایک علامتی افسانہ ہے جس میں ہونی تو ہو کر رہتی ہے لیکن انہونی بہت تکلیف اور درد دیتی ہے ”۔ زرد دکھ، میں یہ کیا خوب لکھتی ہیں،“ جدائی کو ہجر، وصل کو ملن کہنے والوں کو کی خبر! روحوں پر لکھی کہانیاں کبھی نہیں مٹتیں ہاں ان پر لکھے لفظ کسی نامانوس زبان میں ہوتے ہیں جنھیں اس زبان کے ماہرین ہی کھوج پاتے ہیں۔ ایسی الوہی زبان جو قدرت کے درختوں کے لطیف قلم سے تراشی گئی ہے۔
ماہ جبین نے افسانچہ نگاری بھی کی ہے ان کے افسانچوں کی پنچ لائن دل میں کھب کر دماغ کو ہلا دیتی ہے۔ ماہ جبین کا مشاہدہ گہرا اور عمیق ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مشاہدے کے بل بوتے پر الفاظ کے موتی وقت کی مالا میں ایسے پروتی ہیں کہ پڑھنے والا ان کی گہرائی میں ڈوب کر اپنے آپ کو تلاشتا ہی رہ جاتا ہے۔ ان کی کتاب ”پہلی چپ کا شور“ پر ہمارے جیّد لکھنے والوں کی آرا نے مہر ثبت کردی ہے کہ آپ ایک بہترین افسانہ نگار ہیں اور الفاظ کو برتنے کا سلیقہ ہے آپ کے پاس، ان اکابرین میں محمد حمید شاہد، سحر انصاری، نسیم سید، مسعود قمر، زیب ازکار حسین، ن م دانش، فرخ ندیم، اسلم جمشید پوری، ڈاکٹر مہر زیدی، گلفام غوری، نعیم صدیقی شامل ہیں۔ ماہ جبین کو مبارکباداس کتاب کی اشاعت پر، مجھے فخر ہے تم میری دوست ہو۔ یونہی لکھتی رہو تم ایک جینوئن افسانہ نگار ہو۔


