کارل مارکس کا تخلیقی سفر (تخلیقی اقلیت سے ایک باب)


 

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب: ”تخلیقی اقلیت“ ، ڈاکٹر خالد سہیل کی انگریزی تصنیف: CREATIVE MINORITY کا اُردو ترجمہ ہے۔ ’تخلیقی اقلیت‘ میں منتخب تخلیقی شخصیات، جن میں فلسفی، سائنسدان، ادیب، شاعر، فنکار اور انقلابی رہنما شامل ہیں، جامع مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین میں ان کے نظریات، فکر، اور فلسفے کا گہری نظر سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد سہیل نے بطور نفسیات دان ان معتبر شخصیات کا نفسیاتی تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ تخلیقی شخصیات پر لکھے گئے یہ مضامین خالصتاً ایک علمی و فکری کاوش ہے اور یہ کہ تمام تخلیقی شخصیات کے نظریات، فکر، اور فلسفے کو مصنف اور مترجم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

کتاب کے پہلے باب میں تخلیقی شخصیات کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ حسُن پرست یعنی جمالیات کے دلدادہ ہوتے ہیں، کوئی نہ کوئی تخلیقی مشغلہ اپنائے ہوئے ہوتے ہیں اور اپنی منفرد سوچ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ نظم و ضبط کے پابند نہیں ہوتے۔ ان شخصیات کا طرز زندگی غیر روایتی ہوتا ہے جو مروجہ رسومات، قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اترتا۔ اور یہ کہ ان سے پیار تو کیا جا سکتا ہے مگر ان کے ساتھ رہنا خاصا دُشوار ہوتا ہے۔ کتاب کے بارہویں باب میں یہ نفسیاتی نظریہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ تخلیقیت، دیوانگی اور رُوحانیت کا آپس میں ایک پر ُ اسرار رشتہ موجود ہے۔ اگر یہ بات مجھے کوئی مثال دے کر سمجھانی ہو تو میں غالب کی مثال پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔ میرے نزدیک مرزا اسداللہ خاں غالب انیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر ہیں مگر جب ہم ان کی ذاتی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی تمام عمر معاشی نا آسودگی، بلکہ کسم پرسی میں گزاری۔ مگر دیگر تخلیقی شخصیات کی طرح وہ بھی زندہ دل اور حسُن پرست انسان تھے۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی شراب نوشی اور عشق بازی کا اعتراف خود اپنی شاعری میں بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر :

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
اور
اک نو بہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے

اس عظیم شاعر کے غیر روایتی اور بظاہر ناکام طرز زندگی کے باوجود ان کی تخلیقیت کا یہ عالم ہے کہ دیوانِ غالب سے بڑی اردو شاعری کی کتاب میری نظر سے نہیں گزری۔ اسی طرح کارل مارکس، چارلس ڈارون، نیلسن مینڈیلا، علامہ اقبال اور سعادت حسن منٹو نے اپنے اپنے شعبے میں تاریخ رقم کی مگر ان کی نجی، ازداوجی اور رُومانوی زندگیاں قابل رشک نہ تھیں۔

جرمن فلسفی، سیاسی مفکر، صحافی اور انقلابی سوشلسٹ کارل مارکس 1818 ء میں جرمنی میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم زیادہ تر گھر پر ہوئی۔ 1830 ء میں ان کو ٹریئر ہائی اسکول میں داخل کروایا گیا۔ ہائی اسکول میں تعلیم مکمل ہونے پر 1835 ء میں مارکس یونیورسٹی آف بون میں داخل ہو گئے۔ مارکس کو فلسفے میں دلچسپی تھی جب کہ ان کے والد ان کو قانون داں بنانا چاہتے تھے۔ مارکس ایک اعلیٰ درجے کے غیر روایتی لکھاری اور دانشور بننا چاہتے تھے جبکہ ان کے والد ان کو اوسط درجے کا پیشہ ور وکیل بنانا چاہتے تھے۔ بالآخر مارکس کے والد ان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یونیورسٹی کے ایام میں مارکس ہیگل کے نظریات میں دلچسپی لینے لگے۔ پھر ایک دوست ملا جو ان کو ڈاکٹرز کلب لے گیا۔ یہ ایک ایسا گروہ تھا جہاں ہیگل کے جواں سال پیروکار اکٹھے ہو کر ہیگل اور اس کے فلسفے سے متعلق فکر آمیز اور سنجیدہ علمی مکالمہ کرتے تھے۔ یہیں پر مارکس ’آرنلڈ روگ‘ سے ملے، الہیات کے لیکچرار ’بُرنو باور‘ سے ملے۔ یہی وہ دور تھا جب مارکس نے ایک دانشور کے طور پر اپنے ماضی اور مستقبل پر غور کیا۔

انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا قانون کو الوداع کہا اور شعبۂ فلسفہ میں داخلہ لے لیا۔ اور فلسفے میں اپنا کام شروع کر دیا۔ انہوں نے ریسرچ کے لیے جس مقالے کو منتخب کیا اس کا عنوان : ”جمہوری اور علمی فلسفے میں فرق“ تھا۔ انہوں نے اپنا مقالہ یونیورسٹی آف جینہ کو پیش کیا اور 15 اپریل 1841 ء کو پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔ اس طرح وہ 23 سال کی نوعمری میں ڈاکٹر کارل مارکس بن گئے۔ مارکس جس قدر فلسفے کا مطالعہ کرتے گئے اس نتیجے پر پہنچے کہ الہیات کو فلسفے کی اعلیٰ دانش کے سامنے سرنگوں ہونا پڑے گا اور یہ کہ ایک وقت آئے گا کہ تشکیک اور تجسس، توہمات پر فتح پالیں گے۔

مارکس دل جیتنے کی بجائے بحث جیتنے کو ترجیح دیتے تھے۔ 1844 ء میں مارکس اور فریڈرک اینگلز (FREDRICH ENGELS) کے درمیان ایک طویل مکالمہ ہوا۔ یہ مکالمہ جو دس روز تک چلا، دونوں اکابرین کی عمر بھر کی جذباتی، تخلیقی، فلسفیانہ اور سیاسی دوستی کا آغاز ثابت ہوا۔ اینگلز نے دوستی کا حق یوں ادا کیا کہ ساری زندگی مارکس کی مالی اعانت کی۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو انہیں معلوم ہوا کہ دونوں فلسفی سیاسی نظریات کے حوالے سے یکساں خیالات کے حامل تھے مگر سمتیں مختلف تھیں۔ مارکس کا ماننا تھا کہ مذہب افیون کی ایک پُڑیا ہے جب کہ اینگلز کا خیال تھا کہ مذہب استحصال اور منافقت کے قبضے میں آئی ہوئی ایک کنیز ہے۔ گویا طاقت ور طبقہ انسانی استحصال اور منافقت کی ترویج کے لیے مذہب کو استعمال کرتا ہے۔ ایک طریقے سے مارکس اور اینگلز ایک دوسرے کے لیے قوت بن گئے۔ مارکس تھیوری کے ماہر تھے جب کہ اینگلز عمل درآمد میں طاق تھے۔ اینگلز کے پاس نظام سرمایہ داری کا عملی علم بھی تھا کیونکہ ان کا خاندان صنعت کاری سے وابستہ تھا۔ انھوں نے ایک کتاب بھی ”برطانیہ میں محنت کش طبقے کی حالت“ کے عنوان سے لکھ رکھی تھی۔

اینگلز اور مارکس نے اکٹھے کام کیا تاکہ دونوں مل کر تھیوری اور پریکٹس کی آمیزش سے کوئی ترکیب پیدا کر سکیں، کیونکہ دونوں کا ماننا تھا کہ عملی شکل کے بغیر کوئی بھی نظریہ علمی مشت زنی کے مترادف ہے، جو لطف انگیز ضرور ہے مگر بانجھ اور بے ثمر ہے۔ 1844 ء سے 1846 ء تک دونوں فلسفیوں نے مل کر جرمنی کے لیے ایک نظریہ وجود میں لانے کے لیے دل و جان سے کام کیا۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی جس میں ہیگل، فیور باخ، بُرنو اور ینگ ہیگلیئنز سے آزاد ہونے کا اعلان کر دیا۔ کتاب میں انھوں نے تاریخی مادیت پر اپنی آراء تشکیل دیں اور یہ خیال ظاہر کیا کہ ”شعور“ زندگی کے خد و خال وضع نہیں کرتا بلکہ زندگی ”شعور“ کو وجود میں لاتی ہے۔ انھوں نے سوشلسٹ فلسفے اور سیاست کی بنیاد رکھی اور بیان کیا کہ ”لوگ اس وقت تک صحیح معنوں میں آزاد نہیں ہو سکتے جب تک وہ روٹی کپڑا اور مکان، مناسب مقدار اور بہترین حالت میں حاصل کرنے کے قابل نہ ہو جائیں۔“

UNSPECIFIED – CIRCA 1865: Karl Marx (1818-1883), philosopher and German politician. (Photo by Roger Viollet Collection/Getty Images)

اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد جہاں بہت سے دوست مارکس کی شخصیت میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لینے لگے وہاں بہت سے مخالفین ان سے بیزار بھی ہوئے۔ جہاں کچھ لوگ خوش ہوئے وہاں اکثر حسد کی آگ میں جلنے لگے، جہاں کچھ لوگ ان کی تعریف کرنے لگے اور مداح بنے وہاں کچھ لوگ مارکس کو ناپسند اور مسترد بھی کرنے لگے۔ مختلف فلسفیوں نے مارکس کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا مختلف انداز میں تذکرہ کیا۔ مارکس کے عزیز دوست پیرل آنن کاف نے لکھا: ”مارکس ایک ایسا شخص تھا جو بے پناہ توانائی پختہ ارادے اور غیر متذلل عقیدے سے بنا تھا۔ یہ ساخت اس کی لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرنا اور ان کے لیے قوانین دینے پر دلالت کرتی ہے گویا میرے سامنے ایک جمہوری آمر کھڑا تھا۔“ یوں مارکس کا کمیونسٹ منشور COMMUNIST MANIFSTO انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا سیاسی کتابچہ اور مارکس کی و جہِ شہرت بن گیا۔ اگرچہ اکثر مارکسٹ اور کمیونسٹ اس منشور کو ایک الہامی کتاب کا درجہ دیتے ہیں مگر بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر نظریہ وقت کی قید میں ہوتا ہے اس لیے یہ نظریہ بھی دائمی نہیں ہے اور نہ ہی مقدس کتاب۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 150 سال گزر جانے کے بعد بھی انقلابی نظریات کے حامل نوجوان اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مارکس اپنے نظریے کی عملی تشکیل پر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی پُر اُمید تھے۔ اگرچہ ان کی تھیوری میں عالمگیریت کی توانائی موجود ہے جو بین الاقوامی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔ ہیگل کو اپنی شاہکار کتاب: PHENOMENOLOGY OF SPIRIT (روح کا ظہور) مکمل کرتے ہوئے پانچ سال لگے تھے جب کہ مارکس نے اپنی مشہور زمانہ کتاب:داس کیپٹل (DAS KAPITAL) پندرہ سال میں مکمل کی۔ مارکس لائبریری میں کئی کئی گھنٹے پڑھنے اور لکھنے میں گزار دیتے تھے۔ ایسا کئی ہفتے، مہینے، سال اور دہائیوں تک ہوتا رہا۔ پھر ایسا بھی ہوا کہ داس کیپٹل کی ضخامت 1200 صفحات پر ہو گئی پھر ان کو کئی ابواب دوبارہ اختصار کے ساتھ لکھنے پڑے بالآخر کتاب 1867 ء میں شائع ہو گئی مگر فوری طور پر کوئی مثبت یا منفی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مارکس نے ایسے ردعمل کو اپنے خلاف ”سکوتِ سازش“ (سازش سے قبل کی سازش) قرار دیا۔ مارکس کے اکثر مداح انگریز تھے جب کہ کتاب جرمن زبان میں تھی۔ مارکس ذہنی طور پر بے کل پریشان اور کسی قدر مشتعل بھی ہو گئے۔ وہ کتاب مکمل ہونے کے دوران بھی اپنے بارے میں تشکیک کا شکار تھے اور ایسا کتاب شائع ہونے کے بعد کئی برس تک رہا۔ حتیٰ کہ 1873 ء میں انھوں نے خود لکھا: ”داس کیپٹل کے اندر موجود ادبی کجیاں جس قدر میں جانتا ہوں کوئی دوسرا نہیں جانتا۔“ اپنے آپ پر اس قدر دیانت دارانہ تنقید کرنے والے مارکس تنہا نہیں تھے۔ بہت سے دیگر لوگوں نے بھی ایسا کیا۔ و یلہم رانٹگن نے تو یہاں تک کہہ دیا: ”مجھے زندگی میں کسی کتاب نے اتنا زیادہ مایوس نہیں کیا“ اس طرح کی تنقید مارکس کو چرکے لگاتی تھی۔ کچھ ہلکے اور کچھ گہرے۔

”کئی دہائیوں تک کئی لکھاری، فلسفی، معاشیات داں اور سائنسداں مارکس کی کتاب میں پیش کیے گئے نظریات پر معترض رہے۔ وہ فلسفی جو مارکس کے طرز تحریر کو پسند کرتے ہیں یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان کا کام سائنس نہیں بلکہ آرٹ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مارکس نے انسانی بے گانگی، اخلاقی گراوٹ اور استحصال جیسے مظاہر زیرِ بحث لائے ہیں جن کا تجزیہ کسی لیبارٹری میں نہیں ہو سکتا۔ ایک آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے مارکس کو دو بیساکھیوں کی ضرورت تمام عمر رہی۔ ان کی جذباتی بیساکھی ان کی بیوی جینی تھی اور معاشی بیساکھی ان کا مخلص دوست اینگلز تھا۔

جب مارکس اور جینی ملے تو مارکس کی عمر اٹھارہ سال اور جینی بائیس برس کی تھی۔ 43 سال کی طویل رفاقت کے بعد 1881 ء میں جب جینی وفات پا گئی تو پینسٹھ سالہ مارکس بکھر کر رہ گئے۔ ان کا جسمانی اور جذباتی سہارا جا چکا تھا۔ وہ اپنا خیال نہیں رکھ سکتے تھے لہٰذا صحت دن بدن گِرنا شروع ہو گئی۔ جینی کی وفات کے ایک سال کے اندر اندر مارکس صاحبِ فراش ہو گئے۔ ان کو پیچیدہ امراض نے آ گھیرا۔ گلے کا ورم، دمہ بے خوابی اور ٹھنڈے پسینے جیسے گمبھیر امراض نے مارکس کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ اتنے کمزور ہو گئے کہ کتب بینی بھی نہیں کر سکتے تھے۔ جو کسی زمانے میں ان کو راحت بخشتی تھی۔ اب وہ کئی کئی گھنٹے خلا میں گھورتے رہتے تھے۔

14 مارچ 1883 ء کو مارکس کا انتقال ہو گیا اس موقع پر اینگلز نے امریکہ میں مقیم اپنے دوست کو خط میں لکھا: ”انسانیت آج عظیم ذہن سے محروم ہو گئی ہے“ مارکس کو ہائی گیٹ کے قبرستان میں ان کی بیوی کے پہلو میں مارچ 1883 ء میں دفنا دیا گیا۔ ان کے جنازے میں صرف گیارہ لوگ شریک تھے۔ اس موقع پر اینگلز نے ایک مختصر سی تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا :

”آج ایک انقلابی دانشور چلا گیا جو اپنے وقت کا سب سے نا پسندیدہ اور متنازعہ شخص تھا۔ مگر میں یہ پیش گوئی کرتا ہوں کہ اس کا کام اور نام صدیوں تک زندہ رہے گا۔“

Facebook Comments HS