سوشل قربانی


عید قربان ایک بار پھر سے قریب ہے۔ مرتے کیا نہ کرتے، ہم بھی منڈی جا پہنچے۔ پوری منڈی میں بکرا اور بکرے کا مالک دونوں ہی سب کی نگاہ ”ناز“ کا مرکز تھے۔ میں نے دونوں کو خوب تول کر دیکھا لیکن یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان دونوں میں زیادہ قیمتی کون ہے؟ ہر کوئی اپنے بکرے کی خوب مارکیٹنگ کر رہا ہوتا ہے۔ قیمت پوچھی تو بتایا گیا کہ ڈیڑھ لاکھ۔ ہمیں حیرت زدہ دیکھ کر بکرے کا مالک بولا: ”صاحب اس کی غزالی آنکھیں تو دیکھیے۔ اس کے کان کان نہیں بلکہ سونے کی کان ہیں۔ آواز سنی ہے اس کی؟ مانو جیسے کسی نے فضا میں سات سر بکھیر دیے ہوں۔ اس کی چال پر نورا فتوحی کا ڈانس بھی قربان ہے۔ ایکشن میں یہ کسی ٹام کروز سے کم نہیں ہے صاحب!“ ۔ میں نے کہا:قربانی ایک مقدس فریضہ اور قربانی کا جانور شعائر اللہ میں سے ہے اور تم واہیات قسم مثالیں دے رہے ہو ”۔ اس نے آگے سے تڑک کر جواب دیا:“ جدید دور ہے اور میں آج کی نسل کو پہچانتا بھی ہوں۔ لہذا میں نے وہی مثالیں دی ہیں جنھیں آج کا مسلمان بخوبی سمجھتا ہے ”۔

بہرحال بکرا خریدا اور گھر آ گیا۔ گھر آتے ہی سب سے پہلے میں نے اسے نہلایا، پھر اس کی تصویر بنائی اور سوشل میڈیا پر لگا دی کہ اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے ایک عدد شاہانہ بکرا خریدنے کا شرف حاصل ہوا۔ دو تین گھنٹے انتظار کیا لیکن کسی نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔ میرا نفس اس وقت نازک صورت حال سے گزر رہا تھا۔ میں بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ لہذا میں سب جاننے والے کو لنک واٹس اپ کر دیا اور انھوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی سلسلہ شروع کر دیا۔ جوں جوں لائیکس اور کمنٹس بڑھ رہے تھے میرا لاغر سا نفس توں توں صحت یاب ہو رہا تھا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ ٹرک مجھے ہی سوجھی ہے لیکن جلد ہی یہ خوش فہمی اس وقت دور ہو گئی جب مجھے باس کا لنک موصول ہوا۔ میں ان کی پوسٹ پڑھ کر حیران رہ گیا۔ انسانوں نے زبان بھی نہ سمجھنے والے باس نے بکرے کی تصویر اپلوڈ کر کے لکھا تھا: ”اب تو آنکھ ہی بکرے کی آواز سے کھلتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہا ہو الوداع“ ۔ موقع جان کر میں نے بھی ایک کمینٹ داغ دیا : ”اللہ بکرے کی دعا قبول کرے“ ۔

بہرحال ہم نے بھی بکرے کا خوب خیال رکھا۔ روز صبح اسے گھمانے لے جاتے اور اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ ہر روز آنے جانے کے لیے کسی نئی گلی کا انتخاب کرتے اور جہاں بچے اور چند لوگ کھڑے ہوتے وہاں سب سے سلام دعا کرنا بالکل نہ بھولتے۔ ایک دن ہاشو شکاری نے ہمیں گلی میں ہی پکڑ لیا اور بولا: بھائی جان بکرا ہے یا کوئی فلم، ہر گلی میں فوٹو سیشن لگا اور شوٹنگ الگ چل رہی ہے ”۔ میں نے جواب دیا کہ میرا بکرا میری مرضی، اور اگلے چوک کی جانب روانہ ہو گیا۔ گلی محلے میں بکرے کی پذیرائی کی تصاویر بنائیں اور ایک نئی پوست بنائی:“ بکرا بھی شاہی، دال بھی شاہی، ریٹ بھی شاہی اور مالک بھی شاہی ”۔ قربانی کا دن ابھی چار دن دور تھا اور پورے محلے میں ہمارے بکرے کا چرچا تھا۔ فیقے پلمبر کو تو ویسے ہی مجھ سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ ایک دن سر راہ ملا تو اپنا بغض چھپا نہ سکا۔ کہنے لگا:“ تمھاری پوسٹیں دیکھ دیکھ کر لگتا ہے کہ تمھیں بکرے سے محبت ہو گئی ہے اور تم اسے ہرگز ذبح نہیں کرو گے ”۔ میں اس کا وار سمجھ رہا تھا۔ لہذا میں مسکرایا اور کہا:“ میرا دل نہیں مان رہا کیونکہ مجھے واقعی اس سے سچی محبت ہو گئی ہے لیکن محبت قربانی مانگتی ہے اور ہم قربانی دینے کو تیار ہیں ”۔ وہ بھی بھلا کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا اور بولا:“ ہاں ہاں مجھے معلوم ہے۔ تمھارا دل نہیں مان رہا لیکن معدہ تو ”مور مور“ کی صدا لگا رہا ہے اور ویسے بھی تم ان لوگوں میں سے ہو جن کا دل معدے میں ہوتا ہے ”۔ میں کیا کر سکتا تھا، جلنا تھا سو جل کر رہ گیا۔

دنیا میں بڑے بڑے سیلیبرٹیز ہوں گے لیکن قربانی کے دنوں میں سوشل میڈیا مکمل بکرے کے قبضے میں ہوتا ہے۔ جن کے ساتھ لوگ سیلفیاں لینے کو ترس رہے ہوتے ہیں وہ بھی بکرے کے ساتھ سیلفیاں لینے کو مرے جا رہے ہوتے ہیں۔ ایک ٹھرکی نے یک طرفہ محبوبہ کو بکرے کے ساتھ لاڈ کرتے دیکھا تو ٹھنڈی آہ بھر کہنے لگا: ”کاش ہم بھی بکرے ہوتے“ ۔ محبوبہ نے نگاہیں ترچھی کیں، ایک ادا سے اسے دیکھا اور بولی: ”لمحوں کے اس پیار کے بعد قصائی کی صدیاں شروع ہوتی ہیں“ ۔

بکرے گھر میں کیا آیا بچے تو کھانا پینا بھول گئے۔ میں بچوں کی بکرے سے دوستی دیکھ رہا تھا اور کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ بیگم نے مجھے سوچوں میں گم پایا تو پوچھا: ”خیر تو ہے؟“ ۔

میں نے جواب دیا: ”میں بچوں کی بکرے سے دوستی دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ“ بچے من کے سچے ”والا دور شاید گزر گیا ہے۔ اب ان کی دوستی ہی دیکھ لو۔ صرف تین دن چلے گی۔ چوتھے دن یہی بچے پوچھ رہے ہوں گے :“ ابو قصائی کب آئے گا؟ ”۔

Facebook Comments HS